امریکہ- ایران نیو کلیئر معاہدہ ختم ہندوستان سمیت پورا ایشائی خطہ متاثر ہوگا

جب سے ڈونالڈ ٹرمپ اقتدار ا میں آئے ہیں، عالمی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ اسرائیل کی پشت پناہی سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال تشویشناک ہوچکی ہے۔ فلسطین میں اسرائیلی مظالم بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران کیساتھ ایٹمی معاہدے سے علیحدگی سے ثابت ہوگیا ہے کہ امریکہ عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت معاشی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ جاری رہا تو ایران بہت جلد ایٹمی ہتھیار حاصل کرلے گا۔ اقوام متحدہ نے امریکہ کے ایران ایٹمی معاہدے سے علیحدہ ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے یورپی ممالک کو تاکید کی ہے کہ وہ اس ڈیل پر قائم رہیں۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور روس نے امریکہ کے انتقامی رویے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی جوہری معاہدہ امریکہ، جرمنی اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے مستقل ممالک کے ساتھ 2015میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق ایران 5فیصد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی روک دے گا اور اراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر کام نہیں کرے گا۔ اس جوہری معاہدے کی وجہ سے ایران پر معاشی پابندیوں پر نرمی کردی گئی تھی اوراسے تیل فروخت کرنے کی حد مقرر کرکے 14ارب20 کروڑ ڈالرز کا زرمبادلہ بھی حاصل ہوا تھا۔ ایران پر اس معاہدے کی رو سے کوئی نئی پابندی بھی نہیں لگائی گئی تھی۔
لیکن اب امریکی حکومت کی جانب سے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کے بعد دوبارہ سخت معاشی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا ہے جو سراسر ظلم اور ناانصافی کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت نے ایران سے ایٹمی معاہدہ ختم کرکے اسرائیل کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے ٹرمپ کے اقدام کو دلیرانہ قرار دے کر اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ نفسیاتی جنگ کا نتیجہ ہے۔امریکہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں کے باوجود ایران ترقی کے سفر کو جاری رکھے گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس غیردانشمندانہ اقدام کیخلاف یوروپی یونین، روس، چین، ترکی اور پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایران نے ایٹمی معاہدے پرخلوص دل سے عملدرآمد کیا جس کی گواہی برطانیہ، جرمنی، فرانس اور روس نے بھی دی ہے۔ یوروپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کیا ہے۔ اب اس معاہدے کے ثمرات امریکہ سمیت یورپی ممالک کو مل رہے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ سابق صدر اوباما کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ گمراہ کن اور سنگین غلطی پر مبنی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ نے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کردیا ہے اور دوسری طرف وہ شمالی کوریا سے نیوکلیئر پاور کے حوالے سے پْرامن مذاکرات کا خواہاں ہے۔ یہ امریکی صدر ٹرمپ کے دوہرے معیارات ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر عدم توازن پیدا ہوگا۔ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد کوریا کے خطے میں امن عمل مشکوک ہوگیا ہے۔ شمالی کوریا امریکہ پر اب کبھی اعتماد نہیں کرے گا۔ مشرق وسطیٰ میں بھی اس کے اچھے اثرات نہیں پڑیں گے۔ شام، لیبیا، عراق میں خانہ جنگی مزید بڑھے گی۔ مسلمان ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہونے سے اسرائیل مضبوط ہوگا اور اس کا اسلام دشمن ایجنڈا کامیاب ہوجائے گا۔
ایرانی جوہری معاہدے سے امریکہ کے علیحدہ ہونے سے تیل اور ہوا بازی سیکٹر کی کمپنیوں کو سخت نقصان پہنچے گا۔ ایران کیساتھ سمجھوتے کروانے والی کمپنیوں کے معاہدے جن کا دنیا بھر میں امریکہ کیساتھ تجارتی اور بینکاری کاتعلق ہے، ان کو امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے عائد کرنے سے مزید مسائل اور خطرے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ایرانی معاہدہ ختم ہونے سے حالات سنگین ہوجائیں گے۔ اس سے خطے کے حالات تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ اسی تناظر میں یورپی گروپ ایئربس نے دو سال سے ایرانی فضائی کمپنی کیساتھ 19ارب ڈالر کے100طیاروں کی فروخت کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اسی طرح امریکی بوئنگ کمپنی کا ایران کے ساتھ 17ارب ڈالر مالیت کے 30طیاروں کی فروخت کا معاہدہ ہے۔ فرانسیسی کمپنی ٹوٹل نے بھی ایران کیساتھ 20سال کی مدت کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ امریکی ہٹ دھرمی سے یہ معاہدے اب پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکیں گے۔
جہاں تک ہندوستان کی بات ہے تواب تک اس کی وزارت خارجہ نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ دراصل امریکہ اور ایران دونوں ہی ہندوستان کے دوست ملک ہیں۔ایسے میں کسی ایک کے حق میں جھکائو دوسرے کو ناراض کردے گا۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے کوئی حتمی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ویسے مبصرین کہتے ہیں کہ ایران کے تعلق سے امریکہ کے اس فیصلے کا اثر ہندوستان پر بھی پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *