یروشلم میں امریکی سفارتخانے کاافتتاح آج

US-Embassy-in-Jerusalem
یروشلم یعنی مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح آج ہو گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے قبل اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے یہ دونوں سینیئر مشیر امریکی سفارتخانے کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کریں گے جبکہ صدر ٹرمپ بذات خود وہاں نہیں ہوں گے۔تل ابیب سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے ان کے فیصلے پر فلسطینی ناراض ہیں۔امریکی سفارتخانے کا افتتاح ریاست اسرائیل کے قیام کے 70ویں سالگرہ کے موقعے پر رکھا گیا ہے۔
افتتاح سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے بلائی گئی استقبالیہ تقریب ناکام ہو گئی۔ زیادہ تر غیر ملکی سفیر شریک نہیں ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے 86 ملکوں کو دعوت دی جن میں سے صرف 33 نے شرکت کی تصدیق کی، 53شریک نہیں ہوئے۔

 

یہ بھی پڑھیں   جون کے مہینے کا انتظار:کئی ستاروں کی فلمیں دھوم مچانے کوتیار

 

صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور داماد جیرڈ کوشنر اور امریکی وزیر خزانہ آئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریب میں ہنگری، رومانیہ، چیک ری پبلک ، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویت نام کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کردیں کیونکہ یہ ایک درست اقدام ہے اور اس سے امن قائم ہوگا۔ دوسری جانب فلسطین نے امریکی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
اسرائیل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعوی پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا۔ فلسطینی اسے اپنی مستقبل ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔مسٹر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے اس مسئلے پر دہائیوں سے جاری امریکی غیرجانب داری میں فرق آیا اور وہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت سے علیحدہ چلا گیا۔
خیال رہے کہ یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں ایک چھوٹے اور عبوری سفارتخانے کا پیر کو افتتاح ہو رہا ہے جبکہ پورے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ بعد میں تلاش کی جائے گی۔یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ اس پروگرام کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے جبکہ ایوانکا ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کے ساتھ امریکی وزیر خزانہ سٹیون مانوشن اور نائب وزیر خانجہ جان سولیوان بہ نفس نفیس وہاں موجود ہوں گے۔یوروپین یونین نے سفارتخانے کی منتقلی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے جبکہ زیادہ تر یورپی یونین کے سفیر اس کا بائیکاٹ کریں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *