مرکزی سرکار کی جموں و کشمیر میں یکطرفہ جنگ بندی امن کے قیام میں کتنی معاون ؟

مرکزی حکومت کا ریاست جموں و کشمیر میں ماہ رمضان میں یکطرفہ جنگ بندی کا فیصلہ یقینا خوش آئند ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ زمینی سطح پر اس کے اثرات کیامرتب ہوتے ہیں اور جو طبقات عدم اطمینان کے شکار ہیں، انہیں حکومت کی یہ یکطرفہ جنگ بندی کتنا مطمئن کرپاتی ہے اور پھر امن کی راہ کیسے ہموار ہوتی ہے؟قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل تین بار کسی نہ کسی شکل میں جنگ بندی کی کوششیں ہوئی ہیں۔ ایک بار 1994 میں جب یاسین ملک کی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف ) نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا اور پھر 2000 میں ماہ جولائی میں جب حزب المجاہدین نے 3 ماہ کے لئے جنگ بندی کی بات کی اور اس کے بعد نومبر میں جب وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اعلان پر کشمیر میں تین ماہ تک جنگ بندی رہی۔ ان تینوں تجربات سے صورت حال میں کچھ بہتری تو ہوئی مگر کسی باضابطہ سیاسی عمل کے شروع نہ ہونے سے مسئلہ وہیں کا وہیں رہ گیا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بار مودی سرکار کے دور میں یکطرفہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ جو بھی سیاسی عمل چل رہا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ زمینی سطح سے جوڑتے ہوئے عملی طور پر مؤثر بنایا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نیا تجربہ کتنا مفید اور مؤثر ثابت ہوتا ہے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔

مرکزی سرکار کی جانب سے جموں وکشمیر میں ماہ رمضان کے دوران یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان نے تپتی دھوپ میں سرد ہوا کے ایک جھونکے کی مانند خوشگوارماحول پیدا کرگیا۔حالانکہ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ مودی سرکار کے اس مثبت اقدام کے کتنے مثبت نتائج برآمد ہونگے اورنہ ہی اس کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں فی الحال کوئی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ لیکن سرینگر سے دلی تک کے سنجیدہ فکراور دور اندیش طبقات نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے جنگ بندی کے فیصلے کو اگر دانشمند کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے تو اس کے نتیجے میں حالات میں تسلسل کے ساتھ بہتری پیدا ہوجانے کے قوی امکانات ہیں۔
کشمیر کے حالات کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین کی جانی چاہیے کہ یہاںتین دہائیوں جاری پرتشدد حالات کی وجہ سے کشمیری عوام تو پسے جارہے ہیں لیکن ان حالات کی وجہ سے نئی دلی کو بھی ایک بھاری قیمت چکانی پڑرہی ہے۔اسلئے جنگ بندی جیسے فیصلوں کو ’’کسی کی ہار اورکسی کی جیت‘‘ کے تناظر میں نہیں بلکہ ’’سب کی جیت‘‘ کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔

سرینگرکی آل پارٹیز کانفرنس
9مئی کو سرینگر میں جھیل ڈل کے کنارے پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس نے ریاست کی تمام مین سٹریم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ کانفرنس کا مقصد کشمیر کے موجودہ حالات میں بہتری کے امکانات کے لئے تجاویز سامنے لانا تھا۔ 5گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ایک ہی قابل ذکر تجویز سامنے آئی۔ وہ تھی جنگ بندی کی تجویز۔
ذرائع نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ عوامی اتحاد پارٹی کے لیڈر اور رکن اسمبلی انجینئر رشید نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ حکومت ہندکو کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(ایم ) کے ریاستی سیکرٹری محمد یوسف تاریگامی نے اس تجویز کی تائید کی اور کہا کہ کشمیر سے ایک وفد دہلی جانا چاہیے ،جہاں وہ وزیر اعظم کو جنگ بندی پر راضی کراسکے۔ وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اس موقعے پر حاضرین کو بتایا کہ وہ مودی سے ملنے والے وفد کو لیکر جائیں گی۔لیکن صرف ایک دن بعد مخلوط سرکار میں شامل بی جے پی نے اس تجویز کے ساتھ’’مکمل اختلاف ‘‘ کا اظہار کیا ۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان انل سیٹھی نے اس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے نتیجے میں وادی میں جاری فوج کے ملی ٹنسی مخالف آپریشنز میں حاصل ہوئی اب تک کی کامیابی ضائع ہوجائے گی۔ اس کے بعد وزیر دفاع نرملا سیھتارامن نے بھی جموں کشمیر میں آل پارٹیز کانفرنس میں پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو نا قابل عمل قرار دیا ۔
بی جے پی کے اس بیک ٹریک پر حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا کہ ’’اب اس آل پارٹیز کانفرنس کا کیا فائدہ ہوا، جب خود آپ کی اپنی اتحادی جماعت کو آپ سے اختلاف ہے۔‘‘ عمر عبداللہ نے اسی پر بس نہیں کیا ،انہوں نے ٹویٹر پر مزید لکھا،’’آپ تو بے شرمی کے ساتھ حکومت کے ساتھ چمٹی رہیں گی کیونکہ اقتدار ہی آپ کے لئے اہم ہے۔‘‘ یقینا بی جے پی کے رویہ کی وجہ سے محبوبہ مفتی کو خفت اٹھانی پڑی ۔ لیکن 16مئی کی شام کو جب مرکزی وزارت ’’رمضان جنگ بندی ‘‘ کا اعلان کیا تو محبوبہ مفتی نے ایک لمحہ ضایع کئے بغیر وزیر اعظم مودی ، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور کشمیر کی آل پارٹیز اجلاس میں شامل لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کشمیر میں جنگ بندی کی لمبی تاریخ
سال 1994ء میں وادی میں سرگرم ملی ٹنٹ تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے ہتھیار چھوڑنے کا اعلان کیا۔ اسکے سربراہ یٰسین ملک نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کے لئے یکطرفہ جنگ بندی کررہے ہیں۔حالانکہ بعدازاں یٰسین ملک ، جو اب کشمیر کے سب سے بڑے سیاسی لیڈروں میں شمار کئے جاتے ہیں ، نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ انہیں کہا گیا تھا کہ وہ ہتھیار چھوڑدیں تو کشمیر کو سیاسی طور پر حل کیا جائے گا۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔بلکہ جنگ بنی کے بعد لبریشن فرنٹ کے سینکڑوںاراکین جو اب نہتے ہوچکے تھے، کو فورسز نے ہلاک کردیا ۔
جولائی 2000میں حزب المجاہدین نے تین ماہ کے لئے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ حکومت ہند نے اگرچہ جوابی طور جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا تاہم فورسز نے غیر اعلانیہ طور وادی میں اپنی کارروائیاں روک دیں۔نئی دلی نے حزب المجاہدین کے کمانڈروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے اُس وقت کے داخلہ سیکرٹری کمل پانڈے کی قیادت میں اعلیٰ افسران کی ایک ٹیم بھیجی ۔لیکن اس جنگ بندی کی وجہ سے حزب المجاہدین میں پھوٹ پڑ گئی اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود حزب المجاہدین کی لیڈر شب نے بیک ٹریک کیا۔ بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ حزب المجاہدین کی جنگ بندی کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ اسے حریت کانفرنس ، جس کا اُس وقت وادی میں کافی مان سمان تھا، کی حمایت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے اسے سپورٹ دیا۔
نومبر 2000ء میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ ابتدا میں تو یہ جنگ بندی ایک ماہ کے لئے کی گئی تھی لیکن بعد میں دو بار اس کی توسیع کی گئی اور حکومت ہند کی طرف سے یہ جنگ بندی تین ماہ تک جاری رہی ۔ یہ جنگ بندی اس لحاظ سے خوشگوار رہی کہ اس کے نتیجے میں وادی میں امن کی ایک فضا قائم ہونے لگی تھی ۔ یہاں تک کہ کئی دیہات میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان دوستانہ کرکٹ میچز بھی کھیلے گئے ۔لیکن جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی عمل شروع نہ کئے جانے کی وجہ سے بالآخر یہ جنگ بندی ناکام ثابت ہوئی ۔
سیکورٹی ایجنسیوں کو درپیش چلینجز
فوج نے وادی میں گزشتہ سال مئی کے مہینے میں’’ آپریشن آل آئوٹ ‘‘شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد وادی میں موجود تمام جنگجوئوں کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔ گزشتہ سال فورسز نے اس آپریشن کے تحت 210جنگجوئوں کو مار گرایا جبکہ اس سال اب تک 100سے زائد جنگجو مارے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجودناقدین ’’آپریشن آل آئوٹ ‘‘ کو ناکام قرار دے رہے ہیں۔
شاید اسکی وجہ ہے کہ آپریشن آل آئوٹ شروع کئے جانے کے بعد فورسز کو وادی میں شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فروری 2017میں فوجی سربراہ جنرل بپن رائوت نے کشمیری نوجوانوں کو وارننگ دی کہ وہ فوج اور جنگجوئوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران فوج پر پتھرائو کرنے سے باز آجائیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ جب بھی اینکوانٹر کے دوران فورسز پر کوئی پتھر مارے گا تو اسے جنگجوئوں کا حمائتی اور قوم دشمن تصور کرکے اسکے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ تب سے آج تک اینکوائٹر کے مقامات پر فورسز کی فائرنگ سے کئی خواتین سمیت 50سے زائد نوجوان مارے جاچکے ہیںاور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں ، جن کے بارے میں فورسز کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اینکوانٹر کے دوران جنگجوئوں کو بچانے کے لئے فوج پر پتھرائو کررہے تھے ۔
صاف ظاہر ہے کہ آرمی چیف کی دھمکی کا کشمیر ی نوجوانوں پر کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ بلکہ کئی بار پتھرائو کرنے والے لوگ فوجی محاصرے میں پھنسے جنگجوئوں کو بچانے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس کی ایک تازہ مثال 3مئی کو جنوبی ضلع شوپیاں کے ترکوان گام میں دیکھنے کو ملا جہاں فوج نے حزب المجاہدین کے ایک معروف کمانڈر زینت الاسلام سمیت تین جنگجو فوج کے نرغے میں آچکے تھے ، لیکن جائے وقوع پر سینکڑوں نوجوان جمع ہوئے اور فوج پر بھاری پتھرائو شروع کردیا۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی پر تشدد جھڑپوں میں 30نوجوان زخمی ہوگئے لیکن تب تک محاصرے میں پھنسے تینوں جنگجوئوں کو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور بعد میں فوج کو آپریشن سمیٹنا پڑا۔فوج کو کشمیر میں صرف سنگ بازوں کے چیلنج کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ جنگجوئوں کے صفوں میں مسلسل بھرتیوں ، مارے جانے والے جنگجوئوں کی آخری رسومات میں بیک وقت ہزاروں بلکہ کبھی کبھی لاکھوں لوگوں کی شرکت ، پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھینے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پولیس اہلکاروں کا سروس رائفلز سمیت ڈیوٹی سے بھاگ کر ملی ٹنٹ گروپوں میں شامل ہوجانے کے واقعات کئی ایسی باتیں ہیں ، جو کشمیر کے حالات اور یہاں سیکورٹی ایجنسیوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتے ہیں۔گزشتہ تین سال کے دوران سینکڑوں نوجوان ملی ٹنٹ بن گئے ہیں۔
پولیس اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ سال 126لڑکے مختلف جنگجو تنظیموں میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس سال پچاس سے زائد نوجوان ملی ٹنٹ بن گئے ہیں۔ حال ہی میں مقامی اخبارات میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف اپریل کے مہینے میں جنوبی کشمیر کے شوپیاں ، کولگام اور پلوامہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 28نوجوان جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ ہتھیار چھیننے کے واقعات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ 16مئی کو سرینگر میں کشمیر یونیوسٹی کے صدر دروازے کے قریب ڈیوٹی دے رہے ایک پولیس اہلکار کو چند نوجوانوں نے دبوچ لیا اور اسکی ایس ایل آر اڑا لے گئے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران پولیس والوں سے 100 زیادہ رائفلیں چھینی جاچکی ہیں۔ تین سال کے دوران کم از کم 9پولیس اہلکار اپنی سروس رائفلوں سمیت ڈیوٹی سے بھاگ کر ملی ٹنٹ تنظیموں میں شامل ہوگئے ۔ اپریل کے مہینے میں اس طرح کے دو واقعات رونما ہوئے ۔غرض سیکورٹی ایجنسیوں کو وادی میں کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک عام تاثر ہے کہ جب سے فوج نے وادی میں ’’آپریشن آل آئوٹ ‘‘شروع کیا ہے، ملی ٹینوں کو حاصل عوامی سپورٹ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ملی ٹینٹوں کے خلاف فوج کی شدید کارروائیوں کے نتیجے میں اگر عوام متنفر ہوجائیں اور دلی اور سرینگر کے درمیان خلیج میں مزید اضافہ ہوگا تو اسے کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سنگ بازوں کے خلاف قانونی کارروائیاں
وادی میں پتھرائو کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائیاں بے سود ثابت ہورہی ہیں۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران پتھرائو کرنے کے الزام میں 11,290نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ان سبھی نوجوانوں کو عدالتوں نے ضمانت پر رہا کردیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل پولیس پتھرائو کرنے والے نوجوانوں کے خلاف دائر کیسوں کو ثابت کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ کیونکہ عام طور سے کوئی بھی ان نوجوانوں کے خلاف گواہی نہیں دیتا ہے اور نہ ہی پولیس ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ کسی نوجوان پر پتھرائو کا جرم ثابت کرپاتی ہے۔اسلئے عمومی طور پر گرفتار شدہ نوجوان پہلی ہی تاریخ پیشی پر ضمانت پر رہائی پالیتے ہیں۔ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایون کو مطلع کیا کہ پتھرائو کے الزام نوجوانوں کے خلاف3773کیس درج کئے جاچکے ہیں۔گزشتہ سال قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر میں پتھرائو کرنے والوں کو پیسے دیئے جارہے ہیں۔ لیکن ایک سال سے زائد وقت گزرنے کے باوجود این آئی اے تاحال اس الزام کو عدالت میں ثابت نہیں کرپائی ہے۔ سات حریت لیڈروں سمیت اس کیس میں دس بارہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور وہ سبھی فی الوقت تہاڑ جیل میں ہیں۔ لیکن وادی میں پتھرائو کے واقعات آج بھی جاری ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پتھرکے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کا بھی استعمال
وادی میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سماجی رابطے کی وئب سائٹوں پر اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کررہے ہیں اور بھڑاس نکال رہے ہیں ۔ اس کا توڑ کرنے کیلئے گزشتہ سال اپریل میں حکومت نے وٹس اپ، فیس بک اور ٹویٹر سمیت 22سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پابندی لگادی تھی ۔ لیکن یہ پابندی ایک مذاق ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد نوجوانوں نے ’’پراکسی سرورز‘‘ کا استعمال کرنا شروع کردیا، جس پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ حکومت کو اس معاملے میں اُس وقت خفت اٹھانی پڑی جب یہ انکشاف ہوا کہ انٹرنیٹ پر پابندی کے بعد بعض اعلیٰ پولیس افسران اور بیروکریٹس نے بھی ’’پراکسی سروز ‘‘ کا استعمال شروع کردیا ہے۔ بالآخر حکومت کو یہ پابندی ہٹانی پڑی ۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملی ٹینسی
وادی بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ملی ٹنسی میں شامل ہوجانے کا رجحان حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے ایک اور پریشانی کی بات بن گئی ہے۔حال ہی میں فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران کشمیر یونیوسٹی کے 33سالہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق بٹ کو ہلاک کردیا۔ بٹ صرف چار دن قبل حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا تھا۔اس نے سوشالوجی میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی تھی اور نیشنل ایجبلٹی ٹیسٹ ( نیٹ) دو بار پاس کیا تھا۔یکم اپریل کو فورسز نے ایک جھڑپ میں اعتماد احمد نامی جنگجو کو ہلاک کردیا۔ اس نے حیدرآباد کی یونیورسٹی مین ایم فل کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ نیٹ کالیفائی کیا تھا۔ مارچ کے مہینے میں جنید احمد خان نامی ایک 26سالہ نوجوان نے حزب المجاہدین جوائن کرلی ۔ اس نے ایم بی اے کیا تھا۔ وہ گیلانی کی جگہ تحریک حریت کی قیادت سنبھالنے والے محمد اشرف صحرائی کا بیٹا ہے۔ چند ماہ قبل سرحدی ضلع کپوارہ کے رہنے والے منان وانی نامی نوجوان نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی ۔ منان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جیالوجی شعبے میں ایم فل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کررہا تھا۔ لیکن اچانک اپنا کرئر چھوڑ کو ملی ٹینٹ بن گیا۔ اس طرح کی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں اور یہ واقعات حکومت کے لئے خفت کا باعث بن رہے ہیں۔ ’’را‘‘ کے سابق سربرا اے ایس دلت نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی جانب سے ملی ٹنسی میں شامل ہوجانے کے رجحان پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ یہ ایک درا دینے والی بات ہے۔‘‘
داعش اور القاعدہ کی کوششیں
اس سال مارچ کے مہینے میں سرینگر کے مضافات اور اننت ناگ ضلع میں فورسز نے دو جھڑپوں کے دوران ایک غیر ملکی اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو سمیت چھ جنگجوئوں کو ہلاک کردیا۔ ان کا تعلق داعش اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم سے تھا۔ ان میں شام مقامی جنگجوئوں کی تدفین کے موقعے پر کشمیری نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، جسکی وجہ سے سنجیدہ فکر طبقات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر وادی میں فوری طور پر امن قائم نہیں ہوا تو یہ عالمی دہشت گرد تنظیمیں یہاں اپنے پیر جمانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاستی پولیس کے سربراہ شیش پال وید اس وادی میں ISISکی موجودگی کی تصدیق کرچکے ہیں ۔

چین کی مداخلت کا خدشہ
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی کابینہ کے سینئر رکن اور وزیر اعلی ٰ کے دست راست نعیم اختر ، جو ریاستی حکومت کے ترجمان بھی ہیں ، نے تین ماہ قبل نئی دلی کے ایک اخبار کو اپنے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ چین جموں کشمیر میں ملی ٹنسی کو فروغ دینے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ نعیم اختر نے یہاں تک کہا کہ چین نے جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کو ’’گود ‘‘ لیا ہوا ہے ، اسی لئے اسکے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے میں حائل ہورہا ہے۔ نعیم اختر نے یہاں تک کہا کہ ’’کشمیر میں نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر اس لئے ہیں کیونکہ کیونکہ ان کے پاس بندوق نہیں ہے، لیکن اب بندوقیں چین سے آسکتی ہیں۔‘‘در اصل نعیم اختر کشمیر میں حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے ایک پولیٹیکل پراسس شروع کرنے پر اصرار کررہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت سیاسی اقدامات نہیں کئے گئے تو یہاں کے حالات قابو سے باہر بھی ہوسکتے ہیں۔
سابق فوجی افسران کے مشورے
متعدد سابق فوجی افسران نے بار بار یہ مشورہ دیا ہے کہ کشمیر کو سیاسی طور پر حل کرنے کی طرف دھیان دیا جانا چاہیے۔ ناتھرن کمانڈ کے سربراہ رہے چکے لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے اس طرح کا مشورہ کئی بار دیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر میں ’’نوجوان موت کا خوف اور زندگی سے محبت کا جذبہ دونوں کھوچکے ہیں۔‘‘ حال ہی میں پونے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ہوڈا نے ریاست کی پی ڈی پی اور بی جے پی سرکار کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ یہی سرکار یہاں کے موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت سے کشمیریوں کی کافی توقعات تھی لیکن یہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اُتری ۔سابق فوجی سربراہ جنرل وید پرکاش ملک بھی کشمیر میں سیاسی عمل کے ذریعے حالات ٹھیک کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ،’’تنازعے کو سیاسی سطح پر حل کرنا ہوگا۔ یہ صیح نہیں کہ آپ سارا بوجھ فوج اور سی آر پی ایف پر ڈالیں گے… اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فوج اس مسئلے کو حل کرے گی تو ایسا نہیں ہوگا۔‘‘نارتھرن کمانڈ کے ایک اور سربراہ ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل ہر چرن جیت سنگھ پیانگ نے حال ہی میں ٹویٹر پر کشمیر میں ہورہی ذیادتیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ غرض کئی سابق فوجی افسران اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کشمیر کو گولیوں اور پیلٹ سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملی ٹنسی کو بندوق کے بل پر ختم کرنا ممکن ہوتا تو یہ کام کشمیر میں فوج تیس سال کے دوران کرچکی ہوتی ۔

جنگ بندی امید لے کر آئی ہے
ماہ رمضان کے دوران کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کرکے مودی سرکار نے پہلی بار یہ تاثر دیا ہے کہ وہ پر امن ذرائع سے اس مسئلے کو حل کرسکتی ہے۔ غالباً یہ اقدام تین سال کے دوران مودی حکومت کا پہلا قدم ہے ، جس سے امن پسندی کا عندیہ مل رہا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ محض ایک ماہ تک جنگ بندی کا اعلان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ، جب تک نہ یہاں قیام امن اور مسئلہ کے پر امن حل کے لئے ایک سنجیدہ اور موثر پولیٹکل پراسس شروع کیا جاتا۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ یہ جنگ بندی کشمیر میں دیر پا امن اور مسئلے حتمی حل کی سمت میں مودی سرکار کا پہلا قدم ثابت ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *