کرناٹک میں عوام کا کوئی ایشو چرچا میں نہیں ہے

ملک کی حالت بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سرکار کے حامی جو ٹویٹ کرتے ہیں، وہ سمجھ ہی نہیںرہے ہیںکہ وہ سرکار کے حق میں جو لکھ رہے ہیں، وہی بات سرکار کے خلاف جارہی ہے۔ ایسا ہی ایک ٹویٹ آیا کہ سرکار کے ناقدین کو کسی پر بھی بھروسہ نہیںہے ۔الیکشن کمیشن پر نہیں ہے، سی بی آئی پر نہیںہے، فوج پر نہیںہے، کورٹ پر نہیںہے، اب چیف جسٹس آف انڈیا پر بھی نہیںہے۔ یہ اس المیے کو سمجھ ہی نہیںپارہے ہیں۔
چار سال قبل کانگریس کی سرکار تھی۔ کوئی بہت آدرش وادی سرکار نہیںتھی۔ لیکن اداروںپر بھروسہ تھا۔ آج کیسے بھروسہ اٹھ گیا؟ اس سرکار کی کرتوتوںسے اٹھ گیا۔ سرکار میںدو شخص ہیں۔ ایک وزیر اعظم ہیں، وہ ٹھیک ہیں۔ دوسرا ایک ایکسٹرا کانسٹی ٹیوشنل اتھارٹی ہے، ان کا نام امت شاہ ہے۔ میرے پاس ذرائع سے ملی خبر کے مطابق وہ سیدھے افسروں کو حکم دیتے ہیں۔ یہ ان کا اختیار نہیںہے۔ شرمناک یہ کہ افسر ان کا حکم مانتے بھی ہیں۔ ایمرجنسی میں بھی شکایت تھی کہ سنجے گاندھی ایکسٹرا کانسٹی ٹیوشنل اتھارٹی رہے۔ آج ا مت شاہ بھی وہی کام کررہے ہیں۔ یہ نریندر مودی کے بیٹے بھی نہیںہیں۔ سیاست میں احمدآباد سے آگے ان کی کوئی سیاست نہیں ہے۔ خیر میرا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو کیا بھگتنا پڑے گا؟ بھگتنا یہ پڑے گا کہ جو نقصان ہورہا ہے، وہ مستقل ہوجائے گا۔ سرکار کسی کی بھی ہو۔ سی بی آئی کو تو کانگریس کے دور میں ہی ڈیمیج کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سی بی آئی پنجرے کا طوطا ہے۔یہ فیئر انویسٹی گیشن یا مجرم کو پکڑنے کا کام کرنے کی جگہ لوگوں کو ٹانگنے کا کام کرتی ہے۔ جو سرکا رکے خلاف ہے، اس کے خلاف ایف آئی آر کردیتی ہے اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جب کورٹ میںسی بی آئی جاتی ہے تو سزا ملنے کی شرح 6 فیصد ہے۔ یعنی 94 فیصد کیس خارج ہوجاتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ وہ کیس ہوتے ہی نہیں ہیں۔ سرکار کے خلاف لوگوں کو پریشان کرنے والے کیس ہوتے ہیں۔ قصور وار ہونا ایک بات ہے اور قصوروار ثابت ہونا دوسری بات ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا بھی یہی استعمال ہونے لگا ہے۔
ہمارے راوت صاحب فوجی سربراہ ہیں۔ انھوں نے بیان دیا کہ کشمیر کی ٹیکسٹ بک میںتبدیلی ہونی چاہیے۔ وہ ایجوکیٹو ہوگئے ہیں ، اسکالر ہوگئے ہیں۔ آپ کو بنددق چلانی آتی ہے تو ٹھیک سے چلائیے اور اگر نہیںآتی ہے تو چھٹی لیجئے اور اپنے گھر جائیے۔ وہاں کھیتی باڑی کریے۔ کر کیا رہے ہیں آپ؟ پورے کشمیر کو ایلیمنیٹ کردیا۔ وہاں کا ہر شہری فوج سے نفرت کرتا ہے۔ ہماری فوج ہے، جس پر ہمیںفخر ہے۔ اس فوج سے ہمارے خود کے شہریوںکو نفرت ہے ، آخر کیوں؟ راوت صاحب کہتے ہیں کہ آسام میںایک سیاسی پارٹی بی جے پی سے بھی تیز پیش رفت کررہی ہے۔ کیا اس طرح کا بیان دینا فوجی سربراہ کا کام ہے؟ آپ کو پالیٹکس جوائن کرنی ہے تو استعفیٰ دیجئے اور آئیے میدان میں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ملک دھیرے دھیرے دلدل میںپھنس رہا ہے۔ میں باربار کہہ رہا ہوں کہ اس سرکار نے اداروں کو برباد کردیا۔ ٹی این شیشن صاحب نے الیکشن کمیشن کا وقار بڑھایا تھا لیکن مودی جی کو خوش کرنے کیے آج الیکشن کمیشن نے کیا کیا؟ ہماچل پردیش اور گجرات کے الیکشن کی تاریخ ایک دن ڈکلیئر نہیںکی کیونکہ گجرات میںمودی جی کو دو پروجیکٹ کا اعلان کرنا تھا۔ اس سے الیکشن کمیشن کا کیا وقار رہ جاتا ہے؟
آج میڈیا کو دیکھئے۔ کرناٹک میںالیکشن ہورہے ہیں۔ روز اخبار کیا چھاپ رہے ہیں، اس مٹھ کے آدمی نے یہ کردیا، وہ کردیا۔ عوام کا کوئی مدعا چرچا میں نہیںہے۔ کرناٹک کی ترقی کی کوئی بات ہی نہیںہورہی ہے ۔ 2019 میں بھی 282 سیٹیں بی جے پی کو نہیںملیںگی، یہ بات بی جے پی اور آر ایس ایس والے جانتے ہیں۔ اگرکانگریس کو ٹھیک ٹھاک سیٹیں نہیںملتی ہیں، سرکار پھر بھی آپ کی بن سکتی ہے۔ لیکن سرکار تو 282 سیٹو ں کے ساتھ آج بھی بی جے پی کی ہے۔تب بھی سرکار کچھ نہیںکرپارہی ہے تو آگے کیا کرپائے گی؟ مودی جی بڑی بڑی بات کرکے آئے تھے۔ مودی جی کہتے ہیںکہ ہم نیوانڈیا دیں گے۔میںتو کہتا ہوںکہ ہمارا اولڈ انڈیا ہی بہت اچھا تھا۔ اولڈ انڈیا کی سرکار رہنے دیجئے۔ آپ ترقی کیجئے۔ نئی صنعتیں کھولیے،نوکریاں دیجئے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے کام کریے۔ ان کاموںکی عوام حمایت کریںگے۔ لیکن مودی جی کیا کر رہے ہیں؟ ٹائلٹ بنوارہے ہیں۔ آپ نے صفائی کا مطلب صرف ٹائلٹ سمجھا۔ یہ غلطی ہوگئی۔ صفائی وہ ہوتی ہے جو ہر گاؤں ہر قصبے ہر گلی سے شروع ہو۔
بی جے پی روز نہرو کے خلاف بولتی ہے ۔ نہرو پلاننگ کمیشن بناکر کام کرتے تھے۔ گاندھی جی کا ماڈل الگ تھا۔ آج مودی جی نہرو ماڈل کے حساب سے کام کر رہے ہیں۔ مودی جی نے حکم دے دیا کہ اتنے ٹائلٹس بننے چاہئیں۔ کاغذ پر تو بن گئے۔ ٹائلٹس کی تعمیرکو لے کر بی جے پی نے ایک آنکڑہ جاری کیا۔یو پی اے اور بی جے پی کے فرق کو یہ بتاتا ہے۔ اس آنکڑے سے میںمتفق نہیں ہوں۔ آنکڑے کے مطابق یو پی اے کے دور میںایک ٹائلٹ کی قیمت ایک ہزار تھی، آج چھ ہزار ہے۔ مجھے لگتا نہیںہے کہ یہ صحیح عدد ہے۔ اگر صحیح ہے تو پھر تو یہ گھوٹالہ ہے۔
صرف ٹائلٹ بنانے سے صفائی نہیںہوتی۔ پانی اگر نہیںہے تو ٹائلٹ کام میںنہیںآئے گا۔ یہ این جی او کاکام ہے۔ رضاکار اداروںکا کام ہے۔ یہ کام آر ایس ایس کے لیے سب سے موزوں کام تھا۔ کیونکہ ان کے والینٹئر ملک کے ہر گاؤں میںہیں۔ وہ اس پروجیکٹ کو لیتے تو اس میںکامیابی ملتی۔ اسے سرکاری پروجیکٹ بنا کر مودی جی نے اسے ناکامی کے راستے پر دھکیل دیا۔ یہ کام اگر پنچایت کرتی تو کامیابی ملتی لیکن دہلی سے کامیابی نہیںملے گی۔ آج کچرے کا ڈھیر تو ہر جگہ لگا ہوا ہے،مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ کوئی صفائی نہیں ہے ملک میں۔ ہم لوگوں کو پہلے ذہنیت بدلنی پڑے گی۔
ایک معصوم لڑکی کی عصمت دری ہوگئی۔ اسے لے کر ہندو- مسلم ہو رہا ہے۔ کیا ہندو اور مسلمان کے علاوہ کانگریس اور بی جے پی کے پاس کچھ نہیںہے۔ اس ملک میںآج بھی 50فیصد سے زیادہ لوگ کانگریس اور بی جے پی ، دونوں کے ساتھ نہیںہیں۔ آج بی جے پی کے ساتھ صرف 18 فیصد ہندوہیں ۔ مودی جی نے ریپ کے خلاف لندن میںبولا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ وزیر اعظم کو ایکشن لینا چاہیے۔ ہندوستان ہی ایسا ملک ہے جہاں ریپ پر بحث ہوتی ہے ۔ لندن میںیا امریکہ میںبحث نہیںہوتی۔ ریپ ایک جرم ہے۔ اس کی سزا دیجئے۔ بحث کیوں؟ ریپ ایک کرائم ہے۔ کون کر رہا ہے، کیوںکررہا ہے، اس کی جانچ کیجئے۔ اگر مجرم سیاسی پارٹی کا ہے تو اسے سخت سزا دیجئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *