کم ہورہی ہیں آدیواسیوں، دلتوں اور مسلمانوں کی اوسط عمریں

معروف ماہر اقتصادیات ونی کانت برووا کے ’اکانومک اینڈپالیٹکل ویکلی‘ (10 مارچ 2018) میںشائع ایک تحقیقی و تجزیاتی رپورٹ نے مہذب دنیا کو چونکا دیا ہے کہ ہندوستان میںآدیواسیوں یعنی شیڈولڈ ٹرائبس اور دلتوں یعنی شیڈولڈ کاسٹس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی زندگی کی اوسط عمریں دیگر طبقات کے مقابلے میںبہت کم ہیں۔ یہ رپورٹ اس لحاظ سے یقینا انکشافی ہے۔ اس کا مطلب صاف طور پر یہ نکلتا ہے کہ دوسرے طبقات کے بالمقابل ان طبقات کے افراد اوسطاً پہلے موت کے منہ میںچلے جاتے ہیں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ایسا کیوںہے؟ اس کا سیدھا سا جواب مذکورہ بالا ماہر اقتصادیات ونی کانت برووا یہ دیتے ہیںکہ انھیںضروریات اور سہولیات زندگی ٹھیک سے یا بالکل میسر نہیں ہیں اور اگر ہیںبھی تو بہت کم ہیں۔ انھیںغیر اونچی ذاتوں کے افراد کے بالمقابل ہیلتھ کیئر حاصل نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ دراصل اس تحقیقی و تجزیاتی رپورٹ بعنوان ’ہندوستان میںذات، مذہب اور صحت کے حصولیابیاں‘ میںپیش کیا گیا ہے۔ یہ تجزیہ 2004 تا 2014کی صورت حال پر مبنی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، اس دوران آدیواسیوں کو چھوڑ کر تمام سماجی گروپ 2004 کے بالمقابل لمبی زندگی جی رہے تھے۔ عیاں رہے کہ آدیواسیوں کی موت کی اوسط عمر 2004 سے کم ہوئی ہے۔ ان کی یہ عمر اس وقت 45 برس تھی۔ اسی طرح دلتوںکی مدت حیات 2004 میں42 برس تھی مگر 2014 آتے آتے اسے 6 برس زیادہ ہوجانا تھا۔ جہاںتک مسلمانوں کا معاملہ ہے، ان کے اونچے طبقے کے افراد 2004 میں 55 برس کے مقابلے 2014میں 6 گروپوں میں سب سے زیادہ لمبی حیات والے بن گئے جن کی مدت حیات 60 برس میںتنگ ہونے لگی۔ برووا کا کہنا ہے کہ گروپ ممبر شپ کے بارے میںیہ بات ہے کہ صحت میںنابرابری کے پیچھے یہ بھلے پرائمری فیکٹر نہ ہو مگر یہ صحت کی Inequityکی تو اصل وجہ ہے ہی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ Inequity اس نابرابری سے منسوب ہوتی ہے جس سے ایک شخص کا واسطہ پڑتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذمہ دار عوامل اس کے کنٹرول کے باہرہوتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ مذکورہ ماہر اقتصادیات نے ہندوستان میںایک شخص کی صحت کو جاننے میں اس کی معیشتی اور معاشرتی حیثیت کو بنیاد بنایا ہے اور اس کے لیے مدت 2004 تا 2014 رکھی ہے۔ انھوںنے اس غرض کے لیے نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے ’سوشل گروپ‘ اور ’مذہب‘ کٹیگوریزکو ایک ساتھ ملاتے ہوئے تمام افراد کو چھ گروپوں میں تقسیم کیا ہے جس میں آدیواسیوں،میں56 فیصد ہندو، 33 فیصد عیسائی، دلتوں میں93 فیصد ہندو، غیر مسلم دیگر پسماندہ طبقات ، مسلم دیگر پسماندہ طبقات اور غیر مسلم اونچے طبقات شامل ہیں۔
نتیجے کے اعتبار سے 2004 میں55 برس عمر کے بالمقابل فارورڈ کاسٹ غیر مسلم کی عمر 2014 میں 60 برس ہے۔ اسی طرح او بی سی غیر مسلم کی عمر 2004 میں 49 برس کے بالمقابل 2014 میں 52 برس ہے جبکہ اوبی سی مسلم کی عمر 2004 میں43 برس کے بالمقابل 2014 میں50 برس ہے اور اونچی ذات مسلمانوں کی عمر 2004 میں 44 برس کی نسبت 2014میں49 برس ہے۔ شیڈولڈ کاسٹ کی عمر 2004 میں 42 برس تھی جو کہ 2014 میں 48 برس ہوگئی ہے۔ ان تمام گروپوں میںشیڈولڈ ٹرائبس کی اوسط عمر میںمزید کمی ہوئی ہے۔ سخت تشویش کی بات یہ ہے کہ 2004 میں ان کی اوسط عمر 45 برس تھی جو کہ 2014 میں دو برس کم ہوکر 43 برس ہوگئی۔ یہ حوالہ این ایس ایس او کے 60 ویںراؤنڈ کی رپورٹوں سے لیا گیا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس تشویشناک صورت حال سے ہندوستانی مسلمان بھی گزر رہا ہے جس کا حوالہ آنجہانی جسٹس راجندر سچر کی 2006 میںحکومت کو سپرد کی گئی رپورٹ میںموجود ہے۔ سچر رپورٹ میںمسلمانوںکی مجموعی صورت حال میںانھیںمیسرزندگی کی ضرورتوں اور سہولیات کا بھی تذکرہ ہے اور انھیںبعض مقامات اور بعض حالات میںنیو بدھسٹوں سے بھی زیادہ بری طرح حالت کا شکار بتایا گیا ہے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ منموہن سنگھ کی سابقہ اور نریندر مودی کی موجودہ حکومت کے وقت میں اس پر سنجیدگی سے کام نہیںکیا گیا جس کا نتیجہ ہے کہ ان کی حیات دیگر کمیونٹیز کے بالمقابل کم ہوتی جارہی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ آدیواسی، دلت اور مسلمان کی اوسط عمروں کی کم ہوتی ہوئی اس تشویشناک صورت حال پر توجہ دی جائے ورنہ آہستہ آہستہ ان کا وجود ختم ہوتا چلا جائے گا۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر بلا تفریق مذہب و ملت پورے ملک کی توجہ کا مرکز ہونا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *