اندرون پاکستان کا اصلی چہرہ بیشتر مساجد کلاشنکوف کے پہرے میں

تقریبا ً نصف صدی قبل معروف صحافی و کالم نویس کلدیپ نیر نے اپنی ایک کتاب ’ دور کے پڑوسی ‘ لکھی تھی جو بہت مشہور ہوئی۔اس میں انہوں نے ہندو پاک دونوں قریب کے پڑوسی جو کہ دوری بنائے ہوئے ہیں، کی قربت اور دوری کی اندرونی کہانی تفصیل سے بیان کی تھی۔ اس میں انہوں نے دونوں ممالک کے باشندوں میں مماثلت اور عدم مماثلت کو بھی بتایا تھا۔ کلیدپ نیر کے بارے میں خاص بات یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر سیالکوٹ سے ہیں جو کہ علامہ اقبال کا بھی وطن تھا۔ انہیں وہاں کی سرزمین سے فطری طور پر جذباتی لگائو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ممالک کے رشتے کو لے کر یہ تمام رکاوٹوں، اڑچنوں اور اختلافات کے باوجود خود کو ’لاعلاج امید پرست ‘ مانتے ہیں۔ معروف دانشور و ادبی شخصیت شبیر شاد جو کئی بار پاکستان جاچکے ہیں۔ یہ گزشتہ ماہ اپریل میں بھی وہاں گئے تھے۔ انہوں نے دونوں ملکوں میں بدلتی ہوئی نسلوں، بدلتی ہوئی معاشرت، معیشت ،سیاست و دیگر صورتحال کا بہت ہی گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ ان کا یہ انکشاف یقینا چونکادینے والا ہے کہ پاکستان کی بیشتر مسجدیں کلاشنکوف کے پہرے میں ہیں جبکہ ہندوستان کی مسجدوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو کہ اکثریتی غیر مسلم آبادی کے درمیان ہیں۔توقع ہے کہ قارئین کو اس مضمون کے پڑھنے کے بعد پڑوسی ملک کی صحیح صورت حال کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔

یہ سیاست بھی عجیب شے ہے۔کبھی ایک ہی جسم وجاں کی طرح رہنے والا خطہ جب دو ملکوں میں تقسیم ہوگیا تودونوں طرف شکوک وشبہات پروان چڑھ گئے۔مشکل یہ ہے کہ دونوں طرف بنٹے ہوئے خاندان زندگی گزارتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملنے کیلئے دونوں طرف کے خاندانوں کو کتنی تگ ودودکرنی پڑتی ہے۔جب کسی خاندان کو ادھرے سے ادھر جانے کا ویزا مل جاتا ہے توایسا لگتا ہے کہ ایک پہاڑڈھانے میں کامیابی مل گئی ہو۔میرے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔حالانکہ یہ میرا پہلا سفر نہیں تھا۔نہ جانے کتنی بار آنا جانا ہوا۔لیکن ہر بار یوں ہی لگتا ہے کہ پہلی بار جانے میں کامیابی ملی ہے۔لہذا ہر بار کا سفر لکھنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا مواد فراہم کردیتا ہے۔
میرے بھتیجے اور بھتیجی کے بیٹے اسعد حسیب کی شادی کا دعوت نامہ ملا تو میری اہلیہ نے کہا کہ ہمیں رشتہ داروں سے بچھڑے12 برس بیت گئے۔ ملاقات کا یہ موقعہ ہمیں گنوانا نہیں چاہیے۔ سخت ترین جدوجہد کے بعد ۴ اپریل2018کو ایک ماہ کا ویزا ملا اور ہم 6 اپریل کی رات ساڑھے ۱۲ بجے جلیانوالہ باغ سانحہ کے نام پر چل رہی ٹرین سے سہارنپور سے روانہ ہوئے۔ ٹرین وقت مقررہ سے ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے صبح8 بجے امر تسر ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ وہاں سے بذریعہ ٹیکسی واگھہ سرحد پر پہنچ گئے۔ ہم جب اپنی سرحد پر پہنچے تو پہلے امیگریشن اور اس کے بعد کسٹم کائونٹر پر گذر ہوا۔ شادی کی تقریب اور کچھ ادبی دوستوں کے لیے تحایف کے علاوہ میں اپنا شعری مجموعہ ’گواہی خود میرے جذبات دیں گے‘کے ۱۰ نسخے ساتھ لے گیا تھا۔ معمولی چوں چراں کے بعد ہم لوگوں کو فارغ کردیا گیا۔ میں پہلے بھی پیدل باڈر کراس کرچکا ہوں مگر اس مرتبہ مجھے کچھ اہم تبدیلیاں دونوں طرف دیکھنے کو ملیں ۔پہلے بھارت کا قلی سامان سر پر رکھ کرپاکستان کے گیٹ تک لے جاتا تھا اور جانے والے کو لگ بھگ آدھا کلو میٹر کا سفر پیدل کرنا پڑتا تھا۔ اس طریقہ کار کی وجہ سے ضعیف العمر مردوزن کو زحمت ہوتی تھی ۔اسی طرح اس پار بھی ہوتا تھا مگر اب کسٹم سے فراغت کے بعد بھارتیہ گیٹ تک مسافروں کو لانے لے جانے کے لیے بسیں لگادی گئی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں ۶ ڈبوں والی کھلی گاڑی میں مسافروں کو لایا لے جایا جاتا ہے۔ دونوں جانب اب سامان کی اسکیننگ ہو تی ہے اور ڈاگ اسکوایڈ بھی سامان کو سونگھ کراپنا اطمینان کرتا ہے۔ پاکستانی کسٹم پر موجود آفیسر نے مجھ سے جانے کی وجہ اور سامان کی تفصیل دریافت کی ۔ اس نے کہا کہ آپ ایک کلو سپار ی (چھالی)نہیں لے جا سکتے۔ پاکستان نے چھالی پر پابندی لگا دی ہے۔ میں نے کہا کہ شادی کی تقریب میںجا رہا ہوں اور انہوں نے سپاری منگائی ہے تو اس نے باد ل نخواستہ مجھے سپاری لے جانے کی اجازت دیدی۔ ہندوستانی100روپے کے سرحد پر ایک 170 پاکستانی روپے ملتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہمارے یہاں سپاری 300 روپیہ کلو ہے جو پاکستانی کرنسی کے مطابق 500 روپیہ کی ہوتی ہے ۔میں اس وقت حیرت زدہ رہ گیا جب مجھے میرے پاکستانی رشتہ دار نے بتایا کہ پاکستان میں سپاری پہلے بھی بھارت سے مہنگی تھی مگر اب پابندی کے بعد ایک کلو5 ہزارروپے تک پہنچ گئی ہے ۔پاکستان میں بہت سی چیزوں کے دام جہاں آسمان چھو رہے ہیں وہی پیٹرول ‘ڈیزل‘ موٹر سایکل‘ کار‘ مٹھائی اور کئی پھلوں کے دام بھارت سے کم ہیں۔ پیاز 40 روپے‘ آلو35 ‘ٹماٹر 30 روپے کلو ہے ۔پیٹرول فی لیٹر80 روپے ہے۔ اسی طرح وہاں موٹر سایکل 60 ہزار میں بکتی ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں 65 ہزار سے کم موٹر سایکل کے دام نہیں ہیں۔ ہونڈا سٹی کار18 لاکھ روپیہ میں مل جاتی ہے۔ سوزوکی(ماروتی) 7 لاکھ کی ہے۔ بکرے کا گوشت ایک ہزار روپیہ‘ چکن270روپیہ کلو ہے اور بڑے مو یشی کا گوشت 480 روپے ہے۔ دیسی گھی سے بنی مٹھائی کی قیمت 500روپے کلو ہے۔
سرحد کے اس پار میرے دوست شکیل احمد شمسی اور انکی اہلیہ ہمارے منتظر تھے۔ پاکستان پہنچنے پر گھڑی کو آدھا گھنٹہ پیچھے کرنا پڑتا ہے میں جب لاہور پہنچا تو وہاں ۱۲ بجے تھے۔ ناشتہ وغیرہ سے فراغت کے بعد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے شادمان چوک کی مسجد تجلی کعبہ پہنچا ۔مسجد کے اندر جانے کے لیے میٹل ڈٹیکٹر سے گذرنا پڑا ۔مسجد کے صدر در وازہ پر ایک سپاہی کلاشنکوف تھامے کھڑا تھا۔ قابل غور ہے کہ پاکستان میں اکثر مساجد میں نمازیوں پر دہشت گردوں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ اور نمازیوں کی ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات کے بعد سے غالبا وہاں ہر مسجد پر مسلح سپاہی تعینات کر دیے گئے ہیں۔نماز کے بعد میری ملاقات ایک صاحب سے ’بھارتیہ مہمان‘ کہہ کر کرائی گئی توانہوں نے فوراً سوال کیا کہ آپکو بھارت اور پاکستان میں کیا خاص فرق دیکھنے کو ملا ۔ میں نے کچھ دیر پہلے دیکھے منظر نامہ کو دھیان میں رکھتے ہوئے کہا کہ آپ بھارت کی کسی ایسی مسجد جہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے نماز ادا کرنے چلے جائیں تو وہاں آپکو نمازیوں کی حفاظت کے لیے کوئی لاٹھی لیے بھی ڈیوٹی کرتے ہوئے نہیں ملے گا۔پہلا دن لاہور میں گزرا ۔ اگلے دن شادی میں شرکت کے لیے گوجرانوالہ جانا تھا۔چار روز بعد ہم پھر لاہور تھے ۔اس مرتبہ قیام گوجرانوالہ کے معروف زمیندار چودھری لیاقت علی کی رہایش گاہ ماڈل ٹاون میں رہا۔ جہاں انکی بیگم اور بیٹیوں نے خو ب خاطر داری کی۔ وقت کی کمی کی وجہ سے چند دوستوں سے معذ رت کے ساتھ لاہور میں کسی ایک جگہ ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ میرے دوست شکیل شمسی جناح کلب کے رکن ہیں اس لیے وہاں ملاقات طے ہوئی۔ متعدد کتابوں کے مصنف شاعر و ادیب اور لاہور کالج میں تدریسی خدمات دینے والے سعادت سعید‘ محترمہ آمنہ جمال ایڈوکیٹ‘ جاوید شمسی ‘محمد اسماعیل بھٹی ‘سید شکیل شانی اور انکے برادر اصغر ریحان شمسی سے ادبی منظر نامہ پر مختصر گفتگو ہوئی۔
سعادت سعید نے 2017 میں اپنے شعری مجموعہ’ کجلی بن‘ فنون آشوب‘ صوتی شاعری پر مشتمل الحان اورحسین امتزاج کی نظموں کا مجموعہ من ہرن نثر ی نظیں شناخت بانسری چپ ہے کا تحفہ دیا اگلے دن پاکستانی ٹی وی سییریل کے لیے متعدد کامیاب ڈرامہ تحریر کرکے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے معروف شاعر و نقاد امجد اسلام امجد کے گھر ڈیفینس کالونی میںان سے ملاقات تھی۔ انہوں نے اپنے لکھے ٹی وی سیریل ڈرامہ گرہکی ضخیم کتاب عنایت کی امجد اسلام امجد نے بتایا کہ میرے لکھے ڈرامہ سیریل وارث‘ دہلیز ‘ سمندر ‘ وقت ‘ رات دن اور بندگی‘ اپنی بے پناہ مقبولیت کے بعد کتابی شکل میں شایع ہو چکے ہیں۔گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں پر بھروسہ کیے بغیر اہل قلم حضرات کو ہند پاک دوستی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں متعدد بار سیمنار مشاعرہ اور دوسری تقریبات کے لیے ہندوستان گیا ہوں اور اپنے وطن میں بھی برابر سفر میں رہتا ہوں دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ایک دوسرے ملک میں آنا جانا چاہتے ہیں۔ انکی تجویز تھی کہ کم از کم اہل قلم حضرات کو ویزا میں دونوں ممالک آسانیاں دیں تاکہ محبت کی ہوائیں دونوں ممالک میں چلیں اور نفرت کا خاتمہ ممکن ہو ۔امجد اسلام امجد کے گھر سے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکارغلام علی سے موبایل پر رابطہ ہوا ۔وہ اس وقت اپنے عزیز کی مزاج پرسی کے لیے اسپتال تھے۔ ان کا اور انکی بیگم سعدیہ علی کا اصرار تھا کہ میں شام کو ملاقات کے لیے انکی رہایش گاہ پہنچوں۔ مگر وقت کی کمی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔
میرے خاص کرم فرما اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر قتیل شفائی مرحوم کے صاحبزادے سے بھی اس مرتبہ ملاقات نہ ہونے کا ملال ہے۔ قتیل شفائی اکثر بھارت آتے رہتے تھے ۔انہوں نے بھارتی فلموں کے لیے کئی مقبول گیت لکھے ہیں انکی آمد دہلی ممبی اور دوسرے شہروں میں بھی مشاعروں کے سلسلہ میں ہوتی رہتی تھی۔ وہ میری گزارش پر سہارنپور بھی دو مرتبہ تشریف لائے ۔ان کی وجہ سے مجھے اسلام آباد میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقد اہل قلم کانفرنس میں شرکت کا موقعہ ملا۔ کانفرنس میں میرے ساتھ مشہور نوجوان شاعر افضل منگلوری بھی تھے۔ بھارت سے ہم دو ہی تھے جبکہ چین سے کئی اہل قلم موجود تھے۔ کانفرنس کے بعد قتیل صاحب کی محبتوں کی وجہ سے ہی کراچی جم خانہ کا مشاعرہ بھی پڑھنے کا موقعہ ملا تھا ۔اس یاد گار مشاعرہ کی ایک خاص بات کاذکر سن لیں۔ جس وقت مجھے اور افضل کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا تو کراچی کے ایک شاعر نے یہ جملہ ادا کیا کہ بھارت میں شاعری نہیں ہوتی بس آواز کی پٹری پر غزل دوڑتی ہے۔ یہ جملہ ہمارے لیے چیلنج تھا ۔میں تو عموما تحت سے کلام پڑھتا ہوں مگر افضل کا ترنم سے پرانا رشتہ ہے ۔افضل منگلوری نے اسٹیج پر طنزیہ جملے کا معقول اور کرار اجواب دیا اور فی ا لبدیہہ اشعار پڑھکر سامعین کو داد و تحسین دینے پر مجبور کردیا ۔مشاعرے میں ملی عزت و شہرت کی وجہ سے ہم دونوں کے اعزاز میں اگلے دو دن تک شعری نشستوں کا دور چلتا رہا اور اس طرح جملے بازوں کی بولتی بند ہو گئی۔ اب سے تیرہ سال قبل میں جمیعت العلما ہند کے ایک وفد کے ساتھ پاکستان میں آئے زلزلے کے وقت5 دن کے لیے تباہ شدہ لوگوں کے لیے جمیعت کی جانب سے جاری ریلیف کے ساتھ رمضان میں پاکستان گیا تھا۔اس موقع پر عمران خاں کی والدہ شوکت خانم جو کہ کینسر کے مرض میں مبتال ہو کر وفات پاگئی تھیں، ان کی یاد میں بنے شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل کو بھی دیکھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *