قرآن پاک پوری دنیا کیلئے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے:مولانا اعجازعرفی

QURAAN-CONFERENCE
نئی دہلی: قرآن پاک ہی وہ واحدکلام ہے جس میں انسانوں کی رشد و ہدایت اور تمام انسانی برادری کی فوز و فلاح کا پیغام مضمر ہے۔ قرآنی تعلیمات کو ہی مشعل راہ بناکراس کائنات میں امن و امان اور صلح و آشتی کی خوش گوار فضا قائم کی جاسکتی ہے۔ آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر او رمشہور عالم دین مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے جامعہ نگر کے جامعہ فیضان نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ قرآن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج مسلمان اور امت مسلمہ مشرق و مغرب اور عالم عرب و عالم اسلام میں اس لیے مصائب و مسائل سے دوچار اور ہر طرف ذلیل و خوار ہے کہ اس نے قرآن مجید کی تعلیمات و ہدایات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دور صحابہ و تابعین اور بعد کے ادوار میں اس لیے اسلام اور مسلمان پوری دنیا پر حکمرانی اور اپنی بالادستی کا علم لہراتے رہے کہ انھوں نے قرآن کریم کی تعلیمات کا دامن مضبوطی سے تھام رکھا تھا اوراپنے دینی، سماجی، معاشی تمام مسئلے کا حل قرآن میں تلاش کرنے کا اپنے کو عادی بنا لیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مدارس اسلامیہ اور مکاتب قرآنیہ ہی کی دین ہے کہ ہمارے ننے منے بچے پورے قرآن پاک کو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ قرآن مجید کلام خداوندی کا اعجاز ہی ہے کہ وہ نو عمر اور نو خیز پانچ دس سال کے بچوں کے دہن و دماغ میں ایک ایک حرف اور حرکات کے ساتھ ازبر اور محفوظ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تبارک و تعالی نے لیا ہے، اس لیے اسلام دشمن طاقتیں قرآن پاک کو صفحۂ ہستی سے مٹانے، یا اس میں ترمیم و تبدیلی کی کسی بھی کوشش میں نہ ماضی میں کبھی کام یاب ہوسکے ہیں، نہ مستقبل میں کبھی کام یاب ہوسکیں گے۔مولانا نے کہا کہ قرآن مجید میں یہ بتلایا گیا ہے کہ تمھارے تمام مسائل کا حل قرآن کریم میں ہے،تمھیں کوئی مسئلہ در پیش ہو تو مسجداور نماز کی طرف رجوع کر،و مگر ہم ان تعلیمات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ادھر ادھر چکر کاٹتے رہتے ہیں اور ہمارے مسائل جوں کے توں باقی رہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آنے والا مہینہ رمضان البارک قرآن کا مہینہ ہے کہ یہ کلام اسی ماہ میں نازل ہوا تھا، اس لیے تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ماہ میں اپنے گھروں اور دکانوں میں قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کریں اور اس کے معانی و مفاہم کی تفہیم کے لیے کسی ماہر قرآن پاک علما اور مفسرین سے رابطہ رکھیں۔ درس قرآن میں شریک ہو۔قرآن مجید کا دیکھ کر پڑھنا اور اس کو سمجھنا کوئی عمل ثواب سے خالی نہیں۔ انھوں نے ہمارے گھروں کی قرآن سے بے رخی کا المیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے قرآن کریم کو اپنے طاقوں کی زینت بنا رکھا ہے اور دوسری اقوام قرآن مجید کی تعلیمات میں غورو فکر کرکے ثریا تک پہنچ چکی ہیں۔ ہمیں بھی آج سے قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کے پیغام کو دورتک پہنچانے کا عہد کرنا چاہیے۔ یہ کتاب صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے اتری ہے۔
یہ کانفرنس جامعہ فیضان نبوت جامعہ نگر کے سالانہ امتحان کے بعد جامعہ کے ہال میں منعقد ہوئی ،طلباء نے بھی تقریروں اور مکالموں کا مظاہرہ کیا،بلند شہر سے آئے ہوئے مولانا عثمان قاسمی ،احسن مہتاب خان،قاری عمر فاروق،قاری عبیداللہ ،قاری معراج ،قاری عبدالسمیع اور مولانا انس بدایونی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *