پاکستان کی بربریت کے شکار ہزارہ برادری کے لوگ

گذشتہ پانچ برس میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے 509 افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔ یہ تعداد کسی صحافی نے نہیں بتائی،نہ ہی یہ اعدادوشمار کسی این جی او کے ہیں۔ یہ تعداد حکومتِ پاکستان کے قائم کیے گئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔گذشتہ دنوں ہی کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا ایک دھرنا بھی ہوا تھا کیونکہ اپریل کے مہینہ میں ہزارہ برادری پر حملہ ہوا تھا۔ پاکستان کے میڈیا نے اس پر کوئی خبر نہیں چلائی۔ صرف سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ نوجوانوں کو پوسٹر اٹھائے ہوئے دیکھا گیا۔
اگر سرکاری اعدادوشمار کو درست مان لیا جائے تو گذشتہ پانچ برسوں میں پانچ سو اور اس سے پہلے کے پانچ برسوں میں ایک ہزار سے بھی زیادہ ہزارہ افراد مارے گئے ہیں۔ ہوٹل پر چائے پیتے ہوئے،ا سکول جاتے ہوئے، دفتر سے واپس آتے ہوئے، اہنی گلی کے سنوکر کلب میں، کبھی کبھی تاک تاک کر اور کبھی بڑے بڑے دھماکے کر کے۔غرضیکہ ان کو نقصان پہنچانے کے کئی طریقے ہیں جو پاکستانی شدت پسندوں کی طرف سے اپنائے جاتے ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ہزارہ قوم کے بارے میں کبھی کوئی چیف جسٹس نوٹس نہیں لیتا، کبھی ٹی وی پر بیٹھا کوئی دفاعی تجزیہ نگار نہیں سمجھاتا کہ ایسا کون سا دشمن ہے جو ایک چھوٹی سی برادری کی نسل کشی کے درپے ہے۔ اجتماعی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ برسوں سے ہزارہ نسل کشی کی یہ فلم سلوموشن میں دیکھ رہے ہیں اور کبھی رک کر یہ بھی نہیں پوچھتے کہ کوئٹہ کی علمدار روڈ اور کوہِ مردار کے بیچ میں ایک بستی میں رہنے والی اس قوم کا قصور کیا ہے۔ شیعہ ہونے کے علاوہ ان پر کوئی ڈھنگ کا الزام بھی نہیں ہے۔
1992 میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری کے بزرگ عبدالقیوم چنگیزی نے ایک اِنٹرویو میں حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ چونکہ آپ ہمارے لوگوں کو مرنے سے بچا نہیں سکتے یا بچانا نہیں چاہتے تو ایسا کریں کہ ہمارا سب کچھ لے لیں،دکانیں، گھر، کاروبار، گھر کا فرنیچر، گھر کے برتن تک لے لیں پھر مارکیٹ کی قیمت پر یہ سب بیچ دیں جو پیسہ ملے اس سے ایک بحری جہاز خریدیں اور ہم سب کو اس میں بیٹھا کر سمندر میں دھکیل دیں۔دنیا میں کوئی ملک تو ہو گا جو ہمیں قبول کرے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

حکومت نے ظاہر ہے اِس مطالبے کو ایک دکھی دل کی آہ سمجھ کر نظر انداز کیا لیکن ہزارہ برادری کے ہزاروں لوگ اس جادوئی بحری جہاز کی تلاش میں نکل چکے تھے۔ اپنے گھر بیچ کر، اپنی دْکانیں بیچ کر اور بعض دفعہاس رقم کے ساتھ جو باپ یا بھائی کی ہلاکت کے بعد حکومت نے انہیں دی تھی۔پاکستان سے جان بچا کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے کی کوششیں ہزارہ برادری کے کچھ لوگوں نے 2008 سے اسی وقت شروع کر دی تھیں جب ہزارہ لیڈروں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں ہوئیں۔
زیادہ تر ملائشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے راستے اِنسانی سمگلروں کو پیسے دے کر کشتی کے ذریعے آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ پہنچنے کی کوشش کرتے۔ 50 گھنٹے سے زیادہ کا سفر اپنی زندگی سے جوا کھیلنے کے مترادف ہے لیکن منزل پر پہنچنے والے جب اپنے زندہ رہنے کی خبر دیتے تو اور لوگ بھی یہ جوا کھیلنے پر تیار ہو جاتے۔
لیکن پھر آیا 2013۔ اگراس سے پہلے ہزارہ شیعہ چن چن کر مارے جا رہے تھے تو یہ سال شروع ہوتے ہی قتل عام شروع ہو گیا۔ جنوری اور فروری میں دو دھماکوں میں سینکڑوں جان سے گئے۔جب ہزارہ برادری اپنے سینکڑوں جنازے لے کر احتجاج کو نِکلے، بڑے شہروں میں سڑکیں بلاک کیں تو ان کا ساتھ دینے زیادہ تر اہل تشیع ہی نکلے ۔ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے ہمدردی جتائی لیکن زیادہ تر لوگوں نے جنازے نہیں دیکھے۔صرف یہ شکایت جتائی کہ اِن ہزاریوں نے ہماری سڑکیں روک کر ٹریفک کا نظام تباہ کر دیا ہے۔ 2013 کے اِس قتل عام کے بعد ہزارہ برادری کے ریلے کے ریلے ملک چھوڑنا شروع ہوئے۔ کوئی چھوٹے چھوٹے بچوں کو کندھوں پراٹھا کر جنگلوں میں چلا، کوئی بوڑھے ماں باپ کو سہارا دے کر کشتی پر بیٹھاتا اور سینکڑوں نوجوان اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اِس امید میں نکلے کہ اگر بچ گئے تو باقی گھر والوں کو بلائیں گے۔
زیادہ تر کی منزل اِنڈونیشیا اور ملائشیا تھی۔ امید یہ تھی کہ کشتی پر بیٹھیں گے اور اگر مچھلی کی خوراک نہ بنے تو آسڑیلیا یا نیوزی لینڈ پہنچ کر سیاسی پناہ لیں گے اور باقی خاندان کو کوئٹہ کی قتل گاہ سے نکالیں گے۔ہزارہ برادری پر پاکستان کی زمین تو تنگ ہوئی تھیدنیا کا دِل بھی چھوٹا پڑ گیا۔ 2013 میں آسڑیلیا نے اعلان کیا کہ کشتی پر بیٹھ کر آنے والے کو پناہ نہیں ملے گی چاہے وہ کم عمر بچہ ہو یا اکیلی عورت۔خلاصہ یہ کہ پاکستان کے یہ شہری برسوں سے پاکستانی تعصب کے شکار ہیں۔انہیں نہ پاکستان کے اندر سکون ہے اور نہ ملک کے باہر پناہ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *