عجیب و غریب نتائج ہیں کرناٹک انتخابات کے

کرناٹک الیکشن کا نتیجہ آگیا ہے۔ اس کے بعد جو ہورہا ہے، اس پر بات کرتے ہیں۔ کرناٹک الیکشن کے کئی پہلو بڑے مزے دار ہیں۔ شروع میںایسا ماحول پیدا ہوگیاتھا کہ کانگریس دوبارہ اقتدار میںآجائے گی لیکن وہاںعوام نے آج تک کسی کو دوبارہ نہیںچنا ہے۔ سدا رمیا ریکارڈ توڑنے والے تھے لیکن نہیں توڑ پائے۔ تقریروںسے بی جے پی کی زمین کھسک رہی ہے۔ خاص طور سے مو دی جی اور امت شاہ کی تقریروںسے کیونکہ وہ ڈیسپریٹ ہوگئے ہیں۔ اقدار کی بات کرنے والی پارٹی نے اس یدیورپا کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ بنایاجو بدعنوانی کے الزام میںجیل جاچکے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ لنگایت ہیں، اس لیے ووٹوں کے سبب انھیںلے کر بی جے پی مجبور ہو۔ لیکن ریڈی برادرس، جو بیلاری کے مائنس والے ہیں، وہ تو کنڑ ہیں۔ان کے پاس پیسے کی طاقت اور دبنگی اتنی زیادہ ہے کہ اس علاقے میںان کا راج ہے۔ ان کے کہنے پر 7 لوگوںکو ٹکٹ دیا گیاکیونکہ کسی بھی طرح الیکشن جیتنا ہے۔ نتیجے آگئے اور بی جے پی 104پر رک گئی۔ اکثریت کے لیے113 سیٹ چاہئے تھیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ بی جے پی جن اقدار کی بات کرتی ہے، اس کی بنیاد پر یہ اعلان کرتی کہ ہم تو اپوزیشن میںبیٹھیںگے۔ سرکار کوئی بنائے، یہ ہمارا حق نہیںہے، یہ گورنر کا کام ہے۔ لیکن نہیں، جوڑ توڑ میںلگ گئے۔
گورنر تو ان ہی کے آدمی ہیں۔ وہ گجرات میںمودی کے انڈر میں9 سال وزیر مالیات رہ چکے ہیں۔ انھوں نے مودی کے لیے اپنی سیٹ خالی کی۔ وہ تو ایک طرح سے مودی کے غلام ہیں، ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔ ادھر، جاوڈیکر اور نڈا کرناٹک میںجاکر بیٹھ گئے۔ انھیں تو ساری اقدار اور معیار کو طاق پر رکھ کر سرکار بنوانا ہے۔ آئین میںکہیں بھی پارٹی کا ذکر نہیںہے۔ ذکر یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم وہ ہوگا،جسے اسمبلی یا لوک سبھا میںاکثریت حاصل ہو۔ گورنر کو کسے بلانا چاہیے، اس کا فیصلہ کرنا بہت ہی آسان ہے۔ گورنر آسانی سے اس بات کی جانچ کر سکتے ہیںکہ کس کے پاس نمبروں کی طاقت ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس نے مل کر 116 اراکین اسمبلی کی حمایت کی لسٹ گورنر کو دی۔ اس کے بعد تو فیصلہ کرنے کے لیے پانچ منٹ کاوقت بھی کافی تھا۔ اسے لے کر بی جے پی کی طرف سے کئی دلیلیںآئیں۔ پہلی یہ کہ وہ نمبر وںکے حساب سے سب سے بڑی پارٹی ہے، تو اسے بلانا چاہیے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے جے ڈی ایس اور کانگریس کا گٹھ بندھن نہیں تھا، اس لیے یہ غیر اخلاقی ہے۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ پہلے بھی ایسا ہوا ہے۔ اس دلیل کا تو کانگریس جواب نہیںدے سکتی کیونکہ یہ کام بی جے پی نے شروع نہیں کیا ہے۔ س کا کریڈٹ کانگریس کو جائے گا۔ گورنر کے عہدے کا غلط استعمال کرنا اور آئین کے پروویژنس کوتوڑنا مروڑنا ، یہ سب کانگریس نے شروع کیا ہے۔ لیکن بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ کانگریس بدعنوان ہے اور اس لیے ہم عوام کو متبادل سیاست دیںگے۔ چار سال میں انھوںنے ثابت کردیا کہ متبادل نہیں، کانگریس کا ہی دوسرا چہرہ ہے بی جے پی ۔دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ عوام کو ایک واضح متبادل چاہئے،جو وہ سب ٹھیک کرے، جو بھی غلط ہو رہا ہو۔عوام کو بھروسہ ہوگا تو وہ ایک بار پھر آپ کو چنیں گے۔
بی جے پی کی طرف سے بیان آیا کہ 1989 میں راجیو گاندھی نے جو کیا تھا، کانگریس کو وہی کرنا چاہئے۔1989 میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی تھی پارلیمنٹ میں۔ راجیو گاندھی کے پاس 200 سیٹیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس اکثریت نہیں ہے، تو میں اپوزیشن میں بیٹھوں گا۔ پھر یہ تو بی جے پی پر بھی لاگو ہوتاہے۔ آپ کے پاس 104 سیٹیں ہیں، آپ کو کہنا چاہئے تھا کہ جیسا کہ راجیو گاندھی نے کہا تھا، ہمیں بھی اکثریت نہیںملی ہے تو ہم بھی اپوزیشن میں بیٹھیںگے لیکن نہیں، اقتدار کو لے کر بی جے پی کی شبیہ اتنی ہی بھیڑیئے جیسی ہے، جتنی کانگریس کی ہے۔
کانگریس کے رام لال آندھرا پردیش میں گورنر تھے۔ انہوں نے اکثریت ہوتے ہوئے بھی این ٹی آر کی سرکار گرا دی اور کانگریس کے بھاسکر رائو کو وزیرا علیٰ بنا دیا۔ وہ تماشہ ایک مہینے چلا۔ عام آدمی میںرام لال کا نام حرام لال ہو گیا تھا۔ میں نازیبا لفظوں کو ترجیح نہیں دیتا، یہ عوام کی رائے ہے۔ حرام لال لفظ پریس نے نہیں بنایا، پارٹیوں نے نہیں بنایا ،عوام نے بنایا ۔یہ وجو بھائی والا بھی اگر حرام لال بننا چاہتے ہوں تو کسی کی توقعات اور خواہشات کو آپ کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں ۔لیکن وجو بھائی والا مودی جی سے کہہ سکتے تھے کہ یہ سب کام مجھ سے مت کرائیے، میں گورنر ہوں۔ 116 کی جو لسٹ آگئی ہے، اسے سرکار بنانے دیجئے اور بھلے بعد میں آپ توڑ پھوڑ کرکے ان کی سرکار گرا دیجئے۔یہ آپ کا کام ہے۔ میں گورنر ہوں، مجھے کیوں ڈال رہے ہیں اس میں۔میرے کندھے پر بندوق رکھ کر مت چلائیے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آپ نے (بی جے پی ) یدورپا کو وزیراعلیٰ بنا دیا اور اب آپ خریدو فروخت کریںگے۔ آپ آئین کے وقار کو گرا رہے ہیں۔ آپ ہندو کی بات کرتے ہیں، وقار کی بات کرتے ہیں، رام کی بات کرتے ہیں، ویویکا نند کی بات کرتے ہیں ۔کہاں گیا آپ کا وقار ؟
اب انتخابات پر آئیے۔ کانگریس کو بی جے پی سے قریب 2فیصد زیادہ ووٹ ملا ہے۔ یہ کیا تماشہ ہے کہ ووٹ زیادہ ملا ہے کانگریس کو اور سیٹیں زیادہ مل گئی ہیں بی جے پی کو۔ کانگریس کو جتنی امید تھی، اس سے کافی کم سیٹیں ملی ہیں۔ جے ڈی ایس ہمیشہ سے کہتی رہی ہے کہ اس کی علاقوں میں اچھی پکڑ ہے ۔ اس سے ای وی ایم پر بڑا سوالہ نشان کھڑا ہو تا ہے۔ عام لوگ نہ کانگریس کی طرف ہیں اور نہ بی جے پی کی طرف۔ اوپنین پول اور ایگزٹ پول آیا۔ آپ چاہے بی جے پی کی طرف ہوں یا کانگریس کی طرف، یہ تو مانئے کہ سارے ایگزٹ پول غلط ہیں۔ کسی بھی ایگزٹ پول نے صحیح نہیں بتایا۔کوئی بی جے پی کو جتا رہا تھا،کوئی کانگریس کو جتا رہا تھا۔ ایسا نہیں ہوا۔ ایگزٹ پول کا کوئی مطلب نہیں ہے اس ملک میں ۔
امیت شاہ کے بارے میں لوگ دو باتیں کہتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ بوتھ مینجمنٹ اچھا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب میں نہیں جانتا ہوں۔ ای وی ایم ایک دوسرا مسئلہ ہے۔ اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ مئی 2019 کے انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ کرایا جائے۔ اس سے کسی کو بھی یہ بولنے کا چانس نہیںملے گا کہ گڑبڑی ہوئی ہے۔ بیلٹ پیپر سے جب ای وی ایم پرآئے تھے، تب یہ تھا کہ بیلٹ پیپر لوٹ لئے جاتے تھے۔لیکن جب وہ دور گیا ۔سیشن صاحب جب الیکشن کمشنر بنے، اس کے بعد الیکشن کمیشن بہت طاقتور ہو گیا۔
آپ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ کانگریس آپ سے بدتر کام کرے گی لیکن چوری آپ ان سے بہتر کر سکتے ہیں۔یہ کس ہوڑ میں لگ گئے ہیں آپ ۔ جاگئے، اقتدار سب کچھ نہیں ہے۔ میرے حساب سے کانگریس نے دس سال خراب طریقے سے راج نہیں کیا ۔دراصل ہوتا یہ ہے کہ عوام اکتا جاتے ہیں۔ عوام دیکھتے ہیں کہ گھوٹالہ ہو رہا ہے، تو وہ ایک نئی پارٹی کو موقع دیتے ہیں۔ مودی جی بھی ایسی ہی امیدوں میں چن کر آئے تھے۔ مودی جی کے لئے میرا سجھائو ہے کہ وہ خود اپنی انتخابی تقریر پڑھیں۔ آپ نے ملک کے نوجوانوں ، درج فہرست طبقے کے لوگوں میں جو امیدیں جگائی تھی، وہ سب کہاں گیا؟ اب تو آپ اس پر آگئے ہیں کہ جو کانگریس نے کیا، اس سے زیادہ بہتر کروں گا میں۔ آج آپ کہتے ہیں کہ آپ سب سے بڑی سنگل پارٹی ہیں۔ گوا اور منی پور میں بھی تو سب سے بڑی سنگل پارٹی کانگریس تھی، وہاں کیا ہوا؟وہاں وہی ہوا جو آج کانگریس کہہ رہی ہے۔ گوا اور منی پور میں آپ نے ایسی پارٹی سے ہاتھ ملایا، جس کے خلاف تھے آپ۔ کیا وہ اخلاقی تھا؟ایک چھوٹا سا گروپ ہے، 18فیصد ہندو کا۔ بی جے پی کے لئے کچھ کہو تو بولتے ہیں کہ پاکستان چلے جائو۔ میں ان 18 فیصد سے کہتا ہوں کہ آپ نیپال چلے جائو ہندو ملک چاہئے تو۔ یہ ہندوستان ہندو ملک نہیں ہے۔یہ سب کا ملک ہے۔ ہاں ہندو زیادہ ہیں، 85فیصد ہیں۔ اسی لئے سیکولر ملک ہے۔ ہندو ازم ہی سیکولرزام ہے۔ میں جس روایت میں پیدا ہوا ہوں، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کون کیا ہے؟ آپ اپنی پوجا کرو، اگلا اپنی پوجا کرے گا۔ ہندوئوں میں بڑی مزیدار بات ہے ۔ ہر گھر میں پوجا ہوتی ہے۔ رواج الگ ہے۔ یہی ہندوستان کی طاقت ہے۔ اس طاقت کو آپ کیوں ختم کرنے میںلگے ہوئے ہیں۔ کرناٹک میں جو ہوا، دیکھتے ہیں اگلے کچھ دنوں میں کیا ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *