کرناٹک انتخابات 2018 منقسم مسلم ووٹ نے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا

اس بار کرناٹک میں 2018 کے 15ویں اسمبلی انتخابات میں کل 224 میں سے 222 حلقوں میں انتخابات ہوئے جن میں سے بی جے پی 104 ، کانگریس 78 اور جنتادل سیکولر 38 سیٹوں پر کامیاب ہوئی۔ سب سے حیرت کی بات تو یہ رہی کہ بی جے پی سے 26سیٹ کم پاکر بھی کانگریس کا ووٹ فیصد سب سے زیادہ یعنی 38فیصد رہا جبکہ 2013 کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں یہ 36.76 فیصد تھا۔
ریاست کرناٹک میں تقریباً 13 فیصد مسلمان ہیں۔ مسلم آبادی ریاست کے 6 خطوں سینٹرل کرناٹک ، کوسٹل کرناٹک ، گریٹر بنگالورو ، حیدر آباد کرناٹک ، بمبئی کرناٹک اور قدیم میسور میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس بار بی جے پی کو سیٹوں کے معاملے میں تمام 6 خطوں میں فائدہ ہوا جبکہ بنگالورو خطہ میں بی جے پی کی حاصل کردہ 11 سیٹوں کے بالمقابل کانگریس نے 15 سیٹیں حاصل کرکے اپنی برتری برقرار رکھی۔ یہ امر باعث حیرت ہے کیونکہ بی جے پی شہری علاقوں میں بہت مضبوط گردانی جاتی ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ بنگالورو میں ووٹ فیصد بھی بہت کم تھا۔ ریاست کے 72فیصد ووٹ کے بالمقابل یہاں ووٹ فیصد صرف 50 رہا ۔
مگر سب سے حیرت کی بات تو کرناٹک انتخابات میں مسلم تناظر میں رہی۔یہاں 33 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم آبادی 15 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ریاست کی کل 13 فیصد مسلم آبادی میں 1952 سے لے کر 2018 تک 15 اسمبلی انتخابات میں کل 128 مسلم ایم ایل ایز منتخب ہوئے ہیں جبکہ 1978 میں سب سے زیادہ 17 ایم ایل ایز تھے۔ 2013 میں یہ تعداد 11 تھی جو کہ 2018 میں کم ہوکر 7 ہوگئی ہے۔ ویسے سب سے کم تعداد 1983 میں رہی ہے۔اس وقت صرف دو ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔
تجزیئے سے جو حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے ،وہ یہ ہے کہ قابل ذکر ان مسلم آبادی والے کل 33 حلقوں میں ایک بھی مسلم امیدوار نہیں کھڑی کرکے بی جے پی نے گزشتہ بار 2013 کے 6 کے مقابلے 15 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک طرف یہاں ہندو ووٹ کا پولرائزیشن ہوا تو دوسری طرف کانگریس اور جنتا دل سیکولر میں مسلم ووٹ تقسیم ہوا۔
اس بار جو 7 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، وہ تمام کانگریس کے ہیں۔ جنتا دل سیکولر نے بھی مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے مگر ان میں کوئی کامیاب نہیں ہوا۔ کانگریس نے گزشتہ بار کے 19 کے مقابلے اس بار 17 امیدوار کھڑے کئے تھے جبکہ سابق مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خاں کی قیادت میں ایک اعلیٰ وفد نے کانگریس ہائی کمان سے مل کر 25 مسلم امیدواروں کا مطالبہ کیا تھا۔ شروع میں تو یہ نمبر 15 تھا مگر دبائو کے نتیجے میں یہ تعداد 17کردی گئی تھی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ان سیٹوں میں سے ایک میں معروف مسلم لیڈر مرحوم انجینئر قمر الاسلام کی اہلیہ گلبرگہ شمال سے جیتیں۔یہ سیٹ ان کے مرحوم شوہر کی تھی۔ اسی طرح ممتاز سیاست داں روشن بیگ شیوا جی نگر حلقہ سے کامیاب ہوئے ۔ یو ٹی عبد القادر نے منگلورو حلقہ میں اپنا جھنڈا گاڑا۔ جنتا دل سیکولر سے نکلے ہوئے رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خاں نے کانگریس کے ٹکٹ پر بنگالورو سٹی میں چمرا جپٹ حلقہ میں کامیابی حاصل کی۔ عزیز سیٹھ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے تنویر سیٹھ نے نرسمہا راجہ حلقہ میں کامیابی کا جھنڈا گاڑکے اپنا اثر قائم رکھا۔ اسی طرح محمد نلاپدحارث شانتی نگر اور رحیم خاں بیدر اسمبلی حلقے سے منتخب ہوئے۔
قابل ذکر ہے کہ اس بار بیلگام شمال سے ہر دلعزیز لیڈر ،سابق ایم ایل اے اور معروف تاجر فیروز نور الدین سیٹھ شکست کھا گئے۔یہ دیگر 8 مسلم امیدواروں کے ساتھ نمبر دو پر رہے۔ان کی شکست پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بیلگام کے سماجی و سیاسی کارکن محمد اشفاق احمد کہتے ہیں کہ دراصل یہاں ووٹ کا پولرائزیشن اور مسلم ووٹ کی تقسیم ان کے خلاف چلا گیا۔ دیگر 8 مسلم امیدوار جو کہ بہت کم ووٹوں سے شکست کھائے، ان کے نام ہیں: بیجا پور سٹی حلقہ میں عبدالحمید مشرف، گنگا وتی حلقہ میں اقبال انصاری ، ہبلی دھروار مغرب میں محمد اسمٰعیل ٹمٹگر، کولار حلقہ سے سید ضمیر پاشا، منگلور سٹی شمال سے بی اے محی الدین باوا، رائچور سے سید یاسین ، راما نگرم سے اقبال حسین ایچ اے اور شگائوں سے سید عظیم پیر قادری۔ ان میں کولار کے سید ضمیر پاشا اور رامانگرم سے اقبال حسین ایچ اے کو جنتا دل سیکولر نے ہرایا ہے جبکہ باقی ساتوں امیدواروں کو بی جے پی نے شکست دی ہے۔نمبر دو پر رہے یہ تمام 9مسلم امیدوار کانگریس کے تھے۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان 33 قابل ذکر مسلم آبادی والے حلقوں میں سے 15 میں بی جے پی کی کامیابی کی وجہ پولرائزیشن کے علاوہ مسلم ووٹوں کی کانگریس اور جنتا دل سیکو لر میں تقسیم ہے جس سے بی جے پی نے مذکورہ بالا سیٹوں پر اپنا جھنڈا گاڑا۔
اس بار جہاں کانگریس نے 17 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیاتھا، وہیں جنتا دل سیکولر نے 8 مسلمانوں اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ( ایس ڈی پی آئی ) نے 3 مسلم امیدواروں کو انتخابی دنگل میں اتارا تھا جن میں سے سبھی ناکام رہے ۔عیاں رہے کہ بی جے پی نے کرناٹک میں بھی کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ اس بار کرناٹک انتخابات میں اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کا رول بہت ہی مثبت رہا۔ اس نے یہاں اپنے ایک بھی امیدوار میدان میں نہیں اتارے اور جنتا دل سیکولر کے لئے جم کر کام کئے۔ اویسی نے بھگوا پگڑی پہن کر جنتا دل سیکولر کے حق میں زبردست مہم چلائی۔ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ اسے ہر طرح سے حمایت دے کر کنگ میکر کی پوزیشن میں لایا جائے اور وہ اسے لے بھی آئے۔ تبھی تو کانگریس نے اسے حکومت بنانے میں حمایت کا آفر دے دیا۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ گورنرنے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر بی جے پی کو حکومت کی تشکیل کی دعوت دے دی اور پھر معاملہ سپریم کورٹ میں بھی پہنچ گیا۔مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی 104 ارکان اسمبلی کے ساتھ کس طرح ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرپاتی ہے؟
بہر حال مسلم قیادت کے لئے یہ سوچنے کی بات ہے کہ وہ مستقبل میں مسلم ووٹ کی تقسیم کی صورت حال سے کیسے نمٹے؟آئندہ چند ماہ میں یہی صورت حال مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں پیدا ہونے والی ہے جہاں اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہوگا۔ جنتا دل سیکولر جیسی کوئی تیسری پارٹی کی وہاں شدید ضرورت ہے جو کہ کنگ میکر کا رول ادا کرسکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *