کیا جمہوری نظام اس ملک میں ناکام ہورہا ہے

ملک کے سب سے بڑے ادارے پر اگر اس بنیا د پر شک پیدا ہورہا ہے کہ انصاف کسی دباؤ کی وجہ سے متاثر ہوسکتا ہے،تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ لیکن، اگر اسی ادارے کے اندر سے اسے چلانے والے اہم لوگ ہی سوال کرنے لگیں اور کہنے لگیںکہ اگر ہم نے اس ادارے کو ٹھیک نہیںکیا تو اس کی ساکھ ختم ہو جائے گی اور جس کا نتیجہ جمہوریت کے رہنے نہ رہنے تک پہنچ سکتا ہے۔ سپریم کورٹ جمہوریت کا سب سے اہم ستون ہے۔ جب عاملہ اور مقننہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میںچوک جائیں تب عدلیہ ہی آئینی دائرے میںملک کو سمت دینے کا کام کرتی ہے۔
اب اسی آئینی ادارے پر شک کے بادل لپٹے دکھائی دے رہے ہیں۔ کبھی کبھار باتیںاٹھتی تھیں لیکن دب جاتی تھیں۔ آزادی کے بعد 6 بار ججوںکے خلاف مواخذہ لایا گیا۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف ماضی میںالزام بھی لگے لیکن اس پر نہ کوئی جانچ ہوئی، نہ کوئی کارروائی ہوئی۔ ارونا چل کے سابق سی ایم آنجہانی کلیکھو پل نے سی ایم ہاؤس کے اندر خود کشی کرلی تھی اور اس سے پہلے 60 صفحات کاایک خط لکھا، جس میںملک کے نظام سے متعلق اہم نام لکھے۔ اس میںانھوں نے پیسے کے لین دین کے ساتھ ساتھ اپنی خود کشی کی اہم وجوہات کو بتایا۔ اس میںسپریم کورٹ میںکام کرنے والے دو سینئر ججوںکے بھی نام تھے۔ سپریم کورٹ نے اس پر کوئی دھیان نہیںدیا۔ آنجہانی کلیکھو پل کی بیوی نے ان ناموںکے خلاف جانچ کرانے کی عرضی اس دور کے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کے پاس دی۔ انھوںنے کوئی فیصلہ نہیںلیا اور وہ فائل ان کی ٹیبل پر پڑی رہ گئی،پھر وہ ریٹائر ہوگئے۔ ہوسکتا ہے وہ فائل موجودہ نائب صدر جمہوریہ کے پاس ہو۔ لیکن نائب صدر جمہوریہ نے اپنی صوابدید کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے جج کے خلاف مواخذہ کی اس عرضی کو ضرورخارج کردیا ہے جسے 7 پارٹیوںکے اراکین پارلیمنٹ دیا تھا۔
لیکن اب بات آگے چلی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے مل کر کچھ مہینے قبل چیف جسٹس کے طریقہ کارپر سوال اٹھائے تھے، جس سے ملک میںسوچنے سمجھنے والے لوگ چکرا گئے تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ بعد میں، بیچ بچاؤ ہوئے۔ بات چیت ہوئی اور ان چار سینئر ججوںکی بات سپریم کورٹ نے نہیںسنی۔لیکن ملک کو پتہ چل گیا کہ سپریم کورٹ میںسب کچھ ٹھیک نہیںہے اور وہاں کے ججوںکے اندر انصاف کے عمل کو لے کر، جسٹس پراسیس کی تشکیل کو لے کر کچھ ایسا ہورہا ہے جو نہیںہونا چاہیے۔
23 اپریل کو دوبارہ دو ججوںنے ایک خط ملک کے چیف جسٹس کو لکھا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے سبھی ججوںکو بلاکر سپریم کورٹ کے اندر چل رہی سرگرمیوںکے بارے میںاور سپریم کورٹ کے مستقبل کے بارے میںبات چیت ہونی چاہیے۔ وہ اسے جمہوریت کے لیے ضروری مانتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایسا نہیںہوا تو سپریم کورٹ کی ساکھ تو مٹی میںملے گی ہی، ملک کی جمہوریت بھی سوالیہ گھیرے میںپہنچ جائے گی۔ رسمی چائے پر ہونے والی چرچا میں کیک کاٹا گیا، تالیاں بجائی گئیں، اس لیے کہ نائب صدر نے مواخذہ کی عرضی خارج کر دی تھی۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ چیف جسٹس اور ان کے ساتھی جج یہ سوچتے کہ کیوںان کے خلاف بار بار الزام لگ رہے ہیں اور ان کے خلاف مواخذہ کی عرضی لانے کی کوششیںہورہی ہیں لیکن انھوں نے کیک کاٹ کر خوشیاں منائیں۔ یہ خوشی بھی 36 گھنٹے نہیںٹک پائی اور دو ججوں نے خط لکھ کر سپریم کورٹ کے عمل کو لے کر سارے ججوں کی میٹنگ کرانے کی مانگ کر ڈالی۔
یہ ساری چیزیںبتاتی ہیںکہ ملک کی سرکار ہو، سیاسی نظام ہو یا ملک کو چلانے والی ذمہ دار تنظیمیںہوں، ان سب کے بیچ کچھ ایسا ہورہا ہے جو باہر نہیںآپا رہاہے۔ سپریم کورٹ کو ہم سب پاک ادارہ مانتے رہے ہیں اور اب وہیںسے آواز آرہی ہے کہ ملک کی جمہوریت بچانے کا آخری ہتھیار سپریم کورٹ بنیادی خامیوں کی دور سے گز ر رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس تشویش سے ملک کے عام لوگوںکو ہونے والے دکھ کا اندازہ اقتدار سے جڑے اداروں میںبیٹھے لوگ نہیںلگا سکتے۔ کیونکہ آج عام لوگوں کے پاس ایسا کوئی موڈ نہیں ہے، جس سے وہ اپنی آواز اقتداری ادارے کے پاس پہنچا سکیں۔ کم سے کم اس میںتو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ چاہے چندر شیکھر آزاد، بھگت سنگھ یا نیتاجی سبھاش چندر بوس کے قدموںکا دباؤ ہو یا گاندھی جی کے عوامی آندولن سے پیدا ہوا عوامی غصہ ہو، جس کی وجہ سے ہندوستان کو آزادی ملی۔ یہ آزادی آسانی سے تو نہیںملی۔بہت سے لوگوںنے قربانیاںدیں۔ بہتوں کے خاندان تباہ ہوئے،بہتوںکے نام تاریخ میںدرج نہیںہوئے۔ تب ہمیںآزادی ملی۔ ہمیںجمہوریت ملی۔ اس جمہوریت کو بچائے رکھنے کی ذمہ داری ہندوستان میںرہنے والے ہر اس شخص کی ہے جو ہندوستان کی ہوا میںسانس لے رہا ہے اور جس نے پچھلے 70 سالوں میںکام کی آزادی، اظہار کی آزادی، مذہب، تعلیم کی آزادی کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اب اگر اس آزادی کو لے کر بحث کھڑی ہوجائے اور سپریم کورٹ کے ججوں کو کہنا پڑے کہ ملک کی جمہوریت خطرے میںہو تو پھر مسئلہ سنگین ہوجاتا ہے۔
ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ ملک کے بہت سارے لوگ جن میںسابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ بھی تھے، ان کا یہ کہنا تھا کہ ملک کے کسی بھی ادارے کے لیے جو ملک چلاتا ہے، اس کے لیے ایک سلیکشن پروسیس بنا ہوا ہے، ضابطے بنے ہیں، قاعدے بنے ہیں اور اسے ایکفکسڈ انسٹی ٹیوشن کے سامنے سے گزرکر اپنی اہلیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے۔ جیسے آئی اے ایس ہے،آئی پی ایس ہے، ان سارے لوگوں کو ایک فکسڈ ایگزامنیشن پروسیس سے گزرنا پڑتا ہے اور اپنی اپنی اہلیت ثابت کرنی پڑتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جو اسمبلی یا لوک سبھا میںآتے ہیں، انھیںبھی عوام کے بیچ اپنی مقبولیت ثابت کرنی پڑتی ہے، تب انھیںووٹ ملتا ہے اور جیت کر ودھان سبھا یا لوک سبھا کے ممبر بنتے ہیں۔ وہ سیدھے نہیں بن سکتے ہیں ۔ لیکن سپریم کورٹ کے جج ایسے کسی بھی راستے سے نہیںگزرتے۔ انھیںچننے کا سسٹم ان کے خود کے اندر ہے جسے کالیجیم کہتے ہیں۔ ملک کے ایک طبقہ کاماننا ہے کہ جیوڈیشیل کمیشن ہونا چاہیے جیسے پبلک سروس کمیشن ہے جو ججوں کی تقرری کا آخری پیمانہ بنے ۔ اسے خود جج پسند نہیںکرتے اور سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی دوسرے عمل کی اجازت نہیںدیںگے۔ ہم ہی اپنے ساتھیوں کا انتخاب کریںگے۔
یہاںسوال کالیجیم کے ہونے ، کالیجیم کے نہ ہونے،کسی نئے کمیشن کوبنانے سے متعلق نہیںہے۔ یہاںسوال ہے کہ جو بھی ادارہ ہے ، جس شکل میںہے، جسے ہم سپریم کورٹ کہتے ہیں، جس کے اوپر جمہوریت کو ٹھیک سے چلانے کی آخری ذمہ داری ہے۔ اس ادارے کے اندر کے لوگ کیوںجمہوریت کے مستقبل کے اوپر سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں؟ دوسرا سوال کہ ابھی کے چیف جسٹس کے اکتوبر میںریٹائر ہونے کے بعد جسٹس رنجن گوگوئی کو چیف جسٹس بننا ہے۔ جسٹس رنجن گوگوئی جو بھی کہہ رہے ہیں، اسے موجودہ چیف جسٹس نہیںمان رہے ہیں۔ ان سنا کررہے ہیں۔ ایک بار جسٹس رنجن گوگوئی تین ساتھی ججوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرچکے ہیں اور کھلے عام سپریم کورٹ میںاپنی بات نہ سنی جانے کی بات کہہ چکے ہیں۔اب انھوںنے پھر کہا ہے کہ پورے سپریم کورٹ کو بیٹھ کر سپریم کورٹ کے عمل کے اوپر غور کرنا چاہیے۔ یہیںپر وہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کیا بات ہے جسے اکتوبر میںچیف جسٹس بننا ہے ،اس کی بات موجودہ چیف جسٹس نہیںسن رہے ہیں۔ میںنہیںمانتا کہ چیف جسٹس ڈھیٹ ہوگئے ہیں یا چیف جسٹس کسی کے اشارے پر یہ کر رہے ہیں۔ تو کیا موجودہ چیف جسٹس کو کوئی اشارہ ملا ہے کہ جسٹس رنجن گوگوئی کو اگلا چیف جسٹس نہیںبنایا جائے گا۔ ان کی جگہ کوئی اور چیف جسٹس ہوگا۔ اس لیے جسٹس رنجن گوگوئی کی بات سننا یا نہ سننا اہم نہیں ہے اپنے دل سے کام کرنا اہم ہے۔ ہم تجزیہ کریںتو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیںکہ شاید جسٹس رنجن گوگوئی کو اگلا چیف جسٹس ملک کا نہ بنایا جائے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہندوستان کی موجودہ سرکار اور ہندوستان کے موجودہ سپریم کورٹ کے سامنے ایک بہت بڑی جمہوری ذمہ داری ہے کہ وہ ان تضادات کو فوراً کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کا ذکر بار بار سپریم کورٹ کے کچھ جج کر رہے ہیں۔ اگر یہ نہیںہوتا تو آپ یقین مانئے کہ اس میںبہت سارے لوگ ہیںجو نہ عاملہ کی پرواہ کرتے ہیں، نہ مقننہ کی پرواہ کرتے ہیں، وہ صرف سپریم کورٹ کی پرواہ کرتے ہیں۔عدلیہ کی پرواہ کرتے ہیں لیکن اگر عدلیہ کی پرواہ کرنا بھی طاقتور لوگوں نے چھوڑ دیا اور ان کے اندر کے تناؤ کا فائدہ اٹھایا تو ہمارے پرکھوں کے ذریعہ حاصل کی گئی آزادی کو ختم کرنے میںان کا تعاون اہم مانا جائے گا اور تاریخ انھیں بہت بری طرح یاد کرے گی۔ حالانکہ آج کل بہت سارے لوگوںکو اس کی پرواہ نہیں ہے کہ ان کے بارے میںتاریخ کیا لکھتی ہے۔ اگر پرواہ ہوتی تو بہت سارے کام نہیںہوتے،جو ہورہے ہیں۔ یہیںپر ایک آخری سوال اور کھڑا ہوتا ہے جو میںآج اٹھا رہا ہوںتاکہ آپ سوچ سکیںکہ کیا جمہوری نظام اس ملک میںناکام ہورہا ہے؟ کیا ہم جمہوریت کے قابل نہیں ہیں؟ ہم جمہوریت چلا نہیںسکتے؟ جمہوریت میںہماری آستھا نہیںہے؟ تو کیا ہمیں ایک ایسی ریاست میںبدلنا چاہیے جو جمہوری تانا شاہی کے اصول پر چلے یا ہمیں کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے اصول پر چلنا چاہیے؟ ہمیںآخر کرنا کیا چاہیے؟ کیا ہم اس بحث کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ ملک میںکس طرح کی حکومت یا ایڈمنسٹریشن سسٹم ہو جو گزشتہ 70 کی روایت کو بدل دے۔ سوچنے کا سوال اس لیے ہے او ران کے لیے سوچنے کا سوال ہے جنھوںنے جمہوریت کو دنیا کا سب سے آدرش حکومتی نظام مانا ہے۔ لیکن آج تو درخواست سپریم کورٹ سے ہے کہ وہ ضرور ان تضادات کو دور کرے ورنہ ان کی ساکھ تو ختم ہوہی جائے گی جمہوری آدرش بھی ختم ہوجائے گا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *