موجودہ سرکار نے ہرادارے کو ڈیمیج کیا ہے

کرناٹک میںوزیر اعظم نے بیان دیا کہ راہل گاندھی بڑے لوگ ہیں، ہمارے جیسے چھوٹے لوگوںکے ساتھ کیسے بیٹھیںگے،ہم کپڑا بھی ٹھیک سے نہیں پہنتے ۔ یہ کیا اور کس طرح کی بات ہے؟ مودی جی کی سب سے بری تنقید تو یہ ہے کہ وہ دن میںتین بار کپڑے بدلتے ہیں۔ بی جے پی والے جواہر لعل نہرو کی ہمیشہ تنقید کرتے ہیں۔ آپ کیا ہیں؟ وزیر اعظم ’پرتھم سیوک‘ ہوتا ہے۔ یہ لفظ پہلے جواہر لعل نہرو نے شروع کیا تھا، جس کی نقل آج مودی جی نقل کررہے ہیں۔ لیکن مودی جی’پرتھم سیوک ‘ نہیں ہیں۔ تین دن میںتین بار جیکٹ بدلتے ہیں۔ ان کے حامی بھی کہتے ہیںکہ یہ کیا ہورہا ہے۔ آپ صاف ستھرے کپڑے پہنئے۔ میںنہیںکہتا کہ فقیر ہوکر گھومیں لیکن آپ عام آدمی تو رہیں۔ آر ایس ایس کے پوسٹر میںلکھا ہے کہ خود کے ساتھ سختی اور دوسروں کے ساتھ نرمی اپنائیں۔ میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ آر ایس ایس کا کوئی بھی آدمی بالکل سمپل کپڑ وںمیں ہوتا ہے۔ آج آر ایس ایس کو بھی ہوا لگ گئی ہے ۔ وہ بھی گھڑی پہن رہے ہیں اور امپورٹیڈ گاڑی میںگھوم رہے ہیں۔ وہ بھی آئی پیڈ لے کر گھوم رہے ہیں۔ میںآئی پیڈ کے خلاف نہیںہوں لیکن جو خرابی سرمایہ داری کی ہے، اسے آپ کیوں اپنا رہے ہیں؟ آپ (مودی جی) ’پرتھم سیوک‘ ہیں۔ آپ وزیر اعظم ہیں۔ آپ کو مثال دینا چاہیے ۔ آپ کو بولنا چاہیے کہ سادے کپڑے پہنئے۔ لیکن آپ کیا بول رہے ہیں؟ آپ کے کپڑے کیسے ہیں؟ اندرا گاندھی کھادی کی ساڑی پہنتی تھیں۔ ایسے میںمودی جی کا کپڑے والا بیان مضحکہ خیز ہے۔ لوگ ہنس رہے ہیں۔ کپڑے کی بات مودی جی کو نہیں کر نی چاہیے تھی۔
دوسری بات، امت شاہ آپ کے نمائندے ہیں، جو کہتے ہیںکہ راہل گاندھی ہم سے چار سال کا حساب مانگ رہے ہیں۔ آواز ایسی ہوتی ہے گویا کانگریس سے چار نسلوںکا حساب مانگ رہے ہیں۔ اب یہ دوسری مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ کون سی روایت ہے؟ بی جے پی کا الیکشن ہارنے کے ڈر سے کیا ذہنی توازن ڈگمگاگیا ہے؟ جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی نے تو ایسے کا م کیے ہیں جو کہ بی جے پی اس جنم میں تو نہیں کر پائے گی۔ راجیو گاندھی تھوڑا فیشن ایبل چشمہ پہنتے تھے۔ آپ (مودی) ان ہی کی نقل کر رہے ہیں۔ آج آپ (مودی)وزیر اعظم ہیں، اس لیے کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ کون سا سنسکار ہے کہ شادی کرکے بیوی کو چھوڑ دے۔ کل آپ وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹے، آپ جواب دیتے دیتے تھک جائیں گے۔ آپ کون سا معیار قائم کررہے ہیں؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آپ کے نوکر شاہ کیا کررہے ہیں؟ ہنس مکھ ادھیا کیا کر رہے ہیں؟ انکم ٹیکس نے ممبئی میں 1400 نوٹس بھیج دیے ہیں۔ آپ چاہتے ہیںکہ لوگ عدالتوں کے چکر کاٹیں۔ کیا پالیسی ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ نہ اس سے ٹیکس آئے گا، نہ اس سے معتبریت بڑھے گی۔ کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے نہیںآئے گا۔ اگر پیسے والے کو پتہ لگے گا کہ اچھا کام کرنے کے بعد بھی نوٹس آنے والا ہے تو وہ ہندوستان میںکیوںسرمایہ کاری کرے گا؟ نریندر مودی نے ’میک ان انڈیا‘ کہا تھا۔ گروتھ کہاں ہے ؟ نوکریاںکہاںہیں؟ نوٹ بندی پر تو اب بولنا فضول ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ یہ فیل ہوگئی۔ جی ایس ٹی تو ہندوستان جیسے ملک میں ہونا ہی نہیں چاہیے۔ امریکہ نے نہیں اپنایا۔تعجب نہیں ہوگا، اگربعد میںجی ایس ٹی کو ہٹانا پڑے۔
ہندوستان میںپوری دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہے۔ اتنے مذہب، اتنی برادریاں ہیں یہاں پر۔ 1925 سے آر ایس ایس ہندوؤں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آر ایس ایس کا مقصد ہندو اتحاد ہے۔ ہندو اتحاد اپنے آپ میںتضاد ہے۔ ہندو کے لیے تو تنوع ہی اہم ہے۔ ہم اپنے ملک کے اتحاد کی بات کرتے ہیں تو صرف ہندو ہی کیوں؟ ہندو دھرم ہے، مذہب نہیں۔ ہندوستان اریلیجیس ملک ہے۔ قرآن یا بائبل کی طرح نہیں ہے ہندو دھرم۔ ہندو کا کون سا ڈاکیومنٹ ہے، اس کی تلاش آج تک جاری ہے۔ ہندو خاندان میں تین ممبر میں سے کوئی کرشن کی اپاسنا کرتا ہے،کوئی ویشنو کی ، کوئی دیوی کی۔ یہی تو ہندودھرم ہے۔ مسلم ایک مقررہ وقت پر نماز ادا کرتے ہیں، عیسائی اتوار کو صبح چرچ جاتے ہیں، تو کیا ہم بھی ایسا ہی وقت مقرر کریں۔ نہیں، ہم ایسا نہیںکرتے ۔ ہندو درشن کے ذریعہ دی گئی اس آزادی کو کیا آپ چھیننا چاہتے ہیں، بدلنا چاہتے ہیں؟ یاد رکھئے آپ یہ نہیںکر سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا مودی اور بی جے پی کرناٹک میںراہل گاندھی سے ڈر گئے ہیں۔ مودی جی دیوگوڑا کی تعریف کرتے ہیں۔ دیوگوڑا جی میرے اچھے دوست ہیں۔ میری رائے میںوہ ملک کے اچھے وزیر اعظم تھے۔اس تعریف کا کیا مطلب ہے؟ کیا بی جے پی کو احساس ہوگیا ہے کہ اسے اکیلے اکثریت نہیں ملنے جارہی ہے، اس لیے آپ دیوگوڑا جی کی تعریف کر رہے ہیں تاکہ بعد میںان کے ساتھ مل کر سرکار بنا لیں۔ انتخابی حکمت عملی کے حساب سے یہ کوئی غلط نہیں ہے لیکن اچانک بولنا کہ دیوگوڑا جی کی کانگریس توہین کرے گی تو ہم برداشت نہیں کریں گے۔ دیوگوڑا جی کی سب سے بڑی توہین تو بی جے پی والوں نے کی ہے۔بی جے پی سرکار نے چار سال میں انھیںبات چیت کے لیے کتنی بار بلایا ہے؟ آج ملک میں جو سابق وزیر اعظم ہیں، ان سے بی جے پی سرکار کتنی بات چیت کرتی ہے، ان کی رائے لیتی ہے۔ کرناٹک کی ریلیوں میںامت شاہ کی سبھا میںکرسیاںخالی تھیں۔ یہ لوگ نئی نسل کو ورغلا رہے ہیں لیکن انھیں ورغلانا ممکن نہیں ہے۔ آج کے نوجوان کراس چیک چاہتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ سرکار نے ہر ادارے کو ڈیمج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن تک نہیںبچا۔ صنعتی دنیا کی حالت نازک ہے۔ کمپنیاں نیلام ہو رہی ہیں۔ ایک طرف یدیورپا ہیں۔ بدعنوانی کے الزام میںجیل گھوم کر آئے ہیں۔ ان کے ساتھ تو مودی جی فخر کے ساتھ اسٹیج پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ انھیںسی ایم امیدوار مانتے ہیں۔ دوسری طرف آپ لالو یادو کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ راہل گاندھی ، لالو یادو سے ملتے ہیں تو اس کو ایشو بناتے ہیں۔ ایک معیار ہونا چاہیے۔ اگلے الیکشن میںبی جے پی کو 282 سیٹیں تو نہیں ملنے والی۔ 200-220 مل جائیں، تو اس کے بعد بی جے پی والے ملی جلی سرکار بنا سکتے ہیں۔ پھر انھیںبھی اٹل جی کی طرح گٹھ بندھن دھرم نبھاتے ہوئے ،اپنی حد سمجھتے ہوئے سرکار چلانی ہوگی لیکن میری صرف ایک خواہش ہے کہ ملک کا آئین برقرار رہنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *