ہندو پاک کے فوجی سربراہوں کے بیانات امید افزا

ہندوستانی فوج کے سربراہ بپن راوت اور ان کے پاکستانی ہم منصب جنرل قمر جاوید باجوا کا ایک ہی دن ایک ہی لہجے میںبات کرنا ایک خوشگوار احساس کی طرح تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے رشتوںپر گہری نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ بتا سکتا تھا کہ دہلی اور کاکل دونوںجگہ پر ایک ہی اسکرپٹ پڑھی جارہی تھی۔ بے شک الفاظ کا انتخاب دونوںملکوں کے ڈکلیئر رخ کے مطابق تھا لیکن پیغام ایک جیسا تھا۔ 15 اپریل کو دہلی میںجموں و کشمیر لائٹ انفینٹری کے یوم تاسیس کے موقع پر بولتے ہوئے جنرل راوت نے کہا کہ ’بندوق کشمیر مسئلے کا حل نہیںہے اور نوجوانوں کو جلد ہی اس کا احساس ہوجائے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب انھیںیہ یقین ہو جائے گا کہ نہ تو فوج اپنا ہدف حاصل کرسکتی ہے اور نہ ہی ملی ٹینٹ ۔ ‘ انھوں نے کہا کہ ہمیںساتھ مل کر امن کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے اور ہم اس میںکامیاب ہوںگے۔ تقریباً اسی وقت جنرل باجوا کاکل میںپاکستان کی ملٹری اکادمی میںکیڈٹوں کو پاسنگ آؤٹ تقریب میںخطاب کررہے تھے۔ ان کے الفاظ جنرل راوت کے احساسات کی ترجمانی کررہے تھے لیکن لہجہ تھوڑا الگ تھا۔ انھوںنے کہا، ’ہمارا یہ یقین ہے کہ کشمیر سمیت پاکستان اور ہندوستان کے سبھی مسئلوں کا پرامن حل، جامع اور بامقصد مذاکرات میںمضمر ہے۔ یہ بات چیت کسی ایک فریق کا دوسرے فریق پر احسان نہیںہے بلکہ یہ پورے خطے میں امن کے لیے لازمی قدم ہے۔ ایسی بات چیت کے لیے پاکستان پرعزم ہے بشرطیکہ یہ بات چیت برابری، وقار اور سمان کی بنیاد پر ہو۔کیا یہ صرف ایک اتفاق تھا یا اس میںپردے کے پیچھے سے کچھ قواعد کی گئی تھی؟ پچھلے کچھ مہینوں کے مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوںبیان بہت اہم وقت میں آئے ہیں۔
جنرل راوت کا تبصرہ
پہلے جنرل راوت کے تبصرے کی بات کرتے ہیں۔ دراصل، اس احساس کا اندازہ لگانا مشکل نہیںہے کہ تشدد کا مقابلہ زیادہ تشدد سے کرنے کے باوجود کشمیر میںامن کی بحالی میںمدد نہیںملی ہے۔ جنرل راوت نے سوپور کے نزدیک واٹ لاب میںایک بریگیڈ کے چیف کے طور پر اور بارہمولہ میںایک ڈویژن کی قیادت کرتے ہوئے کشمیر میںاپنی خدمات دی ہیں۔ یہاں ’عوام‘ کے بیچ ان کی ساکھ تھی۔ انھیںیہ معلوم ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بے روزگاری نہیںہے، بلکہ یہاںکا مسئلہ سیاسی وقار کی لڑائی ہے ۔ بہرحال جب انھوں نے ہندوستانی فوج کے سربراہ کا چارج سنبھالا تو وہ ایک الگ جنرل راوت تھے۔ لیکن ہندوستانی فوج کے جنرل کے طور پر انھوںنے اس طرح بات کرنا شروع کردی جیسے کہ فوج کی کشمیری لوگوں کے ساتھ جنگ ہورہی ہو۔ فروری 2017 میںجب ان کے اس بیان پر کافی تنازعہ ہوا تھا، جس میںانھوںنے کہا تھا کہ کاؤنٹر – انسرجنسی کی کارروائیوںمیںرکاوٹ پیدا کرنے والے لوگوں کے خلاف ملک مخالفین کی طرح سلوک کیا جائے گا۔ یہی نہیں،کئی موقعوں پر جنرل راوت نے کشمیر کو لے کر جنگی لہجے میںبات کی تھی۔ کشمیری عوام کے لیے ان کے بیان نے پی ڈی پی سرکار کو اکثر پریشان کیا۔ ان کے ایسے بیانوں کے لیے دہلی میںبی جے پی سرکار کی پالیسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیاتھا۔گزشتہ چار سالوںمیںدہلی کی سرکار نے صرف بندوق کی بیرل پر کشمیر سے بات کی ہے۔ جنرل راوت بھی اپنے بیانوںسے وہی کام کر رہے تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

الگ رخ
بہرحال، 15 اپریل کی ان کی تقریر میںتبدیلی محسوس کی جاسکتی ہے۔ ان کا یہ رخ یقینی طور پر ان کے ماضی کے رخ سے الگ ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس احساس کے بعد کیا وہ کشمیر میںامن کی پہل کر رہے ہیں کہ نئی دہلی ملی ٹینٹوں کے خلاف کارروائی میںاور زیادہ شہریوں کے مارے جانے کا رسک نہیںاٹھا سکتی ہے؟گزشتہ 100دنوں میں 90 لوگ مارے گئے ہیں۔ ملی ٹینٹوں اور شہریوں کے اتحاد کو توڑنا سیکورٹی فورسیز کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ کلگام ایک مثال ہے۔ یہاںملی ٹینٹوں کے خلاف کارروائی میںچار شہری مارے گئے تھے جبکہ چار ملی ٹینٹ فرار ہونے میںکامیاب رہے تھے۔ یہاںعام لوگ ملی ٹینٹوںکے لیے خود اپنی جان دینے کو تیار ہیں او ر اس حالت کو لے کر وزارت داخلہ کے ذریعہ جاری ایک حالیہ رپورٹ تشویش کی لکیر پیدا کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، تشدد کی وجہ سے جموں و کشمیر میںعام شہریوں کی ہلاکتیںہونے کے معاملوں میں166 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ پچھلے سال کے مقابلے میں2017 میںملی ٹینٹوں کے مارے جانے کے واقعات میں 42 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ 2017 میں ، 2016 کی اسی مدت کے مقابلے میںملی ٹینسی کے واقعات میں6.21 فیصد اورشہریوں کے مارے جانے کی تعدادمیں 166.66 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ۔ 2017 میںجموں و کشمیر میںتشدد کے 342 واقعات ہوئے، جن میں80 سیکورٹی اہلکار،40 شہری اور 213 ملی ٹینٹ مارے گئے جبکہ 2016 میںریاست میںایسے 322 واقعات ہوئے تھے، جن میں82 سیکورٹی اہلکار، 15 شہری اور 150 ملی ٹینٹ مارے گئے تھے۔ یقینی طور پر یہ اعداد و شمار سنگین حالات کی نشاندہی کرتے ہیںاس پس منظر میں سبھی فریقوںکے ذریعے دشمنی ختم کرنے کی کسی بھی پہل کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے کیونکہ ریاست اب اس طرح شکار نہیںہوسکتی ہے۔
دوسری طرف جنرل باجوا کی خواہش بھی حوصلہ افزا ہے کیونکہ پاکستان کے بارے میںکہاجاتا ہے کہ وہاں اسٹریٹجک معاملوںمیںفوج کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ باجوا کا بیان ایسے وقت میںآیا ہے جب کشمیر میںتناؤ اپنے عروج پر ہے۔ ایسے میںپاکستان کی اصل کوشش کشمیر کی صورت حال کا فائدہ اٹھانے اور تشدد کے چکر کی حمایت کرکے ہندوستان کو سبق سکھانے یا کشمیر میں اسے الجھائے رکھنے کی ہوسکتی تھی۔ لیکن باجوا کا امن کا پیغام اس عام خیال کے برعکس تھاجس کے تحت کہا جاتا ہے کہ کشمیر میںتشدد کی حمایت میںپاکستان کا مفاد پوشیدہ ہے۔ ان کا یہ بیان ملی ٹینٹوں کے لیے ہراساں کرنے والا تھا۔ حالانکہ پاکستان کے سیکورٹی سسٹم کا ایک بڑا طبقہ اس حمایت کو ختم نہیںکرنا چاہے گالیکن اس کے باوجود جنرل باجوا کا بیان ایک بڑا پیغام دیتا ہے۔ پاکستان میںایک کمزور سرکار اقتدار میں ہے او رکچھ مہینوں بعد وہاںالیکشن ہونے والے ہیں۔ ایسے میںفوج کے سربراہ کے بیان کو ضائع نہیںکرنا چاہیے اور ان کے پیغام کو ہندوستان کے ذریعہ سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ان دونوںبیانوںمیںیکسانیت صرف اتفاق نہیںہے بلکہ اس میں پردے کے پیچھے کی کوششوںکا بھی ایک بڑا ہاتھ ہے۔
بدقسمتی سے فی الحال دونوںملکوںمیںماحول تعمیری بات چیت کے لیے موزوں نہیںہے۔ پاکستان میںکچھ مہینوںکے بعد الیکشن ہونے والے ہیں اور ہندوستان میںاگلے سال کی شروعات میں ۔فی الحال بی جے پی کو کئی مورچوں پر لوگوںکے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے سامنے اقتدار میںلوٹنا بڑا چیلنج ہے۔ بی جے پی کے لیے الیکشن کے دوران پاکستان مخالف بیان بازی فائدے کا سودا ہوتی ہے۔ لہٰذا الیکشن کے اتنے نزدیک ہندو پاک بات چیت سرکار یا پارٹی کو سوٹ نہیں کرتی۔ بی جے پی سرکار بھلے ہی بات چیت کے لیے پہلے پاکستان سے دہشت گردی روکنے پر زور دے لیکن جنرل باجوا کے بیان کو نظر انداز نہیںکیا جاسکتاہے۔پاکستانی فوج کے چیف کا اس طرح بات کرنا اس کے ماضی کے رخ سے الگ ہے۔ اسی طرح جنرل راوت کا تبصرہ بھی اہم ہے جو زمینی حقیقتوں پر مبنی ہے۔ امن کے لیے یہ ایک بہت بڑا موقع ہے جس سے کشمیر میںخون خرابہ کو ختم کرنے میںمدد مل سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *