بہار کی خصوصی حیثیت کا مسئلہ انتخابی ایشو بن ر ہا ہے

سب کو یہ بات یاد ہے کہ قومی سیاست میںاپنی جگہ بنانے اور بہار میںووٹ بینک کا دائرہ بڑھانے کے لیے نتیش کمار نے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مسئلہ زور و شور سے اٹھایا تھا۔ اس کے لیے دہلی سے کے کر پٹنہ تک میںریلی اور اجلاسوںکا دور چلا۔ نتیش کمار کی سوچ بہت ہی صاف تھی کہ خصوصی ریاست کے مسئلے پر سیاسی طور پر ان کی مخالفت ممکن نہیںہے۔ اس وقت ہوا بھی یہی کہ اپوزیشن بی جے پی نے بھی نتیش کمار کے سُر میں سُر ملایا۔ مہا گٹھ بندھن میں ٹوٹ کے بعد بی جے پی کے ساتھ مل کر نتیش کمار نے سرکار بنائی تو یہ عام امید تھی لوگوںکو بھی لگا کہ مرکز میںنریندر مودی کی سرکار ہے تو اب بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ ملنے میںکوئی پریشانی نہیںہوگی۔ اس بیچ وزیر اعظم کئی بار بہار آئے لیکن بہار والوں کی یہ امید پوری نہیںہو پائی۔ پچھلے چھ مہینے سے تو اس پر چرچا ہونا بھی بند ہوگیا تھا۔ یہاںتک کی اپوزیشن پارٹی آرجے ڈی کے لیے بھی یہ بڑا مدعا نہیںرہ گیا۔
پھر سے ابھرا مسئلہ
لیکن جیسے ہی آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے اپنی ریاست کے لیے خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا معاملہ اٹھایا، ویسے ہی بہار میںبھی گرماہٹ آگئی۔ معاملے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے چندر بابو نائیڈو کے دونوں وزیر نریندر مودی کی سرکار سے باہر آگئے۔ بہار کے لیے اتنا کافی تھا۔ اب آر جے ڈی اور کانگریس نے ایک سُر میںنیتش کمار پر دباؤ بنانا شروع کردیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ نتیش کمار کو چندر بابو نائیڈو سے سبق لینا چاہیے۔ سب کچھ اقتدار ہی نہیں ہے۔ بہار کے لوگوں کی بہبود ہو، ایسی چاہت رکھنی ہوگی اور اس کے مدنظر نتیش کمار کو کچھ سخت فیصلے لینے چاہئیں۔ کانگریس کے بہار انچارج نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے نتیش کمار کو این ڈی اے سے باہر آنے کی صلاح دے دی اور کہا کہ خصوصی ریاست کے مسئلے پر پارٹی نتیش کمار کے ساتھ ہے ۔ لیکن نتیش کما رکی پریشانی یہ ہے کہ اب چونکہ وہ این ڈی اے میں ہیں تو کھل کر مرکزی سرکار کی مخالفت نہیںکرسکتے۔ وہ صاف کہتے ہیںکہ نیتی اور فنانس کمیشن اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔
نتیش کمار کا ماننا ہے کہ میںتو ہمیشہ یہی چاہتا ہوںکہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ ملے اور اس سے پیچھے ہٹنے کا کہاں سوال پیدا ہوتا ہے۔ اسی بات کو آگے بڑھایا ان کی پارٹی کے لیڈر آر پی سنگھ نے ۔ گزشتہ دنوں پندرہویں فنانس کمیشن کو دیے جانے والے اشتہار کی تیاری کے سلسلے میںمنعقد کل جماعتی میٹنگ میںراجیہ سبھا کے لیڈر آرسی پی سنگھ مرکزی سرکار سے یہ سوال کرچکے ہیںکہ آخر مرکزی سرکار کیوںیہ مانگ نہیںمان رہی ہے؟ بہار کا کیا جرم ہے؟ اس مدعے پر پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری سنجے جھا نے یہ کہہ کر سیاسی حرارت بڑھادیا کہ خصوصی درجہ کی مانگ پر نہ پرانی سرکار اور نہ ہی نئی سرکار نے بہار کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ سنجے جھا نے یہ بھی کہا کہ ہماری اس مانگ پر پوری ریاست ہمارے ساتھ ہے۔
لوگ لاٹھی یا ذات کی ر یلی کرتے ہیں۔ ترقی کے مدعے پر پہلی بار نتیش کمار نے ریلی کی۔ بہار کو خصوصی درجہ دلانے کے لیے انھوں نے پہلے پٹنہ کے گاندھی میدان اور پھر دہلی کے رام لیلا میدان میںریلی کی۔ ہم اس مانگ سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ قابل ذکر ہے کہ آر سی پی سنگھ نے کل جماعتی میٹنگ میںاپنے خطاب میںاس رگھورام راجن کمیٹی کی سفارش کو ٹھنڈے بستے میںڈال دینے کا بھی چرچا کیا تھا، جو جے ڈی یو کی خصوصی درجہ کی مانگ کو دیکھ کر اس دور کی یو پی اے سرکار نے تشکیل کی تھی۔ کمیٹی نے ریاستوںکے تین زمرے بنائے تھے اور ان کے لیے مرکز سے رقم دستیاب کرانے کا نیا فارمولہ طے کرنے کی وکالت کی تھی۔ مرکز سے یو پی اے سرکار جب ہٹی اور اس کی جگہ نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے سرکار بنی تو ریاست میںبھی سیاسی صورت حال بدل گئی تھی۔ نتیش کمار این ڈی اے سے الگ ہوچکے تھے لیکن جب پچھلے سال جولائی میںنتیش کمار پھر این ڈی اے میںشامل ہوئے تو لوگوں کی امید جاگی کہ اب بہار کی ترقی کے لیے ’ڈبل انجن‘ کام کرے گا۔ کیونکہ مرکز اور یاست دونوں ہی جگہوں پر ایک ہی گٹھ بندھن کی سرکار تھی۔ لیکن سال گزرنے کے بعد بھی صورت حال جوںکی توںہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نتیش کی راہ مشکل
آندھرا پردیش کے معاملے کے بعد نتیش کمار کی راہ مشکل ہوگئی ہے۔ اپوزیشن آئندہ انتخابات میں اسے ایک بڑا مدعا بنانے جا رہا ہے۔ چونکہ معاملہ بہار کی ترقی اور عظمت سے جڑا ہے، اس لیے آر جے ڈی اور کانگریس اس معاملے کو زور شور سے اٹھانے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میںلگی ہوئی ہیں۔ دونوں پارٹیوں کو لگ رہا ہے کہ خصوصی درجہ کے مسئلے پر ذات اور مذہب سے الگ ہٹ کر لوگوں کو اس کی حمایت ملے گی۔ دوسری طرف نتیش کمار اس مسئلے پر بیک فٹ پر نظر آئیں گے۔ ان سے سیدھا سوال ہوگا کہ اب تو مرکز میںبھی آپ کے گٹھ بندھن کی سرکار ہے تو پھر بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ کیوںنہیںمل رہا ہے؟ اس کا جواب بہار کے عوام کو دینا نتیش کمار کو بہت ہی مشکل ہوا۔
ماہرین بتاتے ہیںکہ خصوصی ریاست کا مسئلہ انتخابی مدعا بننا طے ہے اور اس حساس مسئلے پر ذرا سی بھی لا پر وا ہی بہت زیادہ انتخابی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے نتیش کمار کی پارٹی نے یہ بتانے کی کوشش شروع کردی ہے کہ جے ڈی یو نے ہی سب سے پہلے اس مدعے کو اچھالا اور پٹنہ سے لے کر دہلی تک آندولن کیا۔ جے ڈی یو کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ اس میں ہورہی تاخیر کے لیے وہ سیدھے طور پر نریندر مودی کی سرکار پر ٹھیکرا پھوڑ دے۔ لیکن یہ حل نہیںہے۔ کیونکہ الیکشن تو بی جے پی کے ساتھ ہی لڑنا ہے۔ بی جے پی بھی اس مدعے کو لے کر چوکنی ہوگئی ہے۔ پارٹی کو لگ رہا ہے کہ اگر راستہ نہیںنکلا تو آ ر جے ڈی اور کانگریس کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ بہار کے لوگوںکے جذبات خصوصی ریاست کو لے کر جڑے ہوئے ہیں۔بہار بی جے پی چاہتی ہے کہ اگر سیدھے سیدھے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے میںکوئی تکنیکی اڑچن ہے تو پھر اس کے تحت ملنے والی سہولت کو کسی دوسری شکل میں بہار کو دینے کا انتظام مرکزی سرکار کو الیکشن سے پہلے ضرور کردینا چاہیے۔ بہار بی جے پی کو لگتا ہے کہ اگر مرکزی سرکار اس طرح کی کوئی پہل کرے تو پھر ریاست کے عوام کو پارٹی کسی نہ کسی طرح سمجھا ہی لے گی۔
غور طلب ہے کہ نتیش کمار نے یہ کہہ کر نئی سرکار بنائی تھی کہ وہ جو بھی کر رہے ہیں وہ بہار کی ترقی کے لیے ہے۔ اگر صحیح معنوںمیںترقی دکھائی نہیںدے گی تو پھر نقصان تو نتیش کمار کی شبیہ اوار ان کی سیاست کا ہی ہوگا۔ اپوزیشن یہ شور مچانے سے باز نہیںآئے گا کہ نتیش کمار صرف اقتدار پانے کی سیاست کرتے ہیں اور ترقی کی سیاست سے ان کا کوئی لینا دینا نہیںہے۔
دلت رہنما بھی پیش پیش
ادھر رام ولاس پاسوان اور اوپیندر کشواہا نے بھی بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کی پرزور حمایت کی ہے۔ پاسوان نے کہا ہے کہ بہار کافی پسماندہ ریاست ہے ، اسے سبھی جانتے ہیں۔ اس معاملے میںتکنیکی دقتیں ہیں، انھیں دور کرکے بہار کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوںنے کہا کہ نتیش کمار اس مسئلے کو اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف خصوصی ریاست کے مسئلے پر رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے جارحانہ رخ اختیار کر لیا ہے۔ پپو یادو نے اس مدعے پر لوک سبھا سے استعفیٰ تک دینے کی دھمکی دے ڈالی۔
پپو یادو کہتے ہیںکہ میںشروع سے ہی اس مت کا رہا ہوںکہ بغیر خصوصی پیکیج کے بہار کا بٹوارہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے اس کے لیے اڈوانی جی کے ہاتھ سے بل چھیننے کا بھی کام کیا تھا۔ انھوںنے کہا کہ دس سال تک یو پی اے سرکار ، ڈھائی سال تک گجرال اور دیوگوڑا کی سرکار اور دس سال تک واجپئی اور نریندر مودی کی سرکار نے بہار کو صرف ٹھگا ہے۔ رام ولاس پاسوان ، لالو پرساد اور اوپیندر کشواہا سبھی ان میںسے کسی نہ کسی سرکار میںوزیر رہے ہیں لیکن بہار کو خصوصی درجہ ملے، اس کے لیے ان لیڈروں نے کوئی کوشش نہیںکی۔ پپو یادو نے کہا کہ بہار کو خصوصی درجہ یا پھر خصوصی پیکیج دلانے کے لیے وہ 25 مئی کو بہار بند کرائیںگے۔ پپو یادو کا ماننا ہے کہ اگر بہار کے بڑے لیڈر چاہتے تو بہار کو کب کا خصوصی درجہ یا پیکیج مل جاتا لیکن ایسا نہیں ہوپایا۔ لیکن اب میںاس مدعے کو زور شور سے پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک اٹھانے والا ہوں۔
دیکھا جائے تو خصوصی ریاست کا مسئلہ ایک بار پھر زور پکڑ چکا ہے اور آئندہ انتخابات میںیہ ریاست کے لیے بڑا مدعا بننے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی پارٹیاں اور لیڈر ابھی سے اس مدعے کو لے کر اپنی اپنی لائن طے کر رہے ہیں۔ اب اس طرح کی قواعد سے بہار کو فائدہ ہوتا ہے یا پھر ا ن لیڈروں کو ، یہ تو الیکشن کے بعد ہی پتہ چلے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *