دارالعلوم دیوبند میں 6 روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ منعقد

darul-uloom-deoband
دیوبند:ایشیا کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام تعلیمی سال کے اختتام پر منعقد ہونے والے بارہواں چھ روزہ تعلیمی و تربیتی تحفظ ختم نبوت کیمپ کی افتتاحی نشست زیر صدارت مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند منعقد ہوئی۔ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیر نگرانی منعقدہ اس کیمپ میں دارالعلوم دیوبند کے دورۂ حدیث اور تکمیلات سے فارغ ہونے والے فضلاء کرام کے علاوہ پورے ملک کے بڑے مدارس کے فضلاء اور علماء شرکت کر رہے ہیں جن کی مجموعی تعداد تین سو ہے۔ اس چھ روزہ تربیتی کیمپ کی کل 16؍نشستیں ہونگی،روزانہ تین نشستیں صبح آٹھ تا بارہ بجے، بعد نماز ظہر تا عصراور بعد نماز مغرب تا عشاء منعقد ہوا کریں گی۔ اکثر نشستوں میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے تربیتی اسباق ہونگے جبکہ بعض نشستوں میں قاری سید محمد عثمان منصورپوری ،حافظ اقبال احمد ملّی ،مولانا محمد راشد مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور، مولانا اشتیاق احمدمہراج گنجی و دیگر علماء کے بھی بیانات ہوں گے۔ دوران بیان حوالوں میں پیش کی جانے والی نایاب و نادر کتابوں اور اخبارات و رسائل کو پروجیکٹر کی مدد سے تمام شرکاء کو دکھانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ امت مسلمہ کے ایمان وعقائد کی حفاظت وارثین انبیاء کی اولین ذمہ داری ہیں ،اکابرین دیوبند ہمیشہ اس پر کاربند رہے ہیں ۔ آج بھی منتسبین دارالعلوم دیوبند کی یہ پہلی ذمہ داری بنتی ہے کہ فتنوں کے سدباب کے لئے کھل کر میدان میں آئیں اور سادہ لوح عوام کے ایمان وعقائد کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں   نامور بزرگ مولانا قیصر مظاہری کاانتقال

 

اس نشست سے قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے بھی خطاب کیا ۔ تربتی کیمپ کی پانچویں نشست میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے ائمہ متکلمین کے حوالے سے بتایا کہ اسلام میں عقیدے کے حیثیت روح کی ہے اور عمل کی حیثیت جسم کے مانند ہے ، جو لوگ بھی اسلام کے عقائد پر رائے زنی کرتے ہیں تو گویا کہ وہ اسلام کی روح کو دانستہ یا نادانستہ طور پر داغ دار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے فضلاء مدارس عربیہ کو تحفظ عقائد کے میدان میں کھل کر آنا چاہیے اس میں ذرا بھی مداہنت اسلام کی روح کو منہدم کرنے جیسا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ اگر عوام کا رابطہ علماء سے رہے گا تو کوئی بھی فتنہ ان کے ایمان کو نقصان نہیں پہونچا سکتا اور اگر یہ رابطہ کٹ گیا تو ان کے ایمان کو محفوظ رکھنا بہت مشکل ہے۔ آج مختلف تنظیمیں مسلمانوں کے درمیان ایسی ہیں جو علمائے مدارس عربیہ سے عوام کا اعتماد ہٹانے کے لئے کوشاں ہیں لیکن اس دین متین کو قیامت تک باقی رہنا ہے اسلئے کوئی بھی تنظیم وارثین انبیاء کو بے اعتماد بنانے میں کامیاب نہ ہونگی۔ یہ تربیتی کیمپ ۱۱؍ مئی تک جاری رہے گا اور اختتامی نشست میں شرکاء کیمپ کو سند شرکت سے نوازا جائے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *