سرسیدفکر و عمل دونوں کی اصلاح کے داعی تھے: پروفیسر شان محمد

Prof-Shan-Mohammad
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کی سرسید اکیڈمی کے زیر اہتمام ’’قومی اتحاد اور بین مذہبی مفاہمت میں سرسید کی خدمات‘‘موضوع پرمنعقدہ قومی سیمینار کی اختتامی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر شان محمد نے کہاکہ 1857ء کے ہولناک واقعات کی روداد پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے ، انگریزوں نے مسلم امراء و رؤساء کے محلات زمین بوس کردئے تھے، ہزاروں مجاہدین آزادی کو تہہ تیغ کردیا ، سرسید احمد خاں ان واقعات کے عینی شاہد تھے ، انھوں نے شدت سے محسوس کیا کہ سائنس اور علوم جدیدہ کی تعلیم حاصل کئے بغیر ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں کی مغلوبیت و محکومیت ختم نہیں ہوسکتی۔ سرسید کو تعلیم میں ہی مستقبل دکھائی دے رہا تھا چنانچہ انھوں نے دیگر میدانوں میں اصلاحات کی تبلیغ کے ساتھ تعلیم کو اپنی کوششوں کا محور بنایا۔
پروفیسر شان محمد نے انیسویں صدی کے مسلمانوں کے فکر و عمل کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 1818ء میں جب کلکتہ میں انگریزوں نے ایک کالج قائم کرنے کا ارادہ کیا تو کلکتہ کے مولویوں نے درخواست دی کہ ہم انگریزی نہیں پڑھیں گے ، ہمارے لئے مدرسہ کھولئے۔ سرسید نے ان حالات میں جدید تعلیم کے لئے نہ صرف کالج کے قیام کا ارادہ کیا بلکہ جدید علوم کے فروغ کے لئے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور فکری اصلاح کے لئے ’تہذیب الاخلاق‘ اور ’انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ شروع کیا۔ پروفیسر شان محمد نے کامیاب سیمینار کے انعقاد کے لئے سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر سید علی محمد نقوی کو مبارکباد پیش کی۔
پروفیسر شکیل صمدانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سرسید کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم اس کی روشنی میں مستقبل کا لائحۂ عمل تیار کریں۔ انھوں نے کہاکہ اگر سرسید کی شخصیت کا تجزیہ کیا جائے تو سب سے اہم چیز جو ہمیں ملتی ہے وہ ان کا خلوص ہے جو کم لوگوں میں پایا جاتا ہے اور اسی خلوص کا نتیجہ ہمارے سامنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں موجود ہے۔ پروفیسر صمدانی نے کہا کہ سرسید کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے سرکاری نوکری میں رہتے ہوئے ظالم و جابر حکومت کے خلاف تحریر اور تقریر دونوں سے جہاد کیا جو آج کے نوکر شاہوں کے لئے ایک پیغام ہے۔ انھوں نے کہاکہ سرسید کا مشن تعلیم ساتھ تربیت بھی دینا تھا، ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کے طول و عرض میں تعلیمی ادارے قائم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے اور ان میں تربیت کا بھی معقول انتظام کرنا چاہئے، کیوں کہ بغیر تربیت کے تعلیم فضول ہے۔ پروفیسر صمدانی نے مزید کہاکہ سرسید نے کبھی بھی صلاحیت سے سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ تقرریوں میں صلاحیت کو بنیاد بنایا اور اس میں اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کی کہ عہدے پر کوئی غیرمسلم آرہا ہے یا مسلم کا تقرر ہورہا ہے۔
مفتی زاہد علی خاں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سرسید نے تعلیم اور تہذیب اخلاق پر زوردیا ، انھوں نے دشمن کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا اور اس بات کا خیال رکھا کہ ہماری قوم اگر جدید تعلیم کے ساتھ اپنی تہذیب ، اپنی خاص فکر اور اپنی زبان کو برقرار رکھ سکے تو یہ عظیم کارنامہ ہوگا۔ ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی نے ’عصری تناظر میں سرسید کے تصور قومیت کا ایک جائزہ‘ موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ سرسید کی تقریر و تحریر اور عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے سماج کے ہر طبقہ کا خیال کیا اور تعصب کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیا۔
سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر سید علی محمد نقوی نے آخر میں خطاب کرتے ہوئے قومی سیمینارمیں آمد کے لئے پروفیسر اختر الواسع اور دیگر سبھی معاونین کااور سرپرستی کے لئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کا بطور خاص شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بتایا کہ سیمینار کے آخری دن 26؍مقالے پڑھے گئے جنھیں کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید حسین حیدر نے انجام دئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *