روڈ ریج معاملہ:کانگریس لیڈرنوجوت سنگھ سدھو کوسپریم کورٹ سے بڑی راحت

navjot-singh-sidhu
سابق کرکیٹر،کمنٹیٹرموجودہ کانگریس لیڈرنوجوت سنگھ سدھوکو30سال پرانے روڈ ریج کے معاملے میں سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔سپریم کورٹ نے سدھوپرمعمولی مارپیٹ کا قصوروارپایاہے۔کورٹ کے فیصلے کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو کوجیل جانانہیں ہوگا اوران پرصرف ایک ہزارروپے کا جرمانہ لگایاہے۔
سدھونے عرضی میں کہاتھا کہ وہ بے قصورہیں، انہیں پھنسایاگیاہے۔ سپریم کورٹ نے سبھی فریقین کو24اپریل تک تحریری جواب داخل کرنے کوکہاتھا۔ منگل کومعاملے کی سماعت کے دوران سدھوکی طرف سے کہاگیاتھا کہ اس معاملے میں کوئی بھی گواہ خود سے سامنے نہیں آیا، جن گواہوں کے بیان درج کئے گئے ہیں ان کوپولس سامنے لائی تھی۔ گواہوں کے بیان میں مخالفت ہے، جوبھی اہم گواہ ہے ان کے بیان ایک دوسرے سے الگ ہے۔
سماعت کے دوران شکایت کردہ کی جانب سے سینئروکیل رنجیت کمار اورسدھارتھ لوتھر نے کہاکہ سدھوکے خلاف قتل کا معاملے بنتاہے۔سدھوکویہ پتہ تھاکہ وہ کیا کررہے ہیں، انہو ں نے جوکیا سمجھ بوجھ کرکیا ،اسلئے ان پرقتل کا مقدمہ چلنا چاہئے۔
30سال پرانے روڈ ریج کیس میں سپریم نے پنجاب سرکارمیں کابینی وزیرنوجوت سنگھ سدھو کوآئی پی سی کی دفعہ 323کے تحت قصوروارمانا ہے ،وہیں آئی پی سی کی دفعہ 304کے تحت درج کیس سے ان کوبری کردیاگیاہے۔اس کیس میں نچلی عدالت نے سدھو کوبری کردیا تھا، لیکن پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ نے فیصلے کوپلٹتے ہوئے غیرارادتاً قتل کاقصوروارپایا اورتین سال قیدکی سزاسنادی تھی۔ سدھو نے ہائی کورٹ کے فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنجزکیا۔بہرکیف سدھوکوسپریم کورٹ سے راحت مل گئی ہے۔
27دسمبر1988کوسدھو اوران کے دوست روپندرسنگھ سندھو کی پٹیالہ کارپارکنگ کولیکران کی گرنام سنگھ نام کے بزرگ سے کہاسنی ہوئی تھی۔ تنازعہ میں گرنام کی موت ہوگئی تھی۔سدھواوران کے دوست روپیندرسنگھ سندھوپرغیرارادتاً قتل کا کیس درج کیاگیاتھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *