راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میںبھی اصل ایشوز غائب

کرناٹک الیکشن گزر گیا۔ کرناٹک کا کوئی بھی اصل مدعا کسی بھی تقریرمیںنہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اٹھایا اور نہ ہی کانگریس نے اٹھایا۔ ایک کہانی ختم ہوئی اور یہیںسے دوسری کہانی شروع ہوتی ہے۔ دوسری کہانی ہے مدھیہ پردیش اور راجستھان کی۔ اب راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں الیکشن کا بگل بجے گا۔ وہاںپر بھی وزیر اعظم مودی اپنے کندھے پر اپنی پارٹی کو جتانے کی ذمہ داری لیںگے۔ کانگریس کے مقامی صدر جتنا کر پائیں گے کریں گے۔ ایک بڑی ذمہ داری راہل گاندھی کو دی جائے گی۔
راجستھان میںبی جے پی کے اراکین اسمبلی کے بیچ ناراضگی ہے، اختلافات ہیں ، وہ وسندھرا راجے کو بدلنے کی مہم ایک عرصے سے چلا رہے ہیںلیکن ان کی دلی دربار میںنہیںسنی گئی۔ دوسری طرف کانگریس لوک سبھاکے دو ضمنی انتخاب جیت کر بہت جوش میںہے اور اس مغالطے میں ہے کہ عوام نے اسے حمایت دی ہے۔ دراصل ملک میںجس طرح کی سیاست چل رہی ہے، اس میںوزیر اعظم مودی کے ذریعہ کیے گئے وعدوں سے جو لوگ متفق نہیں ہیں یا جو لوگ انھیںاب ہندوستان کی ترقی کے لیے موزوں نہیں مانتے ہیں، ایسے لوگوں کی وجہ سے یہ ضمنی انتخاب کانگریس نے جیتا۔ کیونکہ وہاںکوئی متبادل نہیںتھا۔ اس لیے عوام نے اپنی ناراضگی کانگریس کو ووٹ دے کر دکھائی۔ کانگریس نے اس کا کریڈٹ اپنے اوپر لے لیا اور وہ کریڈٹ پھر راہل گاندھی کے کھاتے میںچلا گیا۔ آنے والے اسمبلی الیکشن میںشاید پھر وہ لوگ سامنے آجائیںجو بی جے پی کی حکومت سے ناراض ہیں۔ وہ لوگ سامنے آئیںجو وسندھرا راجے کی حکومت سے ناراض ہیںاور شاید وہ لوگ سامنے آئیں جو بیڈ گورننس کو لے کر ،ٹوٹے انتظامی نظام کی بے حسی سے پریشان ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ایسے لوگ بی جے پی کی مخالفت میںہونے والی سبھاؤں میںبھی شرکت کریں اور اس کے خلاف ووٹ بھی دیں لیکن کیا کانگریس یہ مانے گی کہ اس کے تئیںلوگوں کے رجحان کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ کانگریس کی سمجھ اسے مبارک۔
لیکن راجستھان اورمدھیہ پردیش میںبہت مضبوط کسان آندولن چلا ہے۔ کسان مضبوطی سے منظم ہوئے ہیں۔ ضلعوں- ضلعوںمیںمنظم ہوئے ہیں۔ کسان اپنی اس بنیادی مانگ پر ٹکے ہوئے ہیں کہ ان کی لاگت کا ڈیڑھ گنا انھیںبازار بھاؤ ملے،جس کا وعدہ وزیر اعظم مودی نے انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ کسانوںنے اس کے لیے کافی آندولن کیے، ان پر لاٹھیاں چلیں، گولیاں چلیں، جیل گئے۔ مدھیہ پردیش میںتو ایسے لوگوں کو غدار تک قرار دے دیا گیا اور انھیں کئی مہینوں تک بغیر ضمانت کے جیل میںرکھنے والا آرڈیننس بھی سرکار نے جاری کردیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا راجستھان یا مدھیہ پردیش میںکسانوںکا غصہ بی جے پی کے خلاف کارگر نتیجہ لا پائے گا؟
بی جے پی کسانوں کے غصے سے پریشان نہیںہے۔ کیونکہ بی جے پی کو معلوم ہے کہ جب الیکشن آتا ہے، کسان نام کی شخصیت ختم ہوجاتی ہے اور لوگ اپنی ذات برادری میں بٹ جاتے ہیں۔ ان دونوں ریاستوں میںبی جے پی مذہب کی بنیادپر بھی لوگوںکو ویسے ہی اپنے ساتھ لانے کی کوشش کرے گی جیسے اس نے کرناٹک میںکیا۔ اس کا نمونہ اب سوشل میڈیا پر دیکھا جاسکتا ہے، جہاںپر یہ کہا جا رہا ہے کہ اترپردیش میں اکھلیش یادو نے ہندو اور مسلمانوں کی بنیاد پر معاوضے دیے۔ انھوںنے مسلمانوں کو زیادہ معاوضہ دیا۔ ہندوؤں کو معاوضہ نہیںدیا۔ ایک نئی طرح کی چنگاری ابھی ایک ہفتے سے شروع ہوئی ہے، جس میںیہ کہا جارہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے میںہندو طلباء پر مسلم طلبہ کا ظلم ہورہا ہے۔ اب عام ووٹر سے مسئلہ گھماکر طلبہ کے اوپر بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ اب وہ طلبہ نہیںہیں،وہ ہندو یا مسلم طلبہ ہیں۔ شاید کسی طبقے کو اگلا الیکشن جیتنے کے لیے یہ حکمت عملی بہت صحیح لگ رہی ہے اور اس کی خاصی تشہیر ہو رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مدھیہ پردیش کے سوال بالکل راجستھان جیسے ہیں۔ نوکریاں، تعلیم، صحت، سڑک، جیسے سوال اس لیے چرچا میںنہیں آئیںگے کیونکہ دونوں سرکاروں نے اسے لے کر کوئی بڑا کام نہیںکیا ہے۔ کانگریس کے پاس بھی اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ جب وہ مدھیہ پردیش اور راجستھان میںسرکار چلا رہی تھی، تب اس نے ان مسائل کے حل کے لیے کیا کیا؟ اسی لیے جسے ہم نان ایشو کہتے ہیں، بے مدعا الیکشن، جتنا بی جے پی کو سوٹ کرتا ہے،اتنا ہی کانگریس کو بھی سوٹ کرتا ہے۔دونوںپارٹیاں تقریباً اسی سوال پر اتفاق رائے ہیںکہ الیکشن کو مدعوںکی طرف جانے ہی نہ دو۔
اس کھیل میںوزیر اعظم مودی کی ڈاکٹریٹ ہے کہ وہ روزانہ ایک نیا مدعا لے کر آئیں،جس میںاپوزیشن الجھ جائے۔ راہل گاندھی اس مسئلے میں ابھی بالکل نو سکھئے ہیںاور وہ ہر اس سوال میںالجھ جاتے ہیں ، جس سوال میںمودی انھیں الجھانا چاہتے ہیں۔ انھیںیہ سمجھ میںہی نہیںآتا ہے کہ وہ ان سوالوں پر مودی کو لے کر آئیں، جو عوام سے جڑے ہوئے سوال ہیں۔ انھیںشاید اپنا علم دکھانے کا، اپنی سمجھ دکھانے کا بہت زیادہ شوق ہے۔ راہل گاندھی مان بیٹھے ہیںکہ راجستھان اور مدھیہ پردیش ہر حالت میںان کی پارٹی جیتنے والی ہے۔ شاید یہ ویسا ہی اوور کانفیڈینس ہے جیسا انھوں نے گجرات میںدکھایا تھا۔ تنظیم کو چست درست نہیں کیا۔ پرچار میںان کی اپنی پارٹی کے لوگ شامل نہیںہوئے اور وہ وہاںسرکار بنانے کا خواب دیکھتے رہے۔ ٹھیک ویسا ہی اوور کانفیڈینس راجستھان اور مدھیہ پردیش میںدکھائی دے رہا ہے۔
کانگریس کی تنظیم اچھی ہے یا بری، اس کا فیصلہ کانگریس کے لوگ کریں۔ بی جے پی تنظیم کے مسئلے میںکانگریس سے دو قدم تو آگے ہے ہی لیکن وہ بی جے پی کا مسئلہ ہے۔ ہمیںتو دکھ اس بات کا ہے کہ راجستھان یا مدھیہ پردیش یا چھتیس گڑھ کے عوام الیکشن کے بعد بھی اپنے سوالوںکا حل نہیںپاسکیںگے۔ دونوں پارٹیاں انھیں ایک بھول بھلیوںمیںلے جاکر ڈال دیتی ہیں جہاں انھیںسمجھ میں ہی نہیںآتا کہ جیتنے کے بعد چاہے بی جے پی سرکار بنائے یا کانگریس سرکار بنائے، ان کے لیے کرے گی تو کیا کرے گی؟ دونوں پارٹیاں کوئی بھی پیمانہ نہیں چھوڑتیں تاکہ لوگ یہ فیصلہ نہ کرسکیں کہ جیتنے کے بعد اس پارٹی نے کیا وعدہ کیا تھا۔
اسی لیے اب ہمیںانتخابی اکھاڑے کا ایک دوسرا دور دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے بلکہ ایک اور بندر کا تماشہ دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس تماشے میںلوگوںکی زندگی سے جڑے مدعے نہیںہوںگے۔ایسے وعدے ہوں گے، جنھیںکوئی پور انہیںکر پائے گا یا جن وعدوں کا لوگوںسے مطلب نہیںہے۔ پاکستان الیکشن میںاستعمال ہوگا، ہندو مسلمان استعمال ہوگا،کوئی فساد بھی استعمال ہوگا، کوئی جیل میںکیوںڈالا گیا، کوئی جیل سے کیوںچھوڑا گیا، یہ بھی استعمال ہوگا۔ ہر چیز استعمال ہوگی،سوائے اس کے کہ عوام کے دکھ کے، آنسوؤں کے ۔ ہم ایسی ہی جمہوریت میںہیںجہاں پر جمہوریت کا مطلب اس ملک کی نئی نسل کو کم پتہ ہے اور جمہوریت کے نام پر ہونے والی بازیگری کو ہی جمہوریت مانتی ہے۔ لوگ جمہوریت کا مطلب یا اپنے حق کا مطلب نہ سمجھیں، اس میںدونوںپارٹیوںکا مفاد ہے۔ ہم نقارخانے میں طوطی بجارہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ دونوںپارٹیاںکیوںعوام سے جڑے سوالوںپر الیکشن میںبحث نہیںکرتیں۔ سچ مچ یہ امید کرنی کہ کسی الیکشن میںعوام کے سوالوں پر بحث ہوگی یا عوام کے لیے کس نے کیا کیا، اس پر بحث ہوگی، ایمانداربحث ہوگی، نقارخانے میں طوطی بجانے جیسا ہی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *