روی شاستری کرکٹ کے ہرمیدان میں فعال

Ravi-Shastri
یوم پیدائش پرخصوصی پیشکش
ہندوستانی کرکٹ میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ میں روی شاستری کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔روی شاستری سابق کھلاڑی،کھیل کمنٹیٹر اورفی الحال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔روی شاستری سال 2008 میں آئی پی ایل کے آغاز سے ہی اس لیگ میں اہم کردار رہے ہیں۔روی شاستری اگست سال 2014 سے جون 2016 تک انڈین کرکٹ ٹیم کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔روی نے ایک بائیں ہاتھ کے گیندبازکے طورپر اپنے کرکٹ کرےئر کی شروعات کی تھی اوربعد میں وہ آل راؤنڈرکے طورپر ٹیم میں کمال کرتے رہے۔روی شاستری 1981سے1992کے دوران ٹیسٹ میچوں اورونڈے میچوں کیلئے ہندوستانی ٹیم کا حصہ رہے ۔ روی شاستری کوکافی قابل کپتان مانا گیا، مگران کی کرکٹ باہر کی ایمیج نے ان کے کرےئر کونقصان پہنچایا۔اس کے علاوہ ضروری موقعوں پر فارم کھو دیتے تھے۔اس کے باعث انہو ں نے محض ایک ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کی کپتانی کی۔
ٹیسٹ کرکٹ میں شروعات کے 8 مہینوں کے اندرہی شاستری نے بلے بازی کے دسویں مقام سے اوپننگ بلے باز بن گئے تھے۔ ان کی سنجیدگی اورسمجھداری سے کھیلنے کے طریقے کے باعث انہیں یہ مقام ملاتھا۔ اپنے کریئر کی آخرتک وہ بلے بازی کے ہرمقام پرکھیل چکے تھے ۔انہو ں نے خود ماناہے کہ وہ بلے بازی کی وجہ سے بالنگ پرتوجہ نہیں دے پائے۔اس سے ان کی گیندبازی متاثر ہوئی۔ حالانکہ 1981میں ایرانی ٹرافی میں ان کا 101رن پر9وکٹ کا ریکارڈ قریب 20سال تک قائم رہا۔
روی شاستری کا اصل نام روی شنکر جیادرتھا شاستری ہے۔ شاستری کی پیدائش 27مئی 1962کوممبئی میں ہوئی تھی۔ ان کی یوم پیدائش پرہم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہو ں نے وہیں ڈان باسکو ہائی اسکول، ماٹونگا سے پڑھائی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکیلے لڑکے تھے ،جوکرکٹ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ روی نے جس کالج سے تعلیم پائی ،وہاں سے کئی اچھے کرکیٹرنکلے ہیں۔ آر اے پدار کالج کے آخری سا ل میں روی شاستری بامبے سے رنجی کیلئے منتخب کئے گئے، اس وقت ان کی عمر17سال اور292 دن تھی۔وہ ممبئی کے سب سے کم عمرکے کرکیٹر تھے۔
1990کے آخر میں روی شاستری نے ریتوسنگھ سے شادی کی ۔انہو ں نے ٹی وی پرکمنٹیٹرکے طورپر شروعات کی۔ 2003میں وہ ایک سیلبریٹیز مینجمنٹ کمپنی شوڈف ورلڈوائڈ میں حصے داربنے 2008میں 46سال کی عمر میں روی شاستری کی بیٹی پیداہوئی۔
گھریلوکرکٹ میں روی شاستری بامبے کیلئے کھیلتے تھے ۔ ان کی کپتانی میں بامبے نے رنجی ٹرافی پرقبضہ کیا۔ روی گلیمورگن کیلئے کاؤنٹی کرکٹ کے 4سیزن میں بھی کھیلے ۔ 31سال کی عمر میں گھٹنے کی چوٹ کے باعث انہیں ریٹائرمنٹ لینا پڑگیا۔ وہ بی سی سی آئی کیلئے کمنٹری بھی کرتے ہیں۔ 2014 میں وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ڈائریکٹر بنے اورآٹھ مہینے تک عہدہ پربنے رہے۔اور ان کی سرپرستی میں ہندوستان نے ورلڈکپ 2015 اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی2016 کے سیمی فائنل تک رسائی کی تھی۔
ایک بلے بازکے طورپر روی شاستری اپنے مشہورچپاتی شاٹ کے فیمس رہے، مگروہ اپنے اسٹرائیک ریٹ کوضرورت کے حساب سے بڑھا لیتے تھے۔ روی شاستری کوان کے لمبے قد کا بہت فائدہ ملا۔ان کے 6فٹ 3 انچ ہونے کے چلتے جہاں وہ تیز گیندبازوں کے خلاف کچھ ہی شاٹ کھیل پاتے تھے وہیں اسپن گیند بازی کے خلاف وہ بہت تیز اٹھا کرشاٹ مارتے تھے۔
شاستری میچوں میں اوپننگ کرتے تھے یامڈل آرڈرمیں آتے تھے۔ان کے کرےئرکا خاص پل ان کے ’چمپئن آف چمپئنس‘ منتخب کئے جانے پرتھا۔ وہ 1985کی ورلڈ چمپئن شپ آف کرکٹ کیلئے آسٹریلیا میں اس خاص خطاب سے نوازے گئے تھے۔ اس دوران انہو ں نے ویسٹ انڈیز کے گیری سوبرس کے ایک اوورمیں 6چھکے لگانے کے ریکارڈ کی برابری کی تھی۔
انڈین بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ (بی سی سی آئی) نے سابق کپتان روی شاستری کو ہیڈ کوچ اور ظہیر خان کو بولنگ کوچ مقرر کر دیا ہے۔روی شاستری کو ورلڈکپ 2019 تک ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔
روی شاستری انڈیا کی جانب سے 80 ٹیسٹ میچوں میں 11 سنچریوں کی مدد سے 3,830 رنز بنا چکے ہیں۔ انھوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں 151 وکٹیں بھی لے رکھی ہیں۔وہ 150 ون ڈے میچوں میں چار سنچریوں کی مدد سے 3,108 رنز کے ساتھ ساتھ 129 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *