رمضان المباک نیکیوں کا موسم بہار

ramzan
مضمون نگار:امیر افضل اعوان
رمضان المبارک اپنے دامن میں بے پناہ رحمتیں، نعمتیں اور برکتیں اپنے دامن میں سمیٹے ہم پہ سایہ فگن ہے، ہمیں چاہئے کہ اس ماہ مبارک میں تزکیہ نفس کا سبق دہرائیں، اپنے دنیا میں آنے کے مقاصد پرغور کریں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں، رمضان المبارک حرمت والے مہینوں میں شامل ہے مگر اس حوالہ سے اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اللہ پاک نے اسے اپنا مہینہ قرار دیتے ہوئے اس کا اجرء اپنے پاس محفوظ رکھنے کی بابت یقین دھانی کروائی، بنیادی طور پر ماہ صیام کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ دوزخ کی آگ سے آزادی ہے،بلاشبہ رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں اللہ تعالیٰ مومنوں پر خاص رحمت نازل فرماتا ہے ، جس سے آئندہ ملنے والی نعمتوں کی اِستعداد پیدا ہوتی ہے اور وہ بندے جو ہمیشہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اْ ن کے لئے رمضان المبارک خصوصی رحمتیں لے کر جلوہ افروز ہوتا ہے، دوسرے عشرہ میں تمام صغیرہ گناہوں کی معافی ہے جو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ کا سبب ہے تیسرے عشرہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے اور روزہ داروں کے لئے جنتی ہونے کا اِعلان کر دیا جاتا ہے۔
اسلام میں رمضان کی اہمیت ، فضیلت اور برکات سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے ہر بات کھول کھول کر بیان کی گئی ہے’’ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا اسلام (کا قصر پانچ ستونوں) پر بنایا گیا ہے، اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز پڑھنا، زکوۃ دینا، حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا‘‘صحیح بخاری،جلد اول،حدیث7،اسی طرح یہاں روزہ دار کے درجات کا بھی بیان موجود ہے، روزہ دار کو خالق کائنات کی خوش خبری کے ساتھ ساتھ روزہ دار کے لئے جنت کے ایک دروازہ مخصوص ہے،جس کے بارے میں ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے’’ سہل بن سعدؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں ایک کا نام ریان ہے اس سے صرف روزہ دار (جنت میں) داخل ہوں گے‘‘صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث516، مومن کو ایک طرف رمضان کا تحفہ خداوندی عنایت ہوتا ہے تو دوسری جانب اس ماہ مبارک کے ابرباراں میں خود کو بھگو کر پاک کرلینے کا بھی موقع فراہم کیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ شیطان کو قید کرلیا جاتا ہے، ایک حدیث مبارکہ میں ذکر ہے ’’ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں‘‘صحیح بخاری، جلد اول، حدیث1825،احادیث میں متعدد مقامات پر اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ان دروازوں میں کوئی دروازہ رمضان شریف کی آخری رات تک بند نہیں کیا جاتا ، ایک اور روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں، واضح رہے کہ یہاں آسمان کے دروازے کھول دئیے جانے کا مطلب ہے کہ پے درپے رحمت کا بھیجا جانا اور بغیر کسی رکاوٹ کے اعمال کا بار گاہ الٰہی میں پہنچنا اور دعا کا قبول ہونا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جانے کا مطلب ہے کہ نیک اعمال کی تقفیق اور حسن قبول عطا فرمانا اور دوزخ کے دروازے بند کئے جانے کا مطلب روزہ داروں کے نفوس کو ممنوعات شرعیہ کی آلودگیوں سے پاک کرنا اور گناہوں پر ابھارنے والی چیزوں سے نجات پانا اور دل سے لذتوں کے حصول کی خواہشات کا توڑنا اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دئیے جانے کا مطلب برے خیالات کے راستوں کو بند کرنا ہے۔
رمضان المبارک کامقدس مہینہ اپنے اندرلامحدود،ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے،اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اوربرکتیں نازل ہو رہی ہیں،مسلمانوں کے لیے یہ ماہِ مقدس نیکیوں کی موسلادھاربارش برساتا ہے اورہرمسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، رمضان المبارک کامہینہ باقی مہینوں کاسردارہے، خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آیااوروہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کررہے ہیں۔انسان کائنات میں رہتے ہوئے جوبھی کام کرتا ہے اس کی کوئی غرض وغایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض وغایت اورمقصدتقویٰ کو قرار دیا ہے ،ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کردیتا ہے اورنیکیوں کی طرف راغب ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کاایمان بڑھ جاتا ہے، ایک روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا’’جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تواللہ تعالیٰ اس کے چہرے کوجہنم سے سترسال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے‘‘صحیح بخاری،482صحیح مسلم3511،نبی کریم ﷺنے فرمایا’’جنت (کے آٹھ دروازوں میں سے)ایک دروازے کا نام’ریان‘ہے جس سے قیامت کے دن صرف روزے دارہی داخل ہوں گے ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی بھی داخل نہیں ہوگا، کہاجائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟تو وہ کھڑے ہوجائیں گے اور(جنت میں داخل ہوں گے)ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگااورجب وہ داخل ہوجائیں گے تووہ دروازہ بند کردیاجائے گااورکوئی بھی اس سے داخل نہیں ہوسکے گا‘‘صحیح بخاری، 6981صحیح مسلم2511، حضور اکرمﷺ کافرمان ہے کہ:’’روزہ اورقرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے،روزہ کہے گا:اے میرے رب!میں نے اس بندے کودن کے وقت کھانے (پینے)سے اورجنسی خواہش پوری کرنے سے روک دیا تھاپس تواس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔قرآن کہے گا:میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روک دیا تھاپس تواس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما،چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی ‘‘صحیح الجامع بحوالہ مسنداحمد،مستدرک حاکم وشعب الایمان:۲۸۸۳،۰۲۷/۲،
ہماری غلطیوں، کوتاہیوں ، لغزشوں، نادانیوں اور بے پناہ گناہوں کے باوجود اللہ پاک اپنے بندوں بالخصوص امت محمدیہ پر بہت مہربان ہے ورنہ جس قدر ہم دنیا کی کثافتوں میں لتھڑے ہوئے اور بھٹکے ہوئے ہیں تو یہ ہی ہماری تباہی و بربادی کے لئے کافی ہے، تاریخ کا مطالعہ کریں تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ خالق کائنات نے بہت سی قومیں ان بدعادات پر غرق کردیں جو کہ آج ہمارا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہیں،بدقسمتی سے ہم دنیا کی جستجو میں آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں اور ہمیں یہ بھی احساس نہیں کہ ہمارے لئے سراسر خسارے کا سودا ہے، اس کے باوجود ہمارا خالق و مالک ہمیں رسی دراز کرتے ہوئے واپس پلٹنے کا موقع فراہم کررہا ہے، ہمیں چاہئے کہ اس باقی ماندہ زندگی کوغنیمت اور اللہ پاک کی خصوصی مہلت سمجھتے ہوئے اپنا بگڑا ہوا قبلہ درست کرلیں، خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس مبارک مہینہ میں عبادت و ریاضت کے ذریعہ اس کا حق ادا کرنے اور اپنے لئے بخشش و مغفرت اور آخرت میں جنت کا مستحق بننے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *