اے ایم یو : احمدی اسکول میں’ کرّۂ ارض پر امن و خوشحالی ‘کے موضوع پر بین المذاہب اجلاس منعقد

Students-of-Ahmadi-School
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے’’ احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ‘‘ میں اٹلانٹا (امریکہ) کی مرسر یونیورسٹی سے آنے والے14؍رکنی وفد کی الوداعی تقریب کے موقع پرکُرّۂ ارض پر امن و خوشحالی کے لئے بین المذاہب مفاہمت اور خیرسگالی کے موضوع پر ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مختلف مذاہب کے مقررین نے بھائی چارہ، خیرسگالی اور رواداری کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔
اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر تبسم شہاب نے اس موقع پر کہاکہ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب اور فرقوں کے پیروکار رہتے ہیں اور وہ صدیوں سے آپسی بھائی چارہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنا چاہئے۔ پرو وائس چانسلر نے کہاکہ ایک ماہر امراض اطفال ہونے کے ناطے انھیں بچوں کی اس نفسیات کا علم ہے کہ وہ اپنے سماجی و شخصی ارتقا کے لئے اپنے بڑوں کو ایک رول ماڈل بناتے ہیں، ایسے میں بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو ایک مثالی شخصیت کے طور پر پیش کریں۔
شعبۂ انگریزی کے پروفیسر ایمریٹس پروفیسر فرحت اللہ خاں نے کہاکہ ہمارے سماج کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اوپر کم اور دوسروں کے برتاؤ پر زیادہ دھیان دیتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سب سے پہلے ہمیں اپنے برتاؤ اور سلوک میں سدھار لاکر دوسروں کے اندر اصلاح کی امید کرنی ہوگی۔ پروفیسر خان نے کہاکہ کسی بھی سماج کا معیار اس کے افراد کے کردار و عمل کے معیار پر منحصر ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ اے ایم یو سیکولرزم کی بہترین مثال ہے۔
مرسر یونیورسٹی کے وفد کے سربراہ پروفیسر رابرٹ این نیش نے کہا کہ ان کے ساتھیوں نے ہندوستان کے اس دورہ سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ کوئی بھی مذہب زندگی کو سمجھنے کی بنیاد ہے اور ہندوستان، امریکہ کے سامنے ایک مثال ہے ۔ پروفیسر نیش نے کہاکہ خالق کائنات اپنی ہر تخلیق سے محبت کرتا ہے اور سب کے لئے اچھے خیالات رکھتا ہے۔ مقدس قرآن میں سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنے کو کہا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ایشور کو صحیح طریقہ سے سمجھنے کے لئے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے تئیں اپنے اندر رواداری اور کشادہ دلی پیدا کرنی ہوگی۔ مرسر یونیورسٹی کی پروفیسر ویزلی این بارکر نے کہا کہ بین المذاہب مفاہمت کے ذریعہ دنیا میں امن و امان اور بہتر ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے۔
اے ایم یو کے شعبۂ ہندی کے پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے کہاکہ ایک انسان پوری زندگی میں ایشور کو پوری طرح سے نہیں سمجھ سکتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ جس طرح سے پنکھے کی ہوا جسم کو محسوس ہوتی ہے اسی طرح سے مذہبی ادارے ایشور کا احساس کراتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ کوئی بھی مذہب اپنے ماننے والوں کو تین باتیں سکھاتا ہے، جس میں رویہ، سلوک اور کردار شامل ہیں۔ پروفیسر تیواری نے کہا کہ ہندو، مسلم اور عیسائی مذہب، ان تینوں شعبوں میں اصلاح کے لئے کام کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ انسان اور جانور کو مذہب ہی الگ کرتا ہے، اگر کسی انسان کا کردار ختم ہوجاتا ہے تو اس کا سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ دانشور راس راج داس نے کہاکہ آج دنیا میں بدامنی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم روحانیت سے دور ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہر مذہب کا بنیادی پیغام امن اور خوشحالی ہے۔ مسٹر داس نے کہا کہ ہم امن پیدا کرکے ہی امن کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عبادت سے دل کی صفائی ہوتی ہے جس سے کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔
ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن ، اے ایم یو کے ڈائرکٹر پروفیسر اصفر علی خاں نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم رواداری کے بنیادی اصول کو بھول چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ایک دوسرے کا احترام کرنے لگیں گے تو دنیا میں خود ہی امن اور بھائی چارہ قائم ہوجائے گا۔ فادر جاز اَکارا نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے بین المذاہب مفاہمت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ احمدی اسکول کی پرنسپل محترمہ فردوس رحمان نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مرسر یونیورسٹی کے وفد نے احمدی اسکول کے بچوں کو مختلف نئے فنون سے واقف کرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان تجربات سے بچوں کی پیشہ ورانہ تعلیم میں بہت مدد ملے گی۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض سماجی تنظیم ’سدبھاؤنا‘ کے مسٹر منسی اور احمدی اسکول کے طالب علم محمد احمد نے انجام دئے۔ تقریب میں موجود اے ایم یو کے شیخ الجامعہ پروفیسر طارق منصور اور ان کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر حمیدہ طارق نے امریکی وفد کے اراکین سے ملاقات کی اور ان سے خیرسگالی گفتگو کی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *