فلسفۂ رمضان اور مقصدِ روزہ

ramzan

مضمون نگار:سلیم صدیقی

اس میں کوئی شک نہیں کہ روزے سابقہ امتوں پر بھی فرض رہے ہیں جیسا کہ “کما کتب علی الذین من قبلکم” سے مستفاد ہے ، تاہم اس سہولت اور فضیلت کے ساتھ دوسری اقوام پر فرض نہیں رہے ، نا ہی اتنی اہمیت پہلی امتوں کو حاصل رہی ہے ، اور روزے کی ہئیت بھی پہلے کی اقوام میں ایسی نہیں تھی جیسی اب ہے۔
بہر کیف !! روزے کی شان بلند و برتر ہے ، رمضان کی بہت سی فضیلتوں میں سب سے اہم فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں قرآن جیسی بابرکت کتاب کا نزول ہوا۔ روزے کے فضائل و مسائل شرح و بسط کے ساتھ بیان کیے گئے اور کیے جارہے ہیں۔ تاہم راقم کا مقصد یہاں روزے کی ابتدائی تاریخ اور اس کا فلسفہ بیان کرنا ہے۔
روزے کی ابتدا
روزے کی ابتدا کب ہوئی اس کے بارے میں علامہ اسمعیل حقی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں “روزہ کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام کی تیسری نسل کے بادشاہ تہمور الثالث کے دور سے ہوا”
اس کا سبب یہ ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں تہمور الثالث کے زمانے میں سخت قحط پڑا، لوگ بھوک سے بدحال ہوگئے ، جانیں تلف ہونے لگیں ، تو بادشاہ وقت تہمورہ نے لوگوں پر اک سیاسی حکم نافذ کیا ، کہ مال دار اور صاحب ثروت حضرات دو وقت کھانا کھانے کے بجائے ایک وقت ہی کھائیں اور ایک وقت کا کھانا اپنے قحط زدہ غریب بھائیوں کو کھلائیں!
بادشاہ کے اس خوب صورت فرمان کو عوام نے خوب سراہا اور اس انسانی ہمدردی پر مشتمل اس حکم کی خوب خوب تعمیل کی۔
چناچہ لوگوں پر قحط سالی کے ایام آسانی سے گزر گئے، لوگ بآسانی مشکل مرحلے سے باہر نکل آنے میں کامیاب ہوگئے ، تو اللہ کو اس قوم کی یہ ادا بہت پسند آئی ،چنانچہ! اس وقت کے نبی پر روزہ رکھنے کا حکم نازل فرمایا۔ اس کے بعد سے ہر امت پر روزہ رکھنا فرض قرار پایا ، جیسا کہ اس سلسلہ میں نص بھی موجود ہے” کما کتب علی الذیں من قبلکم ” ہاں ! پہلے کی امتوں میں روزہ رکھنے کے طریقے ذرا مختلف اور سخت تھے ،

 

 

روزہ کا مقصد
روزے کے مقاصد میں غور کریں تو یہ حقیقت بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے ، کہ رمضان گناہوں کو جلانے کے لیے اور بندوں کو متقی بنانے کیلیے ہے ، جیسا کہ باری تعالی کا فرمان ہے “لعلکم تتقون” ، روزہ صرف اک فرض ہی نہیں بلکہ ایک علاج بھی ہے ، روزہ سے روحانی جسمانی ہر طرح کی بیماری دور ہوتی ہے، صوفیاء، و اطباء کبھی کبھی فاقہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

 

 

 

 

 

رمضان کا فلسفہ
اگر آپ “رمضان ” کی لغوی حیثیت پر غور کریں تو پتا چلے گا عربی میں اس کا مادہ رمض ہے جس کا معنی ہے جلانا ، خاکستر کرنا، اور بھسم کرنا۔چونکہ اللہ رب العزت رمضان المبارک میں بندوں سے روزے رکھوا کر ان کے گناہوں کو جلاتا ہے اور انسانی روحوں کو چمکدار بناتا ہے۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے 70ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ، اور کوئی ماں اپنی اولاد کو بھوکی کیسے رکھ سکتی ہے ؟ کیا کوئی ماں اپنے بچوں کو تکلیف میں ڈال سکتی ہے ؟
ماں اپنی اولاد کے لیے ہر دکھ خوشی خوشی برداشت کرلیتی ہے، بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے دوسروں کے جوٹھے برتن تک مانجھنے کیلئے تیار ہوجاتی ہے
اپنے اوپر ہر طرح کی پریشانی برداشت کرلیتی ہے مگر اپنے بچے کو بھوک کی حالت میں دیکھنا گوارا نہیں کرتی تو پھر اللہ اپنے بندوں سے 70 ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہ اپنے بندوں کو بھوکے پیاسے رکھنا کیسے پسند کرسکتا ہے ؟ اپنے بندوں کو بھوک سے تڑپتے اور پیاس سے سسکتے ہوئے کیسے دیکھ سکتا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ماں اپنی اولاد سے بے انتہا محبت کرتی ہے اپنے بچوں کو تھوڑی سی بھی تکلیف میں دیکھنا گوارا نہیں کرتی ، بچوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ماں ماہی بے آب کی طرح تڑپ اٹھتی ہے۔ مگر جب اسی ماں کا کوئی بچہ بیمار پڑجاتا ہے، تو ماں اسے زبردستی دوائی کا کڑوا گھونٹ پلاتی ہے ، بچہ روتا ہے ، بلبلاتا ہے ، ناراض ہوتا ہے ، ماں کو نادان بچہ تھپڑ بھی رسید کردیتا ہے ، گالیاں تک دے دیتا ہے ،مگر ماں پھر بھی اسے زبردستی کڑوی گولیاں کھلاتی ہے ، اور ضرورت پڑے تو انجکشن بھی دلواتی ہے ، چونکہ ماں جانتی ہے اس نادان بچہ کا علاج اسی میں ہے ، وہ یہ بھی جانتی ہے کہ اس تھوڑی سی تکلیف کا نتیجہ شفا کی صورت میں ظاہر ہوگا ،
اللہ تبارک تعالی بھی اپنے بندوں سے بے حد و بے انتہا محبت کرتا ہے ، بندوں کی آہ پر تڑپ اٹھتا ہے، مگر پھر اپنے بندوں کو سال میں ایک مہینہ دن میں بھوکے، پیاسے رہنے کا حکم دیتا ہے ، آپ اس پر غور کریں گے ،تو اس میں وہی نقطہ نظر آئے گا جو ماں کی زبردستی دوائی کھلانے اور انجکشن دلوانے میں ہے ، یہاں بھی بندوں کو بھوک اور پیاس کے مرحلے سے گذارنے کا مقصد نفسانی بیماری کا علاج ہے ، جیسا کہ اللہ کے حکم “لعلکم تتقون ” ( تاکہ تم پرہیز گار بنو ، )سے مترشح ہوتا ہے۔

 

 

 

 

انسان سال بھر دنیاوی ضروریات میں پھنس کر روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے فرائض و نوافل میں سستی کرنے لگتا ہے ، عبادات سے جی چرانے لگتا ہے ، نیک کاموں میں جلدی دل نہیں لگتا ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان روحانی مریض بن جاتا ہے، اس لیے اللہ نے اس کے علاج کے لیے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ دیا ، تاکہ اپنے نفس کو بھوک اور پیاس کی بھٹی میں جلا کر روحانی اور جسمانی صحت حاصل کرے ،
اب یہ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا بھوکے پیاسے رہنے سے ہی تقوی حاصل ہوتا ہے ؟
تو اس کا جواب شیخ فرید الدین عطار رحمہ اللہ علیہ یہ دیا ہے
“نفس ناتواں کشت الا باسے چیز
بات گویم یاد گیرش اے عزیز
خنجر خاموش و شمشیر جو
نیز تنہائی و ترک وجوب ”
کہ نفس کو نہیں مارا جاسکتا ہاں تین اسلحے لے کر نفس پر ٹوٹ پڑو ! نفس قابو میں آجائے گا ،
پہلا اسلحہ خنجر خاموش (خاموشی کا خنجر) ، دوسرا اسلحہ شمشیر جو (بھوک کی تلوار) اور تیسرا اسلحہ نیزہ تنہائی ہے ، خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسان خاموشی کا خنجر ، بھوک کی تلوار اور تنہائی کی نیزے سے اپنے نفس پر قابو پا سکتا ہے۔
اسی طرح ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے ، اے جوانوں کے گروہ!اگر نکاح کرنے کی طاقت تمہارے اندر ہوتو نکاح کرو ورنہ روزہ رکھ کر اپنے نفس کو مارو، نفس کو زیر کرنے کا سب سے کامیاب نسخہ روزہ ہے ، چونکہ روزہ کے علاوہ ہر عبادت میں ریاکاری کا شبہ ہوسکتا ہے ، اسی لیے حدیث قدسی ہے” الصوم لی وانا اجزی بہ ” روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں خود ہی دوں گا ، تمام عبادتوں کا بدلہ انسان فرشتوں کے ذریعے پائے گا مگر روزے کا بدلہ اور انعام اللہ رب العزت کے ہاتھوں سے حاصل کرے گا۔
اب اگر روزہ کے فلسفے پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ روزہ حصول تقوی کا بہت ہی اہم سبب ہے ، اور تقوی اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان شہوات کو ترک کرتا ہے اور مشتبہ چیز سے بھی حتی الامکان بچتا ہے۔
اس سے یہ مستفاد ہوا کہ روزہ رکھ کر آدمی ہرطرح کی نفسانی خواہش کو کچلے ، روزہ رکھ کر جھوٹ نہ بولے ، غیبت نہ کرے ، گالم گلوچ نہ کرے ، دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں نہ رہے ، اسی لیے محدثین کی ایک جماعت کا کہنا ہے روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نہیں ہے بلکہ ہر چھوٹی بڑی برائی سے رکنے کا نام روزہ ہے ، صحیح معنوں میں روزہ دار وہی ہے جس کے ہاتھ ، کان ، زبان ، آنکھیں ، اور قدم تمام کے تمام روزہ ہوں ، ہاتھ کا روزہ یہ ہے کہ غلط چیز نہ پکڑے ، زبان کا روزہ یہ ہے کہ جھوٹ نہ بولے ، کسی کی غیبت نہ کرے ،( بعض محدثین کا خیال ہے جو شخص روزہ رکھ کر غیبت کرتا ہے اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے)
آنکھوں کا روزہ یہ ہے کہ غلط چیز نہ دیکھے ، کانوں کا روزہ یہ ہے کہ غلط بات نہ سنے، اور قدموں کا روزہ یہ ہے کہ غلط کاموں کی طرف نہ چلا جائے ، آج اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ ہم صرف پیٹ کا روزہ رکھ کر تقوی حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہمیں تقوی کی نعمت سے محرومی ہوتی ہے ،
افسوس صد افسوس!!
آج کل اکثر لوگ روزہ کاٹنے کیلئے عیب جوئی اور غیبت میں مبتلا رہتے ہیں ، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ، جس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے۔
اللہ کے نبی نے ارشاد فرما یا “کم من صائم لیس لہ من صیامہ الا الجوع والعطش” بہت سے روزے داروں کا روزہ سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ، ہمیں روزہ میں غیبت، جھوٹ ، چغلخوری ، برائی ، اور بے ہودہ باتوں سے بچنا چاہیے ، گوکہ یہ مذکورہ چیزیں ہمیشہ ہی مبغوض ہیں مگر رمضان میں اور زیادہ ناپسندیدہ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *