بابری مسجد پر صرف کورٹ کا فیصلہ قابل قبول :مولانا عبدالعلیم فاروقی

M-abdul-aleem-faroqi
جمعیۃعلماء ہند کے جنرل سکریٹری اور دار العلوم دیوبند کی رکن شوریٰ مولانا عبدالعلیم فاروقی نے کہاکہ کچھ سماج دشمن عناصر ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہے اور ہندو مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کرکے اپنی سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتے ہیں مگر ہمیں امید ہے کہ ملک کے سیکولر عوام ایسے عناصر کی سازشوں کو ناکام کریگی۔ مولانا عبدالعلیم فاروقی بڈھانہ میں واقع آصف قریشی کے مکان پر منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعیت علماء ہند نے ہمیشہ سے ایسے سماج دشمن عناصر اور فرقہ پرست طاقتوں کی مخالفت کی ہے،انہوں نے بغیر کسی پارٹی کا نام لئے کہا کہ کچھ سیاسی پارٹیوں کی تو سیاست ہی مذہب پر چل رہی ہیں اور ایسی پارٹیوں کے رہنما آپس میں ایک دوسرے کو لڑا کر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں، طلاق ثلاثہ سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فاروقی نے کہا کہ مرکزی حکومت بغیر وجہ ایسے مسئلے اٹھا کر شریعت میں مداخلت کرنا چاہتی ہے جو کہ شرعی اور دینی مسئلہ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اسلامی شریعت کو مسلمان چودہ سو سالوں سے مانتا آ رہا ہے اور ایسے ہی مانتا رہے گا،بابری مسجد کیس میں شری شری روی شنکر کی معاہدے والے تجویز کے سوال پر مولانا فاروقی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کیس سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اس مقدمہ کو جمعیت علماء ہند بھی سپریم کورٹ میں لڑ رہی ہے ا انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا ہی فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا،اب صلح کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ شری شری روی شنکر کو یاد ہونا چاہیے کہ اس مسئلے کو تقریبا کئی بار عدالت سے باہر حل کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے لیکن اچھا نتیجہ سامنے نہیں آیا،انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت گائے کو قومی جانور قرار دے ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے گائے کے نام پر ملک میں کچھ فرقہ وارانہ افراد کی طرف سے سیاست کی جا رہی ہے جو کہ قابل مذمت ہے،کٹھوا ،اناؤ وغیرہ جگہوں پر ہوئے ریپ کے معاملات پر پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ یہ حکومت کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے،جس کے نتیجہ میں معصوم بچیوں کے ساتھ اس درندگی کے مظاہرہ کئے جارہے ہیں۔انہوں نے ریپ کے ملزمان کی پھانسی کی سزا کے لیے لائے گئے قانون کی تعریف کی۔

 

 

مولانا عبدالعلیم فاروقی نے کہا کہ جمعیت علماء ہند ان افراد کی بھی عدالت میں پیروی کر رہی ہے جنہیں جھوٹے اور سنگین الزام میں پھنسایا گیا ہے اورجیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم ایسے مقدمات میں سول کورٹ اور ضلع اور سیشن کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جاتے ہے اور اس کا نتیجہ یہ آتا ہے کہ دس دس، بیس بیس سال بعد یہ بے قصور لوگ باعزت بری ہوکر آتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اللہ کا فضل ہے کہ سیکڑوں لوگ جمعیت علمائے ہند کی مضبوط پیروی سے بری اور ضمانت پر رہا ہو رہے ہے،جن میں ہندو بھی ہے اور مسلمان بھی ہیں ۔آخر میں انہوں نے کہاکہ ملک میں تمام مذہب کے لئے لوگ آپس میں پیار و محبت اور میل جول کے ساتھ رہیں اور فرقہ پرست طاقتوں سے ملکر مقابلہ کریں ۔ اس دوران آصف قریشی ، مولانا عمران، حافظ تحسین، شاہد وغیرہ موجود رہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *