اب ا ے ایم یو بھی ہندوتو عناصر کے نشانے پر

یہ یقیناً بڑے افسوس کی بات ہے کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ، حیدر آباد یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج کے بعد ہندوتو گروپوں کے نشانے پر اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ا ے ایم یو)بھی آگئی ہے۔یعنی دانش گاہوں میں یکے بعد دیگرے سیاست کھیلی جارہی ہے اور اس کھیل کے لیے کوئی بھی بہانہ تلاش کر لیا جارہا ہے۔ اس بار اے ایم یو میں کوئی اور بہانہ نہیں ملا تو اے ایم یو طلباء یونین کے یونین ہال میںٹنگے 1938 میںبنائے گئے اس کے لائف ممبر محمد علی جناح کے پورٹریٹ کو بہانہ بنایا گیا۔ سب سے پہلے یہ ایشو بی جے پی کے علی گڑھ پارلیمانی حلقے کے رکن لوک سبھا ستیش گوتم نے اٹھایا۔ اس کے بعد سنگھ پریوار کے دیگر لیڈران بھی میدان میںکود پڑے اور اے ایم یو پر جناح اور پاکستان نوازی کا الزام لگا کر ان کے پورٹریٹ کو یونین ہال سے فوراً ہٹانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ویسے اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کے پی موریہ نے مقامی رکن لوک سبھا کے بیان کی مذمت کی اور جناح کو ’مہا پروش‘ (عظیم شخص ) بتادیا۔ مگر موریہ کی اس بروقت تنقید کا کوئی اثر نہیں پڑااور معاملہ الجھتا ہی چلا گیا۔
پھر 2 مئی آیا۔ اس روز سابق نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری کو ا ے ایم یو طلباء یونین اپنی لائف ممبر شپ سے نواز نے جارہی تھی۔ وہ حسب پروگرام تشریف لاچکے تھے اور گیسٹ ہاؤس میںتشریف فرماتھے۔ دریں اثناء ہندو یووا واہنی کے تقریباً 30 کارکنان یونیفارم سے لیس پولیس والوںکے ساتھ اے ایم یو کے سینٹرل گیٹ ’باب سید‘ پر آدھمکے اور محمد علی جناح کے پورٹریٹ کو زبردستی ہٹانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اتنا ہی نہیں،انھوںنے متعدد نعرے لگائے۔ ان کے نعرے تھے ’ہم جناح کو ہندوستان میںکوئی احترام و عزت نہیںدیںگے‘ ، ’اگر آپ کو ہندوستان میںرہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہی ہوگا‘ اور ’وندے ماترم، جے شری رام‘ ۔ دریںاثناء طلباء یونین کے ذمہ داران و دیگر طلباء بھی باب سید پر پہنچ گئے۔ پھر دونوںگروپوںمیںبحث ہوئی۔اسی دوران پولیس ہندو یووا واہنی کے آدھے درجن کارکنان کو اپنے ساتھ پکڑ کر لے گئی۔ اطلاع کے مطابق، پولیس نے اس تعلق سے ایف آئی آر نہیں فائل کی اور ملزمین کو چھوڑ بھی دیا۔ قابل ذکر ہے کہ ہندو یووا واہنی ریاست کے موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قائم کردہ تنظیم ہے جو کہ ان کے اقتدار میںآنے کے بعد خاموش تھی۔ اب پھر حرکت میںآئی ہے۔
اس کے فوراً بعد طلباء کا جم غفیر باب سید پر آگیااور پولیس کے رویہ پر احتجاج کرنے لگا۔ اس طرح پولیس پھر دوبارہ فورسز کے ساتھ وہاںآگئی۔ دریںاثناء ہندو یووا واہنی کے کارکنان بھی پھر آگئے۔ طلباء کا الزام ہے کہ پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور طلباء کے مجمع کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ، جس کے نتیجے میںاے ایم یو طلباء یونین کے صدر مشکور احمد عثمانی ، سکریٹری محمد فہداور سابق نائب صدر مزیں زیدی سمیت تقریباً 65 طلباء بری طرح زخمی ہوگئے۔ ان سبھوں کو ہاسپٹل پہنچادیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

عثمانی کا تو یہی بیان ہے کہ یہ سب کچھ ادارہ اور طلباء کے خلاف حملہ تھااور پولیس ہندو یووا واہنی کے محض 30 کارکنان کو ہینڈل نہیںکرسکی جبکہ اسے معصوم طلباء کو بری طرح پیٹنے میںکوئی دقت نہیںہوئی۔ اس واقعہ کے بعد سابق نائب صدر کی شان میںہورہا پروگرام ملتوی کردیا گیا۔
عجب بات تو یہ ہے کہ جناح کے جس پورٹریٹ کو لے کر پورا ہنگامہ ہوا، وہ کوئی نیا نہیںہے۔ یہ تقسیم وطن سے 9 برس قبل 1938 میں انھیںاے ایم یو طلباء یونین کے ذریعے لائف ممبر شپ نوازے جانے پر دیگر لائف ممبروںکی مانند یونین ہال میں80 برس سے لگا ہوا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہاںسب سے پہلے لائف ممبر شپ گاندھی جی کو دی گئی تھی اور ان کا پورٹریٹ بھی یہاںلگایا گیا تھا۔ بعد ازاں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، پنڈت جواہر لعل نہرو،مولانا آزاد، سی وی رمن اور جے پرکاش نرائن ودیگر شخصیات کو بھی یہ اعزاز ملے۔ اس طرح ان تمام شخصیات کے ساتھ جناح کے بھی پور ٹریٹ یونین ہال میںآویزاں ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ تقسیم وطن یا دو قومی نظریہ سے یونین ہال میںلٹکے ان پورٹریٹس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ عیاں رہے کہ جناح کا کوئی بھی پورٹریٹ اے ایم یو میںکہیں اور نہیںلگا ہوا ہے۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خواہ مخواہ اس ایشو کو اٹھا دیا گیا ہے اور یونیورسٹی کے پُرامن و پرسکون ماحول کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ پولیس کا رول بھی غیر جانب دارانہ نہیںرہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ بعض ہندوتو عناصر کی نظریں پہلے ہی سے اے ایم یو و دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں پر مرکوز ہیں۔ تبھی تو چند دنوں قبل اندریش کمار کے قائم کردہ مسلم راشٹریہ مورچہ (ایم آر ایم) نے اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیوخ الجامعہ سے کیمپس میںشاکھا کرنے کی اجازت بھی مانگی ہے۔ ان عناصر کو یہ پسند نہیںہے کہ یہ تعلیمی ادارے اقلیتی شناخت یا کردار کے ساتھ رہیں اور یہاںسے اقلیتوں کا تعلیمی امپاورمنٹ ہوتا رہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس بات کے پیش نظر ان عناصر کی فکر سے میل کھاتی موجودہ مرکزی حکومت نے اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دونوںکے تعلق سے سابق حکومت کی رائے پر نظر ثانی کرتے ہوئے عدالت میںیہ رائے پیش کردی ہے کہ سیکولر ملک میںسرکاری تعاون سے چل رہے تعلیمی اداروں کو کوئی مذہبی اقلیتی کردار ہر گز فراہم نہیںکیا جاسکتا ہے جبکہ گزشتہ 18 اپریل کو سپریم کورٹ نے اس ضمن میںقومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے اقلیتی اداروں کو اقلیتی حیثیت فراہم کرنے کے اختیار کو تسلیم کرلیا ہے اور آئین کی دفعہ 30 کا حوالہ بھی دیا ہے۔
اس ضمن میںسب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ جمعیت علماء ہند (محمود مدنی) جیسی سنجیدہ تنظیم نے بھی مسئلے کی تہہ میںگئے بغیر یہ برملا بیان دے دیا کہ محمد علی جناح کے پورٹریٹ کو تو پہلے ہی ہٹا دینا چاہئے تھا اور اسے اب تک یہاں کیوںرکھا گیا تھا؟ ظاہر سی بات ہے کہ اس کے قائد مولانا محمود مدنی کا یہ بیان اس کے دو قومی نظریہ پر اس کے باضابطہ مخالف موقف پر مبنی ہے۔ مگر جیسا کہ کہا گیا کہ اس ایشو کا دوقومی نظریہ اور جناح سے کوئی مطلب نہیں ہے،لہٰذا اس انداز میںنہیںلینا چاہیے۔ معروف کالم نویس کلدیپ نیّر کا بھی یہی خیال ہے ۔ انھوں نے ’چوتھی دنیا‘ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جناح کا پورٹریٹ یونیورسٹی میںتو نہیںلگا ہوا ہے اور یہ یونین ہال میںدیگر لائف ممبروںکے ساتھ یونین کے لائف ممبر کے طورپر لگا ہوا ہے۔ اس لیے یہ تنازعہ بلاوجہ ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *