نرگس دت ایک پرکشش شخصیت کی مالک تھیں

nargis-dutt
آج 3مئی کوبالی ووڈ کی معروف اداکارہ نرگس دت کی برسی ہے۔ ہندی سنیما کوشروعاتی دورمیں جن اداکاراؤں نے ایک الگ اونچائی دی ہے ان میں ایک نام اس دورکی خوبصورت اداکارہ نرگس دت کابھی ہے۔نرگس دت ایک بالی وڈ اداکارہ تھیں جن کا اصلی نام فاطمہ رشید تھا مگر وہ اپنے فلمی نام نرگس دت سے پہچانی جاتی تھیں۔نرگس دت پہلی مرتبہ اسکرین پر ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلم ‘‘تلاشِ حق ‘‘ میں نمودار ہو ئی تھیں مگر ان کا اداکاری (ایکٹنگ) کیرئیر 1942ء4 میں بننے والی فلم ‘‘تمنا‘‘ سے شروع ہو تا ہے۔ 1957ء4 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘‘مدر انڈیا‘‘میں ان کے کردار “رادھا” کو لا زوال شہرت حاصل ہوئی۔ 1958ء میں سنیل دت سے شادی کے بعد انہوں نے فلم انڈسٹری کو چھوڑ دیا۔ نرگس کا انتقال 1981ء میں اپنے بیٹے سنجے دت کے فلمی کیرئیر شروع ہونے سے چند دن قبل لبلبہ کے کینسر سے ہوا۔بعد ازاں ان کی یاد میں ‘‘نرگس دت میموریل کینسر فاؤ نڈیشن ‘‘ بھی بنا یا گیا۔عیاں رہے کہ نرگس کی ولادت یکم جون 1929کومغربی بنگال کے کولکاتہ شہرمیں ہوئی تھی۔انہوں نے 3مئی 1981کودنیاکوہمیشہ کیلئے الوداع کہہ دیا۔
nargis
ویسے تونرگس شروع سے ایک پرکشش شخصیت کی مالک تھیں۔ اس کشش میں بڑا حصہ اس تہذیبی رچاؤ اور ماحول کا تھا جس میں ان کی پرورش ہوئی۔ جس گھر میں جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، سجاد ظہیر، سردار جعفری ایسے بڑے نابغوں کا آنا جانا ہو وہاں بچے میں ادب آداب بعید از قیاس نہیں ہوتے۔ نرگس کی اماں گانا گاتی تھیں لیکن بہت رکھ رکھاؤ والی خاتون تھیں۔ سوشل سٹیٹس بھی مینٹین رکھتی تھیں اور ٹھیک ٹھاک ادب دوست تھیں۔
نرگس بچپن میں اپنی ماں کے ساتھ ایک فلم پریمئیر میں گئیں۔ وہاں نہرو جی بھی آئے ہوئے تھے، انہوں نے بہت شفقت سے ملاقات کی، تھوڑا وقت دیا اور تب سے نرگس پنڈت نہرو کے مداحوں میں شمار ہوتی تھیں۔ نہرو خود نرگس اور ان کی والدہ کے فن کو سمجھتے تھے اور بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جب سن باسٹھ میں نرگس سنیل دت کے ہمراہ سرحدوں پر گئیں، کلچرل ٹورز کیے، فوجی جوانوں کی حوصلہ افزائی کی تو پنڈت جی بہت متاثر ہوئے کیوں کہ انہیں دنوں چین بالکل آسام کی سرحدوں پر پہنچ چکا تھا اور یہ ایک بہت بڑا رسک تھا۔ تو نرگس نری فلمسٹار نہیں تھیں، وہ ایک پیدائشی انٹیلیکچوئل تھیں، ہاں زندگی سے مہلت کم ملی مگر اس میں بھی انہوں نے ٹھیک ٹھاک کام کیا۔ اپاہج بچوں کے لیے ایک ادارہ بنایا، راجیہ سبھا کی ممبر منتخب ہوئیں اور جب خود کینسر کی آخری سٹیج پر تھیں تو سنیل دت سے کہہ کر اس مرض کے متاثرین کے لیے بھی ایک ادارہ بنوایا۔ یہ تمام ادارے اس وقت فعال ہیں۔ نرگس حسین ہونے کے ساتھ ساتھ درد دل رکھنے والی عورت تھیں۔
نرگس کی ماں جدن بائی اور موہن بابو کی شادی کے بعد بھی عین ویسے ہنگامے ہوئے تھے جیسے نرگس اور سنیل دت کی شادی کے بعد ہوا یا کسی بھی ہندو مسلم شادی پر ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سب عارضی تھا۔ دت صاحب کے گھر والوں نے انہیں دل و جان سے قبول کیا تھا اور نرگس نے بارہا خود کو اس کا اہل بھی ثابت کیا۔ تو نرگس کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا اور اس کی وجہ ان کی من موہنی طبیعت تھی۔ سنیل دت بعض مواقع پر یہ بھی کہتے سنے گئے کہ یہ سب تو مجھے جہیز میں ملے ہیں۔
نرگس کا ہر انداز مستانہ تھا۔ انہوں نے کبھی مذہب، ذات پات اور دوسری چیزوں کی پرواہ نہیں کی تھی۔ ایک تقریر میں کہا، ‘‘میرے والد پنجاب کے ہندو تھے اور میری ماں یو پی کی مسلمان تھیں اور اب، میرا گھر، مہاراشٹر ہے۔ لیکن میں ہندو یا مسلمان، ہنجابی یا مراٹھی بعد میں ہوں اور سب سے پہلے میں ہندوستانی ہوں۔’’ تو ہندوستان کی سیکیولر بنیادوں میں ایک اہم نام اس خاندان کا تھا جس کے سبھی رکن اپنی جگہ مشہور تھے، موہن بابو، جدن بائی، نرگس، سنیل دت، سنجے دت۔
بالی ووڈ سپر سٹار سنجے دت کی والدہ نرگس دت کا سنیل دت سے شادی سے پہلے اداکار راج کپور کے ساتھ کئی سال تک معاشقہ چلتا رہا اور اس میں ناکامی پر انہو ں نے کئی بار خود کشی کی کوشش کی لیکن پھر ان کی ملاقات سنیل دت سے ہوئی اور دونوں نے شادی کرلی۔تفصیلات کے مطابق اداکارہ نرگس نے 6 سال کی عمر میں 1935 میں فلم تلاش حق سے اپنے کیریئر کا ا?غاز کیا جس کے بعد انہو ں نے 1943 میں بننے والی محبوب خان کی فلم تقدیر میں بھی اداکاری کی۔ اسکے علاوہ بھی انہو ں نے متعدد فلموں میں کام کیا تاہم انہیں 1949 میں بننے والی محبوب خان کی فلم انداز سے شہرت حاصل ہوئی۔ اس فلم نے دلیپ کمار ، راج کپور اور نرگس تینوں کو ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔اسی سال راج کپور کی فلم برسات ریلیز ہوئی جس میں نرگس اور راج کپور نے مرکزی کردار ادا کیا، اس فلم کے بعد اس جوڑی کو خوب پسند کیا جانے لگا۔ عوام میں راج کپور اور نرگس کی جوڑی کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان دونوں نے 16 فلمیں اکٹھی کیں۔ اتنی رومانوی فلموں میں ایک ساتھ کام کرنے کے دوران نرگس واقعی راج کپور سے پیار کرنے لگیں لیکن راج کپور پہلے سے ہی شادی شدہ تھے۔ ان دونوں کے افیئر کی خبریں زبان زد عام ہوگئیں اور اس معاشقے کی خبریں راج کپور کے گھر تک بھی جا پہنچیں۔ راج کپور کے گھر میں جب ہنگامہ برپا ہوا تو انہو ں نے آہستہ آہستہ نرگس سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔کشور ڈیسائی نے اپنی کتاب ’ڈارلنگ جی ‘ میں لکھا ہے کہ عشق میں ناکامی پر نرگس نے کئی بار خود کشی کی کوشش کی لیکن 1957 میں بننے والی فلم ’ مدر انڈیا‘ میں ایک حادثہ پیش ا?یا جس میں اداکار سنیل دت نے نرگس کی مدد کی۔ اس حادثے کے بعد نرگس جنہو ں نے اس فلم میں سنیل دت کی ماں کا کردار ادا کیا تھا کا جھکا سنیل دت کی جانب ہوگیا اور دونوں جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *