مسلم بچیوں کا ڈراپ آئوٹ تعلیمی امپاورمنٹ میں بڑی رکاوٹ

کیا میدان تعلیم میں بھی کوئی ’ آئی سی یو‘ نام کی چیز ہوتی ہے؟ یہ سوال سن کر آپ یقینا چونک گئے ہوں گے ۔ تعلیم کی انتہائی نگہداشت کا یہ پروگرام دراصل ان بچوں کے لئے تیار کیا گیا ہے جو درمیان میں ہی میں تعلیم کا سلسلہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ اور مسلم بچوں میں ترک تعلیم کرنے یاڈراپ آئو ٹ طلبا کا تناسب دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ۔اسی کے پیش نظر کرناٹک کے شہر بیدر کے مشہور تعلیمی انجمن ’شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز‘ کے اشتراک سے آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل موومنٹ نے دہلی کے پہلے اکیڈیمک انٹینسیو کیئر یونٹ کا افتتاح کیا ۔ یہ خصوصی اسکول دہلی کے مسلم اکثریتی علاقہ ابوالفضل انکلیو اوکھلا میں مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ کی عمارت میں کھولا گیا ہے ۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس‘ کے روح رواں اور بانی ڈاکٹر عبدالقدیر نے اکیڈیمک انٹین سیو کیئر یونٹ کے تجربہ پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے اس راسخ خیال کو غلط بتایا کہ ترک تعلیم کرنے کی اصل وجہ غربت ہے ۔ ڈاکٹرقدیر نے استدلال کے ساتھ بتایا کہ بچے کو جب کوئی مضمون سمجھ میں نہیں آتا ہے تو اس کے اندر تعلیم کے تئیں مایوسی گھر کرنے لگتی ہے۔ اسے یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ آگے کی کلاس ( جماعت) میں بھی یہی کفیت رہے گی چنانچہ اس کے اندر تعلیم سے دلچسپی اور رغبت ختم ہونے لگتی ہے اور وہ اسکول چھوڑ دیتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترک تعلیم میں غربت کا عمل ودخل دس پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہمیں اس کمزوری کی طرف توجہ دینا چاہیئے جس سے بچہ کے اندر تعلیم سے دوبارہ رغبت پیدا ہو اور اسے تعلیم کے اصل دھارے میں لایا جاسکے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ڈاکٹر قدیر نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہ اسی پہلو کوسامنے رکھتے ہوئے شاہین گروپ نے ایسے بچوں کی طرف خصوصی توجہ دی ۔ان کے لئے باضابطہ طور پر ایک نصاب ’’ اکیڈیمک انٹین سیو کیئر یونٹ ‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا ۔ ابتک اس انوکھے اور منفرد تجربہ سے نتیجہ میں شاہن گروپ کو ایک ہزار سے زائد طلبا کو دوبارہ اسکولوں میں لانے میں کامیابی ملی ہے۔ان میں سے کئی ایک طلباء پروفیشنل کورسوں جیسے میڈیکل ، انجینئر نگ ، وغیرہ میں داخلہ لے چکے ہیں۔ اور دہلی میں اس پروگرام کو چلانے کے لئے شاہین گروپ ہر طرح کی مدد فراہم کرے گا۔
اس موقع پر انہوں نے شاہین گروپ کے ملک گیر شہرت کے حامل حفظ القران پلس پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا ایک انوکھا اور منفرد تجربہ کیا ہے جس کے تحت حفظ کئے ہوئے منتخب طلباء کو محض تین سال کے عرصہ میں اس قابل بنادیا جاتا ہے کہ وہ پروفیشنل کورسوں جیسے میڈیکل ، انجنیئر نگ، مینجمنٹ اور دیگر کورسوں کے علاوہ صوبائی اور مرکزی سطح کے سول سروس کے مسابقتی امتحانات میں حصہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں 16 حفاظ سینٹر چل رہے ہیں اور بیدر میں امسال 250 حفاظ کو اس کورس سے استفادہ کریں گے ، انہوں نے اپیل کی کہ رضاکار تنظیموںاور این جی اوز اور ا صاحب خیر افراد سے یہ اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے مقامات پر اچھے حفاظ کی تلاش میں ان کے ادراہ کی اعانت کریں ۔ ابتک ملک کی 15ریاستوں کے 300 سے زائد حفاظ کرام اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ خیال رہے شاہین گروپ گزشتہ 32برسوں سے تعلیمی میدان میں گراں مایہ خدمات انجام دے رہا ہے ۔ اس کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں میں سر دست 12ہزار سے زائد طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔
اس موقع پرآ ل انڈیا مسلم ایجوکیشنل موومنٹ کے صدر پروفیسر ایم اسلم نے جو مشہور ماہر تعلیم اور اندراگاندھی اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ہیں ، کہا کہ مسلم بچوں کو دوبارہ سلسلہ تعلیم سے جوڑناایک اہم کام ہے۔ پروفیسر اسلم نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ تعلیمی پسماندگی ہے ۔ اور اسے دور کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ شاہین گروپ نے جو کورس مرتب کیا ہے اور تعاون دیا ہے اسی کی سبب یہ خواب شرمندہ تعبیرہونے جارہا ہے۔ مسلم ایجوکیشنل موومنٹ کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عبدالرشید نے کہا کہ ڈراپ آئوٹ بچوں کے لئے یہ کلاس شروع کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے اپیل کی کہ وہ ایسے بچوں کی نشاندہی کریں جو اسکول چھوڑ چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *