مودی -نتیش حالیہ ملاقات بہار کے لئے بڑے اعلان کا ہنوز انتظار

نریندر مودی اور نتیش کمار کی دہلی میں 2 مئی کو ہوئی ایک گھنٹے کی لمبی میٹنگ کے بعد بہار میں سیاسی پارہ اچانک چڑھ گیا ہے۔ جنتا دل یو خیمہ اس بات چیت کے بعد کافی پرجوش ہے اور یہ پیغام دینے میں لگا ہے کہ نتیش کمار نے وزیرا عظم کو ان باتوں کے لئے منا لیا ہے جس کا پورا ہونا جنتا دل یو کی سیاسی صحت کے لئے ضروری تھا۔بتایا جارہاہے کہ نریندر مودی اور نتیشکمار کے بیچ بہار اور ملک کی سیاست پر کھل کر بات ہوئی۔ اس بات چیت میں سب سے اہم مسئلہ لوک سبھا انتخابات کے لئے سیٹوں کی تقسیم کا تھا۔ اس کے علاوہ اس امکان کو ٹٹولا گیا کہ کیا بہار اسمبلی کے انتخابات لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک ساتھ ہوئے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا اور کیا نقصان ہوگا، اس پر بھی غورو خوض ہوا۔
بہار کی ترقی پر رضامندی
ان سیاسی مسئلوں کے علاوہ بہار کی ترقی کو خاص توجہ دینے پر بھی رضامندی ہوئی۔ امید ہے کہ جلد ہی بہار کی ترقیاتی اسکیموں کو لے کر کوئی بڑا اعلان نریندر مودی کرسکتے ہیں۔ بتایا جارہاہے کہ دونوں سینئر لیڈروں کی یہ ملاقات لمبے عرصے سے مجوزہ تھی۔ جنتا دل یو کے ترجمان کے سی تیاگی نے کہا کہ پی ایم مودی کے ساتھ نتیش کی بات چیت مثبت رہی۔ دونوں نے بہار کے مفاد کے ساتھ قومی سیاست پر بھی چرچا کیا۔ نتیش کمار کے انتخابی صلاح کار پرشانت کیشور کی بھی خواہش تھی کہ دونوں لیڈر ایک بار جلد سے جلد آمنے سامنے بیٹھ جائیں، تاکہ آگے کی پالیسی بنانے میں سہولت ہو۔
جنتا دل یو کے جانکار ذرائع بتاتے ہیں کہ پارٹی چاہتی ہے کہ لوک سبھا کی کم سے کم 15سیٹوں پر اس کے امیدوار میدان میں اتریں۔ خاص طورپر پسماندہ اور انتہائی پسماندہ اکثریتی علاقوں میں جنتا دل یو مکمل تال میل کے ساتھ انتخابات لڑنا چاہتاہے۔ جنتا دل یو کو بھروسہ ہے کہ اگر بی جے پی ، لوجپا اور رالوسپا کے ساتھ پوری طرح تال میل کے ساتھ اس کے امیدوار میدان میں اتریں تو نتائج کافی بہتر آئیں گے۔ زمینی سطح پر بھی جنتا دل یو ان دنوں کافی سرگرم ہے اور بوتھ سطح پر تنظیم کو مضبوط کرنے کا کام جاری ہے۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن کے تجربہ سے سبق لے کر جنتاد ل یو ہر بوتھ پر اپنے پانچ سرگرم ممبر تیار رکھنے کی کوشش میں ہے۔ریاست میں اس وقت 62ہزار بوتھ ہیں جن کے لئے پارٹی کو 3.10 لاکھ سرگرم ممبروں کی ضرورت پڑے گی۔ فی الحال جنتا دل یو نے 1.56 لاکھ سرگرم ممبر بنا لئے ہیں۔
بوتھ مینجمنٹ میں جٹا جنتا دل یو
ذرائع نے بتایا کہ ریاست میں اب تک پارٹی کے 39 لاکھ ابتدائی ممبر بنے ہیں۔ کم سے کم 25 ممبر بنانے والے کو سرگرم ممبر کا درجہ ملتاہے۔ ہر بوتھ پر پانچ سرگرم ممبر بنانے کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے موجودہ تعداد سے دوگننی یعنی 3.10 لاکھ سرگرم ممبر چاہئے۔ فی الحال اتنی تعداد میں سرگرم ممبر بنانا ممکن نہیں ہے۔ایسے میں پارٹی نے فیصلہ لیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ابتدائی ممبروں کو بھی بوتھ ایجنٹ بنانے کے لئے تیار رکھا جائے۔
دراصل 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں تقریباً 30فیصد بوتھوں پر ہی پارٹی کے ایجنٹ موجود تھے، جس کی وجہ سے جنتا دل یو کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب جنتا دل یو کسی دیگر پارٹی سے تال میل کے بغیر اکیلے الیکشن میں اترا تھا۔ حالانکہ اگلا لوک سبھا الیکشن 2019 میں ہونا ہے ، لیکن جنتا دل یو بوتھ سطح تک اپنی تیاری کو اس سال کے آخر تک پورا کر لینا چاہتاہے۔ سرگرم ممبروںکی کسی خاص بیلٹ کی جگہ ہر علاقے میں دستیابی کے لئے پارٹی کے سرگرم ممبر بنانے کے لئے خصوصی سمت و ہدایت بھی جاری کئے تھے۔ سرگرم ممبر بننے کے لئے اس بار یہ شرط ہے کہ وہ اسی علاقے میں 25 ابتدائی ممبر بنائیں، جہاں ووٹر لسٹ میں ان کا نام درج ہے۔ پہلے یہ چھوٹ تھی کہ سرگرم ممبر بننے کے لئے کسی بھی جگہ ابتدائی ممبر بناکر 25 کے کم سے کم عدد کو پورا کر سکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سیٹوں کی تقسیم پر ہوم ورک شروع
تنظیمی سطح پر اپنے کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہی ساتھ جنتا دل یو نیتش کمار کی شبیہ اور شراب و جہیز بندی کے تجربہ کو زیادہ سے زیادہ مشتہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ پرشانت کیشور کی ٹیم کے جڑنے سے جنتا دل یو کو انتخابی پالیسی بنانے میں کافی مدد مل رہی ہے۔ لیکن یہ سب جنتا دل یو کی طرف سے بات ہے۔
جہاں تک سیٹوں کی تقسیم کا سوال ہے تو بی جے پی 22سے 25 سیٹوں پر انتخابات لڑنے کا پکا من بنا چکی ہے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ باقی بچی سیٹوںپر ہی وہ اپنے اتحادیوں کو نمٹا دے۔ اس کے لئے بی جے پی کی طرف سے ہوم ورک شروع بھی ہو گیا ہے۔ بی جے پی بھی جانتی ہے کہ وہ جو چاہتی ہے،وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اگر سبھی اتحادیوں کو خوش رکھناہے تو اسے کچھ قربانی دینی ہی ہوگی لیکن بی جے پی خاص طور پر لوک سبھا کی سیٹوں میں کسی بھی طرح کی کٹوتی کے حق میں نہیں ہے، اس لئے دو طرح کے متبادلوں پر غور ہورہا ہے۔ پہلا متبادل تو ابھی غور و خوض کی سطح پر ہے ۔بی جے پی پالیسی سازوں کی رائے ہے کہ بہار اسمبلی کے الیکشن بھی لوک سبھاانتخابات کے ساتھ کرا لئے جائیں۔ اس کے کئی فائدے گنائے جارہے ہیں۔ جب سے یہ سرکار بنی ہے تب سے راشٹریہ جنتا دل یہ الزام لگا رہا ہے کہ یہ چوری کی عوامی مقبولیت ہے ۔ عوامی مقبولیت کی توہین نتیش کمار نے کی ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ایک نئی عوامی مقبولیت لے کر ریاست میں بی جے پی اور جنتادل یو کی سرکار چلائی جائے۔ اس سے بھی بڑا فائدہ ہوگا کہ مودی کے لہر میںبہت سارے مقامی ایشو دبے رہ جائیں گے اور این ڈی اے گٹھ بندھن کو الیکشن جیتنا زیادہ آسان ہوگا۔ ایک ساتھ الیکشن کا ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ اتحادی پارٹی لوک سبھاکے بجائے اسمبلی کی سیٹوں پر زیادہ فوکس کریںگے ۔ایسے میں بی جے پی کو پوری طرح سے تال میل کرنے میں پریشانی نہیں ہوگی۔
بھروسہ مند ذرائع بتاتے ہیں کہ بی جے پی اور جنتا دل یو اسمبلی کی 100-100سیٹوںپر انتخاب لڑ سکتی ہے۔باقی سیٹوںکی تقسیم اتحادی پارٹیوں کے بیچ ہو سکتا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ نریندر مودی اور نتیش کمار کے بیچ ہوئی بات چیت میںبھی ایک ساتھ انتخابات کرنے پر چرچا ہوئی۔ بتایا جارہاہے کہ دونوں لیڈروںکا اس پر کافی مثبت اپروچ رہا۔ اگر کسی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہو پایا تو پھر لوک سبھا کی سیٹوںکو ہی صحیح طریقے سے تقسیم میں مغز ماری کرنی پڑ سکتی ہے۔ نریندر مودی اور نتیش کمار کی بات چیت میں یہ حل نکالا گیا کہ اگر سیٹوںکی تقسیم میں پریشانی آئے گی تو کچھ سیٹوںپر دوستانہ مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔لیکن شرط یہ ہوگی کہ دوستانہ مقابلے میں ایک امیدوار راشٹریہ جنتا دل کے بنیادی ووٹ کی برادری کا ہونا چاہئے۔
لوک سبھا کی 5 سے8 ایسی سیٹیں ہیں جن پر این ڈی اے میں دوستانہ لڑائی کے آس پاس بن سکتے ہیں۔ بی جے پی کے پالیسی ساز تو ایسی حالت سے بچنا چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی راستہ نہیں نکلا تو مجبوری میں اس متبادل پر بھی غور ممکن ہے۔ بی جے پی صدر نتیا نند رائے کہتے ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم میں کہیں کوئی دشواری نہیں آئے گی۔ ابھی وقت ہے وقت آنے پر ہم مل جل کر یہ کام آسانی سے کر لیں گے۔بی جے پی کو احساس ہے کہ اس بار بہار کی لڑائی آسان نہیں ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کا ووٹ بینک جمع ہوا ہے۔ کانگریس کا ساتھ مل جانے سے اقلیتی ووٹوں کا بکھرائو بھی کم ہونے کے آثار ہیں۔ جیتن رام مانجھی بھی اب لالو کے ساتھ ہیں۔ ایسے میں اگر این ڈی اے کی طرف سے کچھ بھی غلط قدم اٹھایا گیا تو اس کا پورا فائدہ راشٹریہ جنتاد ل کو مل سکتاہے۔
لالو پرساد اپنی بیماری کو لے کر پوری ہمدردی بٹورنے میں لگے ہیں۔ جنتا دل یو بھی ان زمینی حقائق سے واقف ہیں، اس لئے وہ ہر حال میں چاہتا ہے کہ سیٹوں کی تقسیم کا مسئلہ جلد سے جلد نمٹ جائے۔ نریندر مودی نے سیٹوں کی تقسیم کا مسئلہ تو امیت شاہ کے پالے میں ڈال دیا لیکن نتیش کمار کو اتنی یقین دہانی ضرور کرائی ہے کہ آپ کی پارٹی کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ اپنی پارٹی کو بچائے رکھنے کے لئے بھی جنتاد ل یو کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوک سبھا کی کم سے کم دس سیٹوں پر انتخابات ضرور لڑے۔ اگر مکمل تال میل نہ ہو تو کچھ سیٹوں پر دوستانہ لڑائی کا متبادل جنتا دل یو کو راحت دے سکتاہے۔ اس لئے نریندر مودی سے ملاقات کے بعد جنتا دل یو لیڈروں کو لگ رہاہے کہ اب سب کچھ کنٹرول میں ہے۔ جنتاد ل یو اب اپنی آگے کی پالیسی انہی سارے متبادلوںکو دھیان میں رکھ کر بنا رہا ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی اور این ڈی اے کی دیگر اتحادی پارٹیاں جنتاد ل یو کی ان تیاریوں کو کس نظریئے سے دیکھتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *