مودی جی نے بدل دیا ہے اپنی پارٹی کا کردار 4 برس میں

اندرا گاندھی ایک بااثر وزیر اعظم تھیں۔ انھوںنے کبھی ریاستوں کے انتخاب کو اتنی اہمیت نہیںدی۔ ریاستوںکے پارٹی کے جو دوسرے لیڈر تھے، وہ پرچار کرتے تھے۔ اندرا جی دو یا چار ریلی کرتی تھیں۔ آج صورت حال پلٹ گئی ہے۔ بہت سالوںبعد بی جے پی میںایک نئی روایت بنی ہے کہ پارٹی پیچھے ہے۔ صرف ایک لیڈر کا نام ،ایک لیڈر کی تصویر، ایک لیڈر کا پرچار اور اسی بنیاد پر پارٹی ووٹ مانگ رہی ہے۔ ہریانہ یا دہلی کے لیے بھی وزیر اعظم پورا وقار داؤں پر لگا رہے ہیں۔ یہ ملک کے لیے سمجھداری بھری بات نہیںہے۔ وزیر اعظم کا عہدہ بہت اونچا عہدہ ہوتا ہے اور ہر آدمی وزیر اعظم نہیںبن سکتا ہے۔
بی جے پی کو لیجئے۔ جب کانگریس کے دس سال کے بعد بی جے پی کے پاس جیت کا موقع آیا تو بی جے پی نے اڈوانی جی یا مرلی منوہر جوشی کا نام آگے نہیں کیا ۔ آج چار سال بعد یہ بالکل صاف دکھائی دے رہا ہے کہ نریندر مودی کی بجائے وہ کہیںزیادہ اچھے وزیر اعظم ثابت ہوتے۔ لیکن اپنا لیڈر چننے کا حق ہر پارٹی کو ہے۔ لہٰذا بی جے پی نے مودی کو چنا۔دانشور ارون شوری،رام جیٹھ ملانی ، یشونت سنہااس وقت چاہتے تو بات کرسکتے تھے کہ پارٹی میں یہ غلط ہورہا ہے۔ لیڈر اسے چنئے جو سینئر ہے، جو قابل ہے،تجربہ کار ہے۔ نائب وزیر اعظم ، وزیر داخلہ رہے اڈوانی جی کو نظرانداز کرنے کا کیا جواز ہے؟ راجناتھ سنگھ پارٹی کے صدر تھے۔ فطری بات تھی کہ کابینہ جوائن کرتے، اس لیے صدر کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اب بی جے پی پی کسے پارٹی کا صدر چنتی؟ اڈوانی جی کی تو بات ہی چھوڑیے۔
بی جے پی نے امت شاہ کو کس بنیاد پر، ان کی کس صلاحیت کو دیکھتے ہوئے پارٹی کا صدر چنا؟ کون ہیں امت شاہ؟ احمدآباد میںامت شاہ کے بارے میںآپ ایسی باتیںسنیںگے جوآپ کے کان بھی برداشت نہیںکر پائیںگے۔چار سال میںانھوں نے بی جے پی کے اسٹینڈرڈ کو گرا دیا۔ سیاست کا اسٹینڈرڈ گرادیا، روایتوںکا اسٹینڈرڈ گرا دیا۔ سب کو پتہ ہے کہ وزیر اعظم کے بعد نائب وزیر اعظم کا عہدہ نہیںہے ابھی لیکن ہر معنی میںامت شاہ اتنے ہی پاورفل ہیں۔ کسی کابینہ وزیر کو اتنے اختیارات نہیںہیں جتنے امت شاہ کو ہیں۔ امت شاہ کیا اسٹینڈرڈ سیٹ کررہے ہیں،وہ روز ایک پائیدان نیچے جارہے ہیں۔ ان کا بیان سیاست کو نیچے گھسیٹ رہا ہے۔
مجھے کوئی دلچسپی نہیںہے راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے میں۔ بی جے پی کو کانگریس کا بھوت پکڑے ہوئے ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جو بی جے پی کے خلاف بولے گا،وہ کانگریسی ہے۔ لیکن بی جے پی یہ نہیںسمجھ رہی ہے کہ اس کے خلاف ہندو ہیں، ورنہ 1952 سے ابھی تک بی جے پی کا راج ہوتا۔ 1952 میں آر ایس ایس کے آشیرواد سے جن سنگھ بن گیا تھا۔ اگر جن سنگھ ہندوؤں کی قیادت کر رہا ہوتا تو اسے اقتدار کیوں نہیںملا؟ کیونکہ ہندو کانگریس کو ووٹ دے رہے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ تب کی کانگریس جواہر لعل نہرو کی کانگریس تھی،لال بہادر شاستری ، اندراگاندھی کی کانگریس تھی۔ یہ لیڈر صحیح ہندو سوچ کی اصلی نمائندگی کرتے تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ سوچ کیا تھی؟ سوچ یہ تھی کہ جو آئین میںلکھا گیا ہے،وہی سپریم ہے۔ یہ بات بی جے پی کو اچھی نہیںلگے گی اور لگنا بھی نہیںچاہیے کیونکہ آئین بنانے میںبی جے پی کی کوئی شراکت نہیںہے۔ آپ کو کسی نے پوچھا بھی نہیں۔اس وقت آپ کچھ تھے بھی نہیں۔ آئین جب بن رہا تھا، کچھ لوگ تھے جیسے شیاما پرساد مکھرجی یا آشوتوش مکھرجی جیسے لیڈر۔ بی جے پی کو ان سے کوئی مطلب نہیںہے، صرف نام لینے کے علاوہ۔ بی جے پی ان کے نام کا غلط استعمال کرتی ہے۔ آئین ساز اسمبلی کی بحث کو پڑھئے۔ بی جے پی میںپڑھائی لکھائی کی روایت نہیںہے۔ بی جے پی کا کوئی بھی ایسا شخص مجھے نہیںملا ہے جوبحث کرسکے کہ آئین ساز اسمبلی میںکس نے کیا کہا تھا؟
رام مندر بنانے کے لیے سب سے زیادہ کسی نے محنت کی تو چھ مہینے کی ہماری سرکار نے کی، چندرشیکھر نے کی۔ قریب قریب رام مندر کا مدعا سلجھا بھی دیا تھالیکن بی جے پی کو رام مندر میںکہاںدلچسپی ہے؟ بی جے پی کو مسلمان میںدلچسپی ہے۔ میںارون شوری، رام جیٹھ ملانی، یشونت سنہا سے گزارش کروںگا کہ وہ ملک میںایک چکر لگائیںاور ’پرائشچت سبھا‘ کریںکہ ہم ’پشچاتاپ‘ کرنے آئے ہیں۔’ پشچاتاپ‘ ہے ہم کو کہ ہم نے غلط امیدوار کی حمایت کی۔ آر ایس ایس میںبہت لوگ ہیں جو دکھی ہیں۔
وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سر سنگھ چالک ’وجے دشمی‘ کے دن ناگپور میں ایک ریلی کرتے تھے اور جو بولتے تھے،وہ ہمارا سال بھر کا روڈ میپ ہوتا تھا۔ اب تو بی جے پی روز ہمیںگھسیٹ لیتی ہے۔ روز موہن بھاگوت کو بھی کچھ بولنا پڑتا ہے۔ موہن بھاگوت کو بولنا پڑا کہ ایئر انڈیا ہم لوگ ٹھیک نہیںچلا رہے ہیںلیکن اسے غیر ملکیوںکو مت بیچئے۔ ایوی ایشن منسٹری کو ٹینڈر ڈاکیومنٹ بدلنا پڑا۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ سرکار میںاتنے لوگ بھی نہیںہیںجو سوچیںکہ کوئی ملک اپنا نیشنل کیریر نہیںبیچتا۔ غیر ملکیوںکو تو بیچتا ہی نہیں ہے۔
ہم لوگوںکے پاس منتظمین کا اتنا فقدان ہے کہ ہم لوگ ایک ایئرلائن نہیںچلا پائیںگے ۔ ایئر انڈیا سرکاری ہے۔ سب سے پرانی ہے۔ سب سے زیادہ تجربہ کار پائلٹ اس کے پاس ہیں۔ انجینئر ان کے پاس ہیں۔ انجینئرنگ اسٹاف ان کے پاس ہے۔ فارن ایئرلائنز والے کہتے ہیںکہ ایئر انڈیا میںبہت پوٹینشیل ہے کیونکہ لینڈنگ رائٹ جس کے پاس زیادہ ہو، وہ سونے کی کھدان ہے۔ یہ کون سمجھے گا؟ صبح پانچ بجے لاٹھی لے کر اور پوجا کرنے سے بات سمجھ میںنہیںآئے گی۔ اس کے لیے پڑھنا پڑے گا۔ پڑھائی لکھائی والے کوئی ہیںہی نہیں۔
سول ایوی ایشن منسٹر اشوک گجپتی راجو تھے۔ پڑھے لکھے اچھے آدمی تھے۔ کم بولتے تھے۔ چندر بابو نائیڈو نے سرکار سے اپنی حمایت واپس لی تو انھیںاستعفیٰ دینا پڑا۔ اب سرکار نے سریش پربھو کو ، جو کامرس بیک گراؤنڈ کے ہیں،کو اضافی چارج دے دیا ہے۔ وہ کیا کام کریں گے؟ دن کے 24 گھنٹے ہی ہوتے ہیں،جس میںآٹھ سے دس گھنٹے ہی کام کے ہوتے ہیں۔ ایسے سرکاریں نہیںچلتیں۔ نوکرشاہی کا اس سرکار نے کیا حال کر دیا؟ سات آٹھ بیوروکریٹ ہیں،جن پر مودی جی بھروسہ کررہے ہیں۔ سرکار اور ملک چلانے کا یہ طریقہ نہیںہے۔
اگر مودی جی سوچ رہے ہیں کہ پھر سے اگلے پانچ سال کے لیے چن کر آئیںگے تو بھول جائیے۔ عوام نے اپنا من بنا لیا ہے۔ امت شاہ کے زور زور سے بولنے سے کچھ نہیںہوتا۔ کیا مودی جی ہندوستان کو پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ المیہ دیکھئے،ٹرولر کہتے ہیں کہ پاکستان کیوں نہیں جاتے آپ؟
پاکستان کا اس سے کیا تعلق ہے؟ مجھے پکا یقین ہے کہ اس ملک کے جو لوگ ہیں،جو سوچ ہے، نظریہ ہے، اس میںبی جے پی جیسا آئین چاہتی ہے،بن ہی نہیںسکتا۔ کبھی نہیںبنے گا۔ اگر آج بی جے پی میںاندرونی آزادی ہو تو مودی جی کو ان کے ہی اراکین پارلیمنٹ ووٹ نہیںدیںگے۔ 282 ار اکین پارلیمنٹ میںسے آدھے سے زیادہ مایوس ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو اپنے علاقے میں کچھ کرپاتے ہیں، نہ وزیر اعلیٰ ان کی سنتا ہے۔ زیادہ تر وزیر اعلیٰ بی جے پی کے ہی ہیں۔بندھوا مزدور کی طرح دن کاٹ رہے ہیں۔ تھوڑا بہت فائدہ مل ہی جاتا ہے۔ اپنے علاقے میںکام کر کے حق کے ساتھ ٹکٹ مانگنے والے اراکین پارلیمنٹ اب بہت کم ہی ر ہ گئے ہیں۔ آج ’ٹکٹارتھی‘ لفظ چلتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کے دورر تک ’ٹکٹارتھی‘ لفظ نہیںتھا۔ مودی جی نے اپنی پارٹی کا کردار چار سال میںبدل دیا۔ اس زمانے میں ہمارے جیسے لوگ کہتے تھے کہ اٹل جی تھوڑے لبرل ہیں۔اڈوانی جی تو بہت کڑک ہیں۔،پرو آر ایس ایس ہیں۔ آج مودی جی نے وہ فرق مٹادیا۔ اب تو لگتا ہے کہ اڈوانی جی،اٹل جی اور بالا صاحب دیورس کڑک تھے لیکن شریف لوگ تھے ۔ آج کی بی جے پی شریف لوگوں کی پارٹی نہیںہے۔زنا بالجبر ہوتا ہے، زنا بالجبر کو جسٹیفائی کرنا، یہ نئی روایت شروع ہوئی ہے۔ شرم کیجئے ۔ کسی نے زنا بالجبر کیا تو پولیس ایکشن لے گی۔ مان لیجئے آپ کی پارٹی کا کوئی شخص ہے،چپ رہیے۔ اس نے کیا ہے تو بھگتے گا بھی وہی۔ اب یہ زانیوںکے لیے مورچہ نکالتے ہیں۔
میری یادیں آزاد ہندوستان کی ہیں۔ میںجب 10-12 سال کا ہوا، تب جواہر لعل نہرو بلندی پر تھے۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگادی۔ اس کی حمایت کرنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ لیکن ایمرجنسی ختم کرکے الیکشن کرایا تو ہار گئیں۔ پھر بعد میں وزیر اعظم بن گئیں۔یہی جمہوریت ہے۔ اندرا گاندھی نے پورے ملک میں جا کر معافی مانگی۔ آج تو ہم یہ تصور بھی نہیںکرسکتے ہیں۔ آج امت شاہ کو سنئے۔ کہتے ہیںکہ اگلی بار مودی جی زیادہ اکثریت سے آئیںگے۔ زیادہ اکثریت سے آئیںگے ،وہ بھی اس پرفارمینس کے بعد۔
یہ تو دو ہی حالات میںہوسکتا ہے۔ یا تو تجزیہ کرنے کی طاقت چلی گئی ہے یا پھر ای وی ایم گھوٹالے کا بندوبست پکا کرلیا ہے۔ ان کو پتہ ہے کہ پبلک کچھ بھی سوچے ، الیکشن ہم جیتیں گے۔ زمبابوے میں ایسے ہی ہوتا تھا، موگابے صاحب الیکشن کراتے تھے۔ پبلک نے خلاف ووٹ دیالیکن الیکشن کمیشن انھیںجیتا ہوا اعلان کردیتا تھا۔ فوج ان کے ساتھ تھی ۔ امت شاہ کا ایسا بیان اسی طرح کا لگتا ہے۔ یہ زبان جمہوریت کی زبان نہیںہے۔ یہ ایسا نہیںکہہ رہے ہیں کہ ہم نے اتنا اچھا کام کیا ہے کہ لوگ ہم کو ووٹ دیںگے۔یہ ووٹ کا نام ہی نہیںلیتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیںکہ ہم زیادہ سیٹیںجیتیں گے۔ جیتنے کی بات کرتے ہیں،مقبولیت کی بات ہی نہیںکرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *