اقلیتی اسکیموں کا اصلاحات کے نام پر گلہ گھونٹا گیا

مرکز کی مودی حکومت وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ اقلیتوں کی بہبود کے لئے کئی اسکیمیں چلارہی ہے جن میں سیکھو اور کماؤ، نئی منزل، نئی روشنی، اسکل ڈیولپمنٹ، مولانا آزاد نیشنل اکیڈمی فار اسکلس، اقلیتی طلبا و طالبات کے لئے اسکالرشپ، پڑھوپردیش، نئی اڑان، مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے علاوہ اقلیتی طلبہ و طالبات کو اعلی و پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے آسان شرطوں پر قرض دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
وزارتِ اقلیتی امور کا دعویٰ
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی دعویٰ کرتے ہیں کہ این ڈی اے کی حکومت میں اقلیت کے لئے جتنا کام ہوا ہے اتنا کام اس سے پہلے کسی حکومت میں نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ اقلیتوں کے لئے مختص بجٹ 2012-13میں 3135کروڑروپے تھا جو کہ 2013-14میں بڑھ کر3511کروڑ روپے ہوگیا تھا۔2014-15میں محض3411کروڑروپے رکھا گیا مگر2015-16 میں بڑھاکر 3712کروڑ روپے کردیاگیا۔اسی طرح 2016-17میں 3800کڑوڑروپے مختص کیا گیا اور اب 395 کروڑ کے اضافے کے ساتھ یہ بجٹ 4195.48 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔
وزات اقلیتی امور نئی روشنی نامی اسکیم سے خواتین کو بااختیار بنانے کا پروگرام چلارہی ہے۔ اسی طرح مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو ہنرمند بنانے کے لئے نئی منزل اسکیم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں دنیاوی تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ کی تربیت دے کر روزگار کے قابل بنانا ہے ۔تاکہ وہ سماج میں باعزت زندگی گزار سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ دار بن سکیں۔ اسی طرح وزارت اقلیتی طبقے کے طلباء کے لئے مفت کوچنگ کا بھی اہتمام کرتی ہے جس کے ذریعے طلبہ کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)،اسٹاف سیلیکشن کمیشن(ایس ایس سی) اور ریاستی پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے ابتدائی امتحانات میں حصہ لینے کے لئے مالی مدد بھی فراہم کرتی ہے۔
دستکاروں اور ہنر مندوں کے لئے امکانات کے نئے دروازے کھولنے کے لئے اقلیتی امور کی وزارت ایک مربوط اسکیم ’استاد‘چلارہی ہے جس کا مقصد پشت درپشت چلی آرہی روایتی ہنرمندیوں کو بچانا ہے۔ روایتی فنون اور دستکاری کے حق میں امکانات کے نئے دروازے کھولنے کے لئے یہ اسکیم بہت اہم ہے۔اس کا آغاز قالین اور ساڑیوں کے لئے ہندستان کے مشہور مقام بنارس سے ہواتھا جو وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ انتخاب بھی ہے۔ ان تمام اسکیموں کے ذریعہ وزارت اقلیتی امور اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو بلاامتیاز تعلیم اور روز گار کے حصول کو یقینی بنانے اورانہیں روزگار کے قابل بنانے کے لئے کوشاں ہے۔
دعوے کی حقیقت
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت کی طرف سے جو اسکیمیں چلائی جارہی ہیں، ان میں سے کچھ اسکیموں پر عمل ہوا ہے اور اس سے اقلیتی طبقہ نے استفادہ بھی کیا ہے مگر جس طرح سے دعویٰ کیا جارہا ہے،وہ صحیح نہیں ہے۔بلکہ حکومت نے تو سابقہ حکومت کی کئی اسکیموں میںتبدیلی کرکے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے استفادے کے امکانات کو کم کردیا ہے ۔مثال کے طور پر اقلیتوں کی ترقی کے لئے ایک اسکیم ’ ملٹی سیکٹورل ڈویلپمنٹ پروگرام‘ (ایم ایس ڈی پی) کے نام سے بنائی گئی تھی۔ یہ اسکیم یو پی اے کے دور میں بنائی گئی تھی مگر اس پر عملدرآمد سے پہلے ہی حکومت بدل گئی اور مرکز میں بی جے پی کی سرکار بن گئی۔مودی حکومت نے اس اسکیم کا نام بدل کر ’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘ (پی ایم جیوائی کے) رکھ دیا اور اس کے ضوابط اور کام کے دائروں میں کچھ تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا اور پھر اپنی پیٹھ آپ تھپتھپائی کہ اقلیتوں کی ترقی کے لئے حکومت قدم آگے بڑھا رہی ہے۔اقلیتوں کو لبھانے کے لئے اس کا بجٹ بھی بڑھاکر پیش کیا گیا لیکن چار سال گزرنے کے بعد بھی ان اسکیموں پر عمل نہیں ہوسکا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں اس اسکیم کا گلا گھونٹنے اور اقلیتوں کو لالی پاپ دکھانے کے لئے تھیں۔
اقلیتوں کو اس اسکیم سے کم سے کم فائدہ پہنچانے کے لئے اس میں عجیب و غریب ترمیم کی گئی۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ جن اضلاع میں ترقیاتی کام ہونے ہیں ان کی تعداد بڑھاکر 308 کی جائے گی اور اضلاع کی نشاندہی کے لئے پہلے جوضابطہ تھا کہ جن اضلاع میں اقلیتوں کی آبادی 50 فیصد ہو گی،ان اضلاع میں یہ اسکیم لاگو ہو گی، اس ضابطہ میں تبدیلی کر کے 50 فیصد کی شرط کو گھٹا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب ان اضلاع میں بھی اس اسکیم کی رقم کو لگایا جا سکتا ہے جہاں اقلیتوں کی آبادی کم سے کم 25 فیصد ہوگی اور دوسرے سماج کے طبقوں کی آبادی 75 فیصد ہو جس کا صاف مطلب ہے کہ اب اقلیتوں کے لئے استعمال ہونے والی رقم ان اضلاع میں بھی استعمال ہوگی جہاں اقلیتوں کی آبادی خود اقلیت میں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مسلمانوں کی حصہ داری میں کمی
حکومت نے بڑی چالاکی سے ان اسکیموں میں مسلمانوں کی حصہ داری کم کرنے کے لئے مذکورہ ضابطہ کو لازمی قرارد دیا۔چنانچہ اس فیصلے کے تعلق سے سابق آئی آر ایس افسر اور سچر کمیٹی کے اہم رکن ظفر محمود کا کہنا ہے کہ ’’یہ جو اضلاع بڑھانے کی بات ہے وہ دراصل اس منصوبہ کا اثر کم کرنے کی بات ہے۔ آپ جو ٹوٹل بجٹ مختص کر رہے ہیں اس کو جب زیادہ اضلاع میں خرچ کریں گے تو زیادہ اضلاع ہونے کی وجہ سے کسی بھی ضلع میں خاطر خواہ کام نہیں ہو پائے گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب اقلیتی آبادی والے اضلاع کی بات ہوگی تو اس میں بہت سی دیگر اقلیت والے اضلاع بھی آ جائیں گے جہاں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کی آبادی ہے۔ اسی طرح جب 50 فیصد والی شرط کو کم کرکے 25 فیصد کریں گے تو اس کا بھی یہی اثر ہو گا کہ اس سے غیر مسلم اقلیتوں والی آبادیوں کے اضلاع اس میں زیادہ شامل ہو جائیں گے اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے جو اسکیم تھی اس کا فائدہ مسلمانوں کو کم سے کم ہوگا‘‘۔
انہوں نے اس معاملے پر مزید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’اب جیسے اقلیتوں کو اسکالرشپ دینے کی بات ہے اس میں مسلمانوں کی آبادی کے حساب سے کتنے فیصد کو ملتا ہے؟ ملک میں اقلیتوں کی کل آبادی 19 فیصد ہے اور اس 19 فیصد میں سے 73 فیصد مسلمان ہیں، اس لئے ان اسکیموں میں سے جو کام ہو، اس میں سے 73 فیصد مسلمانوں کے لئے ہونا چاہئے مگر ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے‘‘۔
دراصل سابق حکومت نے جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کو مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لے کر اس کے حل پیش کرنے تھے۔ اس کمیٹی کی سفارشات پر یہ ایم ایس ڈی پی شروع کیا گیا تھا جس میں مسلم اکثریتی والے اضلاع کی نشاندہی کر کے ان میں ترقیاتی کام شروع کئے جانے تھے اور ان ترقیاتی کاموں میں تعلیم پر زیادہ زور دینا تھا۔ اس تعلق سے ظفر محمود کا کہنا ہے کہ ’’ملٹی سیکٹورل ڈولپمنٹ پروگرام جو حکومت کا منصوبہ تھا وہ تو بہت ہی اچھا تھا ۔حالانکہ اس کے عمل درآمد میں کچھ دشواریاں ضرور آئیں اورخامیاں بھی رہیں کیونکہ جو 91 اضلاع ترقیاتی پروگراموں کے لئے منتخب کئے گئے تھے اور اس کو دیکھنے کے لئے پلاننگ کمیشن نے جو اپنے مانیٹرز لگائے تھے جن کا کام سارے کاموں کا جائزہ لینا تھا وہ سب آکر یہی بتا تے تھے کہ کام تو ہوا ہے لیکن ہندوستان میں اضلاع اتنے بڑے ہیں کہ کام ہونے کا پتہ نہیں لگتا۔ ضلعوں میں کام تو ہوا لیکن ضلعوں کے اس حصہ میں کام نہیں ہوا جس میں مسلم اکثریت رہتی تھی۔ اس لئے اس میں تبدیلی کر کے اضلاع کی جگہ وہ بلاک کر دئیے گئے جس میں مسلم اکثریت رہتی تھی ‘‘۔ حکومت کی موجودہ تبدیلی سے تو یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایم ایس ڈی پی کی اصل روح ہی نکال دی گئی ہے اور مسلمانوں کی پسما ندگی دور کرنے کے لئے جو منصوبہ شروع کیا گیا تھا اس کو تحلیل کر کے اس کو پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ بلاک کی جگہ اضلاع ہی ہیں اور ان اضلاع کی نہ صرف تعداد بڑھا دی گئی ہے بلکہ ان کی نشاندہی کی فیصد میں جو تبدیلی کی گئی ہے اس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جو اسکیم صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے تھی اس سے اب سب کا وکاس ہو گا۔‘
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ حکومت کئی اطراف سے گھر گئی ہے ،اس لئے وہ اقلیتوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن یہ بات سراسر غلط ہے کیونکہ حکومت کے کسی بھی عمل سے ایسا ظاہر نہیں ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ ضمنی انتخابات میں مستقل شکست، عصمت دری کے بڑھتے معاملات سے حکومت کی شبیہ کا خراب ہونا اور بین الاقوامی شبیہ کو درست کرنے کی غرض سے حکومت نے اقتدار کے اپنے پانچویں سال میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ خالی گائے کی رکشا کو ترجیح نہیں دیتی بلکہ اس کو اقلیتوں کی بھی بہت فکر ہے۔ ان کا یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ بر سراقتدار جماعت کا اپنا ایک ایجنڈہ ہے اور وہ اس سے سمجھوتہ نہیں کر سکتی اور مسلمانوں کی ترقی اس کے ایجنڈے میں کبھی نہیں تھی اور اب جو بھی کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایک اچھی اسکیم کا اصلاحات کے نام پر گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔
جہاں تک اس کی دیگر اسکیموں کی بات ہے تو مدارس کے تعلق سے جو اسکیمیں بنائی گئی ہیں، عملی طورپر یہ دیکھا جارہا ہے کہ اس کا فائدہ تو مدرسوں کو اب تک معمولی ملا ہے ۔البتہ نئی نئی شرطیں اور قانون بناکر مدارس کے لئے دشواریاں بڑھا دی گئی ہیں۔کبھی قومی ترانہ کے نام پر تو کبھی یوم آزادی کے موقع پر ویڈیو فلم بنانے کی لازمیت کے ذریعہ اور کبھی یو پی کے مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کے تعلق سے۔ ’چوتھی دنیا ‘ اس سلسلہ میں اپنے کئی شماروں میں اس پر روشنی ڈال چکا ہے۔ بات صرف مدارس تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے ایک مذہبی رکن فریضہ حج کے تعلق سے مسلمانوں کو جس طرح سے دھوکہ میں رکھا گیا اور ان سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی اس پر بھی ’چوتھی دنیا ‘ اپنے گزشتہ شمارہ میں تفصیل سے لکھ چکا ہے اور دنیا کو واقف کراچکا ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *