بدعات وخرافات کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت: مولانا سید انظر شاہ قاسمی

anzar-shah
بنگلور: جیسے جیسے قیامت قریب آرہی ہے اسی طرح مسلمان دن بہ دن بدعات و خرافات اور رسم و رواج میں مبتلا ہوتا جارہا ہے۔انسان دنیاداری کے کاموں کے قوانین میں کسی طرح کا ردوبدل و زیادتی نہیں کرتا اور نہ کرنے دیتا ہے، وہیں بات اگر دین کی ہو، شریعت کی ہو تو جھوٹی حکمت اور مصلحت کے نام پر اس میں رد وبدل کرنے کیلئے مسلمان آج سب سے آگے رہتا ہے۔ دین و شریعت اللہ کے احکامات ہیں،جب ہمارے آقا حضرت محمد ؐکو ہی اس میں ردوبدل کرنے کی اجازت نہیں تو ہم کون ہوتے ہیں؟ ان خیالات کا اظہار مسجد فیض، فیاض آباد، بنگلور میں مولانا محمد رضوان حسامی کے اعزاز میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل بدعت اتنی عام ہوچکی ہے کہ مسلم معاشرہ تو دور کی بات مسلمانوں کی عبادت گاہیں مساجد بھی اس سے محفوظ نہیں۔مولانا نے کہا کہ وقتی طور پر مصلحتاً کسی چیز کو کسی نے شروع کیا آج مسلمان اسی کو دین سمجھ رہا ہے،لیکن یہ دین و شریعت نہیں یہ وقتی طور پر مسلمانوں کو سکھانے کیلئے شروع کیا گیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیں  رمضان المباک نیکیوں کا موسم بہار

 

مولانا نے کہا کہ اگر کوئی امام یا خطیب بدعات وخرافات اور رسم و رواج کے بارے میں بتائے تو لوگ انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اگر قرآن و حدیث کا حوالہ بھی دے تو بھی اسے قبول نہیں کرتے اور ایک باوقار عالم دین پر ایک جاہل اپنا راج چلاتا ہے۔جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔مولانا شاہ قاسمی نے کہا کہ اس پرفتن دور میں ایک سنت کو زندہ کرنا سو شہیدوں کا ثواب ہے۔مولانا نے اپنے بارے میں بتایا کہ جب انہوں نے بدعات و خرافات رسم و رواج کے خلاف آواز اٹھائی تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شاہ ملت نے مولانا محمد رضوان حسامی کو مبارکبادی دی کہ انہوں نے چند مہینوں کے اندر اپنی مسجد سے کئی بدعات و خرافات اور رسم و رواج کو ختم کرکے سنت نبوی کو زندہ کیا اور اسکے ردعمل میں جو بھی مشکلات آئیں ان سب کا مقابلہ کیا۔ مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے کہا کہ بدعات و خرافات اور رسم و رواج کو ختم کرکے سنتوں کو زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قابل ذکر ہیکہ شاہ ملت نے بذات خود مولانا رضوان کی شال پوشی کرتے ہوئے،اپنے صرف خاص سے کچھ رقم بطور ہدیہ دیکر انکا اعزاز کیا اور شاہ ملت کی دعا سے اجلاس کا اختتام ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *