اے ایم یو کے شعبۂ سنّی دینیات میں مقالہ خوانی پروگرام کا اختتام

Prof-Tauqeer-Alam
ٍ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ سُنّی دینیات میں ریسرچ ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ پندرہ روزہ مقالہ خوانی پروگرام کی اختتامی تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف تھیولوجی وچیئرمین شعبہ دینیات پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے کہاکہ مقالہ خواں کو مقالہ پیش کرتے وقت اس بات کا مکمل احساس ہونا چاہئے کہ ہم جو پڑھ رہے ہیں اس میں مکمل مہارت رکھتے ہیں، اگر یہ احساس مقالہ خواں کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ ذہنی طور پر خود کو اس قابل بنا لیتا ہے کہ زیادہ عمدہ طریقے پر مقالہ پیش کر سکے۔ پروفیسر فلاحی نے تمام اسکالروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ شعبہ دینیات (سنی) اس معاملہ میں منفرد ہے کہ یہاں پر ہرپندرہ دن میں مقالہ خوانی کا یہ پروگرام پابندی کے ساتھ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اسکالرس اپنے اندر مقالہ نگاری اور مقالہ خوانی دونو ں ہی میدان میں مہارت پیدا کرتے ہیں۔
پروگرام میں شریک شعبہ سنی دینیات کے استاذ ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام میں شرکت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس بات پر مکمل قادر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مافی الضمیر کو صحیح طریقے سے ادا کر سکے۔ نیز اپنے گھر میں پیدا کی ہوئی یہ مشق دوسری جگہوں پر جانے کے بعد بہت اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔ پروگرام میں پہلا مقالہ شعبہ سنی دینیات کے اسکالر محمد اشتیاق نے’’ طلاق اور حلالہ کی شرعی حیثیت ‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں مرد و عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے، مرد کو طلاق کا حق دو طریقے سے ہے جبکہ عورت کو کئی طریقے سے طلاق لینے کے طریقے موجود ہیں۔
دوسرا مقالہ شعبہ کی ہی ریسرچ اسکالر رضوانہ شفیع نے پیش کیا جن کا عنوان تھا ’’ قرآن مجید میں حقوق انسانی سے متعلق عالمگیر ہدایات‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم قیامت تک کے لئے انسانیت کے واسطے ایک عالمگیر ہدایت نامہ ہے ۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض ریسرچ ایسو سی ایشن کے کنوینر محمد شاداب خان نے انجام دئیے۔ محمد حماد کی تلاو ت کے ذریعہ پروگرام کا آغاز ہو ا اور گلناز فاطمہ نے نعت نبی پیش کی ۔شعبہ کے تمام اسکالر نے شرکت کر کے اس اختتامی پروگرام کو کامیاب بنایا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *