کیرل میں پھیل رہاہے’نپاہ وائرس‘،6افرادہلاک، جانئے کیاہے’Nipah Virus‘

nipah-virus
کیرل کے کوجھیکوڈ میں خطرناک نپاہ وائرس(Nipah Virus) پھیل رہاہے۔اس کی زدمیں آنے سے اب تک 6لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ 25لوگوں کے خون میں نپاہ وائرس ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ان سبھی کونگرانی میں رکھاگیاہے۔یعنی ہندوستان میں کیرل کے کوجھیکوڈ ضلع میں ’نپاہ وائرس‘ نے دہشت مچادیاہے۔
کوجھیکوڈ ضلع کے کلکٹرنے نپاہ وائرس سے 6لوگوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔کیرل سرکار نے اس وائرس سے نمٹنے کیلئے مددمانگی ہے۔اس پرمرکزی وزیرصحت جے پی نڈا نے این سی ڈی سی کی ٹیم کوکیرل کا دورہ کرنے کاحکم دیاہے۔
بتایاجارہاہے کہ نیشنل سینٹرفارڈیسیزکنٹرول (این سی ڈی سی) کی ٹیم کیرل میں نپاہ وائرس متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن(آئی ایم اے) کی کمیٹی وائرس کی جانکاری جمع کررہی ہے۔ادھر،پونے وائرولوجی انسٹی ٹیوٹ نے خون کے تین نمونے لئے،جس میں نپاہ وائرہونے کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔
کیاہے نپاہ وائرس؟
ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیوایچ او) کے مطابق، نپاہ وائرس (این آئی وی)ایک ایساوائرس ہے جوجانوروں سے انسانوں میں پھیل سکتاہے۔ یہ جانوروں اورانسانوں دونوں میں سنگین بیماریوں کی وجہ بن سکتاہے۔ اس وائرس کے اہم ذریعہ Fruit Batیعنی کہ ویسے چمگادڑ ہیں جوپھل کھاتے ہیں۔ ایسے چمگادڑوں کوفلائنگ فوکس(Flying Fox)کے نام سے بھی جاناجاتاہے۔
کہاں سے آیانپاہ وائرس؟
اس وائرس کی سب سے پہلے پہچان 1998میں ملیشیا کے کمپونگ سنگئی(Kampung Sungai)نے نپاہ علاقے میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہاں دماغی بخارکاانفکشن تھا۔ یہ بیماری چمگادڑوں سے انسانوں اورجانوروں تک پھیل گئی ۔اس بیماری کی زدمیں آنے والے زیادہ ترلوگ خنزیرپالن سینٹرمیں کام کرتے تھے۔یہ وائرس ایسے پھلوں سے انسانوں تک پہنچ سکتاہے جوچمگادڑوں کے رابطے میں آئے ہوں۔یہ انفیکشن انسان سے تندرست انسان تک بڑی آسانی سے پھیل سکتاہے۔
ورلڈہیلتھ آرگنازیشن(ڈبلیوایچ او) کے مطابق، نپاہ وائرس چمگادرسے پھلوں میں اورپھلوں سے انسانوں اورجانوروں میں پھیلتاہے۔1998میں پہلی بار ملیشیا کے کانپونگ سونگئی نپاہ میں اس کے معاملے سامنے آئے تھے۔اس جگہ کے باعث ہی اس نپاہ وائرس کا نام دیاگیا۔ پہلے اس کا سوروں (خنزیر) میں دیکھاگیاتھا۔اس کے بعد 2001میں بنگلہ دیش میں بھی اس وائرس کے معاملے سامنے آئے ۔اس وقت وہاں کے کچھ لوگوں نے چمگادڑوں کے رابطے والے کھجورکھالئے تھے اورپھریہ وائرس پھیل گیا۔
نپاہ وائرس کے علامات کیاہیں؟
نپاہ وائرس کے علامات دماغی بخارکی طرح ہی ہیں ۔بیماری کی شروعات سانس لینے میں دقت، بہت زیادہ سردرد اورپھربخارسے ہوتی ہے۔اس کے بعد دماغی بخارآتاہے۔
کیسے پھیلتاہے نپاہ وائرس؟
متاثرہ چمگادڑوں ، وائرس متاثرخنزیروں یامتاثرآدمی کے قریب آنے سے نپاہ وائرس پھیلتاہے۔
نپاہ وائرس کا علاج کیاہے؟
اب تک نپاہ وائرس کاکوئی ویکشین نہیں بن پایاہے۔اس وائرس کاصرف ایک علاج یہی ہے کہ متاثرہ آدمی کوڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں رکھاجاتاہے۔
احتیاط کریں:
چمگادڑوں کی لار یاپیشاب کے قریب نہ آئیں۔ خاص کرپیڑسے گرے پھلوں کوکھانے سے بچیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ سووروں اورانسانوں کے قریب نہ آئیں۔ جن علاقوں میں نپاہ وائرس پھیل گیاہے وہاں جانے سے بچیں ۔
بہرحال ہندوستان میں یہ کیرل میں پہلی بارسامنے آیاہے۔ اس وائرس سے متاثرلوگوں کوسانس لینے میں دقت ہوتی ہے ،پھردماغ میں جلن محسوس ہوتی ہے۔وقت پرعلاج نہیں ملنے پرموت ہوجاتی ہے۔اس وائرس سے بچنے کیلئے پھلوں ،خاص کرکھجور،پیڑسے گرے پھلوں کونہیں کھاناچاہئے۔ بیمارسوور(خنزیر)اوردوسرے جانوروں سے دوری بنائے رکھناچاہئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *