جامعہ امام محمد انور شاہ میں ختم بخاری شریف تقریب

KHATME-BHUKHARI-SHAREEF
حسب روایت شب برأ ت کے موقع پرجامعہ امام محمد انور شاہ میں ختم بخاری شریف کے عنوان پر اجلاس عام کا انعقادکیاگیا، جس میں شہر کے علاوہ آس پاس کے علاقوں کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ادارہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کلمتان حبیبتان الخ پر مفصل، مدلل اور مکمل کلام کیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت احادیث کے لاتعداد ذخیرے دنیا میں موجود ہیں مگر امام بخاری کی یہ عظیم اور شاہکار کتاب جامعیت و انفرادیت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی پوری ترتیب ان کے محدّثانہ، متکلمانہ، داعیانہ اور فقیہانہ صفات و مزاج کا آئینہ دار ہے۔ امام بخاریؒ کی خصوصیت یہ ہے کہ اپنے قارئین کو قدم قدم پر ایک تعلیم دیتے نظر آتے ہیں اور انہوں نے پوری سیرت اور اسلامی معاشرت کو بھرپور پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ پہلی ہی حدیث : انما الاعمال بالنیات الخ لا کر اخلاصِ نیت کی اہمیت پر بھرپور روشنی ڈال دی کہ جس عمل میں اخلاص نہیں ہوتا اللہ کے ہاں کوڑی برابر بھی اس کا بھاؤ نہیں، چھوٹے سے چھوٹا عمل اخلاص سے بڑا اور بڑے سے بڑا عمل ریاکاری سے کالعدم بلکہ وبالِ جان ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس لئے امام بخاریؒ نے پہلی ہی حدیث سے اپنے مستفیدین کو اشارہ کردیا کہ ارشاداتِ پیغمبر ؐآپ میں اسلامی انقلاب اسی وقت پیدا کریں گے جب آپ اخلاص نیت کو اپنا حرزِ جاں بنائیں۔ انہوں نے امام بخاری اور ان کی کتاب کے حصے میںیہ مقبولیت کسبی نہیں، وہبی ہے۔ انہوں نے اپنے اخلاص اور حسنِ نیت سے ان مقامات بلند تک رسائی حاصل کی۔ لہٰذا آج ہمارے فضلائے مدارس پر ان کا علمی تعاقب بے حد ناگزیرہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ارتداد کا شیوع پہلے محض مباحثے سے ہوتا تھا، مگر اب جدید دور میں فکری ارتداد کے فروغ کے لئے صرف کلامی تبادلہ ہی نہیں، بلکہ کشت و خوں بھی اس کا ایک اہم ہتھیار قرار پایا ہے۔ اسی کا اثر ہے کہ پوری دنیانامعقول جنگ میں دھکیل دی گئی۔ یہاں قتل، وہاں قتل،یہاں حملہ، وہاں دھماکہ۔ پوری کائنات میدانِ کارزار میں تبدیل ہوگئی۔ برما کا سانحہ کون بھول سکتا ہے؟ وہاں روہنگیائی مسلمانوں کو جس طرح ذبح کیا گیا اور ان کے خون سے ہولی کھیلی گئی، ان کے تصور سے آج بھی کلیجہ خون ہوجاتاہے۔ برمی مسلمانوں کو ترکِ وطن پر مجبور ہونا پڑا، مگر کس مپرسی نے انہیں دیارِ غیر میں بھی چین سے رہنے نہ دیا۔ آج بھی ان کی حالت زار ہمیں خون کے آنسو رلاتی ہے۔ فلسطین ہمیشہ کی طرح سال بھر خونِ مسلماں سے لالہ زار رہا، کشتوں کے پشتے لگتے رہے۔بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطین کی آزادی کے لئے فلسطینی مجاہدین کی قربانیاںآج بھی جاری ہیں۔ ہم انہیں فراموش نہیں کرسکتے۔ وہ پیغمبر علیہ السلام کے ارشاد گرامی: الجہاد ماضٍ الٰی یوم القیامۃ کی عملی تفسیر ہیں، ان پر ہمیں فخر ہے۔ ادھر شام میں جاری بربریت نے عالم اسلام کا سکون غارت کردیا۔ الغوطہ میں مسلمانوں پر وہ حملے اور دھماکے ہوئے کہ الامان والحفیظ۔ مردوں ہی کیا، خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ چن چن کر انہیں شہید کیا گیا۔ صرف ایک سال میں پانچ لاکھ شامی مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس وقت شام ساری باطل قوتوں کی آماجگاہ ہے۔ امریکہ،فرانس، روس، ایران اور دوسرے ممالک اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں اور عالم اسلام بے بسی کی تصویر بنا یہ خونیں نظارے دیکھ رہا ہے۔ افغانستان کے قندوز میں ایک مدرسے پر ڈرون سے حملہ کردیا گیا، جس میں سینکڑوں حفاظ شہید ہوگئے، یہاں دستار بندی کی تقریب جاری تھی کہ اچانک ان حفاظ تک فرشتۂ اجل آ پہنچا، غضب بالائے غضب یہ کہ اقوامِ متحدہ کے لب تک نہ ہلے۔ انہوں نے خودہمارا ہندوستان آئے دن درندگی کی نئی تاریخیں رقم کر رہا ہے۔ قتل و غارت، عقوبت خانے اور رکیک و بدترین الزامات مسلمانوں پر لگ رہے ہیں۔ سفر تک محفوظ نہیں۔ جان اور مال ہر وقت خطرے میں، خواتین ہی کیا، بچیوں کی عصمتیں تک بلوائیوں کے نشانے پر ہیں۔ انار کی ایسی کہ عدالتی نظام بھی مشکوک بنا دیا گیا۔ بے گناہ پکڑے جارہے ہیں اور گناہ گار بری ہورہے ہیں۔

 

مشہور قلم کار مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ یہ رات دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے، بندگانِ خدا کو اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے اور اس کی رحمتوں کو طلب کرنا چاہے کہ یہ رات گناہوں کی مغفرت کے ساتھ رحمتوں کی رات بھی ہے۔اس موقع پر فضیل احمدناصری نے بیس جوڑوں کے نکاح پڑھائے۔ درسِ بخاری سے قبل اساتذۂ جامعہ نے حالاتِ حاضرہ پر بیش قیمت تقریریں بھی کیں۔ مولانا احمد خضر شاہ مسعودی کی پرسوز دعاء پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ اجلاس کی نظامت مولانا ناصری نے انجام دی۔ اس موقع پر دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی، مولانا نثار خالد، مولانا ابوطلحہ اعظمی، مولانا صغیر احمد، مفتی محمد نوید، مولانا سعدان، ماسٹر زعیم عابد، قاری بلال سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کے شرکت کی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *