کرناٹک الیکشن مودی، راہل، عوام سب کے لیے پیغام ہے

وقت،اخلاقیات، ضابطے -قانون کیسے بدلتے ہیں، اس کا ثبوت اور اس کی نفسیات آج ہمارے سامنے ہے۔ آزادی کے بعد ملک کے جتنے لیڈر ہوئے، ٰخواہ وہ کسی بھی پار ٹی سے رہے ہوں، وہ مانتے تھے کہ سیاست اور راج، لوک لاج سے چلتا ہے۔ لوک لاج ایک درست لفظ تھا۔ آئین کی تشریح الگ الگ ڈھنگ سے ہوجاتی تھی لیکن آئین کی روح کا قتل نہیںہوتا تھا۔ آئین کا مطلب ملک کی آتما، اسمتااور فخر سے تھا۔
لیکن وقت گزرااور 2014آیا۔ 2014 سے پہلے کسی بھی نظریہ والی کسی بھی پارٹی کے لوگ جو آئینی عہدوں پر جیسے گورنر یا صدر جمہوریہ رہے ہوں، ان کے سامنے ہمیشہ ایک سوال رہا کہ اگر وہ کوئی ایسا فیصلہ کریںگے جو پہلی نظر میںہی جانب دار نظر آئے گا تو کہیں تاریخ ان کے نام کو بدنام نہ کر دے اور ان پر جانب داری کا الزام نہ تھوپ دے۔ یہی وہ احساس تھاجسے لوک لاج کہتے ہیں۔ وہ اس سے بھی ڈرتے تھے کہ ان کا نام تاریخ میں ایسے گورنر، صدر جمہوریہ،وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کے طور پر نہ درج ہو، جس سے مستقبل کی نسلیں ان کے نام کو ناپسندیدہ، جانبداراور ملک کی روایتوںکو توڑنے والے کے طور پر دیکھے۔ اس لیے بہت ساری مثالیں ایسی ہیں، جب گورنر نے کوئی فیصلہ لیا لیکن صدر نے سچائی جاننے کے بعد اس فیصلے کو بدلوایا۔
2014 سے پہلے بھی جانبداری اور قانون توڑنے کی کئی مثالیں ہیں اور جنھوں نے یہ سب کیا، ان کا نام کبھی بھی عزت سے نہیںلیا جاتا۔ اس میں ایک نام رام لال کا ہے جو آندھرا پردیش کے گورنر تھے۔ لیکن اب 2014 کے بعد ان قدروں کو گزرے زمانے کی اقدار کے روپ میںبدل دیا گیا ہے۔ اب جو گورنر ہیںیا آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ ہیں، وہ لوک لاج میںیقین نہیںرکھتے، وہ روایتوںپر یقین نہیںکرتے،وہ تو صرف ان دلیلوں میںیقین رکھتے ہیں جو ان کے نظریہ والے لوگوںکو اقتدار میںبنائے رکھنے کے لیے گڑھی جاتی ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر بحث ہو رہی ہے۔ چینلوں کے اینکر اس طرح سے سوا ل کرتے ہیں گویا وہ ایک برسراقتدار پارٹی کے وکیل ہوں ۔ ظاہر ہے وکیل بغیر فیس کے کوئی بحث نہیںکرتا۔ ایک دلیل میری سمجھ میںنہیںآتی کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے گوا اور منی پور میں غلط کیا تو کیا آپ یہ چاہتے ہیں اور یہ مانگ کر رہے ہیں کہ کرناٹک میںبھی وہ غلطی ہو۔
گوا اور منی پور میں گورنروں نے دلیل دی تھی کہ وہاںپر سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کی جگہ سب سے بڑ ے گٹھ بندھن کے لیڈر کو حلف دلایا جائے تاکہ سرکار چل سکے۔ کرناٹک میں گورنر نے کہا کہ سب سے بڑے گٹھ بندھن کو نہیں بلکہ سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو وزیراعلیٰ بنایا جائے اور انھوں نے وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ گورنر،صد ر جمہوریہ اور ملک کے ہر آدمی کو پتہ ہے کہ اس بڑی پارٹی کے پاس (ان سطور کے لکھے جانے تک) قانونی طور پر اکثریت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انھیں وزیر اعلیٰ بناکر اکثریت ثابت کرنے کے لیے پندرہ دن کا موقع دے دیا گیاتاکہ وہ کچھ اراکین اسمبلی کو ایوان میںغیر حاضر رہنے کے لیے مناسکیں یا چاہیں تو ان سے استعفیٰ کراسکیں۔ یہ سب ملک کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے۔ ٹیلی ویژن پر بحث کرنے والے اینکر ، جنھیں صحافت کی اے بی سی ڈی کا بھی علم نہیںہے اور جو روایتوںکا ایک فیصد بھی نہیںجانتے،وہ برسراقتدار پارٹی کے وکیل کے کردار میں بحث کررہے ہیں۔ میںایک ٹیلی ویژن چینل پر بحث میں تھا، جہاںبی جے پی کے دو بڑے لیڈر بحث میںشامل ہوئے۔ شاہنواز حسین سے میرا عام سوال تھا کہ آپ کہہ رہے ہیں، سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو سرکار بنانے کے لیے بلایا جائے اور وہ ایوان میںاپنی اکثریت ثابت کردیںگے۔ کیا آپ اس کی دلیل دے رہے ہیں کہ اقلیت میں سرکار چلے۔ میں نے ان سے دوسرا سوال کیا کہ اگر سرکار ایوان میںہارجاتی ہے تو کیا آپ صدر راج لگانے کا متبادل کھلا رکھتے ہیں؟ کیا آپ نے اپنے اپوزیشن کے جمہوری حقوق کا ، جو ایوان میں ہارے ہوئے وزیر اعلیٰ کی جگہ نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے لیڈر کی تجویز گورنر کو دیں،مخالفت کرتے ہیں؟ شاہنواز حسین صاحب اس سوال پر خاموش رہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پھر مرکزی وزیر وجے گوئل بحث میںآئے۔ ان سے میںنے پوچھا کہ کیا آپ اس بات سے متفق ہیںکہ بغیر اپوزیشن کو توڑے یا خریدے آپ اپنی اکثریت ثابت نہیںکرسکتے ہیں۔ اس سوال پر وہ بھی خاموش رہے ۔ اسمبلی بھنگ ہو،اس مدعے پر بھی انھوںنے کچھ نہیںکہا۔ میںٹیلی ویژن چینلوں کے اینکروں کے علم پر بھی نہیںجاتاکیونکہ وہ جمہوریت کی اس نئی شکل کے اتنے بڑے وکیل ہیں کہ ان کے آگے لیڈر بھی فیل ہیں۔ ان کی ساری دلیلوں اورانداز سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے اگر کوئی بھی دلیل بی جے پی کے اقتدار میں آنے میں رکاوٹ بنتی ہے، تو وہ بکواس ہے۔ شاید اب سیاست سے لوک لاج اور آئین کی روح کے ختم ہونے کا ڈر ختم ہوگیا ہے۔ کسی بھی طرح اقتدار میں رہیں، یہی دلیل اہم ہے۔
ایک بات میری سمجھ میں نہیںآتی کہ پوری مرکزی کابینہ کرناٹک میںلگی رہی۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایااور خود وزیر اعظم صاحب نے کرناٹک میں 21 سبھائیںکیں۔ پھر بھی کرناٹک میں بی جے پی صرف سب سے بڑی پارٹی بن پائی۔ انھیںتو تہائی سیٹیں جیتنی چاہیے تھیں۔ یہ تب ہوا جب کانگریس میںتنظیمی کمزوری تھی ۔ راہل گاندھی اور سدا رمیا کرناٹک کے لوگوں کے من میں اپنا اعتماد نہیں جگا پائے۔ سدا رمیا خود اپنی اسمبلی سیٹ ہار گئے۔ اسے بی جے پی کے لیڈر اپنی جیت کیسے بتاتے ہیں؟
یہ سوال میںاس لیے کر رہا ہوں کیونکہ مجھے مہا بھارت کی ایک کہانی یاد آتی ہے۔ارجن اور کرن کے بیچ جنگ ہورہی تھی۔ ارجن جب تیر مارتے تھے تو کرن کا رتھ سیکڑوں میل پیچھے چلا جاتاتھااور جب کرن تیر مارتے تو ارجن کا رتھ صرف پانچ یا چھ فٹ پیچھے جاتا۔ ارجن یہ دیکھ کر مسکرائے اور کرشن کی طرف فخریہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ آپ نے دیکھا، کرن کی میںنے کیا حالت کر دی ہے۔ کرشن نے دو بار سنااور تیسری بار میں جواب دیا۔ ارجن تمہیںمعلوم ہے کہ تمہارے رتھ پر ہنومان بیٹھے ہوئے ہیں اور تینوں لوکوں کا بھار لیے ہوئے ہیں۔ میں تمہارے رتھ کا سنچالن کر رہاہوں۔ اس کے باوجود تمہارا رتھ اتنا پیچھے چلا جارہا ہے۔ اگر ہم دونوں نہ ہوں، پھر تمہارا رتھ برہمانڈ کے کس کونے میں جاکر رکے گا، اس کا تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے ۔
یہی حال کرناٹک کا ہے۔ کمزور اور بے سمت کانگریس کرناٹک میںبی جے پی کے سامنے کوئی چیلنج نہیںرکھ پائی۔ اندرونی طور پر جنتا دل (ایس) کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت بی جے پی کو ایک بڑا سہارا ملا۔ اگر جانکاروںکی بات صحیح ہے تو جنتا دل (ایس) یا کانگریس سے بی جے پی نے بہت ہوشیاری کے ساتھ اپنے لوگوںکو الیکشن لڑوا دیا، یہ مان کر کہ جب ضرورت ہوگی تو یہ اراکین اسمبلی ان کی حمایت کریںگے۔ ایسی صورت حال میں104 سیٹیں ملیں اور بی جے پی اس سے خوش ہے تو پھر کیا کہنا ہے۔
یہ الیکشن بتاتا ہے کہ مودی سرکار اگر اپنے وعدے پورے نہیںکرتی ہے تو پھر 2019 شاید اس کے لے مشکل امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔ راہل گاندھی کے لیے واضح اشارہ ہے کہ وہ اپنی باڈی لینگویج ، اپنی سوچ، اپنی دلیل اور اپنی زبان اسٹائل سدھاریں۔ دوسری طرف ملک کے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ لوجیکل ڈائیلاگ کرنا اور سیٹ شیئرنگ میںایمانداری برتنا ان کے لیے ضروری شرط ہے۔ اگر راہل گاندھی یہ دونوں چیزیں نہیں کرتے ہیں تو انھیں 2019 بھول جانا چاہیے اور اپنی اسی لائن پر چلنا چاہیے، جس میں انھوں نے کئی دوستوں سے کہا ہے کہ ہم 2024کی تیاری کریں نہ کہ 2019کی۔
کرناٹک الیکشن سب کے لیے پیغام ہے۔ ملک کے عوام کے لیے سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ اب انھیں سیاسی پارٹیوں سے لوک لاج اور اخلاقیات کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ جو بھی سیاسی پارٹیاں آئیں گی، وہ ان سب باتوں کی پرواہ کیے بغیر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کریں گی اور اس کی بنیاد کامیابی کے ساتھ رکھ دی گئی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *