جموں و کشمیر : ماہ رمضان میں فوجی آپریشن بند

army-jammu-kashmir
رمضان کے مہینے میں فوج جموں وکشمیرمیں سیکوریٹی اہلکاروں کی جانب سے کوئی آپریشن نہیں چلایاجائے گا۔لیکن سیکوریٹی اہلکاروں پراس دوران کوئی حملہ ہوتاہے کہ وہ جوابی کارروائی کیلئے آزادہے۔یعنی دہشت گردوں پرجوابی حملہ کرسکتاہے۔اس بارے میں یہ جانکاری وزارت داخلہ نے ٹویٹرکے ذریعہ دی ہے۔بہرکیف جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی رمضان المبارک کے ماہ میں فوج کی کارروائی کو روکے جانے کی اپیل کو مرکزی حکومت نے تسلیم کرلیا ہے۔ وزارت داخلہ نے سیکورٹی فورسیز سے کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں رمضان کے مہینے میں اپنی کارروائی کو روک دیں۔ تاہم اگر سیکورٹی فورسیز پر حملہ کیا جاتا ہے تو فوج جوابی کارروائی کرنے کا پورا حق رکھتی ہے۔سرکارکوامیدہے کہ رمضان کے پاک دنو ں میں سرکاراورسیکوریٹی اہلکاروں کولوگ تعاون دیں گے۔سرکارکی جانب سے جموں وکشمیرمیں امن وامان قائم رکھنے کیلئے یہ ایک بڑاقدم ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں   کمارسوامی کا بی جے پی پرسنگین الزام

 

خیال رہے کہ محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت سے رمضان المبارک اور امرناتھ یاترا کے پیش نظر دہشت گردوں کے خلاف یک طرفہ سیز فائر کرنے کی اپیل کی تھی۔ وزیر اعلی محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت دہشت گردوں کے خلاف یک طرفہ سیز فائر کا اعلان کرے ، جیسا کہ واجپئی جی نے 2000 میں کیا تھا۔بہرحال یہ الگ بات ہے کہ محبوبہ مفتی کی مانگ پرالگ الگ سیاسی جماعتوں نے مخالفت تھی۔
وزیر اعلی کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے عام لوگوں کو بھی کافی پریشانیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ عید اور امرناتھ یاترا کے پیش نظر ہماری کوشش پرامن حالات بنائے رکھنے کی ہے۔وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ جولوگ اسلام کے نام پربے گناہوں کاخون بہاتے ہیں، انہیں سماج سے الگ کیاجائے۔ بناکسی وجہ ، کسی کا خون بہانہ یا خوف کاماحول پیداکرنا عام طرززندگی کے خلاف ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں  دہلی:مجینٹالائن پرجلد دوڑے گی میٹرو،جانئے کہاں سے کہاں تک
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *