اسلامی دہشت گرد کورس معاملہ:مولانا محمود مدنی کا جے این یوانتظامیہ کو خط

mahmmod-madni
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں 146اسلامی دہشت گردی 145 کے عنوان سے کورس شرو ع کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔مولانا مدنی نے اس سلسلے میں وزارت تعلیم ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایم جے کمار اور چانسلرشری وجے کمار سراسوت کو خط لکھ کر آگا ہ کیا ہے کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا ایک گھناؤنی سازش اور مذہب اسلام کی توہین ہے ، جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا ۔مولانا مدنی نے اسے اسلامو فوبیا کا ملعون پروپیگنڈا بتاتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے اکیڈمک فرقہ پرستی کو فروغ ملے گا۔انھوں نے اپنے خط میں جے این یو انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا تو جمعیۃ علماء ہند عدالتی چارہ جوئی پر مجبور ہوگی ۔یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ سیکولر کردار کی حامل یونیورسٹی اتنا نیچے اتر کر فرقہ پرست عناصر کے مقاصد کی تکمیل کررہی ہے جو ملک کے تانے بانے پر درہم برہم کرنے پر آمادہ ہیں ۔

 

مزید پڑھیں   جے این یومیں ’اسلامک ٹیرزم‘ کی ہوگی پڑھائی

 

مولانا مدنی نے کہا کہ کسی بھی مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنا بنیادی طور سے غلط ہے ۔ یہ انتہائی عصبیت کا مظہر ہے کہ اسلام جیسے پرامن مذہب جس کی نگاہ میں ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، کو دہشت گردی جیسے ناپاک عمل کے ساتھ نتھی کر کے پیش کیا جائے۔مولانا مدنی نے استدلال کیا کہ دہشت گردی کے نام پر پوری دنیا میں جنگ کرنے والی بڑی بڑی طاقتیں بھی اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح اختیا ر کرنے کی ہمت نہیں کرتی ہیں، یہاں تک کہ امریکہ کے سابق صدور جارج ڈبلیو بش اور بارک اوبامہ اور روس کے صدر ولادیمر پوتن نے واضح طور سے اسلامی دہشت گردی جیسی اصطلاح کو غلط قرار دیا اوران کے دلائل تھے کہ یہ طرز کلام دہشت گردوں کے اس پروپیگنڈا کو جائز ٹھہرانے کے مترادف ہے جو اپنے عمل کو مذہبی جنگ بتلارہے ہیں۔

 

مولانا مدنی نے کہا کہ ان عالمی اور تاریخی حقائق کو نظر انداز کرکے اپنے اقدام سے جے این یو انتظامیہ نے دنیا بھر کے ان لاکھوں مسلمانوں کا دل دکھا یا ہے کہ جو پرامن ہیں اور جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ خود بھارت میں ہماری تنظیم جمعےۃ علماء ہند نے دہشت گردی کے خلاف چھ ہزار علماء کرام کے دستخط سے فتوی جاری کیا اور گزشتہ پندرہ سالوں سے ہر محاذ پر مقابلہ کررہی ہے ، ہم نے پورے ملک میں بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کرکے یہ پیغام دیا کہ اسلام، دہشت گردی کو ختم کرنے والا مذہب ہے ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ یونیورسٹی نے نہ صرف مسلمانوں کا بلکہ ملک میں ان تمام امن پسند لوگوں کا دل دکھا یا ہے جو تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں، انھوں نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند نینشنل سیکوریٹی اسٹڈیز سینٹر اور اس سے متعلق کورس شروع کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی حقیقی اور مخلصانہ اقدام میں تعاون دینے کو تیار ہے۔مولانا مدنی نے انتظامیہ سے توقع ظاہر کی کہ وہ دو ہفتے کے اندر مثبت جواب دے گی ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *