جموں و کشمیر میں افسپا پر میگھالیہ اور ارونا چل کی تقلید ضروری

مرکزی سرکار کے ذریعہ میگھالیہ سے آرمڈ فورس اسپیشل پاورایکٹ (افسپا) کو ہٹانے اور ارونا چل پردیش میںآٹھ پولیس اسٹیشنوںتک اسے محدود کرنے کا فیصلہ لیے جانے کے بعد پھر سے بحث شروع ہوگئی ہے کہ آخر کیوں جموں و کشمیر سے افسپا نہیں ہٹایا جاسکتا؟
جموں و کشمیر میں ایکشن پر شور بھاری پڑ رہا ہے۔ 1996 سے جب ایک منتخب سرکار اقتدار میںآئی تھی،تب سے پارٹیوں نے ووٹ محفوظ کرنے کے لیے افسپا کو ایک مدعے کے طور پر استعمال کیاہے۔ مقامی پارٹیوں نے کئی بار اسے ہٹانے کا مدعا اٹھایا لیکن آخر میںوہ بھی اس مدعے پر دہلی کے ویٹو کے آگے جھک جاتی ہیں۔ اس سے پہلے 2015 میںتریپورہ سے افسپا ہٹا دیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر میں 1990کی دہائی سے ایک تاریک صورت حال حاوی ہے، تب سے لگاتار دہلی نے کشمیری نوجوانوں کو تشدد کے راستے پر دھکیل دیا۔ اس قانون نے (افسپا) نفسیاتی اثر ڈالتے ہوئے سب سے زیادہ نقصان کیا ہے۔
کشمیر میںافسپا کا کیا مطلب ہے؟ یہ صرف قانون نہیں ہے جس نے ریاست میںشہری آزادی کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ سیکورٹی کے نام پر مسلح فورسیز کی بھیڑ بھی بڑھائی ہے جو اپنی بے بنیاد پاور کا غلط استعمال کرتی ہے۔ پتھری بل، باندی پور، گادر بل، ہنڈواڑہ اور ماچل میںہوئی مڈبھیڑیں آج بھی لوگوں کے دماغ میںتازہ ہیں۔
کیا ریاستی سرکار افسپا کو ہٹانے کی سمت میںآگے بڑھ سکتی ہے؟ تکنیکی طور پر الگ کردیںتو قانون ہٹانے کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالانکہ ایک بات صاف ہے ۔ ماضی میں جہاںتک طاقت حاصل کرنے کی بات ہوتی ہے، ہندوستانی فوج سیاسی قیادت کے مقابلے میںزیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 21 اکتوبر 2011کو ایک اعلان کیا کہ افسپا جلد ہی ہٹایا جائے گا۔ ممکنہ طور پر انھیںاس دور کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کی حمایت حاصل تھی لیکن ہندوستانی فوج سے ملے چیلنج کے آگے یہ قدم تھم گیا۔ جب تک عمر اقتدار میںرہے،اس مدعے پر آگے پیچھے کرتے رہے۔ نئی سرکار نے بھی اسے ایجنڈا آف ایلائنز کا حصہ بنایالیکن اس میںوضاحت کی کمی تھی۔
ایجنڈا دستاویز میںلکھا ہے کہ حالانکہ دونوںفریق تاریخی اعتبار سے مسلح فورسز استحقاق ایکٹ پر الگ خیال رکھتے ہیں، پھر بھی ایجنڈا آف ایلائنز کے حصے کے طور پر گٹھ بندھن سرکار اس بات کی جانچ کرے گی کہ کون سے علاقے میںکشیدگی ہے تاکہ مرکزی سرکار ان علاقوں میںافسپا جاری رکھے جانے کی ضرورت پر حتمی طور پر غور کرسکے۔یہ واضح ہے کہ اس مدعے پر پارٹیوںنے کوئی یقینی رائے نہیںرکھی ہے۔ سرکار نے جس حالت کی جانچ کی بات کی ہے، اس کے لیے تو پوری مدت کار بھی شاید سرکار کے لیے کم پڑ جائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس سے قبل ، اس سال فروری میں، وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست کو بتایا کہ وادی میںفوج کی تعداد خراب حالات کی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔ انھوںنے پوچھا کہ کیا ایسی حالت میں افسپا رد کی جاسکتی ہے؟ پچھلے تجربوں سے پتہ چلتا ہے کہ ریاستی سرکار شاید ہی کشمیر میں مستحکم ہو، خاص طور سے تب جب ایک قومی پارٹی برسراقتدار گٹھ بندھن میںشامل ہو۔ جموںو کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کبھی بھی اپنے مشن کو پورا نہیںکیا ۔کمیٹی کی میٹنگوں اور رپورٹ لکھنے میںایک دہائی سے زیادہ وقت گزر گیا لیکن کوئی راستہ نہیںملا۔
جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی مفتی محمد سعید نے غلام نبی آزاد کی سرکار کو گرانے کی دھمکی دی اور افسپا واپس لینے کا مدعا اٹھایا تو حکومت ہند نے اے کے اینٹونی کی نگرانی میںدو کمیٹیوںکا اعلان کیا۔ اعلان یکم اپریل 2007 کو کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس دور کے سکریٹری برائے دفاع شیکھر دت کی صدارت میں ایک کمیٹی کا قیام کیا گیا۔ دت کمیٹی کو کشمیر میںفوج کی تعیناتی کا جائزہ لینے اور اسکولوںسے انڈین آرمڈ فورسز کو ہٹانے پر غور کرنا تھا۔ کمیٹی نے اپنا کام کیالیکن افسپا پر کوئی پیش رفت نہیںہوئی۔
اس کے علاوہ مرکزکے ذریعہ 29 ستمبر 2010 کو دو اعلیٰ سطحی کمیٹیاںتشکیل دی گئی تھیں۔ سیکورٹی پر کیبنٹ کمیٹی نے جموں و کشمیر کے لیے آٹھ نکات والے پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس میںکشیدگی والے علاقوں کا جائزہ، کشمیر اور جموںکے لیے ایک ایک کمیٹی بنائی گئی۔
اس کے فوراً بعد جب عمر نے 21 اکتوبر 2011 کو اعلان کیا کہ افسپا کو جزوی طور پر واپس لیا جائے گا تو ہندوستانی فوج کے اندر اس کی مخالفت ہوئی۔ 2011میںعمر نے کہا تھا کہ ملی ٹینسی کی شروعات کے بعد سے ریاست میں لگائے گئے افسپا کو منسوخ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ہم نے ان مقامات کو پہچان لیا ہے جہاں سے اسے واپس لیا جاسکتا ہے۔ لیکن میںان علاقوںکا نام بتانے کی حالت میںنہیںہوں۔ حالانکہ اسے لاگو نہیںکیا جاسکا۔ 21 اکتوبر 2012 کو انھوںنے اپنے عزم کو دہرایااور کہا کہ یہاںکے حالات کچھ علاقوںسے افسپا ہٹانے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسے کئی علاقے ہیںجہاںفوج کی کوئی ضرورت نہیںہے کیونکہ ملی ٹینسی سب سے کم ہے ۔ اس لیے صورت حال افسپا کو ہٹانے لائق ہے۔ حالانکہ عمر کی مدت کار یہ کام پوراکرائے بغیر ختم ہوگئی۔
اس دور کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ذریعہ بنائے گئے ایک ورکنگ گروپ نے افسپا ہٹانے کو ایک اہم اعتماد بحالی کے اقدام کے طور پر بتایا تھا۔ یہ گروپ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی صدارت میںبنا تھا۔ گروپ نے واضح کیا کہ افسپا کو ہٹانا ضروری تھا کیونکہ یہ لوگوںکے بنیادی حقوق پر اثر ڈالتاتھا۔
اس گروپ کی سفارش تھی کہ ملی ٹینسی کے دوران لاگو کچھ قانون شہریوںکے بنیادی ذحقوق پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ ان کا جائزہ لیا جائے اور اسے منسوخ کیا جانا چاہیے۔ عام قوانین کے ذریعہ لاء اینڈ آرڈر کے معاملوںکو زیادہ سے زیادہ حد تک نمٹایا جانا چاہیے۔ منی پور میںاحتجاجی مظاہروں کے چلتے جسٹس جیون ریڈی کمیشن جیسے سخت قانون کو ختم کرنے کی بھی سفارش کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ہندوستان کی جمہوری قدروںکے مطابق نہیںہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کشمیر میںیہ دیکھا گیا ہے کہ ان قوانین کے تحت ،جسے پہلی بار 6جولائی 1990 کو گورنر کے آرڈیننس کے ذریعہ لاگو کیا گیا تھا اور پھر 10 ستمبر 1990 کو پارلیمنٹ نے توسیع کی تھی، مسلح فورسز نے اپنی پاور کا بیجا استعمال کیا ہے۔ افسپا قانون آرمڈ فورسیز کو جامع طاقت فراہم کرتا ہے،جس سے انھیں اپنی زیادتی کے لیے مدافعت ملتی ہے۔ مثال کے طور پر قانون کی دفعہ 6 میںکہا گیا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت دی گئی پاور کو لاگو کیے جانے کی وجہ سے کسی کے بھی خلاف کوئی مقدمہ یا دیگر قانونی کارروائی شروع نہیںکی جائے گی، مرکزی سرکارکے پچھلے سیکشن کو چھوڑ کر۔
جموںو کشمیرمیںیقینی طور پر تشدد کی وجہ سے لوگوںنے مشکل وقت دیکھا ہے۔ حکومت ہند جسے نارملسی کہتی ہے، اس کی سمت میںہم آگے بڑھے بھی۔ ایک وقت ملی ٹینسی کم ہوئی،جمہوری اداروں کی بحالی اور الیکشن میں لوگوںکی بڑی حصہ داری ہوئی۔
المیہ یہ ہے کہ سیاسی نقطہ نظر بھی تشدد کے لیے راستہ بناتا ہے۔آج ایک سیاسی تحریک کے لیے ایک تشدد آمیز لڑ ائی کو سماجی منظوری مل گئی ہے۔ افسپا ختم کرنے کی بات کی مخالفت شاید تشدد اور سیکورٹی کے خطروں کے اعداد و شمار کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ تشدد کے متاثرین کو انصاف دلانا سیاسی استحکام کے ہدف کے حصول کی سمت میںپہلا قدم ہے۔ اگر اسے لاء اینڈ آرڈر کے مسئلے کی شکل میںدیکھا جاتا ہے تو یہ صورت حال کو اور پیچیدہ بنائے گی۔ مسلح فورسیز کی بھاری موجودگی کو کم کیا جانا چاہیے اور سرکار کو ان قوانین کو لے کر وضاحت کرنی چاہیے، جو لوگوں کی شہری آزادی کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جموںو کشمیر میںبھی میگھالیہ اور اروناچل پردیش کی تقلید کرنی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *