موسم کے لحاظ سے روزہ داروں کیلئے ضروری غذائیں

fasting-fruit

مضمون نگار:ڈاکٹر سیّد احمد خاں

روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن القیم الجوزیہ فرماتے ہیں کہ ’’روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے، فاسد مادہ کے جمع ہوجانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں، اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے، جو چیزیں مانع صحت ہیں، اُن کو خارج کردیتا ہے اور اعضا و جوارح میں جو خرابیاں ظاہر ہوتی رہتی ہیں، وہ اس سے دفع ہوتی ہیں، وہ صحت کے لیے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممد و معاون ہے۔‘‘
علامہ نے مذکورہ چند الفاظ میں بڑی حکیمانہ باتیں کہی ہیں، اس میں طبی اور روحانی دونوں جز روزہ کے مقاصد پر حقیقی روشنی ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے کہ روزہ کا اثر نفس پر براہ راست پڑتا ہے۔ شدت کی گرمی میں مزید اضافہ کا سبب بنتا ہے، تکلیف کم ہو اس کے لیے چند تدابیریں اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
عام طور سے اپریل تا جون یعنی مانسون کی بارش سے پہلے موسم کا مزاج گرم خشک ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ غذائیں استعمال کرنی چاہیے جو سرد تر ہوں مثلاً جو کے ستو، ناریل کا پانی، شہد کا شربت، پھلوں کا رس، لیموں کی شکنجی، کچے آم کو اُبال کر حسب ضرورت گڑ یا شکر کا مشروب، تخم بالنگا (تُت ملنگا) کا شیک، لیچی اور کیلے کا شیک، کاجو یا بادام کا شیک اور لسّی کے علاوہ پھلوں کے چاٹ، آلو بخارا، انناس، مسمی، مالٹا سنگترہ، جامن، سیب، انار، انناس، چیری، فالسہ اور کھجور وغیرہ کا استعمال کثرت سے کیا جاسکتا ہے یہ قدرتی مشروب ہیں۔ ان میں وٹامن B کمپلیکس اور وٹامن C بھرپور مقدار میں پائی جاتی ہے نیز ہاضمہ کی قوت اور بھرپور توانائی بھی حاصل ہوگی۔
گرمی اور دھوپ کے اثرات سے حفاظت کے لیے لباس کا (انتخاب) تعین بھی ضروری ہے۔ ٹی شرٹ، کالے اور گاڑھے رنگ والے کپڑوں سے بچا جائے جبکہ سفید اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑوں کا استعمال کیا جائے۔
افطار کے بعد غذا کا استعمال کم مقدار میں کیا جائے اور کھانے کی خواہش باقی رہنے دی جائے۔ تراویح سے پہلے اور بعد بھی مشروبات کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ سحری میں پیشاب آور اشیا یعنی Diuretics دوائیں اور کافی یا چائے وغیرہ کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ زیادہ پیشاب آنے کی صورت میں پیاس کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ زیادہ مشقت اور پسینہ لانے والے کاموں سے بھی احتیاط کیا جائے تاکہ زیادہ پیشاب بدن سے خارج نہ ہونے پائے۔
بہرحال روزہ داروں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی صحت بہتر رہے تب ہی وہ روزہ رکھنے کے فرض کو بہ آسانی اور بہ حسن و خوبی ادا کرسکیں گے۔ ہر انسان کا الگ الگ مزاج ہے اور اسی کے مطابق اُس کی ضرورتیں بھی ہیں۔ ہم نے جنرل نالج کے طور پر بہتر صحت برقرار رکھنے کے لیے چند مشورے دیے ہیں مگر آپ اپنے قریبی سندیافتہ معالج سے مشورہ کرکے غذاؤں کا تعین کریں۔ ساتھ ہی کھانے پینے میں جو چیز بھی نقصان کا سبب بنے اس سے خود بخود دور رہیں، اس سے نہ صرف آپ کی صحت بہتر ہوگی بلکہ روزہ رکھنا بھی آسان ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *