ہاشم پورہ سانحہ: 31برس بعد سب کچھ بدل گیا مگر سچ نہیںبدلا

آج سے 31 برس قبل 22 مئی 1987 کو ریاست اترپردیش کے مراد نگر میں واقع ابوپور بستی میںگنگ نہر کے کنارے ایک ایسا سانحہ ہوا تھا، جس کی نظیر آزادی کے بعد ہندوستانی تاریخ میںملنا مشکل ہے۔ تب عوام کے محافظین ان کے شکاری بن گئے تھے۔ 42 افراد کو میرٹھ کے ہاشم پورہ محلہ سے پی اے سی کے ٹرک میںلاد کر یہاںلایا گیااور پھر ایک ایک کرکے انھیںبندوق کی گولیوں سے بھون کر گنگ نہر کے بہتے ہوئے پانی اور جھاڑیوںمیںپھینکا جانے لگا۔ سب سے پہلے جو شخص شہید ہوئے، وہ معمر محمد یاسین تھے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے سلسلہ چلا۔ مگر کچھ دیر بعد جب اُدھر سے گزرتی ایک گاڑی کی روشنی آتی دکھائی دی تو پی اے سی ٹرک باقی افراد کو لے کر غازی آباد میںہنڈن ندی کے کنارے لے گیا اور پھر انھیں بھی مار گرایا۔
اس طرح پی اے سی کے ذریعہ بربر واقعات کی مثالیں آزادی سے قبل ہی ملتی ہیں۔ 1857 میںغدر کے بعد متعدد مجاہدین آزادی کی ہلاکتیں، 1919 میںجلیانوالہ باغ سانحہ اور 1921 میںموپلا ویگن ٹریجڈی اس طرح کی بربریت کی بدترین مثالیںہیں۔ ہاشم پورہ سانحہ بھی اتنا بربر تھا کہ مراد نگر میں ہنڈن ندی میںکنارے پڑی کچھ لاشوںکو دیکھ کر غالباً 25 مئی 1987 کو معروف سیاست داں و دانشور ڈاکٹر سبرا منین سوامی نے سانحہ کو برجستہ ’اسٹیٹ اسپانسرڈ جینو سائڈ‘ کہہ دیا تھا، جو بعد میںاسی اصطلاح سے جانا جانے لگا۔ اس وقت راقم الحروف نے جب ان ہی کے ساتھ وہاںپہنچے دوسرے مشہور بزرگ سیاست داں محمد یونس سلیم مرحوم سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ ’کیا یہ واقعی اسٹیٹ اسپانسرڈ جینو سائڈ ہے تو انھوںنے چھوٹتے ہی کہا کہ اگر نہیں ہے تو آخر کیا ہے؟
اس زمانے میںاس سانحہ کی چہار سو اندرون و بیرون ملک مذمت کی گئی۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی اس کا سخت نوٹس لیا تھا۔ اس سانحہ کی مذمت کرنے اور جائے وقوع پر جاکر اسے سمجھنے اور ایکسپوز کرنے میںملک کی متعدد اہم شخصیات نے خصوصی دلچسپی لی تھی۔ جن میںچندر شیکھر، اندر کمار گجرال، جسٹس راجندر سچر، پروفیسر اے ایم خسرو، سید شہاب الدین اور محمد یونس سلیم پیش پیش تھے مگر ڈاکٹر سوامی نے اس کاز کو اپنا خاص مشن بنا رکھا اور آج بھی وہ اسے بھولے نہیںہیں۔ کبھی قانونی تو کبھی بیان کے ذریعہ اس گھناؤنی حرکت کے اصل ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کی باتیںکرتے ہیں۔ انھوںنے اس سلسلے میں محمد یونس سلیم اور راقم الحروف کے ساتھ سانحہ کے فوراً بعد جائے وقوع یعنی مراد نگر اور ہاشم پورہ کا دورہ کیا، معاملہ ایمنسٹی انٹر نیشنل تک پہنچایا ،مناسب کارروائی نہ ہونے کی صورت میںبوٹ کلب پر آمرن انشن کیا اور کئی دنوںکے بعد حکومت کی یقین دہانی پر اسے توڑا اور سانحہ کے ایک برس بعد سید شہاب الدین و دیگر شخصیات کے ساتھ مراد نگر سے راج گھاٹ دہلی تک پیدل عوامی مارچ کیا۔ نیز ہنوز اس کے خلاف آواز یںاٹھاتے رہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہاشم پورہ سانحہ سے متعلق مقدمہ پہلے غازی آباد عدالت میںچلا مگر معاملے کی سست رفتاری کے سبب متاثرین کی درخواست پر اسے چند برسوںقبل دہلی کی تیس ہزاری عدالت بھیج دیا گیا جہاں2015میںملزم پی اے سی جوانوں کو ثبوت کی عدم فراہمی کی بناء پر الزام سے بری الذمہ کر دیا گیا۔ تیس ہزاری عدالت کا یہ فیصلہ سانحہ کے متاثرین کے لیے حق و انصاف کا خون تھا۔ اس نے ان کی کمر توڑ دی تھی۔ اس مقدمہ کی دوبارہ سماعت کی شروعات اس سانحہ کے شکار سبھی 42 افراد میںسے زندہ بچے 5-6 افراد میںشامل ذوالفقار ناصر کی عرضی سے ہوئی۔ متاثرین اور بچ جانے والوں کو سابقہ اکھلیش حکومت کے دور میں5-5 لاکھ روپے دوبار میںمعاوضہ کے طور پر دیے گئے۔ اس تعلق سے این ایچ آر سی کی وکیل برندا گروور نے پولیس کی جنرل ڈائری کے بارے میںرٹ دائر کی جبکہ یوپی حکومت نے بھی ہائی کورٹ میںاپیل کر رکھی تھی۔
اس طرح اترپردیش سرکار کے ذریعہ گم ہوئی ڈائری کے کچھ صفحات کو عدالت میں سونپے جانے کے بعد ان ثبوتوںکی بنیا د پر ہاشم پورہ سانحہ کی فائل پھر سے کھل گئی۔ دریںاثناء ہاشم پورہ سانحہ کے گواہ رنبیر سنگھ بشنوئی کے تیس ہزاری عدالت میںایک ڈائری سونپے جانے کے بعد معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ اس ڈائری میںسبھی ملز م پی اے سی کے جوانوںکے نام شامل ہیں۔ عیاں رہے کہ دہلی ہائی کورٹ میںاین ایچ آرسی نے ڈائری میں سے گم شدہ صفحات کو سونپنے کو لے کر عرضی داخل کی تھی۔تب دہلی ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہاشم پورہ کے سانحہ سے جڑی پولیس ڈائری میں 5741 سے لے کر 5746 تک گم ہوئے صفحات کو سونپنے کا حکم دیا تھاجوکہ ٹرائل کورٹ کے ریکارڈ سے غائب تھے۔
بشنوئی نے اب عدالت کے سامنے قبول کیا ہے کہ 22 مئی 1987 کو ساڑھے سات بجے شام پلوکھڑی اور لساڑی گیٹ تھانے میںپولیس فورس بھیجی گئی تھی۔ پلٹن کمانڈر سریندر لال سنگھ پلوکھڑی آؤٹ پوسٹ گئے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کے پاس 17 رائفل ، 850 راؤنڈ، ایک ریوالور اور 30 راؤنڈ گولیاںتھیں۔ موکھم سنگھ ٹرک چلا رہا تھا۔ نو بجے کے آس پاس پی اے سی کی ٹیم پلوکھڑی سے پولیس لائن میرٹھ واپس لوٹ آئی تھی۔ ریکارڈ کے مطابق 22 مئی 1987کو ان پولیس آفیسروں کو کوئی ڈیوٹی نہیںدی گئی تھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس نئی صورت نے مقدمے کی پوری کیفیت بدل کر رکھ دی ہے ۔ ایسی صورت میںہاشم پورہ کے متاثرین 31 برس بعد ٹکٹکی لگائے ہوئے انصاف کے منتظر ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ ان بدنصیبوں کو کیا اور کیسا انصاف ملتا ہے؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *