قاری احمر فائونڈیشن کاکولکاتہ میں تاریخی سمینار

صحافت رائے عامہ کی تشکیل اورقومی شعوراجاگر کرنے کیلئے انتہائی اہم ذریعہ ہے، آزادی اظہاررائے، مثبت اوربامقصد صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی اساس ہوتی ہے۔ آزادی صحافت ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی بھی ہے۔آزادی صحافت پرقفل لگانے کا مطلب انسانی ذہن کی آزاد سوچ کے کھلے دریچوں کو بند کرنا ہے۔ ذمہ دارانہ صحافت ملک کو کرپشن، لاقانونیت اور دہشت گردی سے چھٹکارا دلانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے جبکہ آزاد صحافت کا جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی پاسداری میں اہم کرادار ہے۔مضبوط جمہوری ملک کا حقیقی امتحان آزاد صحافت ہوتا ہے ۔گزشتہ 8دہائیوں میں ہندوستان کی جمہوریت یقینا مضبوط ہوئی ہے مگر حالیہ دنوں میں میڈیا کے رویے میں جو تبدیلی آئی ہے وہ ہندوستان کی جمہوریت کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔کیوں کہ حالیہ دنوں میں میڈیا واچ ڈاگ اور عوام و حکومت کے درمیان رابطہ کار بننے کے بجائے صاحب اقتدار کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آرہا ہے، کارپوریٹ کمپنیوں کی ملکیت والے میڈیا ہائوسیس کی حکومت سے قربت کی وجہ سے ہندوستانی صحافت اپنی آواز کھوتی جارہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کے حوالے سے یہ بحث ان دنوں تیز ہوگئی ہے کہ ’’کیا ہماری میڈیا آبجیکٹیو(معروضیت و غیرجانبداریت) سے محروم ہوتا جارہا ہے؟ ۔گزشتہ ہفتہ کلکتہ کے گیان منچ میں قاری احمر فائونڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ایک سیمینا میں اسی سوال کے جواب کو تلاش نے کی کوشش کی گئی ہے اس سیمینا رکا عنوان تھا ’’میڈیا آبجیکٹیویٹی سے محروم ہورہا ہے‘‘۔۔قاری احمر فائونڈیشن کے ڈائریکٹر زید انوار محمد نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیلئے ہندوستانی میڈیا سے ہی کئی سینئر صحافیوں کو مدعو کیا تھا۔ سینئر صحافیوں نے حقیقت پسندی کے ساتھ میڈیا کے مختلف پہلو ئو ں کواجاگر کرتے ہوئے اس کا اعتراف کیا کہ ہندوستانی صحافت اپنے بدترین دور سے گزررہی ہے ۔
مختلف آراء
سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں پی ایم او کے سابق میڈیا صلاح کار و سینئر صحافی پنکج پچوری نے میڈیا کی معروضیت کے حوالے سے کہا کہ میڈیا پر بازار کا دبائو بہت ہی زیادہ ہے ،اشتہار دینے والی کمپنیاں میڈیا ہائوسیز پر اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے دبائو بناتی ہیں ۔اسی طرح کارپورٹ کمپنیوں کے زیر ملکیت چلنے والے میڈیا ہائوسیز سرکاری میڈیاکی طرح حکومت کی ترجمانی کرتے ہیں کیوں کہ ان کی فائلیں اور کاغذات سرکاری محکموں میں زیر التوا ہوتی ہیں ۔اس لیے اپنے میڈیا ہائوسیز کے ذریعہ حکومت اور صاحب اقتدار کے مفادات کی ترجمانی کرکے اپنی کمپنی کیلئے سرکاری مراعات حاصل کیے جاتے ہیں ۔پنکج پچوری متبادل میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میڈیا کی معروضیت کو برقرا ر رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا فائدہ اٹھایا جائے اور نیوز پورٹل اور یوٹیوب جیسی تکنیک کی مدد سے متبادل میڈیا کو کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔اس کیلئے عوام کو بھی سامنے آنا ہوگا اور ایسے ادارووں کی مدد کرنی ہوگی کیوںکہ آزاد و آبجیکٹیو صحافت ملک ، عوام دونوں کیلئے ناگزیر ہے ۔ملک کی باوقار اور آبجیکٹیو صحافت کی مثال قائم کرنے والی تہلکہ میگزین کی منیجنگ ایڈیٹر رہ چکی شوما چودھری بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ ہندوستانی میڈیا تیزی سے اپنی معتبریت کھوتی جارہی ہے اور عوام کا اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے اور وقت آگیا ہے کہ میڈیا خوداحتسابی کرے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے میڈیا کو خود ہی اقدامات کرنے ہوں گے کیوں کہ عوام کا اعتماد و بھروسہ ہی میڈیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
ہندوستانی میڈیا اور آبجیکٹیویٹی کی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ماہر قانون اور میڈیا کی آزادی کیلئے جدو جہد کرنے والے صحافیوں کو قانونی مدد پہنچانے والے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمود پراچہ صحافیوں میڈیا ہائوسیس میں تمام طبقات کی نمائندگی کو بھی لازمی وضروری قراردیتے ہیں ۔ان کے مطابق اس وقت میڈیا چند فیصد افراد کے ہاتھوں میں ہے اور یہ وہی طبقہ ہے جس نے ملک کی 80فیصد وسائل پر قابض ہے اور ظالم قوتوں سے انصاف کی امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔انہوں کہا کہ آج اگر عدالتی نظام اور اس کے طریقہ کار پر بحث ہورہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالتی نظام میں ریزرویشن پالیسی نافذ نہیں ہے چناں چہ جمہوریت کے ان دونوں ستون کو مستحکم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں جگہوں پر ریزرویشن پالیسی کو نافذ کیا جائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کولکاتہ کلکتہ شہر اور آبجیکٹو صحافت کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ کلکتہ وہی شہر ہے جہاں سے 1810میں مولوی اکرم علی کے ذریعہ نکالے پہلے ہندوستانی اردو اخبار سے ہندوستانی صحافت کا آغاز ہوا۔پھر 1912میں مولانا آزاد ؒنے یہیں سے الہلال والبلاغ اور مولانا محمد علی جوہر ؒ نے کامریڈ اور ہمدرد کو نکالا اور اسے پروان چڑھایا۔ نیز اسی تاریخی شہر سے راجہ رام موہن رائے نے بنگلہ اور اردو میں 1821اور 1822میں اخبارات نکالے اور پھر یہیں سے آنند بازار پتریکا گروپ سے سنڈے ،رویوار نیز اسی شہر سے ٹیلیگراف نکلا جس نے اپنی مذکور بالا اخبارات ورسائل کے ساتھ دھوم مچادی۔یہ بات بھی سامنے آئی کہ اخبار بڑا ہو یا چھوٹا کولکاتہ کی اس سرزمین سے آبجیکٹیویٹی کو ہمیشہ ہی فروغ ملا ہے تبھی تو بنگلہ کا ہفت روزہ ’میزان‘ اور روزنامہ ’قلم‘بھی بنگلہ مسلمانوں میں ترجمانی کا صحیح حق ادا کررہا ہے۔اس موقع پر خاص بات تو یہ ہے کہ آبجیکٹویٹی کے تناظر میں ہفتہ وار ’چوتھی دنیا ‘ اردو و ہندی دونوں کا ذکر آیا۔
انگریزی کی صحافی رعنا صدیقی زماں نے فلم ، آر ٹ اور تھیٹر کے حوالے سے بتایا کہ متنوع موضوعات کی محرومی کے ساتھ اس شعبے میں کام کرنے والے صحافی بھی معروضی انداز سے صحافت نہیں کررہے ہیں ، امیتابھ بچن کے معاملے میں رپورٹنگ کرنے کا انداز الگ ہوتا ہے مگر سلمان ، شاہ رخ اور عامر خان کے معاملے میں رپورٹنگ کرتے وقت صحافی برادران ’’مسلم فوپیا ‘‘ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ہندی صحافت سے گزشتہ 15سالوں وابستہ منیشا بھلا نے ہندی صحافت کے تلح حقائق کوسامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہندی صحافت معروضیت اور غیر جانبداری سے بالکل محروم ہوچکا ہے اور رپورٹنگ کرتے وقت مسلمانوں کے معاملے میں اس کا رویہ انتہائی نازیبا و ناروا ہوتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 2013میں مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹنگ کرتے وقت ہندی صحافت نے اخلاقیات کی تمام حدوں کو پار کردیا بلکہ مظفر نگر میں حالات خراب ہونے کیلئے کسی بھی حدتک ہندی صحافت بھی ذمہ دارہے۔مشہور انگریزی اخبار’ دی ہند و‘ کے بیورو چیف سووجیت باگچی اور بنگلہ اخبار’ قلم ‘کے ایڈیٹر احمد حسن عمرا ن بھی اس بات پر متفق نظرآئے میڈیا معروضیت سے محروم ہورہا ہے اور یہ کوئی ایک دن اور سا ل میں نہیں ہوا ہے بلکہ کئی سالوں سے میڈیا اس تبدیلی کے دور سے گزررہا ہے۔تاہم انگریزی چینل نیوز 18کی پولیٹیکل ایڈیٹر ماریہ شکیل اس خیال سے متفق نظر نہیں آئیں۔ ان کے مطابق، میڈیا کو اپنے آئیڈیو لوجی کے مطابق نہیں دیکھا جا نا چاہیے۔ بلکہ ابھی بھی میڈیا میںکچھ ایسے صحافی ہیں جو معروضیت اور آبجیکٹیو صحافت کررہے ہیں ۔ان کے مطابق حالیہ برسوں میں انسی ٹیوشن پر اعتراضات اور سوالیہ نشان لگانے کی جو روایت شروع ہوئی وہ ٹھیک نہیں بلکہ ان پر اعتماد قائم رکھنا ہوگا۔
بی بی سی اور یواین آئی جیسے باوقار اداروں سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہ چکے مشہور صحافی قربان علی نے اپنے صدارتی انتخاب میں اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ہندوستانی میڈیا دن بدن معتبریت کھوتا جارہا ہے ۔ایک دور تھا جب اخبارات اور ریڈیو کی خبروں کو حرف آخر سمجھاجاتا تھا مگر اب کوئی بھی میڈیا پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ایمرجنسی کے دور کو صحافت کیلئے آزمائش کا دور بتاتے ہوئے کہا کہ گرچہ ملک میں اس وقت ایمرجنسی نافذ نہیں ہے تاہم حالات اس سے بھی خراب ہیں اور ایڈیٹر روم میں بحث و مباحثہ کی گنجائش ختم ہوگئی ہے ۔ہندوستانی جمہوریت کے حوالے سے قربان علی کی دلیل تھی کہ اگر تیسری دنیا کے ممالک میں صرف ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں جمہوریت کو استحکام ہوا ہے تو اس میں میڈیا کا بہت ہی اہم رول رہا ہے ۔مگر اب میڈیا نے حالیہ برسوں جس رویے کا اظہار کیا وہ یقینا تشویش کا باعث ہے کیوں کہ بنیادی مسائل اور عوام کی پریشانیوں میڈیا کی سرخیوں سے غائب ہوچکی ہیں ۔
ہندوستانی میڈیا اور معروضیت کے حوالے سے سیمینا ر میں جوگفتگو ہوئی یقینا وہ بہت ہی اہم اور ہندوستانی صحافت کے کئی اہم پہلوئوں کو اجاگر کرنے والے تھے ۔کئی سوالات بھی کھڑے کیے گئے جس کا جواب ملنا ضروری ہے ۔ہندوستان میں اس وقت کم وبیش مختلف زبانوں کے 400نیوز چینلس ہیں اور 150نیوز چینلس کو منظوری ملنے کا انتظار ہے۔ ہزاروں اخبارات شایع ہوتے ہیں مگر پریس کی آزادی اور اظہار خیال کے معاملے میں 180ممالک میں ہندوستان 136ویں پوزیشن پر ہے۔بلکہ افغانستان و عرب امارت کے مقابلے بھی ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے ۔دی ہوٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 2016-17میں کل 54صحافیوں پر حملے کیے گئے اور حملہ آوروں میں زیادہ تر سیاسی کارکنان شامل تھے ۔
میڈیا اور آبجیکٹیویٹی (معروضیت )کے حوالے سے جوبحث شروع کی گئی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بحث کو جاری رکھا جائے تاکہ میڈیا میں احساس ذمہ داری پیدا ہو مگر ساتھ ہی اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی حکومت کوئی بھی بہانہ بناکر میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش نہ کرے۔امید ہے کہ قاری احمر فائونڈیشن آئندہ بھی اس طرح کے موضوع پر تبادلہ خیال کے مواقع پیدا کرتا رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *