حج کے نام پر سیاست

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کئی بار اس بات کا ذکر کرچکے ہیں کہ سبسڈی ختم کئے جانے کے باوجود سفر حج سستا ہوا ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد سے سب سے زیادہ عقیدت مند امسال سفر حج پر جائیںگے۔ ان کے ان دعوئوں میں کتنی سچائی ہے؟ اس کا تجزیہ ہم بعد میں کریں گے،پہلے یہ بتاتے چلیں کہ مجموعی طورپر امسال حج 2018 کی صورت حال کیا ہے۔
1.75 لاکھ حجاج میں 48 فیصد خواتین
اس مرتبہ 1.75 لاکھ حجاج فریضہ حج ادا کریں گے۔ ان میں 48 فیصد خواتین ہوں گی۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ بغیر محرم کے ہندوستان سے عورتوں کا گروپ سفر حج پر جارہا ہے۔یہ گروپ چار چار عورتوں پر مشتمل ہوگا۔حج کمیٹی آف انڈیا سے جاری اطلاع کے مطابق ایسی عورتوں کی تعداد 1300 ہے ۔چونکہ پہلی مرتبہ خواتین کا گروپ بغیر محرم کے جارہا ہے اسلئے کمیٹی ان کی خدمت کے لئے خاتون خادمہ کو بھیج رہی ہے۔ان کی دیکھ بھال کے لئے خصوصی طور پر ہر ایک طیارے میں 13 خواتین کا دستہ بھی تعینات رہے گا۔
ایئر لائن اور کرائے کو لے کر بڑا چرچا ہے۔خاص طور پر حج سبسڈی بند ہونے کے بعد سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا تھا کہ ٹینڈر کے ذریعہ ایئر لائن کا تعین کیا جائے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال تک تمام عازمین کو لانے و لے جانے کی ذمہ داری ایئر انڈیا کی تھی۔ ایئر انڈیا عازمین سے من مانی کرایہ وصول کرتا تھا اور سبسڈی کا بیشتر حصہ اسی کے کھاتے میں چلا جاتا تھا۔بڑھتے ہوئے مطالبے کو دیکھتے ہوئے امسال تین ایئر لائنس کو سفر حج کے لئے مقرر کیا گیا ہے جن میں سعودی ایئر لائنس، ایئر انڈیا اور فائن ناز شامل ہیں۔ اس مرتبہ حجاج کرام پر 18 فیصد جی ایس ٹی بھی نافذ کیا گیا ہے۔ظاہر ہے اس کا اثر ایئر کرایہ پر بھی پڑا ہے اور گزشتہ سال کی بہ نسبت امسال عازمین کو زیادہ کرایہ ادا کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ سعودی حکومت نے بھی پانچ فیصد ویٹٹیکس عائد کردیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب سعودی عرب میں اشیاء کی خریداری مہنگی ہوگی اور یہ ان پر الگ سے ایک اضافی بوجھ ہوگا۔ہندوستان سے سفر حج کے لئے 13 جولائی کو پہلی فلائٹ کا آغاز ہوگا ۔
گزشتہ دنوں حج ہائوس میں حج کمیٹی کی طرف سے منعقد ایک پریس کانفرنس میں دیگر ذمہ داروں کے علاوہ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے بھی شرکت کی ۔وہ صحافیوں سے بات چیت کے دوران اپنی اسی بات پر زیادہ زور دے رہے تھے کہ گزشتہ سال کی بہ نسبت امسال حج سستا ہوا ہے ۔ لیکن جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ حج کیسے سستا ہوا ہے؟ تو وہ اس بات کو بتانے سے قاصر رہے۔بس یہ کہہ کر بات آگے بڑھا دی کہ گزشتہ سال کے مقابلے امسال حج پر چار سے پانچ ہزار زائد روپے کا معمولی فرق ہے۔لیکن جب گزشتہ سال اور امسال کے کرائے کا موازنہ کرکے دیکھا جائے تو یہ فرق 40-50 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے جسے وزیر موصوف نے چار ،پانچ ہزار کامعمولی فرق کہہ کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کی۔اگر سعودی عرب کے پانچ فیصد ویٹ ٹیکس کو جوڑ لیا جائے توعازمین پر اس سے بھی زیادہ کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے کیونکہ جن لوگوں نے فارم بھرتے وقت قربانی پر ٹک کیا ہے،انہیں قربانی کی قیمت امسال 8ہزار روپے دینا ہوگا ۔
اس فرق کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ2018 میں یعنی جاری سال میں گوہاٹی کے عازمین کو عزیزیہ کٹیگری کے لئے دو لاکھ 60 ہزار روپے اور گرین کٹیگری کے لئے دو لاکھ 95 ہزار روپے دینے ہوںگے ۔ اس کے برخلاف 2017 میں عزیزیہ کے لئے دو لکھ 20 ہزار 100 روپے جبکہ گرین کے لئے دو لاکھ 35 ہزار 500 روپے ادا کرنے پڑے تھے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو گوہاٹی سے سفر کرنے والے عازمین کو عزیزیہ کے لئے 40 اور گرین کٹیگری کے لئے 65 ہزار روپے زائد دینے ہوں گے۔ رقم میں اتنا بڑا اضافہ ہوجانے کے باوود وزیر اقلیتی امور کہتے ہیں کہ معمولی فرق ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حج کرائے کا بوجھ
بہر کیف کرائے کا بوجھ اس لئے بڑھا ہے کہ امسال سبسڈی کی رقم میں گزشتہ سال کی بہ نسبت کمی کی گئی ہے۔ 2017 میں مجموعی طور پر 1030 کروڑ روپے ہوائی کمپنیوں کو دیئے گئے تھے جبکہ 2018 کے لئے صرف 973 کروڑ روپے یعنی 57 کروڑ روپے کم د یئے گئے ہیں۔گزشتہ سال سبسڈی کے سبب کرائے کے لئے پورے ملک کے تمام حجاج کو ایئر پورٹ اور دیگر ٹیکس سمیت محض 67 ہزار روپے ہی کرایہ دینا پڑا تھا جبکہ اس دفعہ ممبئی احمد آباد اور حیدرآباد کے علاوہ دیگر تمام امبارکیشن پوائنٹ کے عازمین کو زائد کرایہ دیناہوگا۔ اس زائد کرایہ کا بوجھ عازمین کو برداشت کرناہوگا۔
حج کمیٹی آف انڈیا کے اعلان کے مطابق اس سال عازمین کو عزیزیہ کٹیگری کے لئے دو لاکھ روپے اور گرین کٹیگری کے لئے کل دو لاکھ40 ہزار رپے ادا کرنے ہوں گے۔ اس اعلان کی رو سے سبسڈی ختم کئے جانے یا جاری رہنے کا ممبئی سے روانہ ہونے والے عازمین پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔کیونکہ یہاں سے ہوائی جہاز کا کرایہ دیگر امبارکیشن پوائنٹ کے مقابلہ میں کم ہے۔ البتہ سعودی عرب میں ویٹ ٹیکس لگائے جانے کی وجہ سے رہائش گاہیں اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے کی وجہ سے کچھ ہزار روپے زیادہ ادا کرنے ہوںگے۔
امسال ممبئی کے عازمین کو عزیزہ کٹیگری کے لئے دو لاکھ روپے دینا ہے جبکہ گزشتہ سال انہیں ایک لاکھ 94 ہزار دینا پڑا تھا۔اسی طرح گرین کٹیگری کے لئے دو لاکھ 40ہزار دینا ہے جبکہ گزشتہ سال دو لاکھ 27 ہزار 750 روپے دینے پڑے تھے ۔جب دونوں کا موازنہ کیا جائے تو کچھ ہزار کا ہی فرق ہوتا ہے اور اسی فرق کو ہائی لائٹ کرکے وزیر موصوف پورے ملک کے حاجیوں کے لئے یہ کہہ رہے ہیں کہ حج سستا ہوا ہے جبکہ یہ صورت حال ممبئی ،حیدرآباد امبارکیشن کی ہے جہاں سے پہلے کی بہ نسبت کرایہ میں معمولی فرق آنے والا ہے مگر ملک کی بیشتر ایسی ریاستیں ہیں جہاں کے عازمین کو حج 2017 کی بہ نسبت حج 2018 میں اچھی خاصی زیادہ رقم ادا کرنی پڑے گی۔
مثال کے طور پر ہم اتر پردیش کو ہی لے لیں تو یہاں بھی پچھلے سال کی بہ نسبت تقریباً 23 ہزار کا فرق آرہا ہے۔ یو پی کے عازمین حج کو اس مرتبہ سفر حج کے لئے گرین زمرے والوں کو 2 لاکھ 60 ہزار 100 روپے اور عزیزیہ زمرے والوں کو2 لاکھ25 ہزار 950 روپے جمع کرنا ہوںگے جبکہ گزشتہ سال سفر حج گرین زمرے میں دو لاکھ 36 ہزار 350 روپے اور عزیزیہ کے 2 لاکھ دو ہزار 950 روپے میں ہو رہا تھا۔
سب سے زیادہ حجاج کا سچ
جہاں تک یہ دعویٰ کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ عازمین امسال حج پر جائیںگے تو سچائی یہ ہے کہ عدد میں الجھا کر ایک بڑا اضافہ دکھایا جارہا ہے جبکہ اضافہ کے نام پر محض پانچ ہزار کا ہی اضافہ ہواہے ۔دراصل 2013 میں حرمین شریفین کے توسیعی کاموں کے سبب سعودی حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر 20فیصد تخفیف شدہ کوٹہ کو 2017 میں بحال کردیا گیا تھا۔ اس تخفیف اور بحالی میں حکومت ہندکا کوئی رول نہیں ہے بلکہ سعودی حکومت نے دنیا بھر کے جن ملکوں کے کوٹے میںتخفیف کی تھی،توسیعی کام مکمل ہونے کے بعدتخفیف شدہ کوٹے کو پھر سے بحال کردیا تھا۔اسی بحالی کو لے کر موجودہ حکومت اپنی پیٹھ تھپتھپارہی ہے کہ اس نے کوٹہ میں زبردست اضافہ کیا ہے۔گزشتہ سال حج کانفرنس کے دوران ’’چوتھی دنیا ‘ کے نمائندہ نے ہندوستانی سفیر برائے سعودی عرب احمد جاوید سے پوچھا تھا کہ یہ اضافہ نہیں بحالی ہے ،پھر آپ کو اسے اضافہ کیوں کہتے ہیں ؟تو انہوں نے کہا کہ بحالی بھی تو اضافہ ہی ہے۔جب ان سے پوچھا کہ اس میں آپ کا کیا رول ہے ؟تو وہ اس سوال کو یہ کہہ کر نظر انداز کرگئے کہ آخر ہوا تو اسی حکومت کے دور کار میں ۔
جہاں تک کمیٹی کے اس دعوے کی بات ہے کہ حکومت نے حج 2018 میں خصوصی اپیل کے ذریعہ پانچ ہزار عازمین کی مزید اجازت حاصل کی ہے تو یقینا یہ حکومت کا ایک اچھا قدم ہے۔لیکن غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس اضافے کے ساتھ سعودی حکومت نے عجیب و غریب شرط لگا رکھی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ان پانچ ہزار عازمین کو حدود منٰی میں قیام کی گنجائش نہیں ہوگی۔ انہیں منی کی حدود سے باہر ٹھہرنا ہوگا۔اس طرح دیکھا جائے تو حکومت عازمین کی مالی تخفیف اور دیگر سہولتوں کے بارے میں جو دعویٰ کررہی ہے ،وہ حقیقت کم اور پروپیگنڈہ زیادہ ہے۔
امسال کرائے میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ایک بات بہت زیادہ کھٹک رہی ہے ،وہ یہ کہ امسال سبسڈی کی آخری قسط کم دی گئی ہے اور حج 2019 میں سبسڈی بالکل نہیں ہوگی تو حج مزید مہنگا ہو جائے گا۔ظاہر ہے اتنے مہنگے حج پر جانا تمام عازمین کے لئے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لئے گزشتہ سال حج کانفرنس کے دوران وزیر موصوف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2018 سے پانی جہاز چلائیں گے تاکہ جو لوگ زیادہ رقم ادا کرنے کی گنجائش نہیں رکھتے ،وہ پانی جہاز سے اپنا فریضہ ادا کرسکیں گے۔لیکن جب حالیہ کانفرس میں اس بابت پوچھا گیا تو یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ بندوبست مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اگلے سال تک کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت گزشتہ سال سے ہی چاک و چوبند ہوتی اور وعدہ کے مطابق امسال سے پانی جہاز چلا دیتی تو جن عازمین کو چالیس ،پچاس ہزار روپے زیادہ ادا کرنا پڑرہا ہے ،اس سے وہ بچ جاتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اگلے سال تک اپنا وعدہ پورا کرپاتی ہے یانہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تربیتی ورکشاپ
جہاں تک خادم الحجاج کی بات ہے تو ان کو ٹریننگ دینے کے لئے کمیٹی کی طرف سے ہرسال ورکشاپ قائم کیا جاتا ہے۔ وہاں ان خادموں کو حاجیوں کی عام خدمت،ایمرجینسی کی صورت حال،بیماری، جہاز میں پیش آنے والی ضرورتوں سے نمٹنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔یقیناکمیٹی کایہ بہت اچھا عمل ہے۔مگر جس گوشے میں کمی پائی جارہی ہے اس پر دھیان کم دیا گیا ہے۔ دراصل عملی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہاں سے جانے والے خدام حاجیوں کے سامان لوڈ اوران لوڈ کرنے تک معاون ثابت ہوتے ہیں ، بعد کے مراحل میں وہ کارگر ثابت نہیں ہوپاتے ہیں، سعودی عرب پہنچنے کے بعد ان کی افادیت مفقود ہوجاتی ہے۔ کیونکہ یہ خدام نہ تو وہاں کی زبان سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی راستوں سے ۔پھر وہ حاجیوں کی خدمت کیا کرپائیں گے؟
حالانکہ اس کا حل یہ تلاش کیا گیا ہے کہ ہر سال حج کے موسم میں قونصلیٹ کی طرف سے کچھ ہندوستانی سپر وائزر جو کہ وہیں کسی کمپنی میں ملازم ہوتے ہیں ،کو ہائر کرلیا جاتا ہے۔ یہ لوگ یقینا فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ وہاں مقیم ہونے کی وجہ سے زبان و جغرافیہ سے واقف ہوتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگران خدام کی افادیت عازمین کو سعودی عرب میں رہائش گاہ تک پہنچنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے تو پھر ان پر اتنی موٹی رقم خرچ کرنے کے بجائے کچھ عارضی ملازمین کو ہی مقرر کرلیا جائے۔کیونکہ ان پر خرچ کیا جانے والا پیسہ بھی کہیں نہ کہیں ان عازمین کے نام کا ہی ہوتا ہے۔
ماضی میں یہ بات بھی اٹھتی رہی ہے کہ خادم کے طور پر نامزدگی کے لئے کسی سرکاری، نیم سرکاری ادارہ سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ اس کا فائدہ کچھ لوگ اٹھاتے ہیں اور سفارشات کے ذریعہ خادم کے طورپر جاتے ہیں اور حاجیوں کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے طواف و نفل میں لگ جاتے ہیں۔اگر سرکاری ادارے کی لازمیت کو ختم کرکے ایسے لوگوں کو خادم کے طور پر بھیجا جائے جو ارکان حج سے واقف ہوں تو وہ حاجیوں کو حج کے طور و طریقے سکھانے میں بھی معاون ہوں گے اور ان سے خدمت کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ اسی نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے اترپردیش میں جب سماج وادی پارٹی کی حکومت تھی تو اعظم خاں نے مدارس کے اساتذہ اورمساجد سے متعلقہ افراد کو خادم کے طور پر بھیجنے کی بات کہی تھی،اس پر مرکزی حج کمیٹی اورریاستی وزیر کے درمیان تال میل نہ ہونے کے سبب عملدرآمد نہیں ہوسکا اور بعد میں ان کی حکومت ہی چلی گئی۔
سالوں بعد نام شامل
اس مرتبہ ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ حج کمیٹی نے پروویژنل لسٹ جاری کرکے مختلف ریاستوں میں کئی سالوںسے ویٹنگ لسٹ میں شامل 15 ریاستوں کے 1551 عازمین کو اس مرتبہ جانے کا موقع فراہم کیا ہے۔اس میں اترپردیش کے عازمین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ قرعہ میں منتخب مختلف ریاستوں سے ایسے عازمین کی درخواستیں حج کمیٹی کو ملی تھی۔ حج کمیٹی نے درخواستوں کے موصول ہونے کے بعد سیریل کے حساب سے ویٹنگ لسٹ کو کلیئر کیا ہے ۔اس لسٹ میں یو پی اور مہاراشٹر کے عازمین کی تعداد زیادہ ہے۔ چھتیس گڑھ کے 10عازمین،دہلی کے18، گجرات کے 173،ہریانہ کے 19، جموںو کشمیر کے 253،کرناٹک کے 99، کیرالہ کے 68، مدھیہ پردیش کے 60، مہاراشٹر کے 257، اڑیسہ کے 11، راجستھان کے 55، تمل ناڈو کے 43، تلنگانہ کے 33 ، اترپردیش کے 439 اور اترا کھنڈ کے 13 عازمین شامل ہیں۔بہر کیف کمیٹی مجموعی طورپر حاجیوں کی بہتری کے لئے پیش رفت کررہی ہے مگرکچھ کام کئے ہیں تو کچھ نہ کرکے بھی کریڈٹ لینے کے فراق میں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *