آئی پی ایل کے دوران کپتانی چھوڑنے والے نویں کپتان گوتم گمبھیر

captains-ipl
انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل )کا آغاز سال 2008 میں ہوا تھا اور اس کے بعد سے یہ دنیا کے چند اہم کرکٹ ٹورنامنٹ میں شمار ہونے لگا اوریہ کھیل لگاتارجاری ہے۔آئی پی ایل کی خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان کے گھریلو کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور پرفارم کرنے کا نادر موقع ملتا ہے اور اس کے سبب کئی کھلاڑی انڈین ٹیم میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
آئی پی ایل 2018سیزن 11 کھیلا جارہاہے۔اس سے قبل 10 سیزن کھیلے جاچکے ہیں۔حالیہ سیزن میں سب سے ناقص کارکردگی دہلی ڈےئرڈیولس ٹیم کی رہی ہے۔اس کا اثر اس وقت دیکھنے کوملا،جب 25اپریل 2018کو ایک پریس کانفرنس میں دہلی ٹیم کے کپتان گوتم گمبھیرنے چھوڑ نے کا اعلان کیا ۔گوتم نے دہلی ڈیئر ڈیولس کے آئی پی ایل 11میں اب تک کی انتہائی ناقص کارکردگی کے مظاہرے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کپتانی کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیاہے۔ گوتم کی جگہ اب نوجوان بلے باز شریس ایّر کوسیزن کے باقی بچے میچوں کیلئے دہلی کا کپتان بنایاگیاہے۔کپتانی چھوڑنے پر گوتم نے کہاکہ یہ سچ ہے کہ میں نے دہلی کی کپتانی چھوڑ دی ہے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ میرا ہے، اس کا انتظامیہ اور کوچنگ اسٹاف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔اس پریس کانفرنس میں فرانچائزی کے سی ای اوہیمنت دوا اورکوچ رکی پونٹنگ بھی موجودتھے۔ گویاانہو ں نے کپتانی چھوڑکرسبھی کوچونکادیا۔حالانکہ ایسا پہلی بارنہیں ہوہے، اس سے پہلے بھی 8 ٹیموں کے کپتانوں کواپنی اپنی ٹیموں کی کپتانی آئی پی ایل کے دوران چھوڑ نی پڑی ہے۔گوتم گمبھیرکی کپتانی میں ٹیم نے صرف ایک میچ جیتاتھا ۔ٹیم کی کپتانی چھوڑتے وقت انہو ں نے کہاکہ ان پرٹیم مینجمنٹ کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ وہ خودمانتے ہیں کہ وہ پوری طرح ذمہ داری نہیں سنبھال پارہے ہیں۔
2008:آئی پی ایل کی شروعات 2008میں ہوئی تھی لیکن آئی پی ایل میں کپتانی چھوڑنے کاسلسلہ پہلے سیز ن سے یعنی 2008 سے ہی شروع ہو چکاتھا۔ 2008میں دکن چارجرس کے کپتان وی وی ایس لکشمن کوکپتانی سے ہٹناپڑا تھا۔ حالانکہ اس کے باوجود ٹیم میں کوئی سدھار نہیں ہوا اور پوائنٹ ٹیم ٹیبل میں آخری مقام پر رہی۔
2009:بنگلورٹیم کے کپتان کیون پیٹرسن کی جگہ انل کمبلے کوٹیم کا کپتان بنایاگیاتھا ۔یعنی سال 2009میں بھی بنگلوروٹیم کے کپتان کوخراب کاکردگی کے باعث کپتانی چھوڑنی پڑی تھی ۔حالانکہ بنگلوروکی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی مگرہارگئی۔
2012:آئی پی ایل 2010 اور 2011میں کپتانی چھوڑنے کولیکرکوئی پھیربدل نہیں ہوا مگرسال 2012میں بنگلورو کی ٹیم میں بدلاؤ ہوا۔ آئی پی ایل میں ٹیم کے کپتان ڈینئل ویٹوری کی جگہ وراٹ کوہلی کوکپتان بنایا گیا۔ بنگلوروکی ٹیم پانچویں مقام پررہی۔
2012:آئی پی ایل 2012میں ہی ایک اورٹیم دکن چارجرس میں بھی بدلاؤ ہواتھا۔ ٹیم کے خراب کارکردگی کے بعد کمارسنگاکارا کوہٹاکر کیمرون وہائٹ کوکپتان بنایاگیا تھا اوردکن چارجرس کی ٹیم مقابلے میں نویں مقام پر رہی تھی۔
2013:آئی پی ایل 2013میں ممبئی انڈینس( ایم آئی) ٹیم کی ناقص کارکردگی کااثر آسٹریلیاکے بلے باز رکی پونٹنگ پر پڑا۔دراصل ان کی جگہ ٹیم کا کپتان روہت شرما کوبنایا گیا ۔2013میں ممبئی انڈینس کی ٹیم چمپئن بنی تھی۔
2014:سال 2014میں حیدرآباد کی ٹیم نے پہلے کپتانی کی ذمہ داری شیکھردھون کودی تھی ، لیکن بعد میں ان کی جگہ ویسٹ انڈیزکے کھلاڑ ی ڈیرین سیمی کوکپتان بنایاگیا۔ سیزن کے دوران ہی کپتان بدلنے کے بعد بھی حیدرآبادکی ٹیم میں کارکردگی کے معاملے میں کوئی سدھارنہیں ہوا۔
2015:کپتان بدلنے کا سلسلہ جاری رہا۔2015میں راجستھان رائلس نے شین واٹسن کی جگہ اسٹیو اسمتھ کوٹیم کا کپتان بنایا تھا۔ اس کے بعدبھی ٹیم کی کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔اسٹیواسمتھ آئی پی ایل سیزن 11میں بھی کپتانی کرتے مگر ان پراس سال ایک سال کا بین لگ گیا جس کے باعث وہ اس بار آئی پی ایل نہیں کھیل رہے ہیں۔
2016:انڈین پریمئرلیگ (آئی پی ایل) 2016میں پنجاب کی ٹیم نے ڈیوڈ ملر کی جگہ مرلی وجے کوٹیم کا کپتان بنایا۔لیکن اس کے باوجودٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اورپنجاب کی ٹیم 2016میں آخری نمبرپر رہی تھی۔
بہرکیف گوتم گمبھیرنے کپتانی چھوڑکرسبھی کوچونکادیاہے۔ اس سیزن سے پہلے گمبھیر کولکاتہ نائٹ رائڈرس کے ساتھ تھے۔ ان کی کپتانی میں ہی کولکاتہ دوبارآئی پی ایل کی چمپئن بنی تھی۔ کولکاتہ کی جانب سے کھیلتے ہوئے گمبھیرنے 3035رن بنائے تھے ۔سیزن 11میں اس باردہلی نے گوتم گمبھیرکو 2.80کروڑروپے میں خریداتھا۔واضح رہے کہ گوتم گمبھیر آئی پی ایل میں سب سے زیادہ 36 نصف سنچری لگانے والے کھلاڑی ہیں۔ ان کے نام سب سے زیادہ 491 چوکے بھی ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *