مودی حکومت کے چار برس وعدے ہی وعدے رہ گئے

رسوئی گیس اور سیلنڈر فراہم کرتی اجولا اسکیم
چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں اجولا یوجنا کا حال یہ ہے کہ ضلع میںتقریباً 70 فیصد لوگوں نے سیلنڈر کو دوبارہ ری فیلنگ نہیں کرایا ہے۔ کئی لوگ کوڑے دان میں تو کئی بوری میںبند کر کے گیس چولہے کو رکھ دیا ہے۔ دوسری طرف، مدھیہ پردیش کے شاجاپور ضلع میں 36 ہزار 15 عورتوں کو کنکشن ملے تھے لیکن اس میں سے 75 فیصد کنکشن ہولڈروں نے دوسری بار سیلنڈر نہیں لیا۔ پڑوسی ریاست چھتیس گڑھ سے تو مستفیدین کے ذریعہ مودی سرکار کی اس اہم اسکیم کے تحت دیئے گئے رسوئی گیس کنکشن اور کارڈ کو بیچنے کی خبریں آئی ہیں۔ بلاسپور ضلع کے مرواہی تحصیل کے کئی گائوں کے غریب آدیواسی خاندان سیلنڈر ختم ہونے کے بعد ری فیلنگ نہیں کرا پاتے ہیں اور کئی لوگ تو گیس کنکشن کو پانچ پانچ سو روپے میں بیچ دے رہے ہیں۔ خود چھتیس گڑھ سرکار مان رہی ہے کہ وہاں اجولا یوجنا کے 39فیصد مستفدین ہی دوبارہ اپنے سیلنڈر کو ری فیلنگ کراتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ واقعات اجولا یوجنا کو لے کر کئے جارہے دعوئوں پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
لکڑی اور اوپلوں کا دھواں سہنے کو مجبور دیہی عورتوں کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے لئے وزیر اعظم کے ذریعہ شروع کی گئی اجولا اسکیم اگر صحیح معنی میں زمین پر اتر جاتی،تو یہ ایک طرح سے دیہی ہندوستان کے لئے سوراج کا خواب سچ ہونے جیسا ہوتا۔ لیکن افسوس کہ وزیراعظم کی یہ اہم اسکیم بھی التوا میں اٹکی نظر آرہی ہے۔ یکم مئی 2016 کو اتر پردیس کے جس بلیا سے وزیر اعظم مودی نے اجولا اسکیم کی شروعات کی تھی، اس بلیا کے کئی گائوں کے ساتھ ساتھ لگ بھگ پورے ملک میں یہ یوجنا دم توڑ رہی ہے۔
ان لوگوں تکتو اجولا اسکیم کا فائدہ ہی نہیں پہنچا، جو اس کے حقدار تھے،جن لوگوں کو اس کے تحت گیس سیلنڈر اور چولہے ملے، مجبوری کی وجہ سے وہ اس کا فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں۔ لوگوں کو چولہے اور گیس سیلنڈر تو دے دیئے جارہے ہیں ،لیکن ان میں سے زیادہ تر دوبارہ سیلنڈر نہیں بھروا پا رہے ہیں، کیونکہ اس کا خرچ بہت زیادہ ہے۔ اجولا یوجنا کے مستفیدوں میں زیادہ وہ لوگ ہیں جو غریبی ریکھا سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ یہ منریگا مزدور ہیں یا دہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ موجودہ وقت میں منریگا تو دم توڑ ہی رہی ہے، پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کام کا فقدان ہے۔ایسے میں بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ غریب عام آدمی 800 روپے خرچ کرکے کیسے سیلنڈر بھروا پائے گا۔
اجولا یوجنا کے تحت غریب عورتوں کو ایک ایل پی جی سیلنڈر کے ساتھ ایک برنر اور ایک پائپ دیا جاتا ہے۔اس کے لئے سرکار فی کنکشن 1600 روپے کا خرچ خود برداشت کرتی ہے، لیکن سیلنڈر اور برنر کا خرچ جو تقریباً 1600 روپے ہی ہوتا ہے، اس کے لئے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مستفدین کو ایک طرح کا قرض دیتی ہے۔ اس قرض کی ادائیگی کے لئے کمپنیاں سیلنڈر بھرواتے وقت مستفدین کو ملنے والی سبسڈی کاٹ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مستفدین دوبارہ سیلنڈر نہیں بھرواتے،کیونکہ انہیں سیدھے طور پر سبسڈی کا فائدہ نہیں مل پاتا ہے۔ اس سے جڑے اعدادو شمار بھی اس اسکیم کی کامیابی پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔
اسی سال جنوری مہینے میں آئی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ اجولا اسکیم کے بعد سے ایک طرف جہاں ایل پی جی کنکشن کا ریٹ 16.26 فیصد بڑھا ہے، وہیں گیس سیلنڈر کا استعمال محض 9.89 فیصد بڑھا ہے۔ اس سے صاف ہے کہ لوگوں تک اس اسکیم کے پہنچ جانے کے بعد بھی اس کا ہدف پورا نہیں ہو پارہا ہے۔ ادھر سرکار اعدادو شمار کے ذریعہ اپنی پیٹھ تھپتھپارہی ہے۔ اسی سال جنوری میں ایک نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ اجولا اسکیم کے تحت ملک میں اب تک 3.35 کروڑ سے زیادہ سیلنڈر بانٹے جاچکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس اسکیم کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس کے ہدف کو بڑھا کر 8کروڑ سیلنڈر تک کر دیا گیاہے اور اسے بھی وقت سے پہلے پورا کر لیا جائے گا۔8 کروڑ سیلنڈر بانٹنے کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے سرکار نے اس مد میں بجٹ میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے لئے جاری مالی سال کے دوران 4800 کروڑ روپے کی تجویز کو منظوری دی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس اسکیم کے نفاذ سے پہلے کریسل سے ایک سروے کرایا گیا تھاجس میں 86 فیصد لوگوں نے بتایا تھا کہ یہ گیس کنکشن مہنگا ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال نہیں کرتے ہیں جبکہ 83فیصد لوگوں نے سیلنڈر مہنگا ہونا بھی سبب بتایا تھا، اس سروے میں سیلنڈر ملنے کے لئے لگنے والا لمبا وقت اور دوری بھی ایک بنیادی رکاوٹ کی شکل میں سامنے آئی تھی لیکن سرکار نے اسکیم لاگو کرتے وقت کنکشن والے مسائل کو چھوڑ کر دیگر کسی پر دھیان نہیں دیا ہے، الٹے سیلنڈر پہلے کے مقابلے اور زیادہ مہنگا کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے جلد سیلنڈر ڈلیوری کو لے کر ہونے والے شورو غل پر بھی زیادہ دھیان ہی نہیں دیا گیا ۔ سرکار نے گیس کنکشن مہنگا ہونے کے مسئلے کی طرف دھیان دیاتھا اور اس کا اثر صاف دکھائی پڑ رہا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوںکی ایل پی جی کنکشن لینے کی رکاوٹ دور ہوئی ہے لیکن کریسل کے ذریعہ بتائی گئی دیگر رکاوٹیں جوں کا توں ہیں۔ لوگوں کو کنکشن ملے ہیں لیکن ان کے استعمال کا سوال بنا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اعدادو شمار کے ذریعہ اس اسکیم کو کامیاب قراردینے کی سرکاری کوشش اسکے ہدف کو پورا کر پائے گی؟
روشنی پھیلاتی ترمیم شدہ بجلی اسکیم
15اگست 2015 کو لال قلعہ سے ملک کو خطاب کرتے ہوئے، جب وزیر اعظم نے یہ اعلان کیا کہ وہ آئندہ 1000 دنوں میں ملک کے 18 ہزار سے زیادہ گائوں تک بجلی پہنچا دیں گے، تو لگا تھا کہ اب سچ میں پورے ملک کو اندھیرے سے نجات مل جائے گی۔ یکم مئی 2018 تک 18,452 بجلی سے محروم گائوں تک بجلی پہنچانے کا ہدف نہ تو زیادہ بڑا تھا اور نہ ہی مشکل، کیونکہ سرکاری اعدادو شمار ہی کہتے ہیں کہ مودی سے پہلے کے کئی وزراء اعظم نے بجلی کو لے کر اس سے زیادہ بڑا ہدف حاصل کیا ہے۔
مودی سرکار کو تقریباً تین سالوں میں ملک کے 18 ہزار گائوں کو روشن کرنا تھا، جبکہ اس سے پہلے صرف 2005-06 میں ملک کے 28 ہزار سے زیادہ گائوں میں بجلی پہنچائی گئی، وہیں اندرا گاندھی نے تو اپنے دور کار میں فی سال 20 ہزار سے زیادہ گائوں کو بجلی پہنچایا تھا۔ لیکن وزیر اعظم مودی کا یہ ہدف اس معنی میں خاص تھا کہ اس کے پورا ہو جانے سے ملک سے پوری طرح اندھیرا ختم ہوجاتا ۔ 1000 دن سے پہلے ہی وزیراعظم نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ ہماری سرکار نے وقت سے پہلے ملک سے اندھیرا مٹانے کا ہدف حاصل کر لیاہے۔ لیکن وزیراعظم کے اس اعلان کے اگلے ہی دن ملک کے کئی حصوں سے اندھیرے میں زندگی گزار رہے کئی گائوں کی ایسی تصویریں سامنے آئیں، جنہوں نے سرکاری اعدادو شمار کی قلعی کھول دی۔
نومبر 2014 میں مودی سرکار نے بجلی کاری کے لئے دن دیال اپادھیائے گرام جیوتی یوجنا شروع کی۔یہ ایک طرح سے پرانی اسکیم راجیو گاندھی گرامن بجلی کرن یوجنا کا نام بدل کر رکھا گیا تھا۔ کیونکہ اس یوجنا کی رفتار بھی کم و بیش پرانی یوجنا جیسی ہی ہے۔ پرانی یوجنا کے جیسی ہی اس یوجنا کے ساتھ سب سے بڑا س مسئلہ ہے، بجلی کاری کی تشریح، جو یہ کہتی ہے کہ جس کسی گائوں کے دس فیصد گھروں میں بجلی پہنچی ہو، وہ بجلی والا گائوں اعلان ہو جاتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی زیادہ تر دیہات بجلی کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم نے پورے ہندوستان میں بجلی ہونے کا اعلان کیا لیکن سچائی یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں ملک کے صرف 8فیصد گائوں کے ہر گھر میں بجلی پہنچی ہے۔ پچھلے سات مہینوں کی ہی بات کریں تو 3900 گائوں تک بجلی پہنچیہے، لیکن ان میں سے صرف 236 گائوں میں ہی ہر گھر کو بجلی نصیب ہوئی۔ ملک کے تین کروڑ سے زیادہ گھر آج بھی بجلی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔یہاںتک کہ وزیر اعظم مودی کے پارلیمانی حلقہ کے ہی کئی گائوں میں اب تک بجلی نہیں پہنچ سکی ہے۔ کئی ایسے بھی گائوں ہیں، جہاں صرف تار اور کھمبے ہیں، لیکن بجلی نہیں۔ وہیں کئی گائوں کے چند گھروں میں بجلی پہنچا کر اسے مکمل بجلی والا ہونے کا اعلان کر دیا گیاہے۔ ادھر سرکار اعدادو شمار کے ذریعہ اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے۔ سابق توانائی وزیر پیوش گوئل نے تو بجلی کاری کو لے کر اپنی سرکار کی حصولیابی دکھانے کے لئے ناسا کے ذریعہ جاری کی گئی تصویر کو ٹویٹر پر پوسٹ کر دیا۔
بجلی کاری کو لے کر بے بنیاد دعوئوں کی فہرست میں ایک نام نگلا پھٹیلا کا بھی ہے، جسے لے کر 70ویں یوم آزادی کی تقریر میں وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ آپ کو حیرانی ہوگی، دہلی سے صرف تین گھنٹے کی دوری پر ہاتھرس علاقے میں ایک گائوں نگلا پھٹیلا ہے۔نگلا پھٹیلا تک پہنچنے میں صرف تین گھنٹے لگتے ہیں لیکن وہاں بجلی پہنچنے میں 70 سال لگ گئے۔ اسے ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کہ وزیر اعظم کے اس دعوے کے دو سال بعد بھی نگلا پھٹیلا کے زیادہ تر لوگ بجلی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ملک کے 17 کروڑ 99 لاکھ گھروں میں سے 3 کروڑ 14 لاکھ گھروں میں اب تک بجلی نہیں پہنچ سکی ہے۔ سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے ایک کروڑ 33لاکھ سے زیادہ گائوں کے گھر اب بھی اندھیرے میں ہیں، وہیں بہار، اڑیسہ،اور جھارکھنڈ کو ملا دیں تو ان تین ریاستوں میں بھی تقریبا اتنے ہی گھر اب تک بجلی کاری کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

روزگار دلاتی اسکیمیں
6فروری کو راجیہ سبھا میں سرکار کی طرف سے بتایا گیا کہ موجودہ وقت میں بے روزگاری کی شرح 5 فیصد کو پار کر رہی ہے۔ جو 2013 میں 4.9 فیصد ، 2012 میں 4.7 فیصد اور 2011 میں 3.8 فیصد تھی۔ حالانکہ سرکار کے وزیر رائو اندرجیت سنگھ کے ذریعہ اعدادو شمار بتانے کے چند دن بعد ہی،بے روزگاری کی شرح 6فیصد کو پار کر گئی۔ سرکاری اور پرائیویٹ دونوں سیکٹروں میں نوکریوں کا قحط ہے۔ اسی سال آئی کارپوریٹ وزارت کی رپورٹ کہتی ہے کہ 31جنوری 2018 تک 17 لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈ تھیں، جن میں سے اب تک 5لاکھ 38 ہزار کمپنیاں بند ہو چکی ہیں۔ ان 5لاکھ 38 ہزار میں سے 4 لاکھ 95 ہزار کمپنیوں نے بزنس نہ ملنے کو بند کا سبب بتایا۔ صرف 2017 میں تقریبا 3لاکھ کمپنیوں نے اپنا کاروبار سمیٹ لیا۔ ادھر وزیر اعظم سوروزگار پر زور دے رہے ہیں۔ بجٹ سیشن میں 7 فروری کو لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تجویز کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ’ آج کی معیشت میں نوجوان نوکری کرنے کے بجائے نوکری دینے والا بن رہاہے‘ لیکن کرنسی اور اسٹارٹ اپ جیسی اسکیموں کی خستہ حالی وزیر اعظم کے اس بیان کی حقیقت کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔
مدرا یوجنا کے تحت اب تک کے قرض تقسیم کے اعدادو شمار پر غور کریں تو پتہ چلتاہے کہ دیئے گئے قرض میں سے 92 فیصد انفینٹ کٹیگری کے، 6.7 فیصد بالغ کٹیگری کے اور صرف 1.4 فیصد نوجوان کٹیگری کے قرض ہیں۔ جس انفینٹ کٹیگری کے تحت 92فیصد قرض تقسیم کئے گئے ،ان کا بھی اوسط کافی کم ہے۔ 2015-16 میں اس کا اوسط 19 ہزار اور 2016-17 میں 23 ہزار تھا۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ 30جون 2017 تک مدرا یوجنا کے تحت دیئے گئے لون میں سے 39 لاکھ 12 ہزار روپے این پی اے ہو گئے ہیں، یعنی اس کے واپس لوٹنے کے کم امکانات کے مد نظر بینکوں نے انہیں بٹے کھاتے میں ڈال دیاہے۔یہ سب اس اسکیم کے اعدادو شمار ہیں ،جس کی کامیابی کو لے کر آئے دن برسراقتدار پارٹی کے لیڈر اور یہاں تک کہ وزیر اعظم بھی ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔
اسٹارٹ اپ انڈیا کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔اس اسکیم کی شروعات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا کے ذریعہ ہماری کوشش ملک کے نوجوانوںکو جاب سیکر سے جاب کریٹر بنانے کی ہے۔ افسوس کہ اسٹارٹ اپ کو لے کر دیکھاگیاکہ وزیراعظم کا خواب ٹوٹ رہاہے۔ حال میں آئی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ 6فروری 2018 تک ڈی آئی پی پی یعنی صنعتی پالیسی اور پروموشن محکمہ نے 6981 اسٹارٹ اپ نشان زد کئے تھے لیکن ان میں سے صرف 99 اسٹارٹ اپس کو فنڈ اور محض 82 کو قرض معافی کے سرٹیفکیٹ الاٹ کئے گئے ہیں۔ مارچ 2019 کے لئے ڈی آئی پی پی نے 100 نئے اسٹارٹ اپس کی مدد کا ہدف طے کیا ہے۔ مارچ 2019 کے لئے ڈی آئی پی پی نے 100 نئے اسٹارٹ اپس کی مدد کا ہدف طے کیا ہے لیکن اب تک کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس ہدف کو حاصل کرنا بھی مشکل ہی لگ رہاہے۔
آئی بی ایم کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مالی کمی کی وجہ سے 90 فیصد اسٹارٹ اپ شروع ہونے کے پانچ سال کے اندر بند ہو جاتے ہیں۔اسٹارٹ اپ انڈیا کی تشہیر کو لے کر سرکار کی سستی پر بھی پارلیمانی کمیٹی نے سوال اٹھایا ہے۔ 2017-18 میں اسٹارٹ اپ انڈیا کی تشہیر کے لئے 10 کروڑ روپے الاٹ کئے گئے تھے۔لیکن ان میں سے صرف 4لاکھ روپے ہی خرچ ہو پائے۔ ان اعدادو شمار کے ذریعہ سوروزگار پیدا کرنے کے لئے کوششوں کو لے کر سرکار کی مایوسی آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔
دیہی سطح پر منریگا کو روزگار کا بنیادی ذریعہ مانا جاتا تھا۔ لیکن آج یہ یوجنا پوری طرح سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ سال در سال اس اسکیم کے ذریعہ 100 دن کا روزگار پانے والے لوگوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ 2013-14 میںاس اسکیم کے ذریعہ پورے 100 دنوں کا روزگار پانے والے خاندانوں کی تعداد 46,59,347 تھی جو کہ 2016-17 میں 39,91,169 اور 2017-18 میں 27,38,364 ہو گئی۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف کام مانگنے والے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،وہیں دوسری طرف کام میں کمی آتی جارہی ہے ۔حال کے دنوں میں بہار، چھتیس گڑھ، راجستھان، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور اڑیسہ میں منریگا کے تحت کام مانگنے والوں کی تعداد میں 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج ہوا ہے۔ لیکن ملک بھر میںکل منریگا مزدوروں میں سے دو فیصد سے بھی کم مزدور 2017-18 میں 100 دن کا کام پا سکے۔ گجرات میں 1.30 مہاراشٹر میں 11.87 ، راجستھان میں 5.04 ، مدھیہ پردیش میں 3.8 ، چھتیس گڑھ میں 13.90 ، اترپردیش میں 0.87 اور بہار میں صرف 0.68فیصد لوگوں کو 2017-18 میں 100 دن کا کام ملا۔

بڑھتا بجٹ ، گھٹتا روزگار

منریگا بجٹ 2017-18کی صورتحال
2014-15ـ: 32,139کروڑ
کل منریگا مزدور : 25,17,00,000
2015-16:39,974کروڑ
جاب کارڈ ہولڈر:12,65,00,000
2016-17:47,411کروڑ
کام ملا :4,86,41,132
2017-18:53,152کروڑ
100دن کا کام : 27,38,364

گنگا کی صفائی کرتی اسکیمیں
کانپور ، فرید آباد، وارانسی، گیا، پٹنہ، دہلی ، لکھنو، آگرہ، مظفر پور، شری نگر، گرو گرام جے پور، پٹیالہ، جودھپور، یہ دنیا کے 14 سب سے آلودہ شہر ہیں اور یہ اسی ہندوستان کے شہر ہیں،جہاں چار سال پہلے وزیراعظم نے سوچھتا کو ایک اہم مشن بنایا تھا۔ 2014 کے بعد سے اب تک ،کوئی بھی سال ایسانہیں گزرا، جب سوچھتا ابھیان کے نام پر کروڑوں کے بجٹ والا پروگرام نہیں ہوا ہو۔ جھاڑو ہاتھ میں تھامے لیڈروں کے ذریعہ فوٹو کھینچوانا تو ایک طرح سے سیاسی سمبل بن گیا لیکن ملک میں گندگی کا انبار جوں کا توں بنا رہا۔ پچھلے سال ایک آر ٹی آئی کے ذریعہ پتہ چلا تھا کہ مودی سرکار نے ایک سال کے اندر سوچھ بھارت ابھیان کی تشہیر میں ہی تقریبا 100کروڑ روپے خرچ کر دیے۔ سوچھتا ابھیان کا ہدف صرف سڑکوں پر ہی دم نہیں توڑ رہا ، ندیاں بھی کوڑا گھر میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں۔ گنگا کو صاف ستھرا بنانے کے لئے 13مئی 2015 کو نمامی گنگے یوجنا شروع ہوئی تھی۔ اس کے لئے 5سالوں میں 20 ہزار کروڑ کا فنڈ منظور ہوا، جس میں سے 2015-18 کے بیچ 4131 کروڑ روپے خرچ ہونے تھے، لیکن فروری 2018 تک اس میں سے صرف 3062 کروڑ روپے ہی خرچ ہو سکے ہیں۔
گنگا صفائی کو لے کر سرکار کی کوششوں کی بات کریں تو اس کے لئے ذمہ دار وزیر نتین گڈکری کی کوشش بھی ان کی وزارت کی سابقہ وزیر اوما بھارتی کے طرز پر ہی ہیں۔ وزیر بننے کے بعد جس طرح اوما بھارتی تاریخ پر تاریخ دیتی رہیں، کچھ ویسا ہی گڈکری بھی کررہے ہیں۔ آبی وسائل،، ندی ڈیولپمنٹ اور گنگا تحفظ وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ہی نتین گڈکری نے کہا تھاکہ اگلے ایک ہفتہ میں وہ گنگا صفائی کو لے کر اپنا منصوبہ پیش کریںگے۔ اکتوبر 2017 میں گڈکری گنگا صفائی کے لئے اپنا پہلا پلان لے کر آئے ۔12 اکتوبر 2017 کو انہوں نے کہا تھا کہ صاف گنگا کے لئے 97 منصوبوں پر اگلے سال مارچ سے کام شروع کر دیاجائے گا۔لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ 10 مئی کو جب وہ میڈیا سے مخاطب ہوئے، تو بھی مارچ کا ہی ڈیڈلائن دیا، لیکن مارچ 2018 کا نہیں، مارچ 2019 کا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2019 تک گنگا 70-80 فیصد تک صاف ہو جائے گی۔ 4سال میں کئے گئے کاموں کا بیورا دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گنگا کو آلودہ کررہے 251 صنعتوں کو بند کیا جاچکا ہے اور 938 صنعتوں سے نکلنے والی آلودگی کی ریئل تائم مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی گنگا کے پورے راستے میںایسے 211 بڑے نالوں کی پہچان کی گئی ہے ، جو اس ندی کو آلودہ کررہے ہیں۔ گڈکری کے ان دعوئوں سے الگ حقیقت یہ ہے کہ گھاٹوں کی صفائی اور ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کے نام پر چل رہے 65پروجیکٹ میں سے صرف 24 ہی پورے ہو سکے ہیں۔ گنگا کنارے بسے شہروں سے ہر دن نکلنے والے 2953 ملین ٹن کچرے میں سے 1369 ملین ٹن کچرے آج بھی سیدھے طور پر گنگا میں گر رہے ہیں۔ وہیں زمین کی کمی اور ٹھیکہ داروں کے ذریعہ کام کرنے کی سست رفتاری کو وجہ بتا کر 2710 کروڑ روپے کی لاگت والی 26 پرجیکٹوں میں تاخیر کی گئی ہے۔ حال یہ ہے کہ 2014 سے 2017 کے بیچ 154 ڈیٹیلڈ پروجیکٹس میں سے صرف 71 کو منظوری ملی، وہیں 46 سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں سے 26 کا کام تاخیر سے چل رہاہے۔
گنگا صفائی کو لے کر سرکار کی غیر فعالیت کا پتہ اس سے بھی چلتا ہے کہ ایک طرف نتین گدکری نے صدر جمہوریہ، وزیراعظم ، اراکین پارلیمنٹ، ایم ایل ایز،اور دیگر لوگوں سے گزارش کیا کہ وہ اپنی ایک مہینے کی تنخواہ سوچھ گنگا خزانہ میں عطیہ کریں، لیکن دوسری طرف اس خزانے میں پہلے سے پڑی ہوئی رقم سرکار اب تک خرچ ہی نہیں کرسکی ہے۔ پچھلے سال آئی کیگ کی رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ ہوا تھا کہ 2017 میں سوچھ گنگا کوش میں آئے 198 کروڑ 14 لاکھ روپے میں سے اب تک ایک بھی پیسے خرچ نہیں ہوسکے ہیں۔ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی کیگ کی اس رپورٹ میں بتایا گیاتھا کہ گنگا صفائی کی سمت میں نیشنل مشن کے لئے جاری2133.76 کروڑ ، 422.13 کروڑ اور 59.28 کروڑ روپے سرکار خرچ ہی نہیں کرپائی ہے۔ گنگا کی صفائی کے لئے الاٹ کی گئی یہ پوری رقم 31 مارچ 2017 تک خرچ کی جانی تھی لیکن پورا 2017 گزر جانے کے بعد بھی ان پیسوں کا استعمال نہیں ہوسکا۔ وہیں گنگا کی صاف صفائی کے لئے گنگا کنارے بسے ہوئے گائوں کو الاٹ کئے گئے 951 کروڑ میں سے بھی صرف 490 کروڑکا استعمال ہوسکا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

میک ان انڈیا
حالانکہ میک ان انڈیا ابھیان کی باضابطہ شروعات ستمبر 2014 میں ہوئی تھی لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے 15اگست 2014 کو یوم آادی کے موقع پر لال قلعہ کی اپنی پہلی تقریر میں اس ابھیان کی روپ ریکھا پیش کر دیا تھا۔ انہوں نے دنیا کے صنعتکاروں کا استقبال کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ ہندوستان میں آئیے، یہاں مینوفیکچرنگ کیجئے اور دنیا کے کسی بھی ملک میں لے جاکر بیچئے۔ ہمارے پاس تجربہ ہے، ٹیلنٹ ہے ،نظم و ضبط ہے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہے ۔دراصل اس کا بنیادی مقصد ہدنوستان کو ایک گلوبل مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ ہب میں بدلنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرانا تھا۔ ہندوستان میں روزگار ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہاہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہاں ہر سال ایک کروڑ سے زیادہ نئے لوگ ملک کے ورک فورس سے جڑتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے 2014 کے انتخابی تقریروں میں لوگوں کو، خاص طور پر نوجوانوں کو یہ یقین دلایا تھاکہ اگر وہ وزیر اعظم بن گئے تو ان کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے اور ہر آدمی کو اس کے اپنے ہی علاقے میں روزگار کے مواقع مل سکیںگے۔ بہرحال میک ان انڈیا ابھیان کو شروع ہوئے تقریبا چار سال بیت گئے ہیں۔ ان چار برسوں میں یہ ابھیان اپنے اہداف کو پورا کرنے میں کتنا کامیاب ہواہے؟اس دوران غیر ملکی سرمایا کار کی کیا صورت رہی ؟کیا اس دوران ایک ہندوستان مینوفیکچرنگ ہب میں تبدیل ہوا یا اس سمت میں آگے بڑھا؟ کیا ہندوستان کے ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا؟اور سب سے بڑی بات یہ کہ کیا نوجوانوں کو روزگار ملا؟
2014 میں شروعاتی مایوسی کے بعد اس مہم میں کچھ تیزی آئی۔ کئی غیر ملکی کمپنیوں نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی تجویز رکھے اور کچھ نے صنعت کاری کرنا بھی شروع کیا۔ ہندوستانی سرکار کے اعدادو شمار کے مطابق اکتوبر 2014 سے اپریل 2015 کے دوران پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 48فیصد اضافہ ہوا۔ اس عرصے میں غیر ملکی سرمایہ کار اداروں یا مالی بازاروں کے ذریعہ سے آنے والی کل رقم 40.92 ارب ڈالر تھی ۔اس دوران زیادہ تر سرمایہ کار ٹیلی کمیونیکیشن ، کمپیوتر سافٹ سیئر ، سروس سیکٹر، آٹو موبائل ڈرگس اینڈ فارماسیوٹیکلس میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ سیکٹر روایتی طور سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرتے رہے ہیں۔
وزارت تجارت کے اعدادو شمار کے مطابق میک ان انڈیا کی شروعات سے لے کر اب تک یعنی 2014-15سے لے کر 2017-18 تک ملک میں کل 160.79 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) آئی ہے۔ ان اعدادو شمار کے مطابق، 2015-16 میں 50ارب ڈالر ، 2016-17 میں 60 ارب ڈالر کی ایف ڈی آئی آئی ہے۔ تجارتی وزارت کے پریس نوٹس میں یہ دعویٰ کیا گیاہے کہ 2000 سے اب تک کی ایف ڈی آئی انفلو میں میک ان انڈیا کے بعد ایف ڈی آئی کی حصہ داری 33فیصد ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف ڈی آئی میں 33فیصد اضافے کے بعد کیا روزگار کے مواقع میں بھی 33فیصد یا اس کے آس پاس کے اضافے درج کئے گئے ہیں؟ہندوستانی سرکار کے لیبر بیورو کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے کے مطابق پچھلی سہ ماہی میں ملک میں روزگار کے سیکٹر میں محض 1.8 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ جو ہر لحاظ سے مایوس کن ہے اور سرکاری ایف ڈی آئی کے اعدادو شمار میل نہیں کھاتی ۔ توکیا یہ صرف اعدادو شمار کی بازیگری ہے؟
سی ایم آئی ای (سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی ) جو کاروبار کی اطلاع دینے والی ایک پرائیویٹ کمپنی ہے ،کے تجزیہ کے مطابق جولائی اور اپریل 2018 کے درمیان ہندوستان میں بے روزگاری شرح دوگنی ہو گئی ہے۔ سی ایم آئی ای کے مطابق ملک میں بے روزگاری شرح جولائی 2017 میں 3.39 فیصد سے بڑھ کر مارچ 2018 میں 3.23 فیصد ہو گئی۔یہی نہیں سی ایم آئی ای کے تجزیہ میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ان اعدادو شمار میں اضافہ درج کیا جاسکتا ہے۔ سی ایم آئی ای کے تجزیہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد سے جو ملک میں بے روزگاری شرح بڑھنے کا جو تازسلسلہ شروع ہو اہے وہ ابھی تک جاری ہے۔ یعنی غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ روزگار پدیا کرنے میں معاون نہیں ثابت ہورہاہے۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو یہ جاب لیس وکاس ہے۔
ایف ڈی آئی کے اعدادو شمار میں کئی دلچسپ حقائق موجود ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنا کام سنبھالتے ہی ایک کے بعد ایک جن ملکوں کا دورہ کیا تھا، ان میں جاپان ، امریکہ، برطانیہ، چین ، فرانس کو کافی اہمیت دی گئی تھی۔ ان دوروں کو ہندوستانی میڈیا نے گیم چنجر کی شکل میں پیش کیا تھا لیکن اگر ملک کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ ایف ڈی آئی ماریشس اور سینگاپور جیسے ملکوں سے آیا۔ ان ملکوں کے مقابلے میں جاپان ،امریکہ، برطا نیہ ا ور چین وغیرہ کی حجہ داری کافی کم رہی۔یہ رجحان 2000 سے لگاتار جاری ہے۔
غور طلب ہے کہ ماریشش اور سنگاپور ٹیکس ہیون کے طور پر پہلے سے ہی بدنام ہیں۔ لہٰذا ان ملکوں سے سب سے زیادہ سرمایہ آنا حیرت کی بات نہیں ہے۔ حالانکہ 2016 میں ہندوستان میںماریشش کے ساتھ 1983 کے ڈبل ٹیکسیشن اوائڈیشن کنوینش ( ڈی ٹی اے سی ) میں بدلائو کے سمجھوتے پر دستخط کیا ہے جو اپریل 2017 سے لاگو ہے۔ سنگا پور سے بھی ہندوستان اسی طرح کے سمجھوتے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن اس کے باجود ابھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملے میں دنیا کے دوسرے ملکوں سے بہت آگے ہے۔اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ماریشس اور سنگاپور کے راستے آیا ہوا سرمایہ ہندوستان کا ہی کالا دھن تو نہیں ہے؟جو ایک دوسرا سوال ان سرمایہ کاری کے اعدادو شمار سے کھڑا ہوتا ہے، وہ یہ کہ جب تک امریکہ، جاپان، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے تکنیکی طورپر ترقی یافتہ ملک ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے آگے نہیں آئیںگے، تب تک وزیراعظم کا میک ان انڈیا کیسے کامیاب ہوگا؟
یہ ایسا وقت تھا جب چین میں اقتصادی بحران گہرا رہا تھا اور وہ اپنی کرنسی یوآن کا ڈیوالیوشن کررہا تھا۔چینی شیئر بازار میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہو رہی تھی۔ایسی صور ت میں مارکیٹ ایکسپرٹ ہندوستان کے میک ان انڈیا مشن کے لئے ایک موقع مان رہے تھے لیکن کچھ ماہرین کا ماننا تھا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں کسی ترقی پذیر ملک کو اپنی ماڈرن تکنیک منتقل نہیں کرتی۔تکنیک منتقلی کے لئے ان پر دبائو بنانا پڑتاہے۔ ظاہر ہے ،اگر تکنیکوں کی منتقلی نہیں ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میک ان انڈیا کچھ غیر ملکی کمپنیوں تک سمٹ کر رہ جائے گا۔ چین کی شرح ترقی میں آرہی گراوٹ کے پیچھے اس کی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر انحصار بتایا جارہاہے۔ایسے میں ہندوستان کو تکنیک کی ڈیولپ کے لئے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر زیادہ زور دینا چاہئے اور کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرنا چاہئے۔
بہر حال میک ان انڈیا ابھیان میں اب تک سیکٹر کے حساب سے رفتار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتاہے کہ غیرملکی سرمایہ کاری میں جو رجحان 2000 میں تھا، اس رجحان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ابھی بھی سروس سیکٹر سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کررہا ہے،جو پہلے سے ہی مضبوط حالت میں ہے۔ ہندوستان میں میک ان انڈیا کا شیر اس وقت دھاڑے گا جب مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سب سے زیادہ ایف ڈی آئی آئے گی۔
میک ان انڈیا کا ایک اہم پہلو از آف ڈوئنگ بزنس بھی تھا۔ از ڈوئنگ بزنس انڈیکس ورلڈ بینک گروپ کے ذریعہ قائم رینکنگ نظام ہے۔اس میں ہائی رینکنگ کا مطلب ہوتا ہے آسان اور بہتر ضابطہ اخلاق اور جائیداد کے اختیار کی سیکورٹی کی مضبوط بنیاد۔اس کے انڈیکس کے لئے 189 ملکوں سے اعدادو شمار اکٹھے کئے جاتے ہیں جو کاروباری نظام کے 10 سیکٹروں سے لئے گئے ہوتے ہیں۔یہ سیکٹر ہیں: کاروبار کی شروعات، تعمیراتی اجازت نامہ، توانائی کی سہولت ، پراپرٹی کی رجسٹری ، قرض کی سہولت، چھوٹے سرمایہ کاروںکی حفاظت وغیرہ۔ 2016-17 میںان معیاروں کی بنیاد پر ہندوستان دنیا کے 189 ملکوں میں 130ویںمقام پر تھا، جو اب 30 پائیدان نیچے کھسک کر 100 ویںمقام پر آگیا ہے۔ ظاہر ہے سرکار اس کو اپنی حصولیابی بتا رہی ہے کہ اس کے ذریعہ اٹھائے گئے قدموںکی وجہ سے ہندوستان کی رینکنگ میں اتنا بڑا سدھار ہوا ہے۔ لیکن یہاںبھی فائدہ تب دکھائی دے گا جب مینو فیکچرنگ سیکٹر کی سرمایہ کاری میںکوئی بڑا اچھال آئے گا۔ اسٹارٹ اَپ انڈیا اور اسکل انڈیا میںکیسے اعداد و شمار کا کھیل چل رہا ہے ،اس پر ’ چوتھی دنیا‘ پہلے بھی کئی رپورٹیںشائع کرچکا ہے۔
فصل بیمہ
موسم کی مار کی وجہ سے فصل کی بربادی اور اس کے نتیجے میں بڑھتا قرض کا بوجھ ہندوستانی کسانوںکے لیے جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ قرض کے بوجھ کی وجہ سے کسانوںکی خودکشی کا سلسلہ پچھلی کئی دہائیوںسے لگاتار جاری ہے۔ موجودہ وزیر اعظم نے 2014 میںاپنی انتخابی تقریروں میںکسانوںکی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انھو ں نے کہا تھا کہ کسانوں کو ان کی فصل کی لاگت کا کم سے کم دوگنا فائدہ دیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک یہ وعدہ ، وعدہ ہی بنا ہوا ہے۔ اس بیچ کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ جاری ہے۔
چونکہ کسانوںکی خود کشی کی اہم وجہ قرض کا بوجھ ہے، جو فصل کی بربادی کی وجہ سے بڑھتا جاتا ہے۔ فصل کی بربادی کی وجہ سے کسانوںپر پڑنے والے قرض کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے موجودہ سرکار نے 13 جنوری 2016 کو ایک نئی اسکیم ’پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا‘ (پی ایم ایف بی وائی ) کی نقاب کشائی کی۔ اس اسکیم کا مقصد کسانوں پرپریمیم کا بوجھ کم کرنا تھا ۔ سرکار کی طرف سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس اسکیم کے تحت بیمہ دعوے کے نمٹانے کے عمل کو تیز اور آسان کیا جائے گا۔ اس اسکیم کو مرکزی اور ریاستی سرکاریں مل کر لاگو کریں گی۔
ایک مثال کے ذریعہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیںکہ فصل بیمہ کا فائدہ کسانوں کو مل رہا ہے یا نہیں؟ 2016 میںاترپردیش کے بریلی ضلع میںخریف کے سیزن میں53,816کسانوںنے 43403 ہیکٹیئر فصل کا بیمہ کرایا۔ پریمیم کی شکل میں بیمہ کمپنیوں کو پانچ کروڑ سے زیادہ روپے ادا کیے جبکہ فصل بیمہ کا فائدہ محض 1208 کسانوں کو ملا۔ اس بیچ سرکار یہ دعویٰ کرتی رہی کہ فصل بیمہ کے عمل کو آسان بنادیا گیا ہے اور اب کسان کو نہ تو بیمہ کرانے میںپریشانی ہورہی ہے اور نہ ہی معاوضہ حاصل کرنے میں۔ کچھ ایسا ہی حال ملک کی دیگر ریاستوںکا بھی ہے۔ دراصل اس بیمہ اسکیم کا مقصد فطری اسباب سے فصل کی بربادی کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ سے کسانوںکو نجات دلانا ہے۔ لیکن ابھی تک کی رپورٹوں کے مطابق یہ اسکیم کسانوں کا تناؤ کم کرنے کے بجائے اور اضافہ ہی کر رہی ہے۔
وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق پینل میںشامل 11 بیمہ کمپنیوںنے پی ایم ایف بی وائی کے تحت سال 2016-17 میں خریف اور ربیع کی فصلوں کے لیے تقریباً 15891 کروڑ روپے پریمیم کی پالیسی بیچی۔ اس پریمیم کی رقم میںکسانوںکی حصہ داری 2685 کروڑ روپے تھی، جبکہ باقی کی رقم مرکز اور ریاستی سرکاروں کے ذریعہ برداشت کی گئی تھی۔ وزارت کے ذریعہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2016-17 میںبیمہ کلیم کی رقم 13000 کروڑ روپے ہوسکتی ہے، جو کسانوںسے اکٹھا کیے گئے پریمیم سے 80 فیصد زیادہ تھی۔
اس بیچ اپوزیشن کا الزام تھا کہ سرکار نے پردھان منتری بیمہ یوجنا کے سہارے پرائیویٹ کمپنیوںکو فائدہ پہنچایا۔ کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ سال 2016 میںخریف فصل کے لیے بیمہ کمپنیوں کو 17185 کروڑ روپے ادا کیے گئے اور بدلے میںکل 3.9 کروڑ کسانوں کو صرف 6808 کروڑ روپے کی راحت ملی یعنی بیمہ کمپنیوںکو کل 10,000 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا ۔ بھلے ہی اپوزیشن کا جو بھی الزام ہو ،اس دوران بیمہ کمپنیوں نے قبول کیا کہ زرعی بیمہ کی وجہ سے ان کے پریمیم کلیکشن میںاضافہ ہوا۔ یہ بھی سچ ہے کہ کسانوں کے جس طرح کے فائدے کی بات سرکار کر رہی تھی، ویسا فائدہ کسانوںکو نہیںملا۔ نتیجتاً اس پالیسی کے تئیںکسانوںکی اداسی اب ظاہر ہونے لگی ہے۔
وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے حوالے سے چھپی خبرو ںکے مطابق، اس سال خریف اور ربیع دونوںفصلوں کا بیمہ کرانے والے کسانوںکی تعداد میں14 فیصد گراوٹ درج کی گئی جبکہ کل فصل ایریا میں24 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس اسکیم کے تحت مہاراشٹر، گجرات، چھتیس گڑھ اور اتر پردیش جیسی بی جے پی حکومت والی ریاستوں کی کارکردگی سب سے خراب رہی ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام سرکاری دعووں کے باوجود زرعی بیمہ کسانوںکے لیے فائدے کا سودا نہیں۔ وہ اس پالیسی کا فائدہ لینے کے لیے 1.5 سے 5 فیصد کا پریمیم دینے کے لیے بھی تیار نہیںہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *