جھارکھنڈ میں چھایا موت کے ٹیکہ کا خوف

’ سر اسے مت چھوڑیئے ، اسے سخت سے سخت سزا دیجئے۔ اسی کی غلطی سے میرے کلیجے کے ٹکڑے کی موت ہوئی ہے۔‘ سنتوش کی بیوی بلک بلک کر رو رہی تھی۔ پلامو ضلع کے پاٹن ڈویژن کے لوئنگا گائوں کے باشندہ سنتوش یادو کی بیوی اپنے ڈیڑھ سال کی بیٹی سنجو کماری اور ڈھائی سال کے بیٹے آیوش یادو کو آنگن باڑی سینٹر میں لگے کیمپ میں ٹیکہ لگانے کے لئے گئی تھی۔ یہاں بچوں کو بھیجلس، جے ای، ڈی پی ٹی -ڈی اور او پی بی کے ٹیکے دیئے گئے تھے۔ جسے پوری زندگی صحت مند رہنے کے لئے ٹیکہ لگائے تھے، ٹیکہ لگتے ہی ان بچوں کی حالت خراب ہونے لگی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس گائوں کے نصف درجن بچے بشمول ان بچوں کے موت کے منہ میں چلے گئے۔
اے این ایم دروپدی پانڈے نے دوپہر 12 بجے 11بچوں کو ٹیکہ لگائے۔ اس کے لگ بھگ چار گھنٹے بعد ہی بچوں کو تیز بخار اور دست کی شکایت ہوئی۔ نرس نے پاراسیٹامول کی دوائیں دی، اس کے باوجود بچوں کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ 12گھنٹے بعد ہی کئی بچوں کی موت ہو گئی، جبکہ کچھ بچوں کو صدر اسپتال اور رانچی کے رمس میںبھرتی کرایا گیا جہاں دو اور بچوں کی موت ہو گئی۔ بات جب اوپر پہنچی تب معاملے کو رفع دفع کرنے کے لئے اے این ایم دروپدی پانڈے کو معطل کردیا گیا۔ ریاستی سرکار نے رٹارٹایا جواب دیا کہ پورے معاملے کی جانچ کرائی جائے گی۔ ویکسن کو کسولی بھیجا جائے گا اور رپورٹ آنے پر قصوروار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے بھی ایک لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کر ڈالا۔ وزیر اعلیٰ کے معاوضے کا اعلان ہونے کے بعد گائوں کے لوگ اور مشتعل ہوگئے۔اب سوال یہ ہے کہ ٹیکہ کاری میں کس آفیسر نے لاپرواہی برتی اور کس معیار میں ٹیکہ رکھا گیا تھا؟ یہ واقعہ دوبارہ نہ ہو، اس کے لئے ریاستی سرکار کیا ٹھوس قدم اٹھانے جارہی ہے؟
سرکار کے بڑے بڑے دعوے
6ماہ پہلے جب ریاست کے تین بڑے اسپتالوں میں قلت غذائی سے لگ بھگ 200 بچوں کی موت ہو گئی تھی، تب ہائی کورٹ نے اس سانحہ پر نوٹس لیا تھا۔ریاستی سرکار سے پوچھا گیا تھا کہ نونہالوں کو صحت مند رکھنے کے لئے ریاستی سرکار کیا پالیسی بنارہی ہے؟کیا اس کے پاس اس سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس اسکیم ہے؟ریاستی سرکار نے حلف نامہ میں بڑے بڑے دعوے کئے تھے اور کہا تھا کہ زچہ اور بچہ کو صحت مند رکھنے کے لئے غذا سمیت وٹامن اور بیماریوں سے بچنے کے لئے پوری ریاست میں ٹیکہ کاری مہم ’ مشن اندر دھنش ‘چلائی جارہی ہے۔ سرکار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پوری ریاست میں ہیلتھ سروسز دستیاب کرانے کے لئے کئی اسکیمیں چلائی جارہی ہیں۔ ہیلتھ سروسز تیزی سے مہیا کرانے کے معاملے میں جھارکھنڈ تیزی سے بڑھتی ہوئی ریاست ہے۔ ریاستی سرکار کے مشن اندردھنش کے تحت یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ ریاست کے ایک ایک بچے کو مفت میں ٹیکہ لگائے جائیںگے۔ اس کے لئے زور و شور سے تشہیر ی مہم بھی چلائی گئی، جگہ جگہ ٹیکہ کاری کا کام کیا جانے لگا۔
اسے ریاستی سرکار کی لاپرواہی نہیں تو اور کیا کہا جائے گا۔اس ٹیکہ کاری مہم میں پلامو ،گڑھوا اور گوملا سے لگ بھگ ایک د رجن بچوں کی موت ہو گئی۔ پلامو کے میدینی نگر کے لوئنگا گائوں میں ٹیکہ لگانے کے بعد بچوں کی موت ہو گئی۔ ان میں 15 مہینے کااُجول، 18ماہ کی سنجو کماری، 21ماہ کا آرین اور 10 ماہ کا آیوش شامل ہے۔ وہیں سنگین حالت میں دو بچوں کو آناً فاناً رانچی کے رمس میںبھرتی کرایا گیا، جس میں ایک بچے کی موت ہو گئی ۔اس حادثہ کے بعد ریاستی سرکار کچھ سرگرم ہی ہوئی تھی کہ دو دن بعد ہی گوملا ضلع کے بشنو پور ڈویژن میں ایک نومولود بچے کو بی سی جی اور ہپٹائٹس کے ٹیکہ ہیلتھ سینٹر میں لگانے کے بعد ہی موت ہو گئی۔ نومولود کے والد بندیشور ناگا کا کہنا ہے کہ سرکاری ہیلتھ سینٹر میں ایک دن پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ بچہ پوری طرح سے صحت مند تھا لیکن نرس نے جب بچے کو ٹیکہ لگایا تو نومولود کی حالت دھیرے دھیرے بگڑنے لگی اور اس کی موت ہو گئی۔
ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹروں نے مرنے والے بچے کے ماں باپ سے بدسلوکی کی اور انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دیئے۔ اسپتال کے ڈاکٹر انکور کا کہنا ہے کہ پیدائش کے بعد سے ہی نومولود کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔اس کے منہ میں گندگی آگئی تھی، جس سے اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر بچے کی طبیعت خراب تھی تو اسے ہڑبڑی میںٹیکہ کیوں لگایا گیا؟ٹیکہ لگانے سے پہلے بچے کی جانچ کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی گئی؟اگر بچے کی حالت خراب ہو رہی تھی تو اسے بڑے اسپتال میں ریفر کیوں نہیں کیا گیا؟کیا اسپتال کے ملازموں میں ٹیکہ لگانے کے لئے ضروری ٹریننگ کی کمی ہے۔ان سب باتوں سے سبق لینے کے بجائے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ معاملے کی لیپا پوتی میں ہی زیادہ وقت لگا دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ حادثات بار بار ہورہے ہیں۔25اپریل کو بھی ریاست کے وزیر صحت رام چندر چندر ونشی کے ہوم ڈسٹرکٹ میں ایک نومولود کی موت ٹیکہ لگانے کے بعد ہو گئی تھی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سسٹم میں سدھار اول ترجیح ہو
نصف درجن حادثات کے بعد ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور وزیر اعلیٰ کی نیند کھلی اور معاملے کی جانچ کا حکم دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے معاوضے کا اعلان کر ڈالا اور ایک ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔اس سے متاثرخاندان اور مشتعل ہو گیا۔ مرنے والے آیوش کے نانا کہتے ہیں کہ کیا ایک لاکھ سے میری بیٹی کی دنیا سنور جائے گی۔ ان کا ناتی واپس لوٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاوضے سے اچھا ہے کہ سرکار سسٹم کو سدھارے۔
ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی چیف سکریٹری نیدھی کھرے نے پلامو کے سول سرجن کوقصورواروں کو نشان زد کرکے کارروائی کا حکم دیا ہے۔ پلامو کے ڈپٹی کمشنر کو بھی اس معاملے میں جانچ کے لئے کہا گیا ہے۔ اس معاملے کی غیر جانبدار جانچ کے لئے ڈائریکٹر سومنٹ مشرا کو بھی ہدایت دی گئی ہے۔ایک ہفتہ کے اندر جانچ رپورٹ سونپنے کو کہاگیا تھالیکن نصف ماہ کے بعد بھی سرکار کو جانچ رپورٹ نہیں مل پائی ہے۔ ویسے اس معاملے میں پلامو کے سول سرجن ڈاکٹر کلانند مشرا اور ضلع آر سی ایچ آفس بیئرر ڈاکٹر ایم پی سنگھ کے بھی ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ دونوں افسروں نے معاملے کی اطلاع ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے افسروں کو نہیں دی تھی۔ ہیلتھ سکریٹری نے اسے بھی سنجیدگی سے لیتے ہوئے دونوں افسروں کو’ شو کاز نوٹس ‘جاری کیا ہے۔
وزیر صحت رام چندر چندر ونشی نے بتایا کہ لاپرواہی برتنے کے معاملے میں اے این ایم دروپدی پانڈے کو معطل کردیا گیاہے۔ بچوں کو لگائی گئی ویکسن کے وائل اور اسی بیچ کے دو وائل ہماچل پردیش کے کسولیمیں لیبارٹی جانچ کے لئے بھیج دیئے گئے ہیں۔ وہاں دستیاب دیگر ویکسن کو سیز کر دیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں سدھار کے لئے لازمی ہدایت دی گئی ہے۔ریاست کے تمام ہیلتھ سینٹروں ، پرائمری ہیلتھ سینٹر اور سب ہیلتھ سینٹروں کی جانچ کرکے سدھار کے لئے لازمی قدم اٹھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جانچ کے لئے تین ٹیموں کی تشکیل کی گئی ہے۔
ادھر اے این ایم کی معطلی پر آل جھارکھنڈ پارا میڈیکل ایسو سی ایشن کے صدر اوپندر کمار سنگھ نے کہا کہ معاملے میں اے این ایم کہاں سے قصوروار ہیں؟بچے اور ویکسن دیکھنے کی ذمہ داری ڈاکٹروں کی ہے۔ جہاں ٹیکہ کاری ہوتی ہے، وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں رہتا، کوئی ایمرجینسی ڈرگ بھی نہیں رہتا، اے این ایم کا کوئی قصور نہیں ہے لیکن بڑے لوگوں کو بچانے کے لئے چھوٹوں کا شکار کیا گیا ہے۔
پلامو کے بی جے پی سے رکن پارلیمنٹ بی ڈی رام نے کہا کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ آفیسر اور ملازمین پوری طرح سے بے حس بنے ہوئے ہیں۔ ریاست میں ہیلتھ سسٹم پوری طرح سے لچر ہے۔ سول سرجن سسٹم کو سدھار پانے میں بے بس ثابت ہورہے ہیں اور یہاں کے ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس میں لگے رہتے ہیں۔
اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیمنٹ سورین نے کہا کہ یہ سرکار صرف لوٹنے میں لگی ہوئی ہے۔ پوری ریاست میں بنیادی سہولتوں کا بالکل فقدان ہے۔ صحت، تعلیم، لاء اینڈ آرڈر پوری طرح سے ٹھپ ہے لیکن وزراعلیٰ رگھوور داس صرف بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ۔سورین نے وزیر صحت کو فوری طور پر برخاست کرنے کی مانگ گورنر سے کی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر اجے کمار نے بھی وزیر صحت رام چندر چندر ونسی سے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ کی مانگ کی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ٹیکہ کاری کے بعد نہیں ہوئی مانیٹرنگ
ویسے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ٹیکہ کاری میں سخت لاپرواہی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ جانچ رپورٹ آنے سے پہلے ہی پلامو کے سول سرجن نے یہ بتا دیا کہ دوا ٹھیک تھی، ٹھیکہ دینے میں قانون کی پوری طرح سے تعمیل ہوئی ہے۔ سول سرجن کا کہناہے کہ جو ٹیکہ لوئنگا میں دیا گیا تھا، وہی پلامو ضلع میں سبھی بچوں کو لگایا گیا۔یہ 13,730 بچوں کو لگایا گیا، جو پوری طرح سے صحت مند ہیں۔ ایک طرح سے سول سرجن ویکسن کو صحیح بتارہے ہیں، وہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ دوا کسولی بھیجی گئی ہے۔ بچوں کے بِسرا کو بھی صحیح محفوظ رکھا گیا ہے۔ رمس کے سابق چائلڈ ڈیسیز ڈپارٹمنٹ کے سابق صدر اے کے شرما کے مطابق ویکسن میں کوئی کمپونینٹ ایسا ہے ، جس سے بچوں میں ری ایکشن ہوا، ویسے جانچ کے بعد ہی کچھ واضح طورپر کہا جاسکتاہے۔ اگر ٹیکہ کاری کے بعد بچوں کو ایک گھنٹے تک دیکھا جاتا تو ان میں ری ایکشن کے نشان کو دیکھ کر اس کا علاج کیا جاسکتاتھا۔ نارمل ٹیکہ کاری کے بعد بچوں کو کچھ دیر رکھا جاتاہے، تاکہ ٹیکہ کے اثر کو دیکھ سکیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی موت کے اسباب کا تب تک پتہ نہیں چل سکتا جب تک کہ ویکسن کی رپورٹ نہیں آ جائے۔
ویسے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ لاپرواہی ہوئی ہے۔ ٹیکہ کے ویکسن کے معیاروں کی تعمیل نہیں کی گئی۔ ویکسن کو کولڈ چین میں نہیں رکھا گیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں صرف لوٹ کھسوٹ ہی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ریاست کے اسپتال بھی بد حال ہیں۔ اسکیموں کی تو بات ہی الگ ہے۔ آفیسر ، لیڈر، ٹھیکہ دار اور بچولیے صرف کاغذوں پر ہی اعدادو شمار تیار کرتے ہیں اور ہیلتھ ڈپارٹمنٹ انہی اعدادو شمار کی بنیاد پر ریاست کو ہیلتھ سروسز کے معاملے میں اول بتا دیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *