غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام سالانہ فخرالدین علی احمدمیموریل لیکچر

fakhruddin-lecture
ؒ تصویر میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،جسٹس بدر دُرریز احمد ،پروفیسر محمد شمیم جیراجپوری، ڈاکٹر سید رضا حیدر
نئی دہلی :غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام وزارت ثقافت، حکومت ہند کے تعاون سے فخرالدین علی احمد میموریل لیکچر بعنوان’ انسانوں، جانوروں اور پیڑ پودوں کو شدید نقصان پہنچانے والے خورد بینی کیڑے ‘کا انعقاد کیاگیا، جس کی صدارت جسٹس بدردریزاحمد، سابق چیف جسٹس،جموں وکشمیر نے کی۔ سالانہ فخرالدین علی احمد میموریل لیکچر دیتے ہوئے زولوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ڈائرکٹر اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد شمیم جیراج پوری نے کہا کہ کیڑوں کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں حالاں کہ یہ کیڑے ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اور بہت کم فائدہ بھی پہنچاتے ہیں۔کیڑوں کی 37ایسی قسمیں پائی جاتی ہیں، جو انسانوں میں پائے جاتے ہیں اور ان سے ہمیں شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے کیڑے ہر جگہ اور ہر زمین میں پائے جاتے ہیں۔ ان سے فصلوں کو بھی بہت نقصان پہنچتا ہے۔ میں نے تیس چالیس برسوں تک ان کیڑوں کا تعاقب کیا ہے۔جوہمیں نظر نہیں آتے ، ان کیڑوں کی وجہ سے سالانہ تقریبا بیس ہزار سے پچاس ہزار تک اموات ہوتی ہیں۔ یہ کیڑے آنکھوں میں بھی داخل ہوجاتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ وائرس اور بکٹیریا نیمی ٹور نہیں ہیں۔ میں فخر کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ ہمارے ملک اور اے ایم یو کی اس موضوع پر کافی خدمات ہیں۔اس معاملے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خدمات فراموش نہیں کی جاسکتیں۔

 

 

یہ بھی پڑھیں   سول سروسز امتحانات میں 51مسلمان کامیاب

 

اس موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے ٹرسٹی جسٹس بدردریزاحمد،سابق چیف جسٹس جموں وکشمیر نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ یہ دن میرے لئے کافی اہم ہے، چوں کہ 13 مئی 1905کو میرے والدسابق صدرجمہوریہ ہندفخرالدین علی احمد پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چھ سال جیل میں گزارے۔ خراب زمانے میں بھی خال خال اچھے لوگ ہوتے ہیں انہیں ہمیں ڈھونڈنا چاہیے۔ آج کا لیکچر سائنسی موضوع پر تھا ایسے موضوعات پر مزید پروگرام ہونے چاہئیں۔ سائنس کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اسے جاننا ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے۔اس ادارے کی طرف سے اس طرح کے پروگرام کا انعقاد خوش آئندہے ۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمان قدوائی نے کہا کہ یہ لیکچر دیگر پروگراموں کی طرح نہیں ہے بلکہ بہت منفرد ہے۔ اس لیکچر کے ذریعہ ہم مرحوم فخرالدین علی احمد صاحب کو یاد کررہے ہیں آج کا یہ لیکچربہت اہم ہے ۔ سائنس کی دنیا ہمیں بتاتی ہے کہ ہم ابھی کتنے پانی میں ہیں۔ یہ زندگی جتنی پراسرار ہے اس کا علم اب تک ہمیں نہیں ہواہے ۔انسان جب سے ہے، تب سے اسرار کا انکشاف ہورہاہے اور یہ سلسلہ نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ اس طرح کے موضوعات پر مشتمل پروگراموں اور خطبات میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ایسے لیکچر کا ہم آئندہ بھی انعقاد کریں گے اور اس لیکچر کوبھی ہم شائع کریں گے۔ شمیم جیراجپوری ،مولانا اسلم جیراجپوری کے صاحب زادے ہیں، جن سے اقبال مشورے کیاکرتے تھے۔پروفیسر جیراجپوری اور بدردریز احمد صاحب اور تمام مہمانوں اور سامعین کا میں شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ نے اس پروگرام میں شرکت کی اوراس پروگرام کو کامیاب کیا ۔

 

اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سیدرضا حیدر نے تعارفی اور استقبالیہ کلمات کے دوران کہاکہ یہ لیکچر ملک کے سابق صدر جمہوریہ اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے بانی فخرلدین علی احمد کے یوم پیدائش کے موقع پرہرسال منعقد ہوتا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے پروگراموں میں یہ لیکچر خصوصی اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم آج کے دن کو یوم اتحاد اور یوم سا لمیت کے طور پر بھی مناتے ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ جب تک یہ ملک رہے گا اور جب تک اس ملک کی تاریخ رہے گی سابق صدر جمہوریہ کی خدمات کو یادکیاجاتا رہے گا۔ اس لیکچر کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ بڑی بڑی شخصیات نے یہ لیکچر دیا ہے،جن میں ملک کے سابق وزیراعظم آئی کے گجرال بھی شامل ہیں ۔آج کا موضوع انسانی زندگی سے متصل ومنسلک ہے۔یہ لیکچر غالب انسٹی ٹیوٹ کی تاریخ میں نیااضافہ ہے۔اس جلسے میں بڑی تعدادمیں مختلف علوم وفنون کے لوگ شامل تھے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *