اِفلو ، حیدر آباد کی طالبہ انعم نے اسرائیل میں امن کے قیام پر مقالہ پیش کیا

Anam
دربھنگہ :انگلش اینڈ فارن لینگویج یونیورسٹی (EFLU)، حیدر آباد کے شعبۂ انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی ریسرچ اسکالر انعم (دختر پروفیسر ایم نہال، ڈائریکٹر، ڈبلیو آئی ٹی، ایل این ایم یو ، دربھنگہ)بہار نے گزشتہ14-16؍مئی 2018 کے دوران اسرائیل کی بین گورئین یونیورسٹی کے نی گیو، سیڈ بوقر کیمپس میں منعقدہ سہ روزہ کانفرنس بعنوان ’’اسرائیل : اے کیس اسٹڈی‘‘ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن باہمی کے قیام کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ ان کا مقالہ اس نکتے پر گردش کر رہا تھا کہ دونوں ممالک میں قیامِ امن کے لئے باہمی گفت و شنید ہی واحد اور بہترین ذریعہ ہے۔ اس گفت و شنید میں ادب بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین دونوں ممالک اپنے تاریخی اور مذہبی ورثے ،جدید ہتھیاروں سے لیس افواج ، معیشت اور سیاست کے ساتھ بین الاقوامی منظرنامے پر اپنی مستحکم شناخت قائم کرنے کی تگ و دو میں مشغول ہیں۔ نیزدونوں ممالک میں حدودِ اراضی اور مذہبی مقامات کی تحویل کو لے کر عرصۂ دراز سے نااتفاقی ہے جو اکثر فوجی جھڑپوں تک پہنچ جاتی ہے۔
انعم نے اپنے مقالہ میں سینڈی تولان کی کتاب ’’دی لیمن ٹری‘‘سے بھی چند اقتباسات بطورِ حوالہ پیش کئے جس کی بے حد پذیرائی کی گئی۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں اس نکتے پر زور دیا کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ، بلکہ ادب اس مسئلہ کا تصفیہ کن حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کانفرنس میں اسرائیل کی وسعت پذیر معیشت ، منظم مسلح افواج اور فلسطینی ریاست کے ساتھ تعلقات پر کئی اور بھی مقالے پیش کئے گئے۔ دنیا کے مختلف خطوں شمالی افریقہ ، اسپین ، بعید یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم یہودی نسل کے نمائندوں نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور اپنی باتیں رکھیں۔ سفر کے دوران انھیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ہر اسرائیلی کے لئے فوجی تربیت لینا لازمی ہے۔ حکومت کی جانب سے لڑکیوں کو دو سال اور لڑکوں کوتین سال تک فوجی تربیت دی جاتی ہے جس کے دوران انھیں جدید ہتھیاروں کا استعمال بھی سکھایا جاتا ہے ۔ کانفرنس کے خاتمہ کے بعد انعم نے دیگر مندوبین کے ساتھ اسرائیل کے چند سیاحتی مقامات کی سیر بھی کی ۔ علاوہ ازیں انھیں مقاماتِ مقدسہ بشمول قبلۂ اول مسجد اقصیٰ ، دیوارِ گریہ (Wailing Wall) ، قبۃ الصخرہ، کنیسۃ القیامۃ (Church of the Holy Sepulcher) وغیرہ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ چار مذاہب کے ماننے والوں یعنی یہودیوں ، عیسائیوں ، مسلمانوں اور آرمینیوں کے لئے یکساں مقدس شہر یروشلم پہنچ کر انھیں روحانی سرشاری حاصل ہوئی اور یہیں انھوں نے رمضان المبارک کے آغاز پر چند روزے بھی رکھے۔ قبلۂ اول مسجد اقصیٰ ، بیت المقدس اور الصخرہ مسجد میں مقامِ معراج پہنچنے پر ان مقامات کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو یاد کر کے ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ جذب کا عالم طاری ہوگیا ۔ وہ خود کو بیحد خوش نصیب محسوس کرنے لگیں کہ حرمین شریفین کے بعد مسلمانوں کے مقدس ترین مقام پر اللہ نے انھیں پہنچایا۔ یروشلم میں ان کا قیام ایک نصف ہندوستانی ۔نصف اسرائیلی خاندان کی رہائش گاہ میں ہوا، جہاں شوہر ہندوستانی تھے اور ان کا تعلق انعم کی آبائی ریاست بہار سے تھا جنھوں نے ایک اسرائیلی سے شادی کی تھی۔ اس جوڑے کے دو بچے تھے جو اپنی ماں کی طرح عبرانی میں ہی بات کرتے تھے ۔ ان لوگوں کے ساتھ انعم نے بہت اچھا وقت گزارا۔
ہندوستان لوٹنے کے بعد انعم نے اخبار سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی ریاست اپنے آپ میں بیحد مضبوط ہیں۔ یہی سبب ہے کہ دونوں میں ٹکراؤ کی نوبت آتی رہتی ہے۔ میں نے مختلف مقامات کی تصویریں اور وہاں کی خوبصورت یادیں اپنے کیمرے اور ذہن دونوں میں قید کی ہیں۔ اسرائیل کا یہ سفر میرے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر ہے۔ اس سفر کے دوران میں نے کئی تعلیمی ، تہذیبی ، ثقافتی ، تاریخی اور روحانی اسباق پڑھے ، جو میری تعلیمی زندگی کا ایک اثاثہ بن چکے ہیں۔ میں چاہوں گی کہ اسی طرح کی کانفرنس ہندو پاک اور شمالی ۔جنوبی کوریا کے مابین مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی منعقد کی جائیں تاکہ دنیا کے ان خطوں میں امن و شانتی کا دور دورہ ہو۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *