دہلی اقلیتی کمیشن نے گڑ گاؤں میں نماز کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ ہریانہ کو مکتوب بھیجا

dr-zafrul-islam
دہلی کے مضافاتی علاقہ گڑگاؤں میں کھلی جگہوں پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے بارے میں وزیر اعلی ہریانہ منوہر لال کھٹر کو صدر دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے خط لکھ کر کچھ اہم امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وزیر اعلی ہریانہ نے کہا تھا کہ اگر لوگوں کو اعتراض نہ ہو تو کھلی جگہ پر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ میں آپ کے موقف کی تایید کرتااگر یہی ضابطہ کھلی جگہوں کو مذہبی اور سماجی استعمال کے تمام واقعات کے بارے میں عادلانہ طور سے اپنایا جاتا۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے صوبے میں پولیس اور انتظامیہ کو حکم دیں کہ کھلی جگہوں، سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے سارے مذہبی ڈھانچے ہٹادیں اور تہواروں کے دوران رہائشی اور تجارتی علاقوں میں کھلی جگہوں اور سڑکوں کو ہر سال کئی کئی دن کے لئے استعمال سے روکیں‘‘۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے مزید لکھا ہے کہ گڑگاؤں میں پچھلے بیس سال سے مسجد تعمیر کرنے کی ایک درخواست معرض التواء میں ہے۔ اسی طرح ہریانہ وقف بورڈ کے مطابق گڑگاؤں میں انیس (19) مسجدوں پر یا تو غیروں کے قبضے ہیں یا وہ کھنڈر ہیں۔ براہ کرم ان جگہوں پر مسلم سماج اور ہریانہ وقف بورڈ کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے مکتوب میں مزید لکھا ہے کہ گڑگاؤں کے علاوہ ہریانہ کے بہت سے شہروں مثلا سونی پت، پانی پت ،روہتک، حصار، جھجر، ہانسی، کرنال اور امبالا میں ہزاروں ایسی مسجدیں ہیں جن پر اغیار کے قبضے ہیں۔ صرف پانی پت میں ایسی تقریباسو مسجدیں ہیں جن پر دوسروں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کی تفصیلات ہریانہ وقف بورڈ سے مل جائیں گی۔آخر میں ڈاکٹر ظفرالاسلام نے اپنے خط میں وزیر اعلی ہریانہ کو لکھا ہے:” مجھے امید ہے کہ آپ راج دھرم کا لفظ اور روح کے مطابق پالن کریں گے تاکہ آپ کے صوبے میں قانون اور انصاف کا راج ہو”۔ اپنے خط کے ساتھ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے گڑگاؤں کی انیس (19) مسجدوں کی لسٹ منسلک کی ہے جسمیں ہریانہ وقف بورڈ کے مطابق نماز کی اجازت نہیں ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں   دہلی -این سی آرمیں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *