کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے ملک کے ہیریٹیج

مودی سرکار اب ملک کی اہم تاریخی آثار قدیمہ کو بھی پرائیویٹ کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کرنے جارہی ہے۔سرکار نے ملک کی آزادی کے گواہ رہے دہلی کے مشہور لال قلعہ کو پچھلے دنوں ڈالمیا گروپ کو سونپ کر اس کی باضابطہ شروعات کردی ہے۔ اس کے بعد عالمی شہرت یافتہ تاج محل اور دہلی کے قطب مینار کو کارپوریٹ گھرانوں کو دینے کا منصوبہ ہے۔
ڈالمیا کو ملا پانچ برس کے لئے لال قلعہ
مرکزی سرکار کی وزارت سیاحت کی ’ ایڈاپٹ اے ہیریٹیج ‘ اسکیم کے تحت لال قعہ کو اگلے پانچ سال کے لئے ڈالمیا گروپ کو سونپ دیا گیا ہے۔ ڈالمیا گروپ نے اسے 25کروڑ کی بولی لگا کر حاصل کی ہے جبکہ انڈیگو ایئر لائنس اور جی ایم آر گروپ سمیت دوسرے دعویدار اس تاریخی عمارت کو پانے میں ناکام رہے۔ وزارت سیاحت ، وزارت ثقافت اور آرکیالوجی محکمہ کے ساتھ ہوئے مشترکہ معاہدے کے تحت ڈالمیا گروپ اگلے پانچ سالوںکے اندر لال قلعہ میں سیاحت کی بنیادی سہولتوں، مثلاً پینے کا پانی، روشنی، عوامی وسائل، کینٹن ، گائڈس، اور رکھ رکھائو وغیرہ کا معقول انتظام کرے گا۔ حالانکہ ڈالمیا گروپ اپنی کمپنی کے سی ایس آر ( کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی ) فنڈ سے اس پر ضروری رقم خرچ کرے گا لیکن پھر بھی بار بار کے خرچوں کی بھرپائی کے لئے گروپ کو سیاحوں کی انٹری فیس وصول کرنے اور عمارت کے اندر گروپ کی تشہیر سے متعلق ہورڈنگ لگانے کی آزادی ہوگی۔ ڈالمیا بھارت گروپ کے سی ای او مہندر سندھی کا دعویٰ ہے کہ وہ لال قلعہ کمپلکس کو یوروپین ملکوں کیقلعوں کی طرز پر ڈیولپ کریںگے۔ یوروپ کے قلعے حالانکہ لال قلعہ کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں لیکن انہیں اتنے شاندار ڈھنگ سے سنوارا گیا ہے کہ دنیا بھر سے سیاح انہیں دیکھنے آتے ہیں۔
ڈالمیا بھارت لمیٹیڈ اور مرکزی وزیر سیاحت، وزارت ثقافت کے تحت ہندوستانی آثار قدیمہ سروے محکمہ کے بیچ لال قلعہ کو پرائیویٹ سیکٹر کو سونپنے کا معاہدہ 9اپریل کو ہی ہو گیاتھا لیکن اس کا باضابطہ اعلان 24 اپریل کو کیا گیا۔ سمجھوتے میں شرط رکھی گئی ہے کہ اگر ڈالمیا گروپ لال قلعہ احاطے میں آثار قدیمہ کی ہدایتوں کی تعمیل نہیں کرے گا تو یہ معاہدہ رد کر دیا جائے گا۔ کہا یہ بھی جارہاہے کہ انٹری فیس سے ہونے والی آمدنی کو کارپوریٹ گھرانے انہی آثار قدیمہ کے رکھ رکھائو پر ہی خرچ کریں گے لیکن اس کا کوئی نگرانی نظام نہیں بنا ہے۔
یوں تو سرکار نے ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کے زیر نگرانی 105 تاریخی مقامات کو ان کی زیبائش اور ڈیولپ کے لئے کارپوریٹ گھرانوںکو سونپنے کے لئے نشان زد کیا ہے لیکن ’ ایڈاپٹ اے ہیریٹیج‘ سکیم کے ابتدائی مرحلے میں ابھی صرف 22 آثار کو ہی پرائیویٹ سیکٹر کو دیا جائے گا۔ اس کے لئے وزارت سیاحت نے فی الحال 9 کمپنیوں کو پرائیویٹ لیٹر آف انٹینٹ جاری کر دیئے ہیں۔اسکیم کے اگلے مرحلے میں جن آثار کو پرائیویٹ گھرانوں کو سونپا جانا ہے ،ان میں آگرہ کا تاج محل، دہلی کا قطب مینار اور گول گنبد، مائونٹ آبو کا دلبارا ٹیمپل اور نکی لیک، آغا خاں پیلیس (پونے) ، راجستھان میں چتور گڑھ کا قلعہ، کمہل گڑھ فورٹ اور کرناٹک کے ہمپی میں کرشن ٹیمپل ، لوٹس محل جیسی عالمی شہرت یافتہ عمارتیں شامل ہیں۔ پرائیویٹ گھرانوں کو دی جانے والی وراثتوں میں کورناک کا مشہور سوریہ مندر، دہلی کا پرانا قلعہ اور آگرہ فورٹ کے بھی نام شامل ہیں۔
ان میں سے دہلی کا پرانا قلعہ نیشنل بلڈنگ کنسٹرکشن کمپنی ( این بی سی سی ) کو، جنتر منتر ایس بی آئی فائونڈیشن کو، قطب مینار مشہور آن لائن ٹریول کمپنی یاترا ڈاٹ کام اور صفدر جنگ کا مقبرہ ٹریول کارپوریشن آف انڈیا کو دینے کا فیصلہ سرکار نے کرلیا ہے۔ تاج محل کو گود لینے کی سب سے زیادہ ہوڑ ہے۔ اسے لے کر آئی ٹی سی اور جی ایم آر گروپ کے بیچ جنگ جاری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تاج محل کو دیکھنے کے لئے ہر سال لاکھوں سیاح دنیا کے کونے کونے سے آتے ہیں۔
’ایڈاپٹ اے ہیریٹیج ‘ اسکیم کا اعلان ستمبر 2017 میں عالمی ماحولیاتی دن کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت ملک کی چنندہ تاریخی عمارتوں اور سائٹس کے بہتر رکھ رکھائو ، نظم و نسق اور وہاں سیاحوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ ڈیولپ کرنے کے مقصد سے پرائیویٹ کمپنیوں کو ایک کمیٹی معاہدے کے تحت دیئے جانے کی تجویز ہے۔ کمپنیاں اپنی سی ایس آر فنڈ سے ان آثار قدیمہ میں سیاحوں کے لئے ٹائلٹس ، کیفیٹریا، لائٹنگ، گائڈ ایپس،اسٹریٹ بینچ وغیرہ کا انتظام کرے گی۔ کمپنی تکنیکی طور سے ان آثار قدیمہ کو گود لیں گی۔ حالانکہ اسے نام دیا گیا ہے ’اسمارک مِتر ‘ کا لیکن کارپوریٹ کمپنیاں ان یادگائوں میں سیاحوں سے انٹری فیس وصول کرنے سے لے کر وہاں کمرشیل سرگرمیاں چلانے اور اپنی براڈنگ کرنے کے لئے آزاد ہوں گی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

فعال ہوا اپوزیشن
لال قلعہ سمیت ملک کی تمام تاریخی عمارتوں کے پرائیویٹ گھرانوں کو سونپنے کے سرکار کے فیصلے کو لے کر برسراقتدار اور اپوزیشن کے بیچ تیکھی الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیاہے۔ کانگریس، سی پی ایم اور ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ سرکار ملک کے قومی آثار قدیمہ کو اپنے چہیتے کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں نیلام کر رہی ہے۔ کانگریس نے اسے تاریخ کا کالا دن بتایا ہے۔ وہیں مغل خاندان کے خود ساختہ وارث پرنس توسی کا کہنا ہے کہ بد حال ہوتے ان آثار قدیمہ کی حالت میں سرکار کا یہ قدم قابل ستائس ہے۔ دوسری طرف وزیر سیاحت کے جے الفانس کا کہنا ہے کہ کسی بھی عمارت کو لیز پر یا ری برانڈنگ کے لئے کارپوریٹ گھرانوںکو نہیں دیا جارہاہے۔ کمپنیاں اپنے سی ایس آر فنڈ سے ان جگہوں پر سیاحوں کی سہولت کے لئے صرف ضروری وسائل جمع کریں گی۔ اس سے سرکار کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ۔ وزیر سیاحت نے یہ بھی بتایا کہ ہمایوں کے مقبرے کے کایا بدلنے کا کام ایک باہری ایجنسی ’آغا خاں فائونڈیشن ‘ کو دیا گیا تھا لیکن اس بار سرکار نے کسی کمپنی کو یادگاروں کے موجودہ ڈھانچے میں کسی چھیڑ چھاڑ یا بدلائو کی اجازت نہیں دی ہے۔
اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ کمپنیاں بولیں کچھ بھی ، لیکن لال قلعہ اور تاج محل جیسی عالمی شہرت عمارتیں ان گھرانوں کے لئے سیلف برانڈنگ کے ساتھ ساتھ کمائی کا بھی شاندار ذریعہ ہیں۔مثال کے لئے لال قلعہ میں سیاحوں سے وصول کی جانے والی انٹری فیس سے سرکار کو تقریباً 6کروڑ کی سالانہ آمدنی ہوتی ہے۔یہ اعدادو شمار 2014 کے ہیں جب لال قلعہ کی انٹری فیس 10روپے تھی۔ 2016 سے لال قلعہ کا ٹکٹ 30 روپے ہو گیاہے۔ اس اوسط سے اب اس کی سالانہ کمائی 18 کروڑ ہو چکی ہے۔ صاف ہے کہ پانچ سال میں 25کروڑ خرچ کرکے 90کروڑ کی کمائی کرلینا کسی بھی صنعتی گھرانے کے لئے فائدہ مند کاروباری سرگرمی سے کم نہیں ہے۔ اس پر ایک اپوزیشن لیڈر نے اروند ارون کے مصرعے کہتے ہوئے طنز کیا ہے:
جنگل دیا اڈانی کو، تیل گیس امبانی کو
لال قلعہ ڈالمیا لے گئے، اب تاج محل کی باری ہے،
صاحب کی لیلا نیاری ہے ،ملک کی بکری جاری ہے۔
اپوزیشن نے لکھی عبارت
مرکزی سرکار کی جس ’ایڈاپٹ اے ہیریٹیج‘ اسکیم کو لے کر ملک میںاتنا ہائے توبہ مچایا جارہا ہے، دراصل اس کی عبارت تو اپوزیشن نے ہی لکھی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تاریخی مقامات کو ان کے رکھ رکھائو کے لئے پبلک ، پرائیویٹ کمپنیوں کو سونپنے کی سفارش لوک سبھا کی ٹریفک، سیاحت اور ثقافت سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی نے کی تھی۔ اس کمیٹی کی صدارت ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈریک او برائن ہیں۔ اس کے علاوہ کمیٹی کے دوسرے ممبروں میں کانگریس کے راجیو شکلا، این سی پی کے پرفل پٹیل اور مارکسوادی پارٹی کے ریتا ورت بنرجی شامل رہے ہیں۔ اس کمیٹی نے یہاں تک کہا تھا کہ کارپوریٹ گھرانوں کو کم سے کم ایک تاریخی عمارت کے رکھ رکھائو کے لئے گود لینے پر مجبور کیا جانا چاہئے۔ کمپنیاں اپنے سی ایس آر فنڈ سے ان مقامات کا ڈیولپ اور بہتر رکھ رکھائو کریں جس سے ہم ہندوستان کی ثقافت اور قابل فخر ماضی کو دنیا کے نقشے پر وقار کے ساتھ دکھایا جاسکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *