مجبور محض سی ایم یوگی

اترپردیش کے وزیر اعلی ٰیوگی آدتیہ ناتھ کہتے ہیں کہ وہ لینڈمافیاہٹائیں گے لیکن نوکر شاہ اور لینڈ مافیا ساتھ مل کر یوگی کو ہی اوقات میں رکھنے کی صورت حال پید ا کرتے ہیں۔یوگی کا ’اینٹی لینڈ مافیا ابھیان ‘اسی لئے فیل ہو رہا ہے۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو، بی جے پی ہو سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی ہو یا کانگریس، یا چھوٹی پارٹی۔۔۔ساری پارٹیاں بدعنوانی کے دلدل میں دھنسی ہوئی ہیں۔کوئی لینڈ مافیا بی جے پی سے منسلک ہے تو کوئی سماج وادی پارٹی سے ،تمام مافیا اور دلال کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں،نوکر شاہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں ،تو کیسے نہیں فیل ہوگا یوگی کا ابھیان۔’اینٹی لینڈ مافیا ابھیان ‘کے ایک سال ہو گئے۔ لینڈ مافیائوں کی گرفت سماج میں اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔اب زیادہ شاطرانہ طریقے سے لینڈ مافیا شکار کررہے ہیں۔ کچھ ٹھوس مثالوں کے ساتھ پیش ہے لینڈ مافیائوں اور حکومت کے نیکسس کو اجاگر کرتی یہ منفرد رپورٹ۔

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لینڈ مافیائوں (زمین مافیائوں )پر کارروائی کے لئے بڑے بڑے احکام جاری کئے ، بڑے بڑے اعلانات کئے اور بڑے بڑے اشتہارات کے کندھے پر سوار ہو کر’ اینٹی لینڈ مافیا پورٹل‘ جاری کیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟اس کا نتیجہ ریاست کے عام لوگ بھگت رہے ہیں، جن کی زمینیں اور گھر لینڈ مافیائوں کے قبضے میں ہیں اور انتظامیہ و حکومت کے متعلقہ آفیسر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کارروائی کے نام پر بانس کی لمبی لچیلی چھری سے گھاس ہٹانے کا کام ہو رہاہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے مودی کا ’سوچھتا ابھیان ‘ چل رہا ہے ۔سماج میں چاروں طرف مافیا پھیلے ہوئے ہیں یا گندگی پھیلی ہے۔
نوئیڈا ور گریٹر نوئیڈا کا جائزہ
آپ کو لینڈ مافیائوں کا ننگا راج دیکھنا ہو تو اترپردیش کی قومی راجدھانی دہلی کے اطراف کا دورہ کرلیں۔ صرف نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا کے علاقے کا ہی جائزہ لے لیں تو ’اینٹی لینڈ مافیا آپریشن ‘ کی بھونڈی حقیقت سے آپ متعارف ہو جائیںگے۔ یوگی سرکار کے اعلان اور کارروائی کی ایک عجیب سچائی یہ بھی ہے کہ لینڈ مافیائوں کے خلاف کی گئی کارروائی کا کوئی بیورا سرکار کے ’اینٹی لینڈ مافیا پورٹل ‘ پر دستیاب نہیں ہے۔یہاں تک کہلینڈ مافیائوں کے خلاف کارروائی کے2 احکام جاری کرنے کے بعد سرکار مست ہو گئی۔ ایک حکم نامہیکم مئی 2017 کو نکلا اور دوسرا7 دن بعد8 مئی 2017 کو۔ اس کے بعد سرکار کو کوئی حکم جاری کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
یوگی سرکار لینڈ مافیائوں کے خلاف کی گئی کارروائی کا سبھی اضلاع سے نہ کوئی حساب و کتاب کیا اور نہ قصوروار افسروں اورملازموں کے خلاف کوئی سزا مقرر کی۔ محکمہ داخلہ کے ایک اعلیٰ آفیسر نے دعوے سے کہا کہ لینڈ مافیائوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہیں۔پھر کارروائیوں کا بیورا سرکاری پورٹل پر عوامی کیوں نہیں کیا گیا؟مافیائوں کا نام عوامی کرنے میں سرکار کو تذبذب کیوں ہو رہا ہے؟اس کے پیچھے کون سی سیاسی منشا ہے؟یہ سوال پوچھنے پر مذکورہ آفیسر کوئی جواب دینے کے بجائے یہ گزارش کرنے لگے کہ ان کا نام نہ چھاپا جائے۔یہ کہتے ہوئے آفیسر نے مانا کہ ابتدا میں کچھ اضلاع سے کارروائی کے بارے میں پوچھ تاچھ ضرور کی گئی اور لئے گئے ایکشن کا بیورا بھی منگوایا گیا لیکن بعد میں سب پرانی رفتار میں آگیا ۔یہ ہے سرکار کی سماجی کارکردگی کی فعالیت اور شفافیت۔
لینڈ مافیائوں کا اثر
اب آپ تھوڑا اورمرکزمیں آئیں،فوٹو صاف صاف دیکھنے کے لئے جس طرح زوم کرنا پڑتا ہے اسی طرح اگر آپ ایک خاص علاقہ گوتم بودھ نگر کو فوکس کریں تو آپ کو صاف دیکھنے کو ملے گا کہ آج کی تاریخ میں سب سے بیش قیمتی علاقے کا سوامی گوتم بودھ نگر کس طرح دیمکوں سے بھرا پڑا ہے۔ زمین مافیا ،دلال ، بد عنوان آفیسر اور ملازمین دیمک کی طرح نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا کو چوس چوس کر کھوکھلا کئے جارہے ہیں اور وزیر اعلیٰ ’ اینٹی لینڈ مافیا پورٹل ‘جاری کرکے مطمئن ہیں۔
نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میں تو زمین مافیا نہ صرف زمینوں، مکانوں پر قبضہ کررہے ہیں ،بلکہ وہ سرکاری زمینوں کو بھی بندھک رکھ کر بینک سے قرض اٹھا رہے ہیں۔ اس گورکھ دھندے میں نیشنلائزڈ بینک کے آفیسر ملوث ہیں۔ بینک کی ملی بھگت سے زمین کے دستاویزوں میں مجرمانہ پھیر بدل کرکے اس پر بھی لاکھوں روپے کا قرض حاصل کیا جارہا ہے۔ ایک ہی زمین پر بینک کئی کئی بار قرض دے رہا ہے۔ قرض لوٹ کی ایسی ہوڑ مچی ہے کہ اعلیٰ ذات کے زمین مافیا دلت برادری کے بھو سوامی کو اپنا نانا دادا بتا کر ان زمینوں کو اپنا دکھا رہے ہیں اور اس پر قرض لے رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مسلمان بھی لینڈ مافیائوں کے لپیٹ میں
مسلمان لینڈ مافیا دلت بھو سوامی کو اپنا سگا رشتہ دار بتانے سے ہچکچا نہیں رہے ہیں اور ایسے ہی دستاویز بھی بنوا لیا ہے ۔یہ زمین مافیا نوئیڈا اتھارٹی کو زمین دے کر ایک طرف بھاری معاوضہ کما رہے ہیں تو دوسری طرف اسی زمین کو بندھک رکھ کر بینک سے قرض بھی لے رہے ہیں۔ لینڈ مافیائوں کی انتظامیہ و حکومت پر اتنی پکڑ ہے کہ کوئی چوں تک نہیں کرسکتا۔ جن زمینوں کا مالکانہ حق نوئیڈا ایکوائر کے نام ہوچکا ہے، ان زمینوں پر بھی زمین مافیائوں کے ذریعہ بینک سے لاکھوں روپے کا بار بار قرض لینا یہی بتاتا ہے کہ سسٹم پر لینڈ مافیائوں کی کتنی مضبوط پکڑ ہے۔
اب آپ کو ایک خاص ’ کیس اسٹڈی ‘ سے واقف کراتے ہیں۔ گوتم بودھ نگر کی دادری تحصیل کے جارچا گائوں کو گریٹر نوئیڈا اتھارٹی، دادری تحصیل کے افسروں اور لینڈ مافیائوں نے مل کر ریونیو لوٹ کا اڈہ بنا رکھا ہے۔ انتظامیہ میں افراتفری کا حال یہ ہے کہ دلتوں اور کچھ دیگر کمزور طبقہ کے لوگوں کی قانون کے مطابق خریدی گئی زمینوں اور مسلمانوں کی قبرستان کی زمین کو بھی سرکاری زمین دکھا کر ضبط کر لیا گیا ہے۔ ان زمینوں پر پہلے سے دلتوں کے مکان، دکان اور مسلمانوں کا قبرستان تھا۔ اسی میں مشہور فلمی اداکار جگدیپ کے دادا مرحوم علمدار حسین جعفری کی بھی قبر ہے۔ لینڈ مافیا اب انہی ضبط شدہ زمینوں کو مارگیج کرکے بینک سے قرض لے رہے ہیں اور قبرستان کی زمین پر مارکیٹنگ کمپلکس بنانے کی تیاری میں لگے ہیں۔ دلتوں اور دیگر لوگوں کے مکانوں اور دکانوں پر تحصیل کا تالا لگا دیا گیا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ بدعنوان افسروں اور مافیائوں سے ملی بھگت کرکے تالے کھلوا کر رہ رہے ہیں۔
یہ معاملہ اعلیٰ افسروں کی نوٹس میں بھی لایا گیا ، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مشہور فلمی اداکار سید اشتیاق احمد جعفری عرف جگدیپ کے خاندان اور ان کے تمام نزدیکی رشتہ داروں، مثلاً عارف عباس جعفری ، بو علی جعفری وغیرہ کی آبائی قبر گاٹا نمبر 1403 میں درج تھی لیکن کاغذات میں فرضی واڑہ کرکے اسے سرکاری ریونیو لینڈ میں درج کر دیا گیا۔ ایک طرف اسے سرکاری زمین میں درج کر دیا گیا تو دوسری طرف لینڈ مافیائوں نے اتھارٹی اور تحصیل کے افسروں سے ملی بھگت کرکے وہاں مارکیٹنگ کمپلکس بنانے کی تیاری شروع کردی۔
مذکورہ زمین پر شیعہ مسلمانوں کے آبائی قبرستان ہونے کے تاریخی دستاویز اور ساتھ ساتھ چکبندی اور ریونیو کے سارے پرانے ریکارڈ پیش کئے گئے لیکن رشوت میں ڈوبے افسروں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اس قبرستان میں فلمی اداکار جگدیپ کے دادا علمدار حسین جعفری سمیت کئی شخصیتوں کی قبریں آج بھی اپنی گواہی پیش کررہی ہیں۔ لیکن زمین مافیا اسے مٹا دینے پر آمادہ ہیں۔بدعنوانی کا عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ قبرستان کی زمین کو بھی بندھک رکھ کر لینڈمافیائوں نے سنڈیکیٹ بینک سے قرض لے رکھا ہے۔ آپ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ تحصیل، اتھارٹی، ریونیو محکمہ یا سنڈیکیٹ بینک کے آفیسر یہ سب نہیں جانتے؟سارے آفیسر اسے جانتے ہیں ،وہ لینڈ مافیائوں سے رشوت لیتے ہیں، ریونیو لوٹ میں حصہ داری نبھاتے ہیں اور سمجھ بوجھ کر مافیائوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
جارچہ گائوں کی حالت بدتر
گریٹر نوئیڈا کی دادری تحصیل کا جارچہ گائوں ’شعلے ‘ ٹائپ کی فلم کا پلاٹ بن گیا ہے، جہاں ڈاکو گبر سنگھ کا تو نہیں ،لیکن ببر مافیائوں،دلالوں اور افسروں کی دہشت قائم ہے۔ اتفاق ہی ہے کہ اس شعلے فلم میں جگدیپ بھی ایک اہم کردار میںتھے جو بنیادی طور سے اسی جارچہ گائوں کے رہنے والے ہیں۔ بعد میں ان کا خاندان دتیا (مدھیہ پردیش )چلا گیا۔ جارچہ گائوں کے انہی ببر مافیائوں سے ملی بھگت کرکے تحصیل افسروں نے آئین و دستور سے زمینیں خریدنے والے دلتوں اور دیگر کمزور طبقہ کے لوگوں کی زمینوں کو سرکاری زمین بتاکر اسے ضبط کرلیاہے۔ ایسے درجنوں دلت اور دیگر طبقہ کے لوگ ملے، جن کی زمینیں سرکاری زمین بتا کر ضبط کرلی گئی، جبکہ انہی زمینوں کو اپنا بتا کر لینڈ مافیا معاوضہ لے رہے ہیں اور اسے بندھک رکھ کر بینک سے قرض بھی لے رہے ہیں۔
ایسے ہی متاثرین میں جے جاٹو پسر بھرتا جاٹو، بودھ جاٹو پسر سوکھا جاٹو، گجراج جاٹو پسر چھجو جاٹو، دھنی رام جاٹو پسر منگلا جاٹو ،رام سنگھ پسر مومراج جاٹو ، بالو پسر یادو، ہری اوم پسر برہما نند، حنیف پسر شکور، راجندر اور نریندر پسر راجپال، شکنتلا دیوی صاحبزادی شیس رام جاٹو، گرام مرشد پورہ ، ہارون اور رئیس الدین پسر محمود،باشندہ گرام کلوندا، تحصیل دادری ، عارف عباس جعفری پسر بو علی جعفری، بو علی جعفری پسر مرحوم صفدر عباس جعفری ، جان محمد پسر منیر خاں، باشندہ گرام کلوندا، تحصیل دادری وغیرہ شامل ہیں۔ ان جیسے کئی دوسرے متاثرین بھی اپنی آپ بیتی کسی بھی قانونی اور عوامی اسٹیج پر بیان کرنے کے لئے تیار ہیں۔
ان لینڈ مافیائوں میں جارچہ گائوں کے بزرگ بو علی جعفری بھی شامل ہیں جن کی زمین پر فرضی دستاویزوں کے ذریعہ زمین مافیا قیصر الاسلام عرف شنو اور اسکے گرگوں نے قبضہ جمع رکھا ہے۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ شنو اور اس کے بیٹے وقار عباس کے ساتھ مل کر طاہر، انتیش، ہریش چندر، گنگا، کھیم چندر ، وغیرہ زمین پر قبضہ کرنے ور اس پرقرض لینے کا دھندہ کرتے ہیں۔ بو علی جعفری فلم اداکار جگدیپ کے نزدیکی رشتہ دار ہیں۔ ان کی زمین پر لینڈ مافیائوں کے قبضے کے مسئلے پر تحصیل اور ریونیو محکمہ کے آفیسر موٹی رشوت لے کر خاموش بیٹھے ہیں۔ رشوت کا لین دین کھلے عام بینکوں کے ذریعہ ہو رہا ہے۔ اس کے ٹھوس ثبوت حکومت میں بیٹھے اعلیٰ افسروں کو دیئے جارہے ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ جو لینڈ مافیا دادری تحصیل یا نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میں سرگرم ہیں، ان کے نام بھی لینڈ مافیائوں کی سرکاری لسٹ میں درج نہیں کئے جارہے ہیں۔
گریٹر نوئیڈا میں معاوضے اور قرض کی لوٹ
گریٹر نوئیڈا کے علاقے میں معاوضے اور قرض کی ایسی لوٹ مچی ہے کہ جو زمینیں کاسٹوڈیم کھاتے میں درج ہیں، ان کے بھی فرضی وارث ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔جو زمینیں ہندو دلتوں کے نام کی ہیں،ان زمینوں کے مسلمان وارث ابھر کر سامنے آرہے ہیں اور باضابطہ طور پر یہ بیان دے رہے ہیں کہ ہندو دلت ان کے نانا تھے یا کوئی دیگر رشتہ دار تھے۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ تقسیم کے وقت جو لوگ پاکستان چلے گئے ، ان کی زمینیں کاسٹوڈیم کھاتے میں درج ہو گئیں اور انہیں سرکاری زمین مان لیاگیا۔ معاوضہ پانے کی ہوڑ میں ہندو دلت کی زمینوں کے مسلمان یا اعلیٰ برادری کے ہندو وارث کی قطار میں لگے ہیں۔ مثال کے طور پر کھاتا نمبر 711اور خسرہ نمبر 909 کا ایک نایاب مسئلہ سامنے آیا۔ اس میں زمین کے مالک جارچہ گائوں کے بودھون جاٹو پسر موہن جاٹو ہیں لیکن ان کے وارث ہونے کا دعویٰ ٹھوک رہے ہیں تحسین عباس، گوہر عباس ،غیور عباس اور جرگام عباس۔وارث ہونے کا دعویٰ ٹھونکنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ بودھوان جاٹو ان کے نانا مظہر حسین کے سگے بھائی تھے۔ پھر یہ دعویدار یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بودھون جاٹو کی بھتیجی مظہر بانو کے بیٹے ہیں۔ انہیں یہ زمین 28اگست 2008 کو رجسٹرڈ وصیت کے ذریعہ ملی۔
اب کسی کو بھی اس عجیب قصے کا نہ سراسمجھ میں آرہا ہے اور نہ اس کا کوئی کنارہ مل رہاہے۔ ہندو دلت برادری کے بودھون جاٹو کے رشتہ داروں کے مسلمان بن جانے کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے اور نہ زمین کے دعویدار ایسا کوئی ریکارڈ فراہم کرا پا رہے ہیں۔ ریونیو محکمہ کے ایک آفیسر نے بتایا کہ مذکورہ چاروں دعویدار علاقہ کے بڑے بدنام لینڈ مافیا ہیں۔ ان کے والد اظہر عباس پہلے جارچہ گائوں کے پردھان تھے۔ انہوں نے چکبندی آفیسر کو زیر اثر لے کر گرام سبھا کی کاسٹوڈیم اور دیگر سرکاری زمینوں کو اپنے بیٹوں کے نام درج کرنے کا فرضی واڑہ رچا تھا۔ اس گرام پردھان نے اپنے بیٹوں کو جارچہ گائوں کی لگ بھگ 80 بیگھہ زمین کا مالک بنا دیا تھا۔ اس اندھیر گردی کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی مانگ کی جارہی ہے۔ صاف ہے کہ فرضی دستاویزوں کو بنیاد بنا کر لینڈ مافیا معاوضے بھی لے رہے ہیں اور انہی زمینوں کو بندھک رکھ کر بینک سے قرض بھی لے رہے ہیں۔ اس پر ایڈمنسٹریشن سسٹم کے آفیسر ، ملازمین جان بوکھ کر اندھے بنے ہوئے ہیں۔ ان لینڈ مافیائوں اور دلالوں میں سے کئی لوگ جارچہ کے مشہور میر علی قتل سانحہ کے ملزم بھی ہیں،لیکن مقامی پولیس بھی دبنگوں کو تحفظ دے رہی ہے۔قرض کی لوٹ میں سنڈیکیٹ بینک کی جارچہ برانچ بے ہچک شامل ہے اور بینکنگ کے قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
جیسا کہ آپ کو اوپر بتایا کہ جو زمینیں کاسٹوڈیم دلت طبقہ یا سرکاری زمین میں درج ہے، ان کے دستاویزوں میں ہیرا پھیری کرکے کروڑوں روپے کا معاوضہ بھی اٹھایا جارہاہے اور انہی زمینوں کو بندھک رکھ کر بینک سے لاکھوں روپے کا لون بھی لیاجارہاہے۔ اس کی ایک مثال دیکھئے کہ کھاتہ نمبر 514 کے خسرہ نمبر 491 کی زمینوں کے مالکوں کو سرکاری معاوضہ دینے کے بعد گریٹر نوئیڈا انڈسٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے خریدار کی شکل میں ان زمینوں کو ایکوائر کرکے اسے تحصیلدار کے نام بیعنامہ کردیا۔ لیکن لینڈ مافیائوں نے انہی زمینوں کو بندھک رکھ کر سینڈیکیٹ بینک سے لاکھوں روپے کا لون لے لیا۔ ایسی درجنوں مثال سامنے آئے ہیں اور’’ چوتھی دنیا ‘‘کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
ناقابل یقین مثال
ایسی ہی عجیب و غریب مثالوں کا ایک اور حصہ آپ کے سامنے پیش ہے کہ 28اپریل 2006 کو ریونیو کونسل کے ممبر سینئر آئی اے ایس جارج جوسیف نے حکم جاری کر کے جن زمینوں کو بیچنے، بندھک رکھنے اور ٹرانسفر کرنے پر روک لگی تھی اور جسے باقاعدہ سرکاری زمین ہونے کا اعلان کر دیا تھا، ان زمینوں کو بھی بندھک رکھ کر سنڈیکیٹ بینک نے لینڈ مافیا جرگم عباس ، غیور عباس، تحسین عباس، گوہر عباس، شنو عرف قیصر الاسلام ، وقار ، طاہر ،نعیم عباس، مظہر عباس عرف بابو اور عقیل راج چوہان عرف عقیل الدین کو لاکھوں روپے کیقرض دے دیئے۔ ان لینڈمافیائوں نے جن زمینوں کو اپنا بتایاتھا، وہ ساری زمینیں گرام سبھا یعنی سرکار کی تھیں۔ یہاں تک کہ علاقے کے لینڈمافیائوں اور دلالوں کے ذریعہ سارے آفیسر ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے چل رہی ہندوستانی سرکار کی نیشنل ہائی وے اسکیم اور گریٹر نوئیڈا انڈسٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ترقی کے لئے دی جارہی اربوں روپے کی رقم کی زبردست لوٹ میں لگے ہیں۔
ایک ہی زمین پر بار بار بینک نے دیئے قرض
گوتم بودھ نگر میں دادری تحصیل کے جارچہ گائوں کی کسی بھی زمین کی خرید و فروخت پر ریونیو کونسل کی طرف سے روک لگا دی گئی تھی۔ ریونیو کونسل ممبر ٹی جارج جوسیف کے مذکورہ حکم کے حوالے سے دادری کے ایس ڈی ایم نے بھی حکم (شیٹ نمبر 2654 ریڈر، ایس ڈی ایم دادری 06 بتاریخ 28-4-06)جاری کرکے گرام جارچہ کے کل نمبروںپر فروخت کرنے، بندھک رکھنے اور منتقلی کرنے پر روک لگا دی تھی۔ اسکے باوجود جارچہ کی زمینوں کو بندھک رکھنے اور سنڈیکیٹ بینک کے ذریعہ آنکھ بند کرکے قرض جاری کرنے کا کھیل جاری رہا۔ قرض کی لوٹ کا یہ کھیل اب بھی جاری ہے۔
دادری کے ایس ڈی ایم نے جارچہ کے کھاتہ نمبر 439 کی زمینوں پر تحسین عباس، جرگائوں عباس، گوہر عباس، غیور عباس پسر اظہر عباس کا نام رد کرتے ہوئے پہلے کی طرح اس زمین کو گرام سبھا میں شامل کردیاتھا۔ اس کے باوجود سنڈیکیٹ بینک نے اسی زمین کو بندھک رکھ کر جرگم عباس کو 49 ہزار روپے کا قرض جاری کر دیا۔ سنڈیکیٹ نے اسی زمین کے عوض میں غیور عباس کو بھی 49 ہزار کا قرض دے دیا۔ سنڈیکیٹ بینک نے تحسین عباس کو پونے پانچ لاکھ روپے کا قرض دیا۔ سنڈیکیٹ بینک نے ممنوعہ زمین میں سے ہی ایک حصے کو بندھک رکھ کر گوہر عباس کو ساڑھے چار لاکھ روپے کا قرض جاری کر دیا۔ جرگام عباس کو بھی سنڈیکیٹ بینک سے ایک لاکھ 70 ہزار روپے کا قرض مل گیا۔ انہی زمینوں کو بندھک رکھ کر غیور عباس نے سنڈیکیٹ بینک سے پھر2 لاکھ 90 ہزار کا قرض لے لیا۔ قرض کی لوٹ بے تحاشہ جاری رہی۔پھر 2010 میںگوہر عباس نے اسی زمین کو بندھک رکھ کر ایک لاکھ 40 ہزار کا قرض لے لیا۔
اس طرح دیگر زمینوں کو بھی بندھک رکھ کر سنڈیکیٹ بینک سے قرض لینے کا کھیل جاری رہا۔ 2012 میں گوہر عباس نے3 لاکھ کا قرض لیا تو اسی سال غیور عباس نے بھی 3 لاکھ کا قرض لے لیا۔ اس بیچ دادری تحصیل نے کھاتہ نمبر 514 کے تحت خسرہ نمبر 491 کی زمین سے تحسین عباس، جرگام عباس، گوہر عباس اور غیور عباس کا نام خارج کردیا۔ لیکن قرض کا کھیل بند نہیںہوا۔ 2015 میں جرگام عباس نے اس پر 6 لاکھ کا قرض لیا تو غیور عباس نے 2016 میں پونے 6 لاکھ روپے کا قرض لے لیا۔ اگلے سال 2017 میں جرگام عباس کو سنڈیکیٹ بینک نے ڈھائی لاکھ روپے کاقرض دے دیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

لینڈ مافیا مخالف پورٹل ناکام
سرکار کی طرف سے چلائے گئے ’اینٹی لینڈ مافیا ابھیان‘ کو دھار دینے کے ارادے سے ’اینٹی لینڈ مافیا پورٹل ‘ شروع کیا گیا تھا، جس میں عام شہری ٹھوس ثبوت کے ساتھ اپنی شکایتیں پورٹل پر ڈال سکیں۔ تاکہ حکومت فوراً کارروائی کرا سکے۔ لیکن سرکاری سسٹم نے پورٹل کا حال بے حال کر رکھاہے۔ پورٹل پر درج کرائی گئی شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے اور بچنے کے لئے پورٹل کو اپ ڈیٹ بھی نہیں کیا جاتا۔ پورٹل کو اس لائق نہیں چھوڑا گیا ہے کہ زمین مافیائوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں سے عام شہری واقف ہوسکیں۔یہ کوئی تکنیکی یا انسانی بھول نہیں ہے، یہ منصوبہ بند ہے۔ نوکر شاہ بہت شاطر ہیں،وہ ایسا راستہنہیں کھولتے ،جس سے وہ خود پکڑے جائیں۔
اوپر آپ کو نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کی کرتوت بتائے گئے ۔ ریاست کے سارے اتھارٹیز کے کام ایک جیسے ہیں۔پوری ریاست میں اتھارٹی اور متعلقہ تحصیلوں کے آفیسر لینڈ مافیائوں اور دلالوں کے ساتھ ملوث ہیں۔ قومی راجدھانی دہلی کے اطراف میں نوئیڈا ، گریٹر نوئیڈا ، غازی آباد سے لے کر لکھنو، وارانسی، گورکھپور ، الٰہ آباد ، کانپور، بریلی سے لے کر الٰہ آباد تک جہاں بھی نظر دوڑا لیں، سبھی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا کام کسانوں کی زمینیں چھیننا اور زمین مافیائوں کو قبضہ دلانا رہ گیاہے۔ ریاست کے سبھی اضلاع کے ڈیولپمنٹ اتھارٹی لینڈ مافیائوں کے چنگل میں ہیں۔ شہروں کے قیمتی پلاٹس پہلے ہی لینڈ مافیائوں ،دلالوں دبنگ سرمایہ داروں کو الاٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ کوئی شکایت کرتاہے تو اسے پورٹل کے جال میں پھنسا دیا جاتاہے۔ بدعنوان آفیسر عوامی زمین اور پارکوں تک کو بیچ دے رہے ہیں ۔الٰہ آباد کی مثال سامنے ہے جہاں ایشیا کا سب سے بڑا نہرو پارک بنانے کے نام پر کسانوں کی تقریباً 50ایکڑ زمین ایکوائر کی گئی لیکن پارک نہیں بنا، کسانوں کو معاوضہ بھی نہیں ملا اور زمین کی پلاٹنگ کرکے اسے بلڈر ، لینڈ مافیائوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا گیا۔
یہی حال راجدھانی کے قریب غازی آباد میں ہنڈن ندی کے کنارے ساڑھے تین سو ایکڑ میں مجوزہ سٹی فارسٹ کاہوا۔ غازی آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا یہ پروجیکٹ آج لینڈ مافیائوں کے قبضے میں ہے۔ وہاں دکانیں لگانے، کینٹین چلانے ،جھیل میں کشی چلانے،جیپ سفاری، گھوڑا اور اونٹ سفاری سے لے کر گاڑی پارکنگ تک کے سارے ٹھیکے مافیا ئوںکے ہاتھوں میں ہیں۔
کیا لینڈ مافیائوں اور افسروں کی ان کرتوتوں کی جانکاری ’اینٹی لینڈ مافیا پورٹل ‘پر درج نہیں کرائی جاتیں؟شکایتیں خوب درج ہوتی ہیں لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ الٹا لوگوں میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ پورٹل پر شکایت درج کرانے کے بعد آفیسر ہی مافیا کو شکایت کنندہ کے بارے میں بتا دیتے ہیں اور شکایت کنندہ کی جان خطرے میں پھنس جاتی ہے۔یہاں تک کہ’ اینٹی لینڈ مافیا پورٹل ‘یا ’جن سنوائی پورٹل ‘کو ہی بدعنوان افسروں نے وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔اس کی بھی ایک عجیب مثال دیکھئے۔پرتاب گڑھ ضلع میں رانی گنج تحصیل کے نازیہ پور گائوں میں لینڈمافیائوں نے چک روڈ پر ہی قبضہ کرلیا ۔ اس کی شکایت کی گئی تو سرکاری کارندوں کا جو جواب آیا، اسے سنیں تو راجو شریواستو کا چٹکولہ فیل۔ڈویژن ڈیولپمنٹ آفیسر نے رپورٹ دی کہ موقع پر کوئی چک روڈ ہی نہیں ہے۔ ریونیو آفیسر کی رپورٹ آئی کہ موقع پر چک روڑ بالکل خالی ہے،اس پر کوئی قبضہ نہیں ہوا ہے۔ اس مضحکہ خیز جواب کے بعد شکایت باقاعدہ ’جن سنوائی پورٹل‘ پر اپ لوڈ کی گئی۔پھر کیا تھا؟ ریونیو محکمہ کے رشوت خور افسروں نے پورٹل پر فرضی رپورٹ ( فیک اسٹیٹس رپورٹ ) ڈال دی اور لینڈ مافیائوں کے خلاف کارروائی ہو گئی۔ افسوسناک بات اور دلچسپ بھی یہ ہے کہ فیک رپورٹ کے ساتھ ساتھ کارروائی کے فرضی دستاویز بھی پورٹل پر اپ لوڈ کر دیئے گئے۔ مانیٹرنگ کا کوئی بندوبست نہیں ہے اور نہ حکومت کو اس کی فکر ہے۔
کہاں ہیں اصلی لینڈ مافیا؟
گوتم بودھ ضلع انتظامیہ کی لسٹ میں نوئیڈا کے 43 لینڈ مافیا کے نام ہیں ۔ جانکار بتاتے ہیں کہ نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا کے علاقے میں کھلا شکار کررہے لینڈ مافیائوں کے نام سرکاری لسٹ میں جان بوجھ کر درج نہیں کئے جارہے ہیں۔ اگر ان کے نام لسٹ میں درج ہو گئے تو سرکاری افسروں اور ملازموں کی بے تحاشہ ہونے والی آمدنی پر کلہاڑی لگ جائے گی۔ اسی وجہ سے لینڈ مافیائوں کو سرکاری آفیسر اور پولیس ہی تحفظ دے رہی ہے۔گوتم بودھ ضلع کے جو 43 مافیا لسٹیڈ ہیں، ان میں ٹیٹو عرف بیٹو پسر شاہ مل ،باشندہ بہلول پور ،تھانہ فیز 3، نوئیڈا ، انیل وشو کرما پسر ڈال چندر باشندہ گڑھی چوکھنڈی،تھانہ فیز 3 نوئیڈا ، جگی یادو پسر رمیشن ، باشندہ بہلو پور تھانہ فیز 3 ،نوئیڈا،دیوندر پسر صاحب سنگھ ، دھرم سنگھ، اندر، چتر پسر مواسی، مواسی پسر ولوا ،باشندہ گڑھی قصبہ ،تھانہ دنکور، منیش پسر پرکاش چندر ،باشندہ محلہ پریم پوری ،قصبہ تھانہ دنکور، انترام ،پسر بدولی ، بِندر پسر انترام ، دنیش ، دیوی پسر رگو ویر ، سپن پسر سنترام باشندہ محلہ گڑھی ،قصبہ تھانہ دنکور، رینکو پسر جگت سنگھ ، سندر پسر راجا رام ، جگت سنگھ پسر راجا رام، پروین پسر کرتار باشندہ گوجھا ،تھانہ فیز 2 ، نوئیڈا، نیتن یادو پسر منٹر یادو، لٹل یادو پسر جگویر ،باشندہ گرام گڑھی چوکھنڈی ،تھانہ فیز 3، نوئیڈا، کرتار سنگھ پسر راج رام ،باشندہ گیجھا ،تھانہ فیز 2 نوئیڈا، وکرم پسر آنجہانی مام چندر ،باشندہ نٹھاری ،سیکٹر 31، نوئیڈا،تھانہ سیکٹر 20 نوئیڈا شامل ہیں۔
بری و ہوائی فوجیوں کی زمینوں پر بھی قبضے
بری اور فضائیہ فوج کی زمینوں پر بھی قبضے ہورہے ہیں۔ لینڈمافیا اترپردیش کے بدعنوان نوکر شاہوں کی مہربانی سے لینڈ مافیائوں کا دماغ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ آرمی اور فضائی فوج کی زمینیں بھی قبضہ کر رہے ہیں اور ان زمینوں پر باقاعدہ فارم ہائوس ڈیولپ کرا رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے نوئیڈا میں فضائی فوج کو 80 ایکڑ زمین دستیاب کرائی گئی تھی جس پر کئی فارم ہائوسیز بنے ہوئے تھے۔ اس کارروائی پر ضلع انتظامیہ سے لے کر پولیس تک نے اپنی اپنی پیٹھ خوب ٹھونکی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نوئیڈا کے ننگلا ننگلی اور ننگلی ساکپور گائوں میں فضائی فوج کی 340 ایکڑ زمین پر لینڈ مافیائوں نے قبضہ جمع لیا ہے۔ فضائی فوج کے پاس کل 482 ایکڑ زمین تھی، جس میں سے 142 ایکڑ زمین ہریانہ کے فرید آباد میں لگتی ہے۔ وہاں بھی اس کی زمین غیر قانونی قبضے میں ہے ۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ فضائیہ کو 1950میں ہی بامبنگ ریز بنانے کے لئے 482 ایکڑ زمین دی گئی تھی لیکن اس زمین پر فضائیہ کو کبھی قبضہ ملا ہی نہیں ۔ابھی جو 80 ایکڑ زمین خالی کرائی گئی ہے اس پر 41 فارم ہائوسیز بنے تھے۔ فضائیہ کی ایسی سینکڑوں ایکڑ زمین پر لینڈمافیائوں کا قبضہ ہے لیکن اسے آزاد کرانے میں سرکار فیل ہے۔
ایسا ہی حال بحریہ کی زمینوں کا بھی ہے۔صرف راجدھانی لکھنو ہی نہیں بلکہ کانپور، گورکھپور ، میرٹھ وارانسی ،فیض آباد، الٰہ آباد سب طرف فوج کی زمینوں پر مافیائوں اور لیڈروں کا قبضہ ہے۔ فوج کی زمین پر شان سے غیر قانونی عمارتیں ، شاپنگ کمپلکس اور کوٹھیاں کھڑی ہیں۔ لکھنو میں فوج کی ٹرانس گومتی رائفل رینج کی 195 ایکڑ زمین ،اموسی فوجی علاقے کی 185 ایکڑ زمین، کوکریل رائفل رینج کی سو ایکڑ زمین، بخشی کا تالاب کی 40 ایکڑ زمین اور موہن لال گنج علاقے میں 22 ایکڑ زمین لینڈ مافیائوں کے قبضے میں ہے۔
لکھنو میں سلطان پور روڈ پر فوج کی فائرنگ رینج کے بڑے حصے کی پلاٹنگ تک کر دی گئی اور زمینیں کھلے عام بک گئیں۔ سرکارکے تحت ہائوسنگ ڈیولپمنٹ کونسل نے گوسائی گنج تھانے میں پراپرٹی ڈیلر کے لباس میں کام کرنے والے لینڈ مافیائوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا، لیکن ان لینڈ مافیائوں نے سرکاری انفارمیشن بورڈ کو اکھاڑ پھینکا جس پر لکھا تھا کہ ’یہ فوج کی فائرنگ رینج کی زمین ہے‘۔ ٹرانس گومتی رائفل رینک کی 90 ایکڑ زمین اور اموسی کی زمینوں پر لینڈ مافیائوں کا قبضہ ہے۔ کوکریل میں تو فوج کی تقریباً 50 ایکڑ زمین پر بڑی عمارتیں اور دکانیں بن چکی ہیں۔ چھائونی سے باہر فوج کی تقریباً 600 ایکڑ زمین اتر پردیش سرکار سے ہی تنازع میں پھنسی ہوئی ہے۔
کانپور میں فوج کی زمین پر لینڈ مافیائوں نے الگ الگ علاقوں میں آدھا درجن بستیاں بسا رکھی ہیں۔ کانپور شہر کے وارد نمبر ایک میں بھجی پوروا، لال کرتی، گولا گھاٹ، پچائی کا پوروا جیسی کئی بستیاں بسی ہوئی ہیں۔ بنگلہ نمبر 1 اور بنگلہ نمبر 17 کی طرف جانے والے دو علاقوں میں غیر قانونی بستیاں بسی ہوئی ہیں۔ لینڈمافیائوں کے دبدبہ کی وجہ سے انہیں ہٹانا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ کانپور چھائونی کے علاقے میں بنا عالیشان اسٹیٹس کلب ہی غیر قانونی کارگزاریوں کی خوفناک مثال ہے۔فوجی علاقے میں یہ کلب کیسے وجود میں آیا اور اس عوض میں کس نے کیاکیا پایا، سرکار اور فوج دونوں ہی اس کا جواب تلاش کرنے سے کنارہ کشی کررہے ہیں۔
گورکھپو ر میں گگہا بازار میں فوج کے کیمپنگ گرائونڈ کی 33 ایکڑ زمین میں سے تقریباً 10 ایکڑ زمین پر لینڈ مافیائوں کا قبضہ ہے۔ گورکھپور کے شاہ جنوا، مہراج گنج ضلع کے پاس رنیا پور اور نوتنوا میں فوج کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے ہیں۔ الٰہ آباد شہر میں فوج کے پریڈ گرائونڈ کی تقریباً 50 ایکڑ زمین قبضے میں ہیں۔ یہاں لینڈ مافیائوں نے غیر قانونی بستیاں آباد کررکھی ہیں۔32چیتھم لائنس ، 6 چیتھم لائنس اور نیو کینٹ میں بھی فوج کی زمین پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ میرٹھ چھائونی کے علاقے تو مال، شاپنگ کمپلکس اور سول کالونی میں تبدیل ہو چکا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *