بھیم آرمی کارکن سچن والیہ کاگولی مارکر قتل

bheem-army-worker-killed
سہارنپور: سہارنپور میں ہوئے نسلی تشدد کے ٹھیک ایک سال بعد 9اپریل کو بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل والیہ کے بھائی سچن والیہ کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر مو ت کے گھاٹ اتار دیا، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر پورے ضلع میں ماحول نہایت کشیدہ ہوگیا،اطلاع ملنے پر پولیس انتظامیہ میں افراتفری مچ گئی،قتل کی اطلاع ملتے ہی پورے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور تاجروں نے اپنی دکانیں بند کردی،بھیم آرمی کے کارکنان ضلع اسپتال میں جمع ہونا شروع ہوگئے ،جس کو سبب ایک مرتبہ پھر سہارنپور میں کشیدگی کے آثار پیدا ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ مستعد ہوگئی اور آس پاس کے اضلاع سے بھی فورس ضلع میں طلب کرلی گئی ہے، حالات کے مدنظر ضلع انتظامیہ غیر معینہ مدت کے لئے انٹر نیٹ سروس بند کردی۔

 

یہ بھی پڑھیں   کشمیرکی ’آزادی ‘مانگنے والے نوجوانوں کوبپن راوت کی وارننگ

 

تفصیلات کے مطابق بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل والیہ کے بھائی سچن والیہ کا نامعلوم افراد نے گولی مارکرد قتل کردیا، جس سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور پولیس انتظامیہ میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا، واقعہ کی گونج لکھنؤ تک پہنچی جس کے بعد اعلیٰ افسران نے مورچہ سنبھالتے ہوئے سخت ہدایت دیں ،حالانکہ دیر شام تک قتل کی وجوہات اور قتل کے مجرم کا پتہ نہیں چل سکاتھا۔ کمل والیہ رام نگر گاؤں میں اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہیں ،گاؤں کے پاس ہی راجپوت بھون میں مہارانا پرتاپ جینتی پر پولیس حفاظت میں پروگرام منعقد کیا جارہاتھا،بھیم آرمی کے کارکن روبن گوتم نے بتایاکہ کمل والیہ کا بھائی سچن گاؤں کے پاس ہی واقع چائے کی دکان پر جارہاتھا ،اسی دوران تین چار بائکوں پر سوار افراد وہاں پہنچے اور سچن کو گولی ماردی،بتایا جاتاہے کہ گولی مارنے کے بعد موٹر سائیکل سوار ’جے راج پتانہ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے فرار ہوگئے، سچن کو فوراً ضلع اسپتال لے جایاگیا جہاں ڈاکٹروں نے سچن کو مردہ قرار دے دیا۔ اطلاع ملنے پر اسپتال پہنچی پولیس کو بھیم آرمی کے کارکنان نے گھیر لیا اور لاش کو اٹھانے نہیں دیا، پولیس نے زبردستی لاش اٹھانے کی کوشش کی تو پولیس کے ہاتھا پائی ہوگئی، بڑی مشکل سے پولیس نے لاش کو مورچری میں رکھوایا،موقع پر پہنچے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو کارکنان کے غصہ کا سامنا کرناپڑا۔ مقتول کے بھائی کمل والیہ نے تو ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی پر ہی قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ راجپوت بھون کے پاس ہی ان کے بھائی کو گولی ماری گئی ہے،تو آخر وہاں موجود پولیس فورس کیا کررہی تھی، ساتھ ہی کارکنان نے رام نگر روڈ پر جام لگا دیا ،جب وہاں پر ایس پی سٹی پر بل پرتاپ سنگھ موقع پر پہنچے تو انہیں بھی گھیر لیا اور ان کے ساتھ دھکا مکی کی گئی۔

 

واقعہ کے رونما ہونے کے بعد سہارنپور کے حالات فی الوقت ایک مرتبہ پھر کشید ہ ہوگئے ہیں ،جس کے مدنظر انتظامیہ نے غیر معینہ مدت کے لئے انٹر نیٹ سہولیات بند کردی اور ضلع کے تمام حساس مقامات پر پولیس فورس و ملٹری فورس تعینات کردی گئی ہے، اس کے علاوہ ضلع کی سرحدوں کی ناکہ بند ی کرتے ہوئے چیکنگ مہم تیز کردی ہے۔ ادھر لکھن�ؤ سے بھی اعلیٰ افسران سہارنپور میں پیش آئے اس واقعہ کی پل پل کی خبر لے رہے ہیں ۔ دوسری جانب کمشنر سی پی ترپاٹھی کا کہناہے کہ پولیس کی شروعات تفتیش میں یہ بھی بات سامنے آرہی ہے کہ طمنچہ صاف کرتے وقت سچن کو گولی لگ گئی اور اس کی موت واقع ہوگئی،حالانکہ پولیس تمام پہلوؤں پر تحقیق کررہی ہے، علاقہ میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور کسی کو بھی ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ۔ ایس ایس پی ببلو کمار کہناہے کہ پہلی نظر میں یہ واقعہ مشتبہ لگ رہاہے جانچ کی جارہی ہے، اس کے بعد آگے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی مہاران پرتاب جینتی پر علاقہ کے گاؤں شبیر پور میں نسلی تشدد ہوگیا تھا،اس کے گلے روز بھیم آرمی کے لیڈر چندر شیکھر عرف راون کی قیادت میں ہنگامہ آرائی گئی تھی ،اس کے بعد سے چند شیکھر عرف راون آج بھی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت سہارنپور جیل میں بند ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *